ناول ’باپ اور بیٹے‘ کا تعارف و جائزہ


Shahzad Hussain Bhatti Lahore

ایوان رتگینف روس کے عالمی شہرت یافتہ ادیب تھے جو 9 نومبر 1818 کو اور یول میں پیدا ہوئے۔ معیاری اور نئی روایات پر مبنی کام پیش کرنے کی وجہ سے انہوں نے عالمی کلاسیکی ادب میں اپنی منفرد شناخت پیدا کیا۔ انہوں نے اپنے بچپن کا زیادہ تر حصہ خاندانی جاگیر پر ہی قابل اساتذہ کی زیر نگرانی گزارا۔ اعلی تعلیم کے لیے ماسکو یونیورسٹی میں داخل ہو گئے، وہاں ایک سال گزارنے کے بعد وہ پیٹرزبرگ یونیورسٹی میں منتقل ہو گئے اور 1837 میں گریجویشن کی۔

ترگینف نے کچھ عرصہ یورپ میں بھی گزارا اور برلن یونیورسٹی میں فلسفہ اور تاریخ کے طالب علم رہے۔ 1843 میں انہوں نے وزارت داخلہ میں ملازمت اختیار کی اور ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ یورپ چلے گئے اور فرانس میں قیام کیا۔ فرانس میں سکونت اختیار کرنا ان کی ادبی زندگی کے لیے بہت زرخیز ثابت ہوا کیوں کہ وہیں انہوں نے زیادہ تر تصانیف تخلیق کیں۔ یورپ سے حاصل تجربات اور مشاہدات نے ترگینف کو بدل کر ایک روایتی جاگیردار سے حقیقت نگار مصنف بنا دیا۔ ترگینف کی وفات 3 ستمبر 1888 میں ہوئی۔

ترگینف اپنی حقیقت پسندانہ تخلیقات کے ذریعے روس میں رائج جاگیردارانہ نظام میں پستے غلام کسانوں کی تصویر کشی کرتا ہے۔ وہ اس دور میں ایسی تحریریں پیش کر کے روس کو نئے دور سے ہم آہنگ کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ ترگینف پہلے مصنف ہیں جنہیں یورپ میں سراہا گیا۔ اس کے برعکس ٹالسٹائی اور دستوفیسکی سمیت ان کے دیگر ناقدین نے انہیں ہدف تنقید بناتے ہوئے مغرب پسند اور آزاد خیال جیسے طعنوں سے نوازا۔

باپ اور بیٹے ترگینف کا چوتھا ناول ہے جو 1962 میں منظر عام پر آیا۔ اس شہرہ آفاق ناول کا اردو ترجمہ انور عظیم نے کیا۔ یہ ناول 275 صفحات پر مشتمل ہے، انتظار حسین نے بھی اس ناول کا ترجمہ ’نئی پود‘ کے نام سے کیا ہے اور میرے خیال میں بامعنی ترجمہ کرنے کے بجائے با محاورہ ترجمہ کیا جائے تو قاری کے لیے سود مند رہتا ہے۔

اس ناول کے منظر عام پر آتے ہی ترگینف شدید تنقید کی زد میں رہے۔ ناول نے رجعت پسندوں، رومان پسندوں اور بنیاد پرستوں کو مشتعل کر دیا۔ جہاں ترگینف کو روسی ناقدین نے آڑے ہاتھوں لیا وہیں فرانسیسی ناول نگار خلوبرٹ، مشہور فرانسیسی ادیب موپساں، اور امریکی مصنف ہنری جیمز نے اس کے کام کو سراہا۔

ناول کا پلاٹ دو بیٹوں اور دو باپوں کے گرد گھومتا ہے۔ باپ پرانی سوچ اور روایات کی پاسداری کرنے والے دیہاتی ہیں جب کہ بیٹے نئی نسل کے نمائندے جن کی سوچ پہلی نسل سے یکسر مختلف ہے۔ وہ جدید نظریات کی بنیاد پر مذاہب و دیگر عقائد اور سیاست کی نفی کرتے ہیں اور ان سب کی بالجبر تبدیلی کے خواہاں ہیں۔

مرکزی کردار ارکادی کر سانوف نے حال ہی میں پیٹرز برگ یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی ہے اور اپنے ایک دوست بازاروف کو ہمراہ لیے روس کے ایک دور دراز صوبے میں اپنے والد نکولائی کی جاگیر پر پہنچتا ہے۔ نکولائی ان دونوں نوجوانوں کا گرم جوشی سے استقبال کرتا ہے۔ دوران گفتگو نکولائی کا چھوٹا بھائی پاول بھتیجے اور اس کے دوست کے ذریعے ایک نئے اور عجیب فلسفے سے متعارف ہوتا ہے جسے ’نہلسٹ‘ کہا جاتا ہے۔ نکولائی اپنے بیٹے کے گھر لوٹنے پر بہت خوش ہے مگر بیٹے کے بدلے ہوئے نظریات کی وجہ سے پریشان بھی ہے جو ارکادی نے بازاروف کی صحبت میں رہ کر سیکھ لیے ہیں۔

وہ کچھ دنوں تک وہیں رہتے ہین مگر پھر پڑوسی جاگیر میں ارکادی کے عزیزوں سے ملاقات کا قصد کرتے ہیں۔ وہاں ان کی ملاقات ایک خوب صورت خاتون اوڈینسووا سے ہوتی ہے۔ وہ دونوں اس کی متاثرکن شخصیت کے قائل ہو جاتے ہیں۔ وہ انہیں اپنی جاگیر پر آنے کی دعوت دیتی ہے جسے وہ فوراً قبول کر لیتے ہیں۔ اوڈینسوا کے ہاں ارکادی کی ملاقات اس کی چھوٹی بہن کا تیا سے ہوتی ہے۔ دوسری جانب بازاروف اوڈینسوا میں دل چسپی لیتے ہوئے اپنی محبت کا یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ اس کی باتوں پر زیادہ توجہ نہیں دیتی اور وہ واپس چلے جاتے ہیں

ناول میں کئی اہم واقعات جنم لیتے ہیں جن کی مدد سے ترگینف نے کہانی کو ترتیب دیا ہے۔ بازاروف ارکادی کی سوتیلی ماں جو کہ جوان ہے سے اظہار محبت کرتے ہوئے بہک کر بوسہ لے لیتا ہے تو ارکادی کا چچا وہ منظر دیکھ لیتا ہے اور حالات کشیدہ ہو جاتے ہیں۔ دوسرا اہم واقعہ بازاروف کی انگلی کے زخمی ہونے کا ہے۔ ایک روز جب وہ وبائی مرض سے ہلاک ہونے والے شخص کا پوسٹ مارٹم کر رہا ہوتا ہے تو لاپرواہی سے اس کی انگلی زخمی ہو جاتی ہے اور وہ بھی اسی جان لیوا بیماری کا شکار ہو جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ زہر اس کے پورے جسم میں پھیل جاتا ہے اور وہ سسک سسک کر موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔

ناول کے تمام کردار ہی پختہ اور اہمیت کے حامل ہیں مگر ان سب میں بازاروف اور ارکادی مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ترگینف نے بازاروف پر خوب محنت کی ہے اور اس کی شخصیت پر ایسا رنگ چڑھایا ہے جو اس سے پہلے روسی ادب کے کسی کردار پربھی نمایاں نہیں ہوا۔ بازاروف ’نہلسٹ‘ ہے۔ نہلسٹ ایسے شخص کو کہتے ہیں جو عدمیت پر یقین رکھتا ہو یعنی وہ ہر مذہب اور عقیدے کا انکاری ہو۔ اسی وجہ سے بازاروف انیسوی صدی کے سیاسی نظریات اور نظام کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ اشرافیہ کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ انقلابی جمہوریت کا قائل ہے چاہے اس کے لیے بھرپور طاقت کا استعمال ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

ان جدید نظریات کی وجہ سے جہاں ان کے دوست احباب ان سے اختلاف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں وہیں ان کے والدین بھی ان کے نظریات کو لے کر خاصے پریشان ہیں۔ بازاروف کی صحبت کی وجہ سے ارکادی بھی انہیں خیالات کے زیر اثر نظر آتا ہے لیکن وہ ابھی تک تذبذب میں ہے۔

نظریہ عدمیت کے بعد اس ناول میں جو دوسرا سب سے اہم نقطہ بیان کیا گیا ہے وہ ہے نسلوں کے درمیان پیدا ہونے والا فرق۔ والدین اپنے بچے کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں اور ان میں جو خامیاں اور کمیاں ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں میں وہ پیدا نہ ہوں لیکن وہ ایک بات بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان اپنی الگ شناخت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ ہر انسان اپنی نظر سے اردگرد کو دیکھتا ہے، اس کے بارے میں سوچتا ہے اور مشاہدہ کرتا ہے۔ لیکن جب والدین لا شعوری طور پر بچوں میں اپنی شخصیت گھسانے کی کوشش کرتے ہیں تو آگے سے مذمت شروع ہو جاتی ہے، فاصلے بڑھنے لگتے ہیں اور بات بغاوت تک پہنچ جاتی ہے۔

اس ناول کے مطالعہ کے بعد قاری بلا شبہ ترگینف کی صلاحیتوں کا معتقد ہو جاتا ہے۔ نظریہ عدمیت اور نسلوں کے درمیان پیدا ہونے والے فرق کے بعد ترگینف جس بات پر سب سے زیادہ زور دیتا ہے وہ ہے روس کا انیسویں صدی کا جاگیردارانہ نظام اور غلام کسانوں کی زندگی۔ ترگینف ایک جاگیردار ماں کا بیٹا تھا جو اشرافیہ میں اچھا اثر و رسوخ رکھتی تھی۔ اس کی جاگیر پر پانچ ہزار غلام کام کرتے تھے جن کا استحصال کیا جاتا تھا۔ ترگینف ماں کے جابرانہ رویے کا سخت ناقد تھا اور وہ اس کی مذمت بھی کرتا تھا۔

اس ناول کے ذریعے ترگینف نے کسان غلاموں کے حق میں آواز بلند کرنے کی موثر کوشش کی ہے اور وہ اس ظلم و جبر کی نفی کرتا ہوا نظر آ تا ہے۔ وہ دیدہ دلیری سے اشرافیہ

کی زیادتیوں کی بات کرتا ہے اور غیر مساوی سیاسی نظام کی طرف توجہ دلاتا ہے۔

Facebook Comments HS