تذکرہ بابت محکمہ جاتی ریفریشر کورس
مورخہ 4 ستمبر 2002 کو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر کے ساتھ ہونے والی ماہانہ میٹنگ میں موجود تھے اور ضلعی افسر تقریباً سوا سو ہائی سکولوں اور ہائر سیکنڈری سکولوں کے ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈ مسٹرسز کو اپنی اور حکام بالا کی طرف سے وصول کر دہ احکامات بڑے زور و شور کے ساتھ سنا رہے تھے اور حاضرین میں سے اکثریت ہماری طرح بڑی بے زاری کے ساتھ ہر مہینے تواتر سے دہرائی گئی اس تقریر سے بے نیاز جمائیاں لیتے ہوئے اس کے خاتمے کا انتظار کر رہے تھے۔
خدا خدا کر کے یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی اور ضلعی افسر اپنا ساز و سامان سمیٹ کر چلتے بنے۔ ان کے جانے کے فوراً بعد سٹیج پر ہیڈ ماسٹرز ایسوسی ایشن نے اپنا قبضہ جما لیا۔ وہ ابھی اپنے کارہائے نمایاں کی طویل فہرست سے حاضرین کی مزید سمع فراشی کا آغاز کیا ہی چاہتے تھے کہ ضلعی افسر تقریباً دوڑتے ہوئے واپس آئے اور ڈائس پر قابض ہو کر حاضرین کو بتایا کہ لاہور سے ایک موسٹ ارجنٹ ڈاک موصول ہوئی ہے۔ وہ بھی وصول کرتے جائیں۔
اس کے بعد وضاحت کی کہ کچھ ہیڈ ماسٹر صاحبان کو دو ہفتے کی ٹریننگ کے لیے لاہور بلایا گیا ہے اور ان متعلقہ لوگوں کو فوری طور پر لاہور پہنچ کر وہاں یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں رپورٹ کرنے کے احکامات نازل ہوئے ہیں اور اس کے بعد متعلقہ افراد کے نام کی فہرست پڑھ کر سنانا شروع کر دی۔ پہلا ہی نام پکارنے پر اس ہیڈ ماسٹر نے کھڑے ہو کر وضاحت کی کہ وہ تو پچھلے مہینے یہ کورس کر چکا ہے۔ اب تو لائن ہی لگ گئی وہ نام پکارتے آگے سے جواب آتا کورس کیا ہوا ہے۔
کوئی قلیل اس کی زد میں بھی آ رہا تھا لیکن اکثریتی جواب۔ ”کر چکا ہوں“ ہی آتا۔ ہم ایسے افراد کو بڑے رشک بلکہ حسد کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔ جو اس بے وقت کی ٹریننگ سے بچ نکلے تھے۔ جب ہمارا نام نامی پکارا گیا تو پہلے تو جی میں آیا کہ کر چکا ہوں کا نعرہ لگا کر اس مصیبت سے جان چھڑا لیں۔ لیکن ہماری روایتی بزدلی اور کم ہمتی کے ساتھ ساتھ سچائی اور ایمان داری کا چڑھا ہوا بخار آڑے آ گیا۔ اس نام نہاد سچائی اور ایمان داری کی بنیادی وجہ بھی شاید ہماری یہی فطری کم ہمتی اور بزدلی ہی ہے۔
بہر حال اپنا نام پکارنے پر کھڑے ہو کر کورس نہ کرنے کے جرم کا اعتراف کیا اور بصد ادب و احترام استدعا کی کہ ہمیں اس کورس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ کیوں کہ ہمارے بغیر ہمارے سکول کے نظام کا چلنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ لیکن موصوف نے کمال شان بے نیازی سے عدم تعمیل کی صورت میں explaination، Suspension، termination جیسے بھاری بھر کم ہتھیاروں کا ریفرنس دیتے ہوئے ہماری طبیعت صاف کردی حکم حاکم مرگ مفاجات کے تحت مردہ سی آواز میں متعلقہ کورس میں شرکت کے لیے آفیشل لیٹر طلب کیا تو ارشاد ہوا کہ بس ایسے ہی چلے جاؤ اور ایجوکیشن یونیورسٹی وحدت روڈ رپورٹ کرو۔
لیٹر وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ گویا کہ کورس کا آغاز ہی ہماری قومی روایات اور رسم و رواج کے عین مطابق ہو رہا تھا۔ جہالت اور لاعلمی کے اس حمام میں خداوندان کورس اور ہم جیسے مسکین شرکائے کورس دونوں ایک ہی جیسے ننگے تھے۔ ان کے پاس کورس کرنے اور نہ کرنے والوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا اور ہمارے پاس اس کورس میں شرکت کے لیے پروانہ موجود نہیں تھا۔ بہر حال ہم نے پھر بھی خوش گمانی و خوش فہمی کو بروئے کار لاتے ہوئے خیال کیا کہ کوئی بات نہیں۔
ان لوگوں سے کہیں سہواً غلطی ہو گئی ہوگی۔ آخر ڈیپارٹمنٹ آف سٹاف ڈیویلپمنٹ اور یونیورسٹی آف ایجوکیشن جیسے بھاری بھر کم نام ان کی اعلیٰ کارگردگی اور بہترین انتظامی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ لیکن ان کے دیدار اور ان سے بالمشافہ ملاقات پر یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ لاہور جانا اور وہاں پر مذکورہ کورس کرنا ہی ہمارا مقدر ٹھہرا اور ہم نے سابقہ ریفریشر کورسز میں حاصل کیے گئے تجربات کی روشنی میں مقررہ تاریخ کی بجائے ایک دن کی تاخیر سے لاہور جانے کا فیصلہ کر لیا۔ 8 ستمبر کو تقریباً پونے نو بجے صبح روایتی پینڈوؤں کی طرح ڈرتے ڈرتے یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔ یہ پینڈو سائیکی ہے کہ وہ بڑے شہروں، بڑے اداروں، بڑے افسروں حتیٰ کہ بڑی دکانوں پر جاتے ہوئے بھی خوف کھاتے ہیں۔ اس سائیکی کی وضاحت کے لئے ایک واقعہ آپ لوگوں سے شیئر کرتا چلوں۔
حنیف ڈورا بہاولپور میں واقع اپنے سسرال جا رہا تھا۔ تو میں نے اسے بتایا کہ اپنا بھائی ارشد بھی وہاں پر سب سے بڑے ہسپتال میں پڑھتا ہے۔ اس سے بھی ملتے آنا اور اس کی خیریت معلوم کرتے آنا۔ اس کی واپسی پر اس سے دریافت کیا کہ بھائی ارشد سے ملے تھے تو جواب نفی میں تھا۔ پوچھا کیوں نہیں ملے تو بولا کہ بھائی سچی بات تو یہ ہے کہ میں ہمت کر کے اس بڑے ہسپتال میں چلا تو گیا تھا لیکن وہاں پہنچ کر میں نے دیکھا کہ چاروں طرف بڑے بڑے شیشے ہی شیشے لگے ہوئے ہیں۔
دروازوں میں شیشے، کھڑکیوں میں شیشے، روشن دانوں میں شیشے اس کے علاوہ اور بھی بہت سے شیشے میں نے سوچا کہ اگر یہاں پر کوئی شیشہ ٹوٹ گیا تو پکڑے تو نے ہی جانا ہے اور یہی سوچ کر میں بھائی سے ملے بغیر ہی وہاں سے بھاگ نکلا۔ یونیورسٹی میں داخل ہوا تو یہاں پہ لوگوں کا ایک بہت بڑا اژدہام نظر آیا۔ کچھ لوگ ایک بڑے سے ہال میں بیٹھے کھڑے اور چلتے پھرتے تینوں حالتوں میں ہی ایک فاضل مقر ر کے فرمودات سے مستفیض و مستفید ہو رہے تھے۔
کچھ لوگ دوسری منزل پر ایک دفتر کے سامنے کھڑے ہوئے۔ بے چینی سے پہلو بدلنے میں مصروف تھے۔ کچھ ہمارے جیسے ناواقفان و نوواردگان بھی تھے جو ایک ایک سے پوچھ رہے تھے کہ کرنا کیا ہے۔ پوچھ تاچھ سے پتہ چلا کہ دوسری منزل پر کھڑے ہوئے لوگوں کے ہجوم میں آپ بھی شامل ہو جائیے۔ وہاں پر تاخیر سے آنے والوں کی رجسٹریشن ہو رہی ہے۔ دفتر حاضری پر علم ہوا کہ الحمدللہ ہم تو ایسے ہی ڈر رہے تھے۔ یہاں پر بھی روایتی پاکستانی دفاتر کی طرح کوئی بھی فرد موجود نہیں تھا۔
دریافت کرنے پر علم ہوا کہ رجسٹریشن فارم ختم ہو گئے ہیں اور باؤ جی بازار سے فوٹو سٹیٹ کروانے گئے ہیں۔ ایک بار تو اس محترمہ کے یونیورسٹی ہونے پر بھی شک گزرا کہ ہم نے تو اپنے سکول میں بھی فوٹو سٹیٹ مشین رکھی ہوئی ہے اور محترمہ ایجوکیشن یونیورسٹی اس بنیادی ضرورت سے ہی نہی دست ہیں۔ نامعلوم اور کون کون سے بنیادی اجزاء سے محرومیوں کا شکار ہوں گی۔ بہر حال اس بات پر خوشی ہوئی کہ ہر کام ہمارے قومی مزاج کے مطابق ہو رہا ہے۔
محترمہ کو کچھ علم نہیں تھا کہ اس چشمۂ علم و آگہی سے کس قد تشنگان علم بذریعہ کورس ہٰذا فیض یاب و سیراب ہو چکے ہیں اور کس قدر ہنوز باقی ہیں۔ سارے کام ہی اٹکل پچو طریقے پر کیے جا رہے تھے۔ ساڑھے دس بجے ایک شور سا بلند ہوا کہ فارم آ گئے ہیں۔ ہم نے دفتر میں تانک جھانک کی تو باؤ جی کو ہنوز غائب ہی پایا سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ فارم کہاں پر آ گئے ہیں۔ اتنے میں نچلے فلور سے خالد صاحب نے اشارہ کیا جو اس کورس کے کوآرڈینیٹر ہیں اور ان سے میری ملاقات یہاں پر آمد کے آغاز میں ہی ہو چکی تھی۔
میں نیچے پہنچا تو ایک کمرے میں لے جاکر مجھے ایک فارم بطور خاص عنایت کیا گیا۔ کیوں کہ بقیہ لوگ اس فیض یابی سے ابھی تک محروم کھڑے تھے اور ساتھ ہی فرمایا کہ اسے پر کے تیسرے گروپ میں شامل ہو جاؤ۔ اب تک میں ماحول کا جائزہ لے چکا تھا ایک فی میل اور ایک میل گروپ مکمل ہو چکا تھا۔ تیسرا میل گروپ تکمیل کے آخری مراحل میں تھا اور چوتھے گروپ میں بقیہ رہ جانے والے تمام میل اور فی میل کو ملا کر ایک مخلوط گروپ بنانا تھا اور ہم نے فطرت کے اصولوں کے عین مطابق اس چوتھے رنگ برنگ گروپ میں شمولیت کا فیصلہ کر لیا۔
بظاہر تساہل اور سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فارم پر کرنے میں دانستہ دیر کی تیسرے گروپ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے پر پتہ چلا کہ وہ گروپ مکمل ہو چکا ہے۔ اس میں اب کسی اور کو داخل نہیں کر رہے۔ ہم نے بھی اس گروپ کے کوآرڈینیٹر کے پاس جانے سے قصداً گریز کیا۔ مبادا وہ ہمیں اپنے گروپ میں داخل ہی کر لیں۔ بہر حال بڑی ہی نیاز مندی سے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ اور خوش اخلاقی کا سائن بورڈ لگائے کوآرڈینیٹر میڈم زرینہ خٹک کی خدمت میں جا حاضر ہوا اور انہیں مدعائے دل کہہ سنایا۔
میڈم فوراً جلال میں آ گئیں اور بولیں جاؤ گروپ تھری میں رپورٹ کرو۔ وہاں تمہارا رول نمبر 49 ہے اور ہم نے وہاں پر 50 کی تعداد پوری کرنی ہے۔ اب ہمارا منہ لٹک گیا اور سارے کیے کرائے پر پانی پھر گیا۔ لیکن پھر بھی ہمت نہ ہاری۔ تیسری گروپ میں آئے گروپ کوآرڈینیٹر سے ملے اور اسے میڈم کا حکم سنا دیا۔ موصوف نے تعمیل ارشاد سے معذوری ظاہر کی کہ گروپ پورا ہو چکا ہے۔ اب ہم ایک بار پھر میڈم کے پاس تھے اور وہ ہمیں بڑے ہی تحکمانہ انداز میں فرما رہی تھیں۔
میں نے تمہیں کہاں بھیجا تھا گروپ تھری میں واپس کیوں آئے ہو۔ وہ جوائن نہیں کرتے کہ گروپ پورا ہو چکا ہے۔ جب میں کہتی ہوں کہ گروپ تھری میں جاؤ وہاں تمہارا رول نمبر 49 ہے بہت بہتر مائی باپ کہہ کر ہم ایک بار پھر گروپ تھری میں کھڑے متعلقہ کوآرڈینیٹر کو موجودہ صورت حال سے آگاہ کر رہے تھے اور وہ بے چارہ میڈم کا سامنا کرنے سے بھی گھبرا رہا تھا۔ اور ہمیں جوائن بھی نہیں کر رہا تھا۔ میں نے اس کا حوصلہ بڑھایا کہ آپ میرے ساتھ میڈم کے پاس چلیں مجھے بھی آپ کے پاس پڑھنے کا شوق نہیں ہے۔
میں خود میڈم سے کہہ دوں گا کہ مجھے نئے گروپ میں بھیج دیں۔ میڈم کے پاس پہنچے تو متعلقہ کوآرڈینیٹر پر میڈم کی چڑھائی قابل دید تھی۔ اور میں اپنی جگہ پر خوش تھا کہ میں نے اپنی جگہ پر ایک اور شخص کی میڈم سے بے عزتی کروا کر اپنا بے عزتی اکاؤنٹ بیلنس کر لیا تھا۔ بہر حال درمیان میں خالد صاحب نے مداخلت کر کے بے چارے شامت زدہ کوآرڈینیٹر کی جان چھڑائی۔ وہ تو واپس چلا گیا لیکن میرا معاملہ ایک بار پھر جوں کا توں ہی رہ گیا۔
اب میڈم ایک بار پھر میری طرف متوجہ ہوئیں۔ اب تم کیوں نہیں جاتے کہاں جاؤں۔ گروپ تھری میں وہاں جگہ نہیں ہے تو پھر جہنم میں جاؤ۔ مجھے گروپ فور میں بھیج دیں میں نے میڈم کو مشورہ دے کر اس کا کام آسان کر دیا۔ لیکن وہاں تو ساری فی میل ہیں۔ میڈم اب ہم بھی فی میل جیسے ہی ہیں۔ ہم میں اور ان میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ میڈم نے چند منٹوں تک منظر غائر ہمارا جائزہ لیا یوں لگتا تھا کہ وہ اپنی آنکھوں کی مدد سے ہمارا ایکسرے کرتے ہوئے اپنے متعلق کیے جانے والے ہمارے دعوے کی تصدیق فرما رہی ہیں۔
بالآخر اس سلسلے میں مطمین ہو کر ہمیں گروپ فور میں رپورٹ کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ اس طرح تقریباً تین گھنٹے کی ایک فضول پریکٹس کے بعد ہم گروپ الاٹمنٹ کا مرحلہ کامیابی و کامرانی سے طے کرچکے تھے۔ اپنے گروپ کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر جھانکا تو ڈائس پر کھڑے ایک مولوی صاحب کے علاوہ کمرے میں چاروں طرف بیبیاں ہی بیبیاں نظر آئیں۔ مرد ایک طرف بھی نہیں تھا۔ گھبرا کر دروازہ بند کر دیا۔ پھر برامدے میں کھڑے ہو کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے لگے۔
تھوڑی دیر بعد اوسان بحال ہوئے تو ہمت کر کے کمے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئے۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی مولوی صاحب نے پکڑ لیا۔ تم کہاں آرہے ہو گروپ فور میں لیکن یہ تو خواتین کا گروپ ہے جی میں جانتا ہوں۔ آپ میڈم زرینہ سے اپنے گروپ کا پتہ کریں جی انہوں نے ہی مجھے یہاں بھیجا ہے۔ تمہارا گروپ یہ نہیں ہو سکتا تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔ دوبارہ ان سے پتہ کر لیں۔ آج صبح پتہ نہیں کس کا منہ دیکھا تھا کہ بار بار اس نک چڑھی میڈم سے ٹاکرا ہو رہا تھا۔
چارو ناچار دوبارہ میڈم کے پاس جا پہنچا انہوں نے مجھے شاہانہ انداز میں حکم سنایا تم جاؤ گے تو گروپ فور میں ہی پتہ نہیں کن احمقوں سے پالا پڑا ہے۔ کوئی میری بات سمجھ ہی نہیں رہا۔ ویسے میرا بھی ان کے بارے میں یہی گمان تھا۔ لیکن جرات اظہار نہ تھی بہرحال خدا خدا کر کے یہ مسئلہ حل ہوا اور میں اپنے گروپ میں جا بیٹھا۔ کلاس کوآرڈنیٹر یونس صاحب کورس کا پروٹوکول سمجھا رہے تھے۔ ان کے طرز بیان سے معلوم ہوتا تھا کہ ہم اس وقت دنیا کی عظیم ترین درس گاہ میں موجود ہیں۔
جب کہ عملاً سب کچھ اس کے برعکس ہو رہا تھا۔ بہر حال بقیہ وقت بھی یونس صاحب کی لن ترانیوں اور نوواردگان کی آنیوں جانیوں میں گزر گیا۔ چھٹی کے بعد یونیورسٹی سے باہر نکلے تو دفعتاً خیال آیا کہ سارے دن کی بھاگ دوڑ اور افراتفری میں اپنا بیگ کہیں گم کر بیٹھا ہوں۔ بہر حال تھوڑی سی تگ و دو کے بعد مطلوبہ بیگ تلاش کر لیا گیا اور اس طرح ہمارے کورس کا پہلا دن بخیر و خوبی پایٔہ تکمیل کو پہنچا۔


