ڈی نیازی فکیشن کے لیے چند تجاویز
گزشتہ تحریر سے چند احباب نے یہ تاثر لیا کہ بطور وکیل، قانون جانتے ہوئے بھی میں ایک مخصوص سیاسی جماعت کے قانونی اور آئینی حقوق سلب کرنے کی خواہاں ہوں۔ دنیا کی کسی بھی زبان میں بات کر لیں جہاں حقوق ہوتے ہیں وہاں فرائض کا ہونا بھی لازمی امر ہے۔ یہ اصل میں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ آئین پاکستان جہاں شہریوں کو کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہونے یا جماعت بنانے کا بنیادی حق دیتا ہے وہاں یہ بھی شرط ہے کہ وہ جماعت قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اقدامات اٹھائے گی۔ مگر ریاست سے وفاداری وہ فرض ہے جو ہر شہری پر لازم ہے اور کسی بھی سیاسی جماعت سے انسیت کی بنا پر اس لازمی فرض سے چھٹکارے کا کوئی بھی آپشن کسی شہری کے پاس موجود نہیں ہے۔ میں محض قانون کی حکمرانی کی خواہاں ہوں اور یاد رہے ریاست کا ہر قانون آئین پاکستان کے تابع ہے۔
خواب خرگوش کے مزے لوٹتی ریاست کی جب تک نیند ٹوٹے گی سر پر سے منوں پانی گزر چکا ہو گا۔ دنیا کو کریزمیٹک لیڈرز کے ہاتھوں جتنا نقصان پہنچا ہے شاید ہی یہ لعنت کسی اور کے نصیب میں آئی ہو۔ مگر درحقیقت ٹوپی میں سے کبوتر برآمد کرنے والے شعبدہ باز اور عوام کی نبض پر ہاتھ دھرے ایسے لیڈرز میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا۔ روایتی سیاستدانوں کی عادت ہے کہ درگزر کر جاتے ہیں اور یہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے کہ اگر عوام کی نبض پر دھرا ہاتھ سینکڑوں تنخواہ دار سوشل میڈیا برگیڈ کے تعاون سے ہو گا تو حالات اور بھی سنگین ہوں گے۔
پاکستان کے مجموعی ووٹرز میں نوجوان ووٹ بنک سب سے زیادہ ہے۔ ہر ووٹر نوجوان سوشل میڈیا یوزر ہے۔ آپ کابینہ یا پارلیمنٹ اجلاسوں میں چاند توڑ لانے پر منصوبہ بندی کر لیں۔ بھاڑے کی سوشل میڈیا برگیڈ ہر عمل اور نیت پر دانستہ طور پر پر معصومانہ سوال گھڑ کر عوام کے سامنے رکھ دے گی اور تو اور فرضی ریاست مدینہ کے یہ کرائے کے ڈیجیٹل جہادی اس قدر ماہر کہانی ساز ہیں کہ کسی کو بھی صفائیاں دینے کی حد تک لے آتے ہیں۔
جب آئین ہر شہری کو عزت نفس کو بنیادی حق زندگی گردانتا ہے تو ریاست اس کے تحفظ کے لیے اس قدر بے بس کیوں ہے؟ فیک نیوز کا سدباب حکومتی اور ریاستی ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہتک عزت اور جعلی بیانیہ کے تدارک کے لیے جامع قانون سازی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سخت سے سخت سزائیں اور بھاری جرمانے ہی عزت نفس کے تحفظ کی ضمانت ہو سکتے ہیں۔
خوش قسمتی سے پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں عوام کی بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے اور بدقسمتی سے تقریباً یہی ایک پوری نسل نیازی ازم کا بدترین شکار بھی ہوئی ہے۔ اگر تدارک چاہیے تو ریاست کو اپنا روایتی بے جان نصاب بدلنا ہو گا۔ آئین پاکستان میں شامل تمام تر بنیادی انسانی حقوق اور فرائض تمام طالب علموں کو ازبر ہونے چاہیں۔ اور ذہنوں میں ان کی اہمیت اور ضرورت کا یقین بھی۔ ففتھ جنریشن وار فیئر سے مقابلے کے لیے نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے کہ پراپیگنڈہ ہے کیا؟ یہ کیسے کام کرتا ہے؟ کیسے لوگوں کے ذہنوں پر اپنی چھاپ چھوڑتا ہے؟ اور کیسے اس کا پتا چلایا جا سکتا ہے؟ ریاست نوجوانوں کو تعلیم کے ذریعے اس قابل بنائے کہ وہ سوشل میڈیا پر چلنے والی ہر کمپین سے متاثر ہو کر اندھی تقلید کرنے کے بجائے اس پر سوال اٹھا سکیں اور پرکھ سکیں۔
ریاست کچھوے کی چال سے جھوٹ کی اچھل کود کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔ جس رفتار سے کوئی فسانہ تراشا جاتا ہے اسی رفتار سے اس کی حقیقت عوامی سطح پر آنی چاہیے۔ نوجوانوں سے ایک قدم آگے بڑھ کر ہر شہری کو اعتماد میں لینا اور سچ تک اسے رسائی دینا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ عوام کی حمایت کے بنا کوئی بھی ریاستی پالیسی یا اقدام پایا تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا۔ نیازی ازم کے فاشسٹ عزائم کے تدارک کے لیے ریاست کو سب سے پہلے عمومی رائے عامہ کے حصول کے لیے تگ و دو کرنا ہو گی۔
نیازی ازم کا سب سے بڑا ہتھیار صحافت کے لبادے میں چھپا وہ گرو ہے جو نیازی کی ٹانگ سے اترا پلستر تو کیا اس کے جوتے اٹھا کر بھی یونہی عقیدت سے تصاویر بنوا سکتا ہے۔ یوں تو ریاست کے ماتحت پیمرا نام کا ایک ادارہ موجود ہے جس کی کل کار کردگی فلاں کا ٹی وی پر نام نہیں چلے گا، فلاں کی تصویر نہیں چلے گی، فلاں کی تقریر نہیں چلے گی تک محدود ہے۔ جب ایک عام آدمی محض پانچ منٹ تک ٹی وی دیکھ کر یہ سمجھ جاتا ہے کہ صحافی نما بہروپیے کس کی حمایت میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں تو غیر جانبدار صحافت تو وہیں فوت ہو جاتی ہے۔ برس ہا برس سے مین سٹریم میڈیا پراپیگنڈہ کی سب سے بڑی فیکٹریاں بنا ہوا ہے۔ مخصوص صحافی تو دور کی بات پورے کا پورا میڈیا ہاؤس مخصوص امیج بلڈنگ میں لگا ہوتا ہے۔ اس ساری صورتحال میں پیمرا کا کردار کہاں ہے؟ ریاستی عمل دخل کہاں ہے؟
یہی صحافی جو صحافی کی تعریف کے دور سے ہو کر بھی نہیں گزرتے سوشل میڈیا پر نیازی ازم کا پرچار کرتے کرائے کے ڈیجیٹل جہادیوں میں صف اول کے سپاہی ہیں۔ ریاست اگر ڈی نیازی فکیشن کی طرف جاتی ہے وہ کہ جانا چاہیے تو اسے سب سے پہلے پیمرا کو جگانا ہو گا۔ ہر وہ میڈیا ہاؤس جو نیازی ازم کے فاشسٹ مائنڈ سیٹ کا پرچار کر رہا ہے اس کا لائسنس معطل کرے۔ ہر اس بہروپیے صحافی کو آف ائر کیا جائے جو اسٹوڈیو میں بیٹھ کر محض اپنے دماغی ذرائع کی بنیاد پر من گھڑت ایکسکلوزیو نیوز دینے کا عادی ہو چکا ہے۔ ہر سال ہزاروں بچے ماس کمیونیکیشن کی ڈگری لے کر در در کی خاک چھان رہے ہیں اور چند نام نہاد جید صحافی نما نیازسٹ محض جھوٹ پھیلانے کے لیے مین سٹریم میڈیا پر قبضہ کیے ہوئے ہیں۔ ڈی نیازی فکیشن کا سب سے اہم اور ضروری عمل میڈیا کو قانون اور صحافتی اصولوں کے تابع کرنا ہی ہو گا۔


