شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات
بہت سے سرکاری محکموں میں کمیشن جیسے مختلف ناموں سے رشوت کو غیر رسمی طور پر جائز قرار دیا گیا ہے مطلب غیر قانونی طور پر قانونی بنا دیا گیا ہے۔
ملک میں جب بھی کوئی حکومت تبدیل ہوتی ہے۔ خواہ نیا آنے والا جمہوری سیٹ اپ ہو کہ مارشل لائی یا نگران سب ایک ہی رٹ لگائے رہتے ہیں
”خزانہ خالی ہے۔ ملک خطرناک اور بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ عوام کو قربانی دینی یوگی“
اب سرمایہ دار، جاگیردار، وڈیرے، چوہدری، سردار، خان نواب تو عوام کے زمرہ میں آتے ہی نہیں۔ نہ ہی سیاستدان، بیوروکریٹ، افسران بلکہ ملازمین عوام ہیں۔ جبکہ کاروباری طبقہ بھی تو سرمایہ دار ہی ہوتا ہے۔ اب لے دے کے صرف غریب، بے روزگار، دیہاڑی دار، چھابڑی فروش، کسان دہقان اور چھوٹے موٹے کاروباری یا پرائیویٹ کم ترین آمدنی والے لوگ رہ جاتے ہیں جو اصل عوام ہوتے ہیں۔
تو قربانی کے لیے گنتی کے یہ چند لوگ ہی رہ جاتے ہیں۔ اور یہ حقیقت میں بھی پر امن اور محب وطن لوگ ہوتے ہیں۔ کیونکہ اگر ان کا قربانی دینے کی نیت نہ بھی ہو بے چاروں کا قربانی دینے کے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں ہوتا۔ کہ سال میں جون کے سالانہ بجٹ کے علاوہ منی بجٹ، ہر چھوٹی عید، بڑی عید، رمضان اور دیگر موقعوں پر خودساختہ مہنگائی بجٹ کے علاوہ مخصوص ٹیکس، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پندرہ روزہ اور ماہانہ ظالمانہ اور غیر منطقی اضافہ۔ ساتھ ساتھ آئی ایم ایف اور دوسرے بین الاقوامی اداروں کی عوام کے خون نچوڑنے والی شرائط کی تکمیل، شرح سود میں گاہے بگاہے اضافہ، نت نئے ٹیکسوں کا نفاذ اور دیگر بہت وغیرہ وغیرہ کا براہ راست اثر ان بے چاروں پر ہی تو پڑتا ہے۔
دیگر ذکر کردہ لوگ جو عوام نہیں بلکہ خواص ہی ہوتے ہیں ان پر ان سب چیزوں کا کوئی اثر ہی نہیں پڑتا۔ بلکہ ان کے اور وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔ افسران و ملازمین کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹرین کی تنخواہیں بڑھائی دی جاتی ہیں۔ پیداوار اور مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ مختلف پیشہ ور اور خدمات فراہم کرنے والے لوگ اور ادارے فیسیں بڑھا دیتے ہیں۔ اور تو اور ہر مذہب کے مذہبی پیشوا بھی اپنی اپنی مذہبی رسومات اور دیگر امور کے ہدیے اپنی اپنی اجرت اور فیس بڑھا دیتے ہیں۔ اس طرح یہ لوگ بلاواسطہ قربانی دینے کی بجائے کئی گنا فائدہ حاصل گر لیتے ہیں اور خوش اور مطمئن زندگی سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں۔ باقی رہے عوام تو یہ لوگ تو اتنی قربانی دیتے رہتے ہیں کہ کہیں انفرادی اور کہیں خودکشیاں کر کر کے اور کبھی اپنے جگر گوشوں اور کبھی اپنے جسم کے اعضاء تک فروخت کر کے اپنے حصے کی قربانی بھر دیتے ہیں۔
اب جو بھی ہوں جیسا بھی ہوں۔ یہ عوام بھی اپنے ہی تو ہیں۔ جبکہ پاکستان کی تمام تر سیاست اور کاروبار زندگی ان ہی عوام جن کو پیار سے مخصوص نام یعنی ”غریب عوام“ کا نام دیا ہوا ہے کے دم سے ہی ہے۔ تو ان کے لیے بھی تو کچھ کرنا ہی ہو گا۔ تاکہ کم از کم قربانی دینے کے لیے ہی تو زبدہ رہیں۔
طنزیہ مگر حقیقی طور پر کہا جاتا ہے کہ سرکاری لوگ عوام کو تنگ کرنے کی تنخواہ لیتے ہیں جبکہ ڈیوٹی دینے کی رشوت لیتے ہیں۔ جس کو کمیشن، چائے پانی، چندہ، ڈونیشن، صدقہ، خیرات، افطاری وغیرہ وغیرہ کے نام دے کر اتنا رواج دے دیا گیا ہے کہ اسے اب غیر علانیہ قانونی اور جائز حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ ویسے بھی قانون کے کئی دیگر ذرائع میں سے رواج (Custom) بھی ایک ذریعہ ہی ہے۔
وطن عزیز جہاں ہر میدان میں نئے نئے تجربے (ریسرچ ہر گز نہیں ) کیے جا رہے ہیں۔ ایک تجربہ یہ بھی کر لیں۔ ویسے بھی کسی بھی سرکاری یا نجی دفتر میں اندر جانے سے لے کر متعلقہ سیکشن یا بندے تک رسائی اور پھر کوئی بھی کام ہو، نوعیت اور حیثیت کے مطابق بغیر کمیشن، چائے پانی یا جو بھی نام ہو۔ ہوتا ہی نہیں۔ تو انتہائی ادب اور خلوص کے ساتھ یہ تجویز پیش خدمت ہے کہ اب کے حکومت یہ تجربہ کر لے کہ تمام ملازمین کی عوام کو تنگ کرنے کی تنخواہیں بند ہی کر دے۔ اور ہر کام کی کمیشن یا رشوت وغیرہ کو علانیہ قانونی شکل دے کر فیس کا نام دے کر باقاعدہ شرح مقرر کرے۔ ایسے میں عوام بلکہ غریب پیسے لے کر نہیں بلکہ مفت میں تنگ و خوار ہوتے رہیں گے اور مخصوص طبقہ بلکہ اصل پاکستانیوں کی عیاشیوں کے لیے اربوں کھربوں کی بچت بھی ہوگی۔
جان کی امان پاؤں تو اس کاروبار زندگی کو احسن طریقہ سے چلانے کے لیے یہ نرالی اور انہونی تجویز بری نہیں ہوگی۔


