سائفر اور ڈونلڈ لو: جس سے ڈرتے تھے وہی بات ہوئی


ڈونلڈ لو جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے امریکی دفتر خارجہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری ہیں اور انھیں سفارت کاری میں تیس سال سے زائد ہو چکے ہیں۔ ڈونلڈ لو پاکستان، انڈیا، آذربائیجان، کرغیزستان اور متعدد افریقی ممالک میں قائم امریکی سفارت خانوں میں مختلف پوزیشنز پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور انھیں اردو، ہندی اور روسی زبانوں پر عبور حاصل ہے۔ ایشیائی نژاد ڈونلڈ لو امریکہ کی ریاست ہوائی سے تعلق رکھتے ہیں۔ والد کا تعلق چین کے شہر شنگھائی سے تھا جنھوں نے تائیوان سے امریکہ نقل مکانی کی اور ہوائی سے تعلق رکھنے والی خاتون سے شادی کی۔

اگرچہ ڈونلڈ لو نے بہترین امریکی یونیورسٹیز میں سے ایک پرنسٹن سے بین الاقوامی تعلقات میں بیچلرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں۔ محکمہ خارجہ میں شمولیت کے لیے پہلی مرتبہ امتحان دیا تو وہ فیل ہو گئے تھے۔ ایشیائی امریکی اقلیت سے تعلق کی وجہ سے انھیں رعایتی نمبر دیے گئے تاکہ وہ انٹرویو دے سکیں مگر انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ امریکی محکمہ خارجہ میں بطور انٹرن شمولیت اختیار کی اور بعد میں کمیشن حاصل کیا۔

ڈونلڈ لو 1992 سے 1994 کے دوران پشاور میں امریکی قونصل خانے میں بطور پولیٹیکل افسر بھی تعینات رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی اہلیہ ایریل سے ان کی پہلی ملاقات بھی پشاور میں ہی ہوئی، جو اس وقت وہاں بطور ایڈ ورکر کام کرتی تھیں۔ ڈونلڈ لو نے دو مرتبہ انڈیا میں بھی سفارتی ذمہ داریاں ادا کیں جس کی وجہ سے وہ اردو اور ہندی دونوں زبانوں کو سمجھتے ہیں اور خطے کی سیاسی صورتحال سے بخوبی واقف ہیں۔ حالیہ دنوں میں وہ خبروں کا موضوع ہیں۔ وہ امریکہ کے جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے معاون وزیر خارجہ کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔

پاکستان کے سیاسی مسائل اور جمہوری عمل میں عدم استحکام کی بازگشت امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان میں بھی اس وقت سنائی دی جب کانگریس کی کمیٹی برائے امور خارجہ میں ڈونلڈ لو نے پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے حکومت گرائے میں امریکی مداخلت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزام جھوٹ ہے، ہم پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی سوشل میڈیا اور مین سٹریم ٹی وی چینلز کے اینکر پرسنز یہ قیامت برپا کیے ہوئے تھے کہ کانگرس میں سماعت کے دوران خان کا بیانیہ سچ اور ریاست کا بیانیہ غلط ثابت ہو جائے گا اور ریاست کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔

لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ ڈونلڈ لو کے بیان سے عمران خان کے ”صادق و امین“ کے چرچے عالمی سطح پر ہونے کے ساتھ ساتھ کروڑوں ڈالر کی لابنگ کی سرمایہ کاری اور آئی ایم ایف کے حوالے سے محنت کاری کا سفینہ بھی ڈوب گیا۔ 2022 ء سے تحریک انصاف کی قیادت مسلسل یہ الزام لگا رہی ہے کہ امریکی معاون وزیر خارجہ ڈونلڈلو نے سائفر سازش رچائی اور ان کی حکومت گرائی۔

ڈونلڈ لو نے اپنے بیان میں کہا کہ رجیم چینج میں کوئی بھی امریکی ملوث نہیں تھا۔ شنید یہ بھی ہے کہ امریکہ میں مقیم عاشقان عمران میں سے چند ڈاکٹرز جو امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں کے کئی طاقتور اراکین کے ذاتی معالج ہیں۔ ان کو قائل کیا گیا کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ڈونلڈ لو کو ایوان نمائندگان کی کمیٹی کے روبرو طلب کرنے کی راہ بنائیں۔ ارادہ تھا کہ سخت سوالات کے ذریعے ڈونلڈ لو سے ”سچ“ اگلوا لیا جائے۔ نتیجہ مگر اس کے برعکس برآمد ہوا۔ اور عمران خان کو جھوٹا قرار دیا گیا۔ جس کا موقع تحریک انصاف نے خود مہیا کیا۔ گویا:

جس سے ڈرتے تھے وہی بات ہوئی

عمران قول و فعل میں تضاد کا شکار رہتے ہیں۔ انھوں نے قومی سطح پر سائفر کا جھوٹا بیانیہ داغا اپنے بیانیے کے فروغ کے لیے ریاست کو بھی داؤ پر لگایا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ڈونلڈ لو کا قضیہ بیچ میں لا کر پی ٹی آئی نے میزائل کو غلط سمت میں فائر کیا۔ تحریک انصاف کی توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔ بلکہ الٹا جگ ہنسائی ہوئی۔

ڈونلڈ لو کی امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی کے روبرو ”پیشی“ کے بعد تحریک انصاف کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ عمران خان کے حوالے سے واشنگٹن میں زمیں جنبد نہ جنبد والا رویہ قائم ہے۔ امریکہ میں کسی کو جھوٹا ٹھہرانا بہت سنگین عمل شمار ہوتا ہے۔ اس کی حقیقت سمجھنے کے لئے سابق امریکی صدر کلنٹن کی مثال موجود ہے ان کے مواخذے کا فیصلہ اس لئے نہیں ہوا تھا کہ ان کے مونیکا لیونسکی سے غیر مناسب تعلقات تھے۔ بلکہ اس وجہ سے تھا کہ وہ ان تعلقات کے متعلق جھوٹ بولنے کے مرتکب ہوئے تھے۔

ڈونلڈ لو نے اپنے بیان میں یہ انکشاف بھی کیا کہ اس کے خلاف جو الزامات لگائے گئے تھے ان کی وجہ سے نہ صرف ان کی بلکہ ان کی بیوی اور خاندان کی زندگیاں بھی خطرے میں آ گئیں۔ پولیس کو ان کی حفاظت یقینی بنانا پڑی۔

ڈونلڈ لو جب ان دھمکیوں کا ذکر کر رہے تھے تو امریکی ایوان نمائندگان کی ایک گیلری میں موجود کچھ پاکستانیوں نے ان کے خلاف ”جھوٹ۔ جھوٹ“ کے نعرے لگائے۔ اس ہنگامہ آرائی نے یہ واضح کیا کہ تحریک انصاف بیانیے سے اختلاف کرنے والوں کو برداشت نہیں کرتی۔ ان پر جھوٹے الزامات لگاتی اور ان کی زندگیاں بھی خطرے میں ڈال دیتی ہے۔

پاکستان کے امریکہ اور بھارت کے ساتھ تعلقات کے بنیادی پہلوؤں نظر ڈالیں تو سمجھ آجاتی ہے کہ پاکستان میں ”اصل جمہوریت“ اور انسانی حقوق وغیرہ کا تحفظ واشنگٹن کا درد سر نہیں۔ وہ صحافیوں کو کوڑے مارنے والی ضیاء حکومت کا دس برس تک اتحادی رہا۔ جنرل مشرف بھی امریکی پشت پناہی سے ہی 1999 ء سے 2008 ء تک ہمارے طاقت ور ترین صدر رہے۔

حکومت خوش ہے کہ تحریک انصاف کی لابنگ کے باوجود امریکی انتظامیہ نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے کی خواہش مند ہے۔ یہ تحریک انصاف کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔ کیونکہ اسے تو یہ توقع تھی کہ نہ صرف ”دھاندلی زدہ“ انتخابات کو مسترد کر دیا جائے گا۔ بلکہ آئی ایم ایف سے اگلی قسط بھی رکوا دی جائے گی۔ امریکی سفارتکار کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمارے لیے اہم ہے۔ اس بیان کے بعد عمران خان اور ان کے حامی جو مرضی کہیں :

• شہباز شریف نے اپنی قبولیت کا سرٹیفکیٹ لے لیا ہے۔

• مقتدرہ بھی مطمئن ہے کہ اس کے حوالے سے ایسا کچھ نہیں کہا گیا جو اس کے لئے پشیمانی کا سبب بنتا۔ بلکہ یہ کہا گیا کہ پاکستانی فوج دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے اور اس کے ساتھ امریکہ کے پرانے روایتی تعلقات ہیں۔

•۔ عمران خان کے حامی بھی خوش ہیں کہ ان کی لابنگ اور ڈالرز رنگ لائے۔ وہ دھاندلی کا معاملہ امریکہ کی کانگریس کمیٹی تک لے گئے۔ اور ڈونلد لو کو سوالات کے جوابات دینے پر مجبور کر دیا۔ بہر حال ڈونلڈ لو اپنی ڈپلومیسی پر داد کے مستحق ہیں، کہ انہوں نے ایک ہی بریفنگ میں شہباز شریف ’عمران خان اور مقتدرہ کے حامیوں کو خوش کر دیا۔ ڈونلڈ لو نے کہا الیکشن میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ جس پر پی ٹی آئی کے ہاں بھی نقارے بجائے جا رہے ہیں۔ خدا کرے ہمارے سیاست دان ملک و قوم کی بہتری کے لیے ایک پیج پر آ جائیں اور بحرانوں سے نجات کی راہ نکالیں

Facebook Comments HS