نسیم خان کی نظم میں ”آلہ تناسل“ اور ٹی وی ڈراموں میں نکاح و طلاق کے مسائل


گزشتہ دنوں قطب آن لائن والی سرکار بلال قطب کا ایک پروگرام نظروں سے گزرا۔ رمضان المبارک کی وجہ سے آج کل رمضان ٹرانسمیشن کا سیزن چل رہا ہے، علماء کے کچھ مخصوص چہرے ایسے ہیں جو تقریباً ہر سال ہی مختلف ٹی وی چینل پر دکھائی دیتے ہیں اور اپنے مخصوص لباس اور وضع قطع اور لہجے کی وجہ سے خاصے مقبول ہیں۔

بلال قطب نے عوام کی طرف سے پوچھے جانے والے ایک سوال کو پڑھ کر سنایا اور اسے وہاں پہ موجود علماء کے حضور پیش کر دیا۔ سوال کچھ یوں تھا۔ ”کیا ڈراموں اور فلموں میں نکاح ہو جاتا ہے اور طلاق بھی واقع ہو جاتی ہے“ ؟

جس کے جواب میں ایک مولانا تو جھٹ سے بولے جی بالکل۔ نکاح اور طلاق دونوں حقیقی طور پر واقع ہو جاتے ہیں اور ان کی اس بات کی تصدیق وہاں پہ موجود دوسرے علماء نے بھی با آواز بلند کی۔

بلال قطب نے ہنستے ہوئے کہا کہ سوچ لیں پروگرام آن ائر جا رہا ہے اور ڈرامائی پہلوؤں کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے جواب دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ چونکہ ڈرامہ یا فلم کا جو سین ہوتا ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں بنتا اور نا ہی گواہان کی موجودگی میں ایجاب و قبول کا کوئی چکر ہوتا ہے۔ لیکن مولانا صاحبان نے چند لمحوں کے لیے بھی سوچنے کا تردد نہیں کیا اور نہ ہی کوئی سیکنڈ تھاٹ کا رسک لیا۔

فرمانے لگے کہ بھائی جب ڈرامہ یا فلم کا سین ہو رہا ہوتا ہے تو اس کے آس پاس درجنوں لوگ موجود ہوتے ہیں، اتنے سارے چشم دید گواہوں کی موجودگی میں نکاح یا طلاق کا عمل واقع ہو جاتا ہے بھلے ڈرامے میں ہی کیوں نہ ہو۔

دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور ہمارے موضوعات دیکھ لیں، علماء اس حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں کہ ڈرامہ اور فلم کا جہاں اور ہے اور حقیقی دنیا کا جہاں اور۔ دونوں ایک دوسرے کا متضاد ہیں، ڈرامے یا فلموں میں انسان اور سماج سے جڑے ہوئے مسائل کو فنکار اپنی فنکاری کے ذریعے سے پیش کرتے ہیں جن کا انہیں باقاعدہ معاوضہ ملتا ہے اور اس صنعت کو شو بزنس کہا جاتا ہے۔ عوام بھی خیر اتنے بھولے نہیں ہیں وہ سب سمجھتے اور جانتے ہیں، وہ جان بوجھ کر اس طرح کے کامن سینس والے سوالات علماء کو بھیجتے ہیں اور جواب کی صورت میں ان کے چٹکلے انجوائے کرتے ہیں۔

لیکن ہمارے معزز علماء کرام بھی خود کا تماشا لگانے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور ہر قسم کے مسئلے پر اپنی ماہرانہ رائے دینا خود پر فرض کر لیتے ہیں بلکہ ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ بھلے بعد میں جتنا مرضی تماشا لگے کیا فرق پڑتا ہے؟
ہمارے دعوت اسلامی والے بھائی صاحبان تو روزے کی حالت میں استنجا کو ہی مشکل بنا ڈالتے ہیں۔ ”فرماتے ہیں کہ روزہ کی حالت میں واش روم میں کھل کھلا کے نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ سکڑ کے بیٹھیں اور“ تشریف ”دھوتے وقت سانس اوپر کو مت کھینچیں کہیں پانی بڑی آنت کے ذریعے سے اوپر کو نہ چڑھ دوڑے“

مزید مضحکہ خیزی ملاحظہ کرنی ہو تو مفتی طارق مسعود اور مولانا مکی الحجازی کی ویڈیوز کے تھمب نیل دیکھ لیں، واضح ہو جائے گا کہ ہمارا دماغ 21 ویں صدی میں بھی کن مسائل میں الجھا ہوا ہے۔ مفتی طارق مسعود کی دو ویڈیوز کے تھمب نیل ملاحظہ فرمائیں۔

کیا غیر مسلم سے ہاٹ سپاٹ لے کر اسلامی بیان دیکھنا جائز ہے؟ کیا شادی کے کسی فنکشن میں کمروں میں جھانک کر اندر موجود لوگوں سے کچھ پوچھا جا سکتا ہے؟

اس کے علاوہ خواتین کے حوالوں سے، مردانہ طاقت اور سہاگ رات ایسے موضوعات پر ہمارے معزز علما کی درجنوں ویڈیوز موجود ہیں۔

حال ہی میں ہمارے ایک ابھرتے ہوئے نوجوان نسیم خان بھی دھر لیے گئے اور ان کی چند لائنوں پر اس قدر تنقید ہوئی کہ نسیم نے اس قدر مقبولیت کا خواب کبھی حقیقت میں بھی نہیں دیکھا ہو گا۔ وہ چند لائنیں یہ ہیں۔

” مجھے مارنے سے پہلے میرا

آلہ تناسل کاٹ کر کسی بیوہ کے حوالے کر دیا جائے اور میرے ہونٹ تتلیوں کے لیے کسی باغ میں اگا دیے جائیں ”

سوشل میڈیا پر تنقید کا سیل رواں ابھی بھی جاری ہے اس سارے منظر نامے میں جو سب سے خوبصورت بات لگی وہ خواتین کا کثیر تعداد میں نسیم خان کی اس نظم پر کھل کے تنقید اور ناپسندیدگی کا اظہار ہے۔ بہت ساری خواتین نے اپنے اپنے انداز میں، کچھ نے مذاق میں اور کچھ نے سنجیدگی سے نسیم کی خوب کلاس لی ہے۔ یہاں تک کہا گیا کہ موصوف نے خواتین کو صرف دو ٹانگوں کے درمیان مقید کرتے ہوئے آلہ تناسل کی شدید طالب یا امیدوار قرار دیا ہے۔ شاعر کا یہ تصور اس کی پست ذہنیت کا عکاس ہے۔

حالانکہ دوسرے انسانوں کو ایک نئی زندگی دینے کے لیے کئی لوگ اپنی زندگی میں ہی وصیت محفوظ کروا دیتے ہیں کہ مرنے کے بعد میرے کار آ مد اعضا مثلا دل، آنکھیں یا گردے کسی ضرورت مند کو دان کر دیے جائیں۔ لیکن یہاں محترم شاعر اپنا آلہ تناسل ہی دان کرنا چاہتے ہیں وہ بھی کسی بیوہ عورت کو۔

اب ہماری شاعری کے متعلق اتنی سمجھ بوجھ تو ہے نہیں کہ کوئی ماہرانہ رائے دے سکیں لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ جنسی گھٹن اور فرسٹریشن کی ماری ہوئی قوم کو اس کے علاوہ اور سوجھ بھی کیا سکتا ہے؟ شاعر ہوں یا ہمارے معزز علماء کرام ہیں تو اسی گھٹن زدہ سماج کا حصہ، ان کی فکر یا شاعرانہ تخیل یا ردیف و قافیہ بندی اسی سماج کی ہی تو دین ہے نا!

جہاں نجانے کب سے انسانی جسم یا سیکس سے جڑے ہوئے اہم ترین مسائل پر بات کرنے یا اپنی رائے کا اظہار کرنے کی پابندی عائد ہے۔ سماجی پنڈتوں اور پرہیز گاران امت کو لگتا ہے کہ جسم یا جنس سے جڑے ہوئے منہ زور مسائل یا جبلتوں کو تقوی و پرہیزگاری، استغفار اور تسبیحات سے جسم پر حاوی ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ حالانکہ انسانی جبلتوں کو کسی بھی پرہیزگاری کے بندوبست کے تحت دبایا یا کچلا نہیں جا سکتا، بلکہ زبردستی دبانے سے یہ مزید مکروہ یا نجس شکل میں سامنے آتی ہیں۔

چھوٹے بچوں سے زیادتی، خواتین کی قبروں کی بے حرمتی اور جانوروں کے ساتھ جنسی ہوس مٹانے کے افسانے ہمارے سامنے ہیں۔

سنتے آئے ہیں کہ اللہ کے گھر یعنی مساجد و مدارس میں اور جہاں کتاب مقدس قرآن مجید موجود ہوتا ہے وہاں شیطان مردود کا گزر بھی نہیں ہو سکتا لیکن جو کچھ ان مقدس جگہوں اور قرآن حکیم کی موجودگی میں ہوتا آ رہا ہے اس پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہوتا ہے۔

خیر یہ رونے دھونے پھر کبھی سہی لیکن جو خوبصورت بات ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں میں شعور پھیل رہا ہے، مذہبی ہوتے ہوئے بھی مختلف یا ماڈرن سوچ رکھنے والے افراد جان بوجھ کر یا لاشعوری طور پر ہمارے علماء سے کچھ ایسے سوالات پوچھنے لگے ہیں جو اگر ڈائریکٹ پوچھ لیے جائیں تو شاید بلاسفیمی یا توہین کے زمرے میں دھر لیے جائیں۔

بالکل ایسا ہی نسیم خان کے ساتھ ہوا ہے، مرد تو ایک طرف خواتین نے بڑھ چڑھ کر تنقید کی ہے اور اپنے اپنے موقف کا اظہار کیا ہے۔ ان میں کچھ خواتین ایسی بھی ہیں جنہوں نے شاعر کو بینیفٹ آف ڈاؤٹ دیتے ہوئے اس کی نظم کو ایک نئے پیرائے میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ میرے خیال میں تو ”واہ واہ اور بے شک بے شک“ کا طلسم ٹوٹنے لگا ہے اور لوگ اپنی اپنی سمجھ بوجھ اور فہم کی بساط کے مطابق اچھا یا برا کہنے لگے ہیں۔ لگتا ہے اس مردہ معاشرے میں بھی تھوڑی تھوڑی سی شعوری جان پڑنے لگی ہے لیکن ظرف اور برداشت اپنا اپنا ہوتا ہے۔

نسیم خان پر اس قدر شدید تنقید کے باوجود کسی بھی ادبی محاذ سے اسے بلاسفیمی یا کفر کا مرتکب گردانتے ہوئے طبقہ انسانی سے خارج کرنے کا اظہار یا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ جبکہ ہمارے معزز علماء کرام تو ذرا سی تنقید یا سوال پوچھنے پر ہی اپنے بھائی بندے کو بڑے آرام سے کافر ڈیکلیئر کر کے دائرہ اسلام سے خارج کر ڈالتے ہیں۔

Facebook Comments HS