حسن عسکری: صدارتی تمغۂ حسن کارکردگی مبارک


نواب مرزا خان المعروف داغؔ دہلوی ( المتوفی 1905 ) کا ایک شعر 23 مارچ 2024 کو حسن عسکری بھائی کے بعد از وفات صدارتی تمغۂ حسن کارکردگی دیے جانے پر صادر آ رہا ہے :

نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی
بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

ہمارے ملک میں ہر سال مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے پر سول سرکاری انعامات ”نشان“ ، ”ہلال“ ، ”ستارہ“ اور ”تمغہ“ کے عنوانات سے دیے جاتے ہیں : نشان پاکستان، نشان امتیاز، نشان قائد اعظم، نشان شجاعت، نشان خدمت۔ پھر ہلال پاکستان، ہلال امتیاز، ہلال قائد اعظم، ہلال شجاعت، ہلال خدمت۔ اس کے بعد ستارہ پاکستان، ستارہ امتیاز، ستارہ قائد اعظم، ستارہ شجاعت، ستارہ خدمت۔ پھر تمغۂ پاکستان، تمغۂ امتیاز، تمغۂ قائد اعظم، تمغۂ شجاعت، تمغۂ خدمت۔ ان میں سب سے اعلیٰ ترین سول انعام صدارتی تمغۂ حسن کارکردگی ہے۔ ان سول انعامات کا آغاز 19 مارچ 1957 سے شروع ہوا جب 1956 میں پاکستان کا آئین بنا۔ یہ انعامات عام طور پر ہر سال یوم آزادی کے پر مسرت دن 14 اگست کو اعلان کر کے آئندہ سال 23 مارچ کی ایک پروقار تقریب میں دیے جاتے ہیں۔

صدارتی تمغۂ حسن کارکردگی ممتاز اور شاندار کارکردگی دکھانے یا طویل خدمات کے صلے میں فنون، ادب، سائنس، کھیل اور فلاح انسانیت کے شعبوں میں دیے جاتے ہیں۔ دسمبر کے مہینے میں کیبنٹ ڈویژن متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنوں سے اس انعام کے مستحق اور اہل لوگوں کے نام مانگ لیتا ہے۔ پھر وہ نام تین عدد ایوارڈ کمیٹیوں سے گزر کر شارٹ لسٹ ہوتے ہیں اور پھر مجوزہ انعام کے مستحق نام صدر پاکستان سے حتمی منظوری لینے بھیج دیے جاتے ہیں۔ پھر آنے والے سال 23 مارچ کو اسلام آباد میں صدر پاکستان اور صوبوں میں متعلقہ گورنر یہ انعام دیتے ہیں۔ فنکاروں کو انعام دیے جانے کے طریقۂ کار پر میری کچھ عرصہ ادھر نیاز حسین لکھویرا صاحب سے بات ہوئی۔ یہ لاہور آرٹس کونسل میں کوارڈینیٹر / انچارج رہے ہیں۔ موصوف خود بھی شاعر، ادیب، موسیقی اور تھیٹر سے وابستہ رہے ہیں۔ ان کا یہ جوہر فنکاروں کو ملنے والے صدارتی تمغہ حسن کارکردگی اور تمغہ امتیاز کی صورت میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ استاد فتح علی خان، استاد سلامت علی خان، حسین بخش گلو، اسد امانت علی، حامد علی خان، شوکت علی، نصرت فتح علی، عطا ء اللہ عیسی خیلوی، ریشماں، پرویز مہدی، منیر حسین، سائیں ظہور، عارف لوہار کو انہوں نے آرٹس کونسل کی جانب سے صدارتی تمغہ حسن کارکردگی / ستارہ ء امتیاز کے لئے نامزد کیا۔ پھر ان سب خوش نصیبوں کو یہ تمغے بھی ملے۔

نامزدگی کی پالیسی کے بارے میں انہوں نے بتایا : ”ہم حکومت پنجاب کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی یا دیگر اعزازات کے لئے فن و ثقافت کے میدان کے کچھ نام بھیجتے ہیں۔ آرٹس کونسل کے علاوہ صوبوں کی سطح کے تمام سرکاری ثقافتی ادارے جیسے ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی وغیرہ بھی اپنے اپنے طور پر کچھ نام بھیجتے ہیں۔ وفاق، پنجاب سمیت باقی تین صوبوں کے فنکاروں میں 100 سے 150 خوش نصیبوں کو منتخب کرتا ہے۔ سب سے زیادہ نام صوبہ سندھ سے آتے ہیں۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں کا محکمہ ثقافت صحیح طور پر کام کرتا ہے۔ 15 سے 20 سال قبل فلمی موسیقار جوڑی وزیر افضل کا نام بھی میں نے ہی بھیجا تھا۔ اور وہ اعزاز پانے والے خوش قسمت ثابت بھی ہوئے ”۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ملک کے کئی ایک نامور فنکار اور تکنیک کار انعامات سے محروم رہے۔ یہ ہی تو ہمارے فن کا سرمایہ ہیں۔ نہ جانے سرکاری طور پر کیوں ان کی زندگی میں ان کی قدر نہیں کی جا رہی۔ ہمارا کام ہے ارباب اختیار کی توجہ دلانا سو وہ ہم کرتے رہیں گے۔ گزشتہ کالموں میں ہم نے ریڈیو پاکستان میں زندگی بھر خدمات انجام دینے اور 1965 کی جنگ کے دوران اکثر مشہور ترین ملی ترانے تیار کروانے والے محمد اعظم صاحب اور ہماری فلمی دنیا میں اپنی بہترین صلاحیتیں دکھانے والے حسن عسکری بھائی کے بارے لکھا تھا۔ ان سنہری لوگوں میں صابرہ سلطانہ بھی شامل ہیں جن کا فنی سفر صابن یا کریم کے اشتہار میں کام کرنے سے شروع ہوا پھر

ریڈیو پاکستان کراچی سے ڈرامہ بھی کیا۔ ان کی پہلی فلم ”انصاف“ ( 1960 ) سلور جوبلی ہوئی۔ اس وقت تاریخی فلمیں بہت بنتی تھیں۔ کہا جاتا تھا کہ صابرہ سلطانہ شہزادی یا ملکہ کے کردار کے لئے بہت موزوں ہیں۔ انہوں نے ہیروئن کے ساتھ ٹائٹل رول بھی ادا کیے ۔ اپنے عروج میں انہیں ”ملکۂ حسن“ کا خطاب دیا گیا تھا۔ 60 سال سے زیادہ فن کی خدمت کرنے والی ہمارے ملک کی اس نامور فلم اور ٹیلی وژن فنکارہ کو حکومت پاکستان نے ابھی تک تمغۂ حسن کارکردگی سے نہیں نوازا۔ صابرہ سلطانہ اور ریڈیو شخصیت محمد اعظم خان دونوں ہر طرح سے اس تمغے کے نہ صرف اہل بلکہ حق دار ہیں۔ میری الحمرا لاہور، پی این سی اے، کلچر ڈپارٹمنٹ اور وزارت اطلاعات و نشریات کے ارباب اختیار سے درخواست ہے کہ وہ اپنا فرض منصبی سمجھتے ہوئے یہ نیک کام کر کے شکریہ کا موقع دیں۔

پاکستانی فلمی صنعت کے نامور ہدایت کار، مصنف اور فلمساز پھر نگار، گریجوایٹ اور بولان ایوارڈ یافتہ حسن عسکری بھائی نے پاکستان فلمی صنعت میں 52 سال سے زیادہ کام کیا۔ ان کو ایک طرف تو اپنے شعبے کا ماہر بھی مانا جاتا رہا۔ ان کے کام کی عوامی سطح پر بھی پذیرائی ہوئی اور سرکاری طور پر بھی دو تین مرتبہ نیشنل فلم ایوارڈ دیا گیا۔ لیکن کتنی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں انہیں ان کی زندگی میں کبھی اعلیٰ ترین سول اعزاز، صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نہیں نوازا گیا۔ کوئی ایسی سماجی اور ثقافتی تنظیم نہیں جس نے انہیں نہ سراہا ہو۔ میں خود یہ ہر سال سوچتا تھا کہ فلم ڈائریکٹر حسن عسکری بھائی ہمارے ملک کے نامور ہنرمند ہیں انہیں صلہ ملنا چاہیے۔

حسن عسکری بھائی نے صاف ستھری فلمیں بنائیں جیسے اردو فلم ”سلاخیں“ ( 1977 ) ، ”دوریاں“ ( 1984 ) ، ”بیقرار“ ( 1986 ) ، ”تیرے پیار میں“ ( 2000 ) ، ”کنارہ“ ( 1982 ) ، ”جنت کی تلاش“ ( 1999 ) وغیرہ۔ ان فلموں کو عوام نے پسند کیا اور انہوں نے بہت بزنس بھی کیا۔ عسکری بھائی نے ”خون پسینہ“ ( 1972 ) جیسی با مقصد پنجابی فلم سمیت کئی ایک پنجابی فلمیں بھی بنائیں جیسے احمد ندیم قاسمی صاحب کے افسانے۔ ’گنڈاسہ‘ پر بننے والی پنجابی فلم

” وحشی جٹ“ ( 1975 ) ۔ پھر ”میلہ“ ( 1986 ) اور ”بسنتی“ ( 2008 ) ۔ انہوں نے جنوری 2021 میں فلم ” تیرے پیار میں“ میں تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کیا گیا۔ فلم ”جنت کی تلاش“ قائد اعظم رحمۃ اللہ کے دو قومی نظریہ کے بارے میں ہے۔ فلم ”سلاخیں“ وکٹر ہیوگو کے ناول پر بنائی گئی۔ فلم ”دوریاں“ سماجی تفریق سے متعلق ہے۔ فلم ”طوفان“ ( 1976 ) کے فلمساز بھی عسکری بھائی ہی تھے۔ مشہور واقعہ ہے کہ مذکورہ فلم سنسر کے لئے دکھلائی جا رہی تھی۔ وہاں نامور مصنف اشفاق احمد بھی موجود تھے۔ فلم کو دیکھ کر انہوں نے بے ساختہ کہا کہ یہ تو ہمارے ملک کے ’ستیجت رائے‘ Satyajit Ray ہیں۔

مجھے خود ایور نیو فلم اسٹوڈیو میں نامور فلم ڈائریکٹر داؤد بٹ (م) صاحب نے ایک واقعہ سنایا کہ (غالبا) 1989 میں اسٹوڈیو کے کسی ہال میں انور مقصور کسی تقریب کے لئے انتظام کروا رہے تھے۔ فاطمہ ثریا بجیا (م) بھی موجود تھیں۔ عسکری بھائی آگے بڑھ کر بجیا سے ملنے گئے تو بجیا نے سب لوگوں کی موجودگی میں کہا کہ میری ذاتی لائبریری میں صرف ایک پنجابی فلم ”میلہ“ ( 1986 ) ہے جو عسکری بھائی کی تھی۔ ان کی فلموں کی کامیابی کا تناسب بھی بہت اچھا ہے۔

ان کا قابل فخر کام آئی ایس پی آر کے لئے پاکستان کے وجود پر فلم ”امانت“ کا بنانا ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کیسے معرض وجود میں آیا۔ یہ فلم آئی ایس پی آر کی لائبریری میں موجود ہے جو فوجی جوانوں کو دکھائی جاتی ہے۔

میرے ذرائع کے مطابق الحمرا آرٹس کونسل کے کیپٹن عطاء نے حسن عسکری بھائی کو دو مرتبہ صدارتی تمغہ ء حسن کارکردگی کے لئے تجویز کیا تھا لیکن ان کو اعزاز سے محروم رکھا گیا۔ ان کی فلموں سے متعلقہ کئی افراد نے نام کمایا جیسے ناصر ادیب۔ سید نور صاحب نے بھی عسکری بھائی کے لئے لکھا۔ انہوں نے سیف الدین سیف ؔ، وحید ڈار، استاد دامنؔ، احمد ؔ راہی، سید ضمیر جعفری، مسرورؔ انور، خواجہ پرویز، وارث ؔ لدھیانوی، احمد فرازؔ، قتیل ؔشفائی، حضرت تنویرؔ نقوی، حزیں ؔ قادری اور ان جیسے بڑے لوگوں کے ساتھ بھی کام کیا۔ اب یہ حسن اتفاق ہے کہ حسن عسکری صاحب نے اپنی فلموں کے ذریعے جن فنکاروں کو متعارف کروایا، ان میں سے بعض کو تو یہ تمغہ مل گیا اور جو فلم کے پیچھے کھڑا تھا اس کو محروم رکھا گیا۔ میری طرح اور لوگ بھی یہ پوچھنے میں حق بجا نب تھے کہ جو افراد اس تمغہ کے لئے نامزدگیاں بھیجتے رہے کیا وہ فلم ڈائریکٹر حسن عسکری صاحب سے زیادہ تجربہ کار تھے؟

میں خوش قسمت ہوں کہ عسکری بھائی جیسے نامور لوگوں سے صحبت رہی۔ میرے حلقے میں بعض ایسے بھی مشہور لوگ رہے ہیں جو اس اعلیٰ ترین سول اعزاز سے محروم رہے اور دنیا سے ہی چلے گئے یا پھر انہیں بعد از مرگ یہ اعزاز دیا گیا۔ مثلاً ہمارے شاعر مسرور ؔانور المعروف مسرورؔ بھائی۔ ان کو بعد از مرگ ”سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے“ پر صدارتی تمغہ ء حسن کارکردگی اس وقت کے صدر فاروق لغاری صاحب نے دیا۔ 22 سال تک حکومت پاکستان کو علم ہی نہیں ہوا کہ یہ سدا بہار گیت کس نے لکھا!

کتنا اچھا ہوتا اگر حسن عسکری بھائی جیسے گوہر انمول کی قدر ان کی زندگی میں کر لی جاتی! میرا حکومت پاکستان اور متعلقہ شعبہ کے ذمہ داروں سے سوال ہے کہ حسن عسکری بھائی جیسے انمول لوگوں کی قدر ان کی زندگی میں کیوں نہیں کی جاتی؟ نصف صدی سے زیادہ محنت کرنے کے بعد ان کی زندگی میں یہ اعزاز جہاں ان کی عزت افزائی کا باعث بنتا وہاں انہیں کچھ مالی آسودگی بھی فراہم کرتا۔ کیا اسلام آباد میں ان انعامات دینے کے فیصلہ ساز چڑھتے سورج کے پجاری ہیں؟

جو شخص سورج چڑھا رہا ہے اس کا علم ہی نہیں! خلوص اور محنت کس چڑیا کا نام ہے۔ ہمارے کارپرداز جانتے ہی نہیں کیوں کہ وہ تو کب کی اڑ چکی۔ بقول شہزادؔ احمد: ’جل بھی چکے پروانے ہو بھی چکی رسوائی۔ ‘ آج کوئی ہے جو اپنے کام کو فرض سمجھ کے کرے! میری الحمرا لاہور، پی این سی اے، کلچر ڈپارٹمنٹ اور وزارت اطلاعات و نشریات کے ارباب اختیار سے درخواست ہے کہ وہ اپنا فرض منصبی سمجھتے ہوئے یہ نیک کام کر کے شکریہ کا موقع دیں۔

ویسے ہمیں یہ ہی نہیں معلوم کہ صدارتی تمغہ حسن کارکردگی دینے کا معیار کیا بنایا گیا ہے؟ میری رائے میں اس سب سے بڑے ایوارڈ کا معیار صرف کار کردگی کی مدت ہونا چاہیے۔ کہ کسی فنکار نے کم از کم 20 سال اپنے شعبے میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ فعال فنکار سب کی نظروں میں ہوتے ہیں ان کا کام، ان کا نام اور ان کی تصاویر سماجی رابطوں میں تواتر سے آتی ہیں۔ نیز اعلی حکام کی محافل انہیں مزید قربتیں عطا کرتی ہیں۔ لیکن وہ فنکار جو اپنی زندگی کا بہترین حصہ فن کی خدمت میں لگا کر اب گوشہ نشین ہیں انہیں ان کا حق ضرور ملنا چاہیے۔ آرٹس کونسلوں کو چاہیے کہ وہ اپنے فنکاروں کے دو گروپ بنا لیں : ایک فعال فنکار دوسرے غیر فعال لیکن اپنے زمانے کے نامور فنکار۔ تا کہ ہر دو طرح کے فنکاروں کو ان کا حق مل سکے۔

آخر میں حسن عسکری بھائی کی ایک بات بتاتا ہوں انہوں نے مجھے کہا: ”شوق، لگن، محنت، کام سے دیانت داری کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو صلاحیتیں بخشی ہیں ان کا بھر پور اظہار کیجئے۔ اس میں اپنی نجی زندگی کے جو دوسرے مشاغل ہیں ان کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ نئے آنے والوں سے یہی درخواست ہے کہ آپ کی صلاحیت ایک امانت ہے جس کا آگے منتقل ہونا ایک فرض ہے۔ اور یہ زمین جو مادر وطن پاکستان ہے اس کی مٹی سے پیار اور وفا کریں۔ اسی کی محبت میں سب کچھ ہے“ ۔ حسن عسکری بھائی آپ کو صدارتی تمغۂ حسن کارکردگی مبارک ہو!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).