سندھ میں ڈاکووں کا راج قائم


رپورٹ : حضور بخش منگی
کندھ کوٹ ضلع کشمور ڈاکووں کی جنت بن گیا

رواں ماہ میں 22 لوگوں کو نت نئے طریقوں سے اغوا کر کے ڈاکو کروڑوں تاوان کمانے کا ذریعہ معاش کمانے لگے

ضلع کشمور سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے سنگم پر واقع سندھ کا وہ ضلع ہے، جہاں ڈاکووں کا ایک ریاست قائم ہے۔

اس ضلع کے کچے کی ایریا جس میں گبلو، درانی مہر، کچو کیٹی، میانی، حاجی خان شر، گڑھی تیغو، ناپر کوٹ، ڈیرا سرکی، سمیت چھوٹے چھوٹے علاقے کے لوگ ڈاکو بن گئے ہیں۔

ڈاکووں کی ریاست میں نوجوان نسل برسر روزگار ہو رہی ہے۔ جن کا عزم امن کو برباد کرنا ہے۔ لوگوں سے لاکھوں کروڑوں لوٹنے کے نت نئے طریقے ایجاد کیے ہوئے ہیں۔ ماہ صیام کے پہلے عشرے میں کندھ کوٹ، کشمور اور تنگوانی، شکارپور، گھوٹکی سے سینکڑوں افراد اغوا ہونے لگے ہیں۔

سندھ کے تین اضلاع ڈاکووں کے قابض ہیں۔ ان اضلاع میں کشمور، شکارپور اور گھوٹکی شامل ہے۔
چند گرہوں نے امن کو برباد کر رکھا ہے۔
لوگ مہنگائی اور بے روزگاری سے پریشان ہونے کے ساتھ ساتھ بدامنی کی سنگینت سے دو چار ہیں۔
ہر آدمی اپنا تحفظ کرنے کے لیے اسلحہ کا استعمال کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

چند روز قبل اسکول ٹیچر استاد اللہ رکھیو نندوانی نے اسکول جاتے ہوئے بندوق ہاتھوں میں لیے ایک وڈیو بیان جاری کیا تھا جسے ایک ہفتے کے اندر ڈاکووں نے سر عام قتل کر دیا۔

ماہ صیام کے پہلے عشرے میں اغوا ڈکیتی قتل کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔
اغوا ہونے والوں کی تعداد 20 سے تجاوز کر گئی۔
اغوا اکثر شادی کے جھانسے میں کیا جانے لگا

اغوا ہونے والوں کی تفصیلات: بی سیکشن تھانہ کی حدود سے 1۔ در محمد گولو، علی بھار سھریانی، شمن علی سھریانی، ذیشان سھریانی، صدر الدین میرانی، خالد علی میرانی، پی ایس غوثپور سے جاوید شیخ، محمد رافع سمیجو، گل محمد گولو، منور علی چنو، مجید ٹانوری، پی ایس تنگوانی کی حدود سے عباس جعفری، پی ایس میانی سے شیر محمد بھٹو، پی ایس کشمور سے علی داد کلوڑ، پی ایس کرم پور سے عبید اللہ سمیجو، علی شیر سیخ، سھراب شیخ، میر خان شیخ، پی ایس بخشا پور سے محمد ظہیر عرف ننڈو جکھرانی، پی ایس ای سیکشن سے شاہ محمد چاچڑ شامل ہیں۔

ان مغویوں میں محمد رافع سمیجو سے ڈاکووں نے ایک کروڑ تاوان طلب کیا نہ ملنے کی صورت میں 07 مارچ کے صبح جنگن تھانہ کی حدود بے دردی سے قتل کر کے لاش پھینک دی، دوسرا واقعہ شبیر آباد تھانہ کی حدود استاد اللہ رکھیو سے موٹر سائیکل چھیننے کی واردات کے دوراں استاد کو بے دردی سے قتل کر دیا۔

*پولیس اور رینجرز آپریشن ناکام*

گزشتہ دو ماہ سے کچے کے علاقوں میں پولیس اور رینجرز کا آپریشن ڈاکووں کا بال بیکا تک نہ کر سکا۔
ڈاکو کچے سے پکے میں آ کر لوگوں کو اغوا لوٹ مار جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مذکورہ مغویوں کے ورثاء غم سے نڈھال ہیں۔
پولیس نے ان مغویوں میں سے خالد میرانی، صدر الدین میرانی اور منور علی چنو کو بازیاب کرا سکی ہے۔

استاد اللہ رکھیو کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے شبیر آباد کے علاقے میں چھٹے روز بھی آپریشن میں قاتلوں کی گرفتاری ممکن نہ ہو سکی ہے۔ 40 سے زائد مشتبہ افراد گرفتار کر سکی ہے۔

ایس ایس پی بشیر احمد بروہی کے ترجمان کے مطابق رواں ماہ 26 پولیس آپریشن ہوئی ہیں، 2 ڈاکو ہلاک 12 زخمی، پولیس ریکارڈ میں 39 افراد کو بازیاب کرانے کا دعوا۔

گزشتہ ایک سال میں پانچ پولیس اہلکار تین اسکول ٹیچر سمیت 10 افراد کو ڈاکووں نے تاوان نہ ملنی صورت قتل کر دیا۔

قتل ہونے والوں میں، ہیڈ محرر مقصود احمد بنگوار، ہیڈ محرر حاندل ڈومکی، اہلکار صابر علی، ہیڈ کانسٹیبل ادب علی جکھرانی، اہلکار روشن الدین، استاد جمن جکھرانی، استاد مراد علی بنگوار، استاد اللہ رکھیو نندوانی، محمد رافع سمیجو اور حاجی محمد پناہ شامل ہیں۔

کندھ کوٹ کے شہری بدامنی کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔

ایڈوکیٹ عبدالغنی بجارانی کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار ایسی بدامنی کی لہر چل پڑی ہے کہ لوگ اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ پولیس مکمل ناکام ہو چکی ہے۔

ڈسٹرکٹ بار کے ضلع صدر ایڈوکیٹ محسن پٹھان کہتے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب علی یہاں دورہ کرنے پہنچے تھے، بدامنی کا سن کر ایس ایس پی سے برہمی کا اظہار کیا، اس کے بعد چیف جسٹس سندھ نے آئی سے نوٹس لینے کا کہا میٹنگ بھی ہوئی ڈسٹرکٹ بار نے اہم کردار ادا کیا ہمارے ضلع کشمور میں سب سے اہم مسئلہ بدامنی کا خاتمہ ہے۔ اب لوگ مہنگائی بے روزگاری بھول گئے اپنے بچوں کا تحفظ چاہتے ہیں۔ ریاست اپنی رٹ کمزور کرچکی ہے ڈاکو طاقت ور بن گئے قانون کے مطابق سزا اور جزا پر عملدرآمد ہو تو پھر قابو پا لیا جاسکتا ہے۔

یہاں تو اندھیر نگری چوپٹ راج ہے۔ کوئی آواز اٹھاتا ہے تو اسی قتل کیا جاتا ہے۔ پولیس سے بدامنی کنٹرول نہیں آ رہی ہے۔ اب آرمی کو آنا چاہیے تب جاکر ان ڈاکووں کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

کپڑے کی دکانوں کے صدر پالاج تلریجا کہتے ہیں کندھ کوٹ وانا وزیرستان بن گیا ہے، عید قریب ہے مگر لوگوں میں خوشی کم خوف زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔ کاروبار مکمل مندی میں چل رہا ہے ماہ صیام کے پہلے عشرے میں جہاں سو فیصد خریداری ہوجاتی تھی وہاں پر 20 فیصد ہوئی ہے وجہ صرف بدامنی، پہلے مارکیٹ رات دس بجے کھلا ہوتا تھا مگر اب پانچ بجے شہر ویران ہوجاتا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ بدامنی ہے۔

ایس ایس پی بشیر احمد بروہی نے کہا کہ ہم ڈاکووں کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں مگر لوگوں کو کیا کریں جو رانگ نمبر پر خود ڈاکووں کے پاس چلے جاتے ہیں، ڈاکو ڈیجیٹلی طریقوں سے لوگوں کو اغوا کر رہے ہیں، مثلاً فیس بک پر سستی گاڑیوں کے اشتہارات دے کر لالچی لوگوں کو پھنساتے ہیں۔ عشق کے چکر میں عاشق بن کر لوگ کچے پہنچ جاتے ہیں۔ جب تک موبائل سروسز بند نہیں کی جائیں گی تب تک ڈاکووں کا خاتمہ ممکن نہ ہو سکے گا۔

رواں ماہ مارچ کے مہینے میں مغویوں کی تعداد 22 ہے جن میں 3 مغویوں کو بازیاب کروایا جا سکا ہے جبکہ دیگر تاحال بھی ڈاکووں کے پاس ہیں۔ سندھ حکومت کو چاہیے کہ سندھ کے تینوں اضلاع میں امن دشمنوں کا صفایا کر کے علاقوں کو امن کا گہوارہ بنایا جائے

Facebook Comments HS