سائنسی انقلاب اور مذہب


جیسا کہ میں نے پچھلے مضمون میں ذکر کیا، آج کی دنیا میں موجود تقریباً تمام مذاہب کی بنیادیں اس دور میں رکھی گئیں جب سائنس اپنی موجودہ شکل میں موجود نہیں تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب قدرت کے مظاہر کو سمجھنے کے لیے ایک طرف تو خدا کا تصور تھا جس کے مطابق خدا کائنات کا خالق ہے اور وہ ہی اس پورے نظام کو چلا رہا ہے اور دوسری طرف فلسفیانہ سوچ تھی جو عقلی استدلال کے ذریعے کائنات کے اسرار کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔

اس دور میں مذہبی سوچ عمومی طور پر بہت کامیاب رہی۔

پھر سولہویں صدی میں ایک سائنسی انقلاب کی بنیاد رکھی گئی۔ اس انقلاب کی بنیاد یہ نظریہ تھا کہ ان قوانین کو سمجھنا اور دریافت کرنا ممکن ہے جس کے تحت یہ کائنات چل رہی ہے۔ جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے، سائنسدانوں کے دریافت کردہ قوانین کو کوئی شخص کہیں بھی اور کبھی بھی آزما سکتا تھا۔ اس طور انسانی تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہو سکا تھا، کہ ایسے قوانین فطرت دریافت ہوئے، جن پر اتفاق رائے پایا جاتا تھا۔

آگے بڑھنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مذہب اور سائنس کن بنیادوں پر کھڑے ہیں؟

مذہب کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی بنیادیں بہت متزلزل رہی ہیں جس نے تاریخ میں شدت پسندی اور عدم برداشت جیسے رویوں کو فروغ دیا۔ جب عقلی دلائل موجود نہ ہوں تو انسان اکثر اوقات دوسرے کی زبان بندی پر اتر آتا ہے اور بد قسمتی سے یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور خاص طور پر ہماری سوسائٹی کا خاصہ بن گیا ہے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف تو سائنسی قوانین کی نوعیت آفاقی ہے جس کے تحت ایک وقت میں ایک ہی قانون دنیا میں ہر شخص کے لیے یکساں موجود ہے جبکہ دوسری طرف دنیا میں اتنے سارے مذاہب موجود ہیں اور ہر مذہب کے اندر بے شمار فرقے موجود ہیں۔ ہر مذہب کے پیروکار یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صحیح راستے پر ہیں۔ اور دوسرے مذاہب کے لوگ گمراہ ہیں۔ اس بارے میں میں نے ”دنیا میں اتنے سارے مذاہب کیوں ہیں؟“ کے عنوان سے ایک مضمون ”ہم سب“ میں تحریر کیا تھا۔

جدید سائنس کی بنیاد صرف اور صرف عقلی دلائل پر ہے۔ اس کا دائرہ کار ایسے قوانین کی دریافت ہے جس کے تحت کائنات کا نظام چل رہا ہے اور جن کی نوعیت آفاقی ہے۔ جب کہ مذاہب ان سوالات کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں جن کا تعلق خدا کی موجودگی، اس کی خصوصیات، اور انسانوں سے اس کے تعلق سے ہے۔ سائنس ان سوالات کا جواب نہیں دیتی۔ مذاہب کی بنیاد ان ہزاروں سال پرانی روایات پر مشتمل ہے جو تاریخی حوالوں سے ہم تک پہنچے ہیں۔

سائنس اور مذہب میں ایک بہت بڑا بنیادی فرق ہے جو اکثر ہماری نظروں سے اوجھل رہتا ہے، اور یہ میرے ان مضامیں کی سیریز کا سب سے اہم نکتہ ہے۔

مذہبی شخص، چاہے اس کو کتنا بڑا عالم کیوں نہ تسلیم کیا جائے، اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہے کہ اس کے پاس اس بات کا کیا ثبوت ہے، ایسا ثبوت جس سے وہ ایسے افراد کو قائل کر سکے جن کے عقائد اس سے مختلف ہوں، کہ وہ تو صحیح راستے پر ہے اور دوسرے گمراہی کے راستے پر ۔ ذرا ایک لمحے کے لیے رک کر ایمانداری سے سوچیں تو اس سوال میں آپ کو اپنے عقائد کی عمارت ڈولتی نظر آئے گی۔ آپ اپنے عقائد کی سچائی کا ثبوت صرف ان شخصیات، کتب، اور روایات سے دے پائیں گے جو خود آپ کے عقائد کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ عقائد کی کوئی ایسی معروضی بنیاد نہیں ہے جس سے آپ اپنے سے مختلف عقائد رکھنے والے شخص کو قائل کر سکیں۔ اگر ایسا ہوتا تو ساری دنیا میں ایک ہی مذہب ہوتا۔

اسی بات کو ان الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ اس دنیا میں اتنے سارے مذاہب اور ان کے متعدد فرقوں کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ ان میں سے کسی کے پاس اپنے سچے ہونے کی کوئی معروضی دلیل نہیں ہے۔

میرے خیال میں ہمیں اپنے آپ سے اور مذہبی رہنماؤں سے یہ سوال کرنا ضروری بنتا ہے کہ ہمارے پاس اپنے مذہبی عقائد کی سچائی کا کیا کوئی ثبوت ہے جو معروضی ہو، اور جس کی بنیاد پر دوسرے عقیدے کے افراد کو قائل کیا جا سکے۔ عیسائی کس دلیل سے مسلمان کو قائل کر سکیں گے کہ مسیح خدا کے بیٹے تھے، اس طرح کیا مسلمان کے لیے ہندو یا چینی کو وحی کا تصور سمجھایا جانا ممکن ہو گا۔ اگر کسی مذہب کے پاس ایسی دلیل یا ثبوت ہوتے تو آج صرف اسی مذہب کا دور دورہ ہوتا۔

میری یہ بات کچھ کو عجیب، شاید معیوب، لگی ہو، لیکن یہ کوئی اچھوتی بات نہیں۔ بحیثیت سائنسدان، مجھے ہزاروں کی تعداد میں دنیا کے بہت سے ممالک میں سائنس کے مختلف موضوعات پر لکچر دینے کا موقع ملا۔ ان تمام لیکچرز میں ایک قدر مشترک رہی ہے۔ مجھے اپنے ہر نظریے کی سپورٹ میں ایسے عقلی دلائل دینے ضروری تھے جو لکچر میں موجود ہر شخص کو قائل کر سکیں، قطع نظر اس شخصیت کی قومیت اور مذہب کے۔ یہ سائنس کی اساس ہے۔

اب میں اس سوال کی طرف آتا ہوں کہ سائنسی سوچ نے مذہبی سوچ کو کس طرح متاثر کیا؟

جیسا کہ میں نے پچھلے مضمون میں بیان کیا سولہویں اور سترہویں صدی میں وقوع پذیر سائنسی انقلاب نے ثابت کیا کہ کائنات میں ہونے والے تمام واقعات کی وضاحت چند سائنسی قوانین کے ذریعے ممکن ہے۔ اس حقیقت کے ادراک نے کائنات کے بارے میں ہمارے تصورات کو یک دم تبدیل کر دیا۔ اس سائنسی انقلاب کے نتیجے میں کائنات ایک مشین کی طرح محسوس ہونے لگی، جس میں ہونے والا ہر واقعہ ایک دوسرے سے مربوط ہے۔

یہ مذہبی سوچ رکھنے والوں کے لیے ایک بہت بڑا جھٹکا تھا۔ سائنسی انقلاب نے تو یہ سوچ پیدا کی کہ کائنات قوانین فطرت کے تحت چل رہی ہے، جن میں خدا بھی دخل نہیں دے سکتا۔ اس انقلاب نے خدا کے تصور کو ختم تو نہیں کیا لیکن اب کائنات کے ارتقاء کو سمجھنے میں خدا کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ ایک طرف یہ تصور کیا جا سکتا تھا کہ چونکہ اس کائنات کے نظام کو سمجھنے میں خدا کی ضرورت نہیں، اس لیے خدا کے وجود سے انکار مناسب راستہ ہے۔

یہ راستہ الحاد کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا نقطہ نظر یہ تھا کہ چونکہ کوئی چیز خود سے وجود میں نہیں آ سکتی، اس لیے کوئی تو ہے جس نے اس کائنات کو اور اس کائنات کے اندر موجود ہر چیز کو پیدا کیا۔ یہ راستہ خدا کی حقانیت کی طرف جاتا ہے۔ اب یہ فیصلہ کہ ان دونوں میں کون سا راستہ درست ہے، یہ مابعدالطبیعات کا سوال بن جاتا ہے، جس کا کوئی حتمی جواب نہیں۔

اس صورت حال میں یورپ میں موجود عیسائی تہذیب اور اسلامی تہذیب کا رد عمل بہت مختلف تھا۔

یورپ نے، جہاں کے سائنسدانوں نے سائنسی انقلاب بر پا کیا تھا، اس دور میں بہت قدآور فلسفی پیدا کیے۔ ان فلسفیوں نے مذہب اور سیاست کو علیحدہ کرنے، جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق جیسے تصورات روشناس کروائے۔ ان فلسفیوں میں سر فہرست برطانوی فلاسفر جان لاک اور فرانسیسی فلاسفر یاں یاک روسو (Jean۔ Jacques Rousseau) تھے۔ ان کے خیالات نے ایک سیکولر معاشرے کی بنیاد رکھی جس میں ہر کسی کو اپنے طور مذہبی آزادی حاصل تھی۔

مثال کے طور پر جان لاک نے مذہبی رواداری کے اصول وضع کیے جن کے مطابق ریاست، ججز اور معاشرے کے کسی فرد کو کسی کے مذہبی عقائد کی سچائی کے دعوؤں کا جائزہ لینے کا کوئی حق نہیں۔ ان کے مطابق اگر طاقت کے ذریعے ایک واحد ”سچا مذہب“ نافذ کر بھی دیا جائے تو اس کا مطلوبہ اثر نہیں ہو گا، کیونکہ عقیدے کو تشدد سے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ جان لاک کے مطابق مذہبی یکسانیت پر زور دینا معاشرے میں مختلف مذہبی خیالات کی موجودگی سے زیادہ سماجی خرابی کا باعث بنے گا۔

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جان لاک نہ صرف نیوٹن کے ہم عصر تھے، بلکہ دوست بھی۔

ان سنہری افکار کو اپنانے سے ایک طرف یہ اقوام مذہبی جنونیت سے آزاد ہو گئیں اور دوسرے طرف انہیں ان مذہبی اقدار کو اپنانے کی آزادی مل گئی جن کا تعلق ذاتی زندگی سے تھا۔ اس طرح ایک طرف تو سوچ کی آزادی اور سائنس کے میدان میں ترقی کی راہیں کھل گئیں، اور دوسری طرف ذاتی زندگی میں مذہب سے وابستہ ایموشنل سپورٹ سے بھی بہرہ مند ہونے کا موقع مل گیا۔ نتیجہ یہ ہے، کہ یہ اقوام امن، مساوات اور انصاف پر مبنی معاشرہ قائم کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ ان معاشروں میں مذہب کا تعین افراد پر چھوڑ دیا گیا۔

ان قوموں نے جنہوں نے سائنسی انقلاب میں حصہ نہیں لیا، اور ان میں مسلم سوسائٹی سر فہرست ہے، مغربی سائنسی ترقی کو ایک شکست خوردہ قوم کی طرح قبول کیا۔ انہوں نے ان مذہبی روایات کو من و عن برقرار رکھا ہے جو ہزاروں سال پرانی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جدید سائنس کے آنے کے بعد مسلم سوسائٹیوں میں مذہب اور سائنسی سوچ کی ہم آہنگی سے وابستہ کوئی نئی سوچ پروان چڑھتی۔ لیکن اس کے برعکس مسلمان اپنے خول میں سمٹتے چلے گئے۔

سائنسی انقلاب کے نتیجے میں مسلمان ایک کشمکش کا شکار ہو گئے۔ ایک طرف تووہ اپنے مذہبی عقائد میں کسی قسم کی تبدیلی یا لچک کا مظاہرہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھے لیکن دوسری طرف وہ سائنسی انقلاب کے ساتھ آنے والے صنعتی انقلاب کے ثمرات سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔ انہوں نے روشن خیال رویہ اختیار کرنے کے بجائے بہت دفاعی اور رجعت پسند رویہ اپنایا۔

اسلام میں فلسفیانہ تحریک تو بارہویں اور تیرہویں صدی میں دم توڑ چکی تھی اور کوئی ایسی فکری تحریک موجود نہیں تھی جو سائنسی انقلاب کے مضمرات کو اپنی سوسائٹی میں سمونے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ ہوا یوں کہ جس دور میں مغرب میں سائنسی انقلاب وقوع پذیر ہوا، مسلمان علماء نے اسلامی تہذیب کو بنیاد پرستی کی طرف دھکیل دیا۔ انہوں نے سائنسی نظریات کو نظرانداز کرتے ہوئے اس سے وابستہ ٹیکنا لوجی کو تو اپنا لیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ مسلم سوسائٹی فکری پستی میں ہونے کے باوجود یہ دعوے کرتی نظر آتی ہے کہ آج جو بھی علم موجود ہے اس کا منبع تو قرآن ہے یا پھر یہ کہ اگر ہم خلافت راشدہ کی تقلید کریں تو دنیا کی سپر پاور بن سکتے ہیں۔

تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جن قوموں نے وقت کے تقاضوں کو سمجھا اور سائنسی سوچ کے ساتھ اپنی سوچ کو ہم آہنگ کیا وہ آج کی دنیا میں کہیں آگے ہیں لیکن جن اقوام نے ہزاروں سال پرانی مذہبی روایات اور شخصیات کو رہنما بنایا اور ان کی اس دور کی تعلیمات کو من و عن برقرار رکھا جب سائنس کے جدید تصورات سامنے نہیں آئے تھے وہ آج پستی کے عالم میں ہیں۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy