پاکستانی پنجاب، ایک عیسائی کے ووٹ کی بھیک ہے: قرارداد مقاصد کے پنگے کا دوسرا دکھڑا


 میں نے مضمون شروع کیا تھا، ”جب کراچی کے ایک ان پڑھ مچھیرے نے ہندوستانی فوج کی عزت خاک میں ملا دی“ ۔ اس دوران ایک صاحب کی پوسٹ ملی اور مجھے یہ جان کر جھٹکا لگا کہ ائرمارشل شربت علی چنگیزی (ریٹائرڈ) ستارہ جرات ہیں۔ بتانے والے نے بطور ثبوت ایک اخبار کا تراشہ بھی دکھایا اور کچھ دنوں بعد انٹرنیٹ کی ایک ویب سائٹ پر ان کے نام کے ساتھ ستارہ جرات بھی لکھا دکھا دیا۔

پوچھا انہیں کیوں ملا تھا، تو پتہ چلا لاہوریوں کی حفاظت کرتے ہوئے لاہوریوں کی آنکھوں کے سامنے ستمبر 1965 میں ہندوستانی جہاز گرا کر لاہور کو بچا لیا تھا۔

میں چپ رہا کیوں کہ یہ جہاز سید نذیر جیلانی نے گرایا تھا۔

شربت علی چنگیزی، شیعہ اور ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ماشاء اللہ 92 سال کے ہیں۔ مگر سب سے اہم بات یہ کہ 1965 میں پاکستان کے اس وقت کے آرمی چیف جنرل موسی کے داماد تھے۔

ایک صاحب ملے پاکستان کے لئے اقلیتوں کے جنگی کردار پر بچھے جا رہے تھے جس پر مجھے کوئی شک نہیں۔ ساتھ کہنے لگے فائٹر پائلٹ نذیر لطیف کے ساتھ بہت زیادتی ہوتی ہے۔ پوچھا کیسے۔ کہنے لگے، دو ستارہ جرات ملے لیکن انہیں وہ عزت نہیں ملی جو عالم صاحب کو ملی۔ کہا شاید آپ بل لطیف کی بات کر رہے ہیں۔

انہیں بتایا، وہ فائٹر پائلٹ نہیں بمبار طیارے اڑاتے تھے۔ ساتھ یہ بھی پوچھا کہ دوسرا ستارہ جرات کیا آپ نے انہیں دیا تھا؟ کہنے لگے دیکھا یہی عیسائی پائلٹوں کے ساتھ تفریق ہے۔

چند سال پہلے ایک اخبار میں بہت بڑی خبر لگی کہ پاک فضائیہ میں پہلا ہندو پائلٹ۔ خبر پڑھی اور اپنا سر پکڑ لیا۔ ڈھونڈ ڈھانڈ کر صحافی تک پہنچا اور پوچھا اس ریکارڈ کا کیسے پتہ چلا۔ کہنے لگے، اس ہندو پائلٹ کے گھر والوں نے خود بتایا تھا۔ میں نے کہا ایک ائر کموڈور بلونت کمار داس (المشہور بی کے داس) تھے جو 71 کی جنگ سے پہلے ریٹائر ہوئے اور سپارکو اور پی آئی اے میں بڑی خدمات انجام دیں کیا وہ ہندو نہیں تھے۔ کہنے لگا، مجھے کیا پتہ۔

آنجہانی پائلٹ سیسل چوہدری کے ”یک طرفہ کارنامے“ فی الوقت سائیڈ پر رکھتے ہیں۔

یہ چند مثالیں جو تمام پاک فضائیہ سے متعلق ہیں اس لئے لکھیں کہ پاکستان میں بے شک غیر مسلم حضرات کو وہ حقوق یا مواقع نہیں ملتے جو بعض اوقات پاکستانی مسلمانوں کو ملتے ہیں۔ بعض جگہ شیعہ یا ہزارہ کمیونٹی کے لوگ بھی یہی رونا رو رہے ہوتے ہیں۔ قادیانی حضرات کا تو اس سے بھی برا حال ہے۔ لیکن میرا سوال صرف یہ ہے کہ حضرت مانا ظلم ہو رہا ہے لیکن آپ اپنی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے کارناموں کو بڑھا چڑھا کر کیوں جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ کون سی عقل مندی ہے؟ اور اس سے بڑھ کر ظلم یہ بھی ہوتا ہے کہ دوسرے پاکستانی ان غلط بیانیوں کو سچ جان کر تاریخ کو مزید مسخ کر دیتے ہیں۔

میں نے قرارداد مقاصد سے متعلق ایک طالب علم کی طرح لکھنا شروع کیا ہے۔ جبکہ میرے علم میں یہ بھی ہے کہ میں خود بھی ممکنہ طور پر غلط حوالے یا باتیں لکھ ڈالوں، لیکن ساتھ تسلی ہے کہ جب یہ سلسلہ ختم ہو گا، بہت ساری غلط باتیں، مسخ شدہ تاریخ کی دھند کو ہٹا کر سامنے آ جائیں گی۔ میں صرف تاریخ کا طالب علم ہوں تجزیہ کار نہیں۔

ایک صاحب نے اس دوران پوچھا کہ کیا میں جانتا ہوں کہ جون 1947 میں آزادی سے پہلے پنجاب اسمبلی کے ارکان سے پوچھا گیا کہ بھائیوں ہندوستان کی طرف جانا ہے یا پاکستان کی طرف۔ تو دونوں طرف ووٹ برابر پڑے۔

اسمبلی کے عیسائی اسپیکر دیوان بہادر سنگھا کو یہ اختیار تھا کہ وہ اپنا اسپیکر کی حیثیت سے اضافی ووٹ کسی کو بھی دے دے اور اس نے یہ ووٹ پاکستان کے حق میں ڈال دیا اور یوں آج لاہور، ملتان، راول پنڈی پاکستان کا حصہ ہیں۔ صرف اس لئے کہ ایک عیسائی نے پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالا۔ وگرنہ آج کا پنجاب، ہندوستان کا حصہ ہوتا۔

میں ہنس کر چپ رہا۔

انٹرنیٹ پر ایک جگہ یہ بھی پڑھا کہ اصل میں تو ووٹ برابر پڑ جاتے مگر اسمبلی کے تین عیسائی ارکان (دیوان سنگھا، فضل الہی، سیسل جبون) نے پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالا (جو یقیناً مسلم لیگ سے نہیں تھے ) اور یوں پنجاب، 3 عیسائی ووٹ اور چوتھا دیوان سنگھا کا اسپیکر والا اضافی ووٹ ملا کر پاکستان میں آ گیا۔ (یاد رہے سنگھا مغربی پنجاب سے یونینسٹ کی حمایت سے عیسائیوں کی مخصوص نشست پر منتخب ہوئے تھے۔ جبکہ فضل الہی مشرقی پنجاب سے آزاد حیثیت سے جیتے تھے ) ۔

تالیاں۔
یوں میں نے قرارداد مقاصد کو اب سائیڈ پر رکھا اور لکھنے بیٹھا ہوں کہ اس جھوٹ کی کیا حقیقت ہے۔

جنگ عظیم دوئم کے بعد برطانیہ نے 1945 میں ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ایک آزاد ہندوستان چھوڑ دے گا۔ اور اس کے لئے حد آخر جون 1948 رکھی تھی۔

اس دوران ہندوستانیوں کو حکم رانی کی تمیز سکھانے کے لئے تمام صوبوں میں 1945 کے آخر میں الیکشن کا اعلان ہوا۔

ہم صرف غیر منقسم پنجاب کی اسمبلی کی بات کرتے ہیں جس میں اس وقت موجودہ پاکستانی پنجاب کے ساتھ امرتسر، حصار، روہتک، گڑگاؤں، کرنال (جہاں سے لیاقت علی خان کا تعلق تھا) ، انبالہ، ہوشیار پور، کانگڑہ، جالندھر اور دوسرے علاقے شامل تھے۔

پنجاب اسمبلی کے الیکشن 1946 کے انتخابات میں کل نشستیں 175 تھیں جن میں 84 مسلمانوں کے لئے الگ نشستیں، 31 سکھوں کے لئے الگ، جبکہ 42 عام نشستوں پر کوئی بھی لڑ سکتا تھا مگر یہاں ہندو غالب تعداد میں لڑتے تھے۔ چوتھی قسم مخصوص یا متفرق 18 تھی (جس میں خواتین، نچلی ذات کے ہندو، اینگلو انڈین، زمینداروں، مزدور، تاجر اور یونیورسٹی پڑھے لوگوں کے لئے الگ نشستیں مختص کی گئی تھیں ) ۔

18 مخصوص میں سے 5 مزید نشستیں مسلمانوں کے لئے مخصوص تھیں۔ 2 مسلمان خواتین اور 3 مسلمان زمیندار۔ یوں آل انڈیا مسلم لیگ 175 میں سے زیادہ سے زیادہ 89 نشستیں جیت سکتی تھی۔ جبکہ حکومت بنانے کے لئے 88 کی سادہ اکثریت چاہیے تھی۔

مسلم نشستوں پر آل انڈیا مسلم لیگ کے مقابل خود کانگریس، یونینسٹ پارٹی (جس کا کانگریس سے اتحاد بھی تھا) ہی نہیں، جمیعت العلمائے ہند، مجلس احرار اور خاکسار تحریک سے تعلق رکھنے والے، اور کچھ آزاد مسلمان بھی آل انڈیا مسلم لیگ کو ٹف ٹائم دینے کے لئے موجود تھے۔

انتخابات کا نتیجہ فروری 1946 میں آیا۔

نتیجہ آیا تو مسلم لیگ جس نے پچھلے الیکشن 1937 میں محض دو نشستیں حاصل کی تھیں۔ وہ 88 نشستیں تو نہ نکال سکی مگر 73 سیٹیں حاصل کر کے سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔ کانگریس کو 51، ماسٹر تارا سنگھ والی سکھوں کی جماعت اکالی دل نے 20، جبکہ پچھلی مرتبہ کی فاتح یونینسٹ پارٹی کو 100 کی بجائے صرف 21 سیٹیں ملیں۔

کانگریس 51، اکالی دل 20 اور یونینسٹ 21 نے مل کر 92 کا ہندسہ بنایا اور حکومت بھی بنالی۔ یونینسٹ اور کانگریس کی طرف سے ہندو، مسلم اور عیسائی ہر طرح کے لوگ جیتے تھے۔ جبکہ مسلم لیگ میں صرف مسلمان تھے۔ واضح رہے کرنال سے لیاقت علی خان کی بجائے کسی اور نے الیکشن لڑا تھا اور جیت لیا تھا۔ کیونکہ لیاقت علی خان کو قائد اعظم نے مرکزی اسمبلی کے لئے علیحدہ رکھا ہوا تھا۔

پنجاب اسمبلی بنی تو یونینسٹ کے ملک خضر حیات ٹوانہ وزیراعلی منتخب ہو گئے اور اسپیکر یونینسٹ کے ہی عیسائی رکن ستیا پرکاش سنگھا (ایس پی سنگھا) منتخب ہوئے۔

قائد اعظم نے اکالی دل کے سکھوں کو پہلے اور بعد میں بھی کھلی آفر دی تھی کہ وہ جہاں چاہیں سکھ ریاست قائم کر لیں مسلم لیگ (مسلمان) ان کا ساتھ دے گی وہ صرف ہندوستان کے نقشے پر اپنی ریاست نشان زد کر دیں۔ اکالی نے لیکن ان کی یہ آفر ہمیشہ مسترد کی کہ ہمیں کانگریس پر اعتبار ہے۔ اور ہم صرف ایک آزاد ہندوستان دیکھنا چاہتے ہیں۔ اپنی ریاست بعد میں بنا لیں گے۔

اس کے برعکس پنجاب کے عیسائی اور اینگلو انڈین لوگوں نے جناح کی بات کو اہمیت دی اور وقت کے ساتھ ساتھ خود کو مسلم لیگ کے قریب کر لیا۔

نئی دہلی میں قائم ہونے والی مرکزی اسمبلی کے لئے طے کیا گیا تھا کہ اس کی کل 399 نشستیں ہوں گی ۔ 90 سیٹیں آزاد ریاستوں اور راجواڑوں کے لئے مختص تھیں (جیسے خیرپور، بہاول پور، جونا گڑھ، کشمیر اور حیدرآباد وغیرہ) جبکہ 289 ارکان، سیاسی پارٹیاں اپنے صوبوں سے نامزد کریں گی (ہماری آج کی سینیٹ کی طرح) طریقہ یہ تھا کہ تمام پارٹیوں کو کامیابی کے تناسب سے یہ سیٹیں الاٹ ہونی تھیں۔ تمام صوبوں میں کامیابی کے فارمولے سے مسلم لیگ کے حصے میں 73 نشستیں آئیں جبکہ کانگریس کو 208 نشستیں ملیں۔ یوں یقینی تھا کہ 1937 کے الیکشن کی طرح کانگریس حکومت میں آ کر ہندو غالب فیصلے لے گی اور مسلمانوں کی جماعت مسلم لیگ محض اپوزیشن بن کر چیخ پکار کرتی رہے گی۔

ستمبر 1946 میں مرکزی حکومت نے جواہر لال نہرو کی قیادت میں کابینہ بنا لی۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے مرکزی دستور ساز اسمبلی اور کابینہ دونوں میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ ایک مہینے سے زائد عرصے تک وائسرائے اور کانگریس جناح صاحب کو مناتے رہے لیکن نہ پنجاب حکومت کام کر پائی اور نہ مرکز میں۔ وائسرائے نے آخرش منا لیا اور مسلم لیگ 5 وزارتوں کے ساتھ اکتوبر 1946 میں مرکزی حکومت میں شامل ہو گئی جس میں لیاقت علی خان وزیر خزانہ تھے۔ مسلم لیگ کے نامزد 73 لیگی ارکان کی اکثریت نے مرکزی اسمبلی میں حلف نہیں اٹھایا۔

حکومت برطانیہ کا الیکشن سے پہلے تک یہی خیال تھا کہ مسلم لیگ محض ایک پریشر گروپ ہے سکھوں کی اکالی دل سے کچھ زیادہ۔ لیکن مسلم نشستوں پر ملنے والی 87 ٪ شاندار کامیابی نے واضح کر دیا کہ مسلمانوں کی نمائندہ جماعت آل انڈیا مسلم لیگ ہی ہے۔ اور جس طرح مرکزی حکومت، پنجاب اور صوبہ سرحد کی حکومتیں مسلم لیگ کے بغیر چل نہیں پار ہی تھیں۔ یا تو برطانیہ کو ہندوستان کو دو حصوں میں آزاد کرنا ہو گا یا پھر، دو الگ الگ اسمبلیاں بنانی پڑیں گی (جو بالکل ہی ناممکن بات تھی) ۔

فروری 1947 میں جب آخری وائسرائے ماؤنٹ بیٹن ہندوستان آیا تو اسے شاہ برطانیہ نے یہی کہا تھا کہ کوشش کرنا کہ ہندوستان آزاد ہو مگر تقسیم نہ ہو۔ یعنی ایک ہندوستان آزاد ہو تاکہ ہمارے لئے مشکلات کم سے کم ہوں۔ ہندوستانی جانیں اور ان کا نصیب لیکن اگر معاملات ہاتھ سے نکل جائیں تو تمہیں تاج برطانیہ کی عزت بچانے کے لئے ہر طرح کے فیصلے کا اختیار ہے۔ یعنی فروری 1947 میں، ہندوستان آزاد تو ہونے جا رہا تھا مگر پاکستان بننے کے امکان اس وقت تک صفر تھے۔

46 سالہ نئے وائسرائے ماؤنٹ بیٹن نے تین چار مہینوں میں ہی جان لیا کہ جون 1948 تک، اگر ایک ہندوستان آزاد ہوا تو اس کا چلنا ناممکن ہو گا اور یوں مزید بدنامی تاج برطانیہ کے حصے میں آئے گی۔ اس کے ذہن میں ایک اور خیال آیا کہ مذہب کی بنیاد پر دو الگ الگ ملک پاکستان اور ہندوستان بنا دیے جائیں اور عارضی طور پر میں دونوں کا گورنر جنرل بن جاتا ہوں۔

ایک حصہ جناح سنبھال لے گا، دوسرا نہرو۔ اور میں دونوں کے اوپر مشترکہ گورنر جنرل۔
اس کے بعد حالات بہتر ہو گئے تو دونوں یا تو ایک ہوجائیں گے یا جیسے ہیں چلتے رہیں گے۔

یوں جون 1947 میں نئے وائسرائے نے تمام اہم پارٹیوں کے رہنماؤں کو بلا کر انہیں تاج برطانیہ کی طرف سے آگاہ کیا کہ برطانیہ ایک نہیں بلکہ اب دو ملکوں کو آزاد کر رہا ہے۔

یہ آل انڈیا مسلم لیگ اور محمد علی جناح کے لئے بہت بڑی کامیابی تھی۔
اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ فیصلہ ہوا کہ بنگال اور پنجاب کے صوبے حد تقسیم ہوں گے ۔
پنجاب اور بنگال دونوں نے پاکستان میں جانا ہو گا۔
مشرقی بنگال جس میں ڈھاکہ اور سلہٹ شامل تھا اور مسلمانوں کی غالب اکثریت تھی۔
ان میں سلہٹ والوں میں آبادی کی بنیاد پر ریفرنڈم ہو گا کہ وہ پاکستان میں جائیں گے یا ہندوستان میں۔

صوبہ سرحد میں چونکہ کانگریس کے اتحادیوں کی حکومت تھی مگر مسلمان زیادہ تھے وہاں بھی آبادی کی بنیاد پر ریفرنڈم ہو گا کہ یہ لوگ پاکستان میں جائیں گے یا ہندوستان میں۔

صوبہ سندھ اسمبلی پہلے ہی پاکستان میں شامل ہونے کی قرارداد منظور کرچکا تھا۔
لیکن پنجاب کا معاملہ دوسرا تھا: جس نے ہر حال میں جانا پاکستان میں تھا مگر :

یہاں ریفرنڈم نہیں ہوا بلکہ مغربی پنجاب (موجودہ پاکستان) کے اضلاع کو ملا کر ایک فرضی مغربی پنجاب کے ارکان اسمبلی سے سوال پوچھا گیا (جہاں مسلمانوں کی غالب اکثریت تھی) ۔ یہ سوال اتنا ہی کنفیوز تھا جیسا ہمارے ضیا الحق کے ریفرنڈم والا سوال تھا۔

کیا وہ ایک پنجاب کے ساتھ پاکستان میں جائیں گے (یا الگ الگ پاکستان ہندوستان میں ) ۔

اسی طرح مشرقی پنجاب (جس مٰیں ہندو اکثریتی، سکھ علاقے زیادہ شامل تھے ) ان سے پوچھا گیا کہ وہ مشرقی پنجاب کے طور پر الگ ہو کر ہندوستان میں جانا چاہتے ہیں یا ایک صوبے پنجاب کے طور پر پاکستان میں۔

اصل سوال پڑھیں تو مزید کنفیوژن ہوتی ہے اس لئے میں نے واضح کر دیا کہ بنگال اور پنجاب نے جانا پاکستان میں ہی تھا صرف فیصلہ یہ ہونا تھا کہ پورا صوبہ جائے گا یا دو دو صوبوں میں تقسیم ہوں گے ۔

بہرحال 23 جون 1947 کو مغربی پنجاب کے 17 مسلمان اکثریتی ضلعوں کی اسمبلی کے 96 ارکان کا اجلاس اسپیکر سنگھا کے صدارت میں ہوا۔ جن سے پوچھا گیا کہ کیا آپ پنجاب کے صوبے کی تقسیم چاہتے ہیں۔ (یعنی آپ الگ پاکستان میں جائیں گے اور سکھ ہندو الگ صوبہ بن کر پاکستان میں ) ۔

مغربی یا پاکستانی پنجاب کی اسمبلی نے یہ قرارداد 27 کے مقابلے میں 69 ووٹوں سے رد کردی (یعنی نہیں ہم تقسیم نہیں چاہتے پورا صوبہ پنجاب پاکستان میں جائے ) ۔

اب اگر مشرقی پنجاب بھی یہی فیصلہ کرتا تو وہ پاکستان کا حصہ بن جاتے۔ ان کا اجلاس ایک اور جگہ ڈپٹی اسپیکر سردار کپور سنگھ کی قیادت میں 12 اضلاع کے 72 ارکان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ ایک صوبہ پنجاب دیکھنا چاہتے ہیں (یعنی پورا پنجاب پاکستان میں جائے گا) ۔

مشرقی پنجاب کے 12 اضلاع کے ارکان نے 22 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے فیصلہ کیا کہ نہیں ہم ایک پنجاب نہیں دیکھنا چاہتے (یعنی تقسیم چاہتے ہیں اور انڈیا میں جائیں گے ) ۔

یوں ہندو۔ سکھ اکثریتی حصے نے ایک رہنے سے انکار کر دیا۔ اور پاکستانی پنجاب اکیلا رہ گیا۔

یہاں دونوں اسمبلیوں نے الگ الگ فیصلہ کرنا تھا۔ 168 کے علاوہ باقی ارکان وہ تھے جو مخصوص نشستوں پر منتخب ہوئے تھے اور ان کا مشرقی یا مغربی پنجاب سے کوئی براہ راست تعلق نہیں تھا۔

یہاں البتہ ایک بڑی باریک گیم اس وقت کھیلی گئی اور شاید جان بوجھ کر متعدد ایسے اضلاع جن کو مشرقی اسمبلی میں ووٹ ڈالنا چاہیے تھا۔ انہیں مغربی اسمبلی میں ملا دیا گیا یوں یہ مسلمان ووٹ ضائع ہو گئے کیونکہ مغربی پنجاب نے تو پاکستان میں آنا ہی تھا۔ اگر یہ علاقے مشرقی طرف ہی رہتے تو 22 بمقابلہ 50 کچھ اور بھی بن سکتا تھا۔ کیونکہ یہاں مسلم لیگ یا کانگریس نہیں بلکہ سوال یہ تھا کہ پاکستان یا ہندوستان کس طرف جانا ہے؟ جون 1947 کے بعد پاکستان تو بننا طے ہی تھا۔

یہ وہ واردات ہے جس پر کبھی بات نہیں کی گئی۔ اور حیرت ناک بات یہ ہے کہ انہی اقلیتی ارکان نے زور ڈال کر اپنا اضلاع کو مغربی اسمبلی کے ساتھ ووٹ ڈالنے کی اپیل کی۔ اگر یہ واقعتاً پاکستان کے حامی تھے تو مشرقی طرف جاکر بھی پاکستان کے لئے ووٹ ڈال سکتے تھے۔ ان کے اضلاع کا تعین تو سرحدی کمیشن کے بعد ہونا تھا۔

بہرحال حکومت برطانیہ کا فیصلہ تھا کہ پنجاب نے الگ ہو کر پاکستان میں جانا ہے۔ اور ارکان کی ووٹنگ کی بنیاد پر ان کے دو حصے کرا کر فیصلہ لے لیا گیا۔ پاکستانی حصے نے اصرار کیا کہ ایک ہی پنجاب رہے۔ جبکہ مشرقی پنجاب جس کے 72 ارکان میں 32 سکھ شامل تھے۔ اصل فیصلہ ان کا تھا اور اکالی دل کے ماسٹر تارا سنگھ 22 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے امرتسر، جالندھر، کرنال اور بٹالہ کو ہندوستان لے گئے۔ اور اب 77 سال بعد اس کوشش میں ہیں کہ خالصتان بن جائے۔

رہا سوال کہ ایس پی سنگھا نے ووٹ کس کو دیا تھا۔ یہ تو انہیں خود ہی پتہ ہو گا۔ مغربی پنجاب تو 27 کے مقابلے میں 69 ووٹوں سے ایک پنجاب دیکھنا چاہتا تھا۔ جو ہو نہ سکا۔

Facebook Comments HS