محبی عبدالستار کی بیٹی عائشہ عروج کے نام خط


محترمہ عائشہ عروج صاحبہ!

اپنے پاکستان کے سفر کے دوران جب میں میاں چنوں آیا تھا تو مجھے آپ کے والد محبی عبدالستار کی لائبریری میں آپ سے مل کر اور آپ کے ابو کی آنکھوں میں آپ کے لیے محبت ’پیار اور فخر دیکھ کر بہت مسرت ہوئی تھی اور دل نے سرگوشی کی تھی کہ کاش اور بھی پاکستانی باپ آپ کے ابو کی طرح روشن خیال ہوتے اور اپنی بیٹیوں کی کامیابی میں رکاوٹ بننے کی بجائے ان کی مدد کرتے۔

چونکہ پاکستان کا ماحول روایتی بھی ہے ’مذہبی بھی ہے اور پدر سری نظام سے متاثر بھی ہے اس لیے ان ماحول میں اکیسویں صدی میں بھی عورتوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔

آپ نے جو سوال پوچھے ہیں ان کا جواب لکھنے کے لیے پوری کتاب درکار ہے۔ میں آپ کی خدمت میں وہ تقریر پیش کرتا ہوں جو چند ماہ پیشتر میں نے کینیڈا کی ایک تقریب میں کی تھی۔ اس تقریر میں آپ کو اپنے چند سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔

میں عنبرین عجائب کے ساتھ مل کر عورتوں کی آزادی و خود مختاری پر ایک کتاب لکھ رہا ہوں۔ مستقبل قریب میں جب وہ کتاب چھپے گی تو میں اس کی ایک کاپی آپ کو تحفے کے طور پر پیش کروں گا۔

آپ کی کامیابی اور پاکستانی عورتوں کے روشن مستقبل کا خواہشمند
خالد سہیل
۔ ۔ ۔
محترمی و معظمی خواتین و حضرات!
سب سے پہلے میں اپنے عزیز دوست طاہر راؤ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے کینیڈا میں
WOMEN ’S EDUCATION AND EMPOWERMENT

جیسے اہم موضوع پر نہ صرف ایک سیمینار منعقد کرنے کا انتظام و اہتمام کیا بلکہ اس سیمینار میں مجھے اپنے خیالات و نظریات کے اظہار کی دعوت بھی دی۔

میں اس موضوع کے حوالے سے اپنے چند ذاتی ’سماجی اور نفسیاتی تجربات اور مشاہدات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

آپ میں سے بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ میری اکلوتی بہن عنبرین کوثر کی سب سے چھوٹی بیٹی وردہ میر چند سال میرے ساتھ رہیں۔ جب وہ ڈرہم کالج میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں تو میں ہر شام انہیں بس اسٹاپ پر لینے جاتا تھا۔ چار سال کی تعلیم کے بعد جب گریجوئیشن کا دن آیا تو انہوں نے مجھے بھی اس تقریب میں شریک ہونے کی دعوت دی۔ جب میں نے وردہ میر کو کالا گاؤن اور کالا ہیٹ پہنے ڈگری وصول کرتے دیکھا تو میں نے ایک نظم لکھی جو آپ کی خدمت میں حاضر ہے

عورت کی ڈگری اور چار نسلیں
آج ایک اہم دن ہے
آج میں بہت خوش ہوں
آج میری بھانجی وردہ کی کانووکیشن ہے
میں بڑے فخر سے اس تقریب میں شرکت کر رہا ہوں
وہ گاؤن پہن کر
سٹیج پر ڈگری وصول کر رہی ہے
اور میں سوچ رہا ہوں
میری نانی سرور کی تعلیم دو جماعتیں تھی
وہ صرف اپنا نام لکھ سکتی تھیں
میری والدہ عائشہ نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی
انہیں پڑھنے کا بڑا شوق تھا لیکن
ان کے روایتی والد اور بھائی نے کہا
تم نے شادی کرنی ہے
بچے پیدا کرنے ہیں
کھانا پکانا ہے
سلائی کرنی ہے
زیادہ پڑھائی نہ کرو
رشتہ ملنا مشکل ہو جائے گا
میری بہن عنبر کی کالج کی پڑھائی کے دوران شادی کر دی گئی
اسے سسرال بھیج دیا گیا
وہ بچے پالتی رہی اور ساری عمر
’حور‘ ’زیب النسا‘ اور ’خواتین ڈائجسٹ‘ کے افسانے پڑھتی رہی
میری بھانجی وردہ کینیڈا میں چار سال میرے ساتھ رہی
وہ کالج گئی
اس نے بڑی محنت سے ڈگری حاصل کی
آج میں
اس کی گریجوئیشن کی تقریب میں شرکت کر رہا ہوں
اور سوچ رہا ہوں
ہمارے خاندان میں
عورت کو ڈگری حاصل کرنے میں
چار نسلیں لگ گئی ہیں
وردہ بخوبی جانتی ہے
اس کی ڈگری وہ کنجی ہے
جس سے اس کے لیے
زندگی کے بہت سے دروازے کھل جائیں گے
خواتین و حضرات!

آپ سب جانتے ہیں کہ میں پشاور میں پٹھانوں کے ساتھ پلا بڑھا۔ میں بچپن میں دیکھتا تھا کہ پٹھان لڑکیاں جن ٹانگوں میں بیٹھ کر سکول جاتی تھیں انہیں چاروں طرف سے پردوں سے ڈھانپ دیا جاتا تھا تا کہ غیر مردوں کی نظریں ان پر نہ پڑ سکیں۔

پشاور رہتے ہوئے مجھے یہ جان کر بہت خوشگوار حیرت ہوئی کہ پٹھان سیاسی رہنما باچا خان نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے جب سکول کھولے تو برطانوی حکومت نے ان کے والد سے شکایت کی۔ باچا خان کے والد نے جب باچا خان کو سکول کھولنے سے منع کیا تو باچا خان نے اپنے والد سے کہا کہ میں لڑکیوں اور عورتوں کی تعلیم کر اپنا مقدس فرض سمجھتا ہوں۔ جب باچا خان نے سکول کھولنے کا سلسلہ جاری رکھا تو انیس سو بیس کی دہائی میں برطانوی حکومت نے انہیں جیل میں ڈال دیا۔ باچا خان نے پٹھان لڑکیوں کی تعلیم کے لیے بہت سی قربانیاں دیں۔

خواتین و حضرات!

جب میں کینیڈا آیا تو مجھے معلوم ہوا کہ مغربی خواتین پچھلے دو سو برس سے اپنی آزادی و خود مختاری کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ میری نگاہ میں بیسویں صدی کی سماجی اور سیاسی تحریکوں میں فیمنزم کی تحریک ایک کامیاب تحریک تھی جس نے سینکڑوں ’ہزاروں نہیں لاکھوں عورتوں کی زندگیاں بدل دیں۔ فیمینزم کی تحریک میں شامل بہت سی خواتین سوشلزم‘ انارکزم ’ہیومنزم‘ سیکولر ازم اور کمیونزم کی تحریکوں میں بھی شامل تھیں۔

فیمنزم کی تحریک کی وجہ سے عورتوں نے جو حقوق حاصل کیے ان میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں
مذہبی حقوق : مغرب میں ان گنت گرجوں کی مذہبی رہنما اور پادری خواتین ہیں
سیاسی حقوق : مغرب کی عورت نے ووٹ دینے کا حق حاصل کیا
معاشی حقوق: مغربی خواتین نے اپنے بینک اکاؤنٹ کھولے
سماجی حقوق: مغربی خواتین نے اکیلے رہنے اور سفر کرنے کا حق حاصل کیا
رومانوی حقوق: مغرب میں خواتین نے اپنی مرضی سے اپنے شریک حیات اور محبوب چننے کی نئی روایت ڈالی
ان حقوق کے حصول میں جن جن خواتین دانشوروں کی کوششیں قابل قدر ہیں ان میں سے چند ایک
سیمون د بووژوا ’ایما گولڈ میں‘ جرمین گریر اور بے ٹی فریڈین ہیں۔

عورتوں کی جدوجہد میں جہاں سماجی اور سیاسی کوششیں ناگزیر تھیں وہیں ان کی ادبی و نفسیاتی کاوشیں بھی اہم تھیں

ورجینیا وولف نے شعور کی رو میں لکھنا شروع کیا اور عورتوں کو لکھنے کے پیشے کی دعوت دی۔ انہوں نے عورتوں سے کہا کہ وہ اپنے گھر میں اپنے لیے ایک علیحدہ کمرے کا انتظام کریں جہاں وہ اپنا تخلیقی کام کر سکیں۔

خواتین ماہر نفسیات اینا فرائڈ ’فریڈا فرام رائخمین‘ اینائس نن اور لیو سیلوم نے انسانی نفسیات کی تاریخ میں گرانقدر اضافے کیے۔

امریکی سیاہ فام لیسبین لکھاری اوڈری لورڈی نے مغرب کی فیمنزم کی تحریک میں شامل سرمایہ دار سفید فام عورتوں کو چیلنج کیا اور ان سے پوچھا کہ ان کے سیمیناروں میں سیاہ فام ’غریب اور لیسبین عورتوں کو کیوں دعوت نہیں دی جاتی؟ اوڈری لورڈی نے ہمیں بتایا کہ

مزدور مرد طبقاتی نظام کے ایک محاذ پر جنگ لڑتا ہے
مزدور عورت طبقاتی اور صنفی دو محاذوں پر جنگ لڑتی ہے
مزدور کالی عورت طبقاتی صنفی اور نسلی تین محاذوں پر جنگ لڑتی ہے
اور
مزدور کالی لیسبین عورت طبقاتی ’صنفی‘ نسلی اور جنسی چار محاذوں پر جنگ لڑتی ہے۔

عورتوں کی آزادی و خودمختاری کی جنگ لڑنے والی عورتیں جانتی ہیں کہ یہ جنگ طویل جنگ ہے اس جنگ میں کامیاب ہونے کے لیے کئی نسلیں لگ جاتی ہیں۔

ایسی عورتیں قربانیاں دینے کے لیے تیار رہتی ہیں کیونکہ انہیں قوی امید ہوتی ہے کہ وہ اس جنگ میں کامیاب ہوں گی۔ وہ فہمیدہ ریاض کی نظم کے یہ مصرعے گنگناتی ہیں

سنگ دل رواجوں کی
یہ عمارت کہنہ
اپنے آپ پر نادم
اپنے بوجھ سے لرزاں
جس کا ذرہ ذرہ ہے
خود شکستگی ساماں
سب خمیدہ دیواریں
سب جھکی ہوئی کڑیاں
سنگ دل رواجوں کے
خستہ حال زنداں میں
اک صدائے مستانہ
ایک رقص رندانہ
یہ عمارت کہنہ ٹوٹ بھی تو سکتی ہے
یہ اسیر شہزادی چھوٹ بھی تو سکتی ہے

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail