مولانا مولانا فضل الرحمان کی دھاندلی کے خلاف تحریک؛ کیا حکومت چل سکے گی؟
پاکستان میں ہر الیکشن کے بعد دھاندلی کے الزامات عائد ہوتے ہیں، بدقسمتی سے آج تک انتخابی اصلاحات پر عمل نہ ہو سکا ہے۔ نئی حکومت قائم ہوتے ہی بحرانوں مسائل کا سامنا کرتی ہے جبکہ اپوزیشن راستوں پر ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں آج تک جتنی الیکشن ہوئی ہیں ان میں اسٹیبلشمنٹ کا اہم کردار ہوتا ہے۔ جو بھی حکومت بنتی ہے وہ اسٹیبلشمنٹ کے اشیر واد کے سوا نہ بن سکتی ہے اور نہ ہی چل سکتی ہے۔ جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمن نے عام انتخابات 2024 میں دھاندلی کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے تحریک کا آغاز صوبہ بلوچستان سے کیا ہے۔ عید کے بعد 25 اپریل کو پہلا عوامی جلسہ پشین میں کیا جائے گا، دوسرا احتجاجی جلسہ 2 مئی کو کراچی میں کیا جائے گا، اور تیسرا جلسہ، 9 مئی کو پشاور میں ہو گا، اس جلسہ میں لاہور مینار پاکستان کے جلسہ کا اعلان کیا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمان کے لئے مشہور ہے کہ اس کے بغیر حکومت بن نہیں سکتی، اگر بن گئی تو چل نہیں سکتی، 2018 ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کے خلاف مولانا فضل الرحمان عمران خان کی حکومت کے خلاف پیچھے پڑے، نواز لیگ پیپلز پارٹی دیگر جماعتوں کے ساتھ ملک کر پی ڈی ایم کے نام سے اتحاد بنایا۔ اور تین سال مشکل چلنے دیا۔ یوں پی ڈی ایم تحریک سے اقتدار میں آ گئی۔ اس جدوجہد میں سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کو پہنچا، دونوں بڑی پارٹیوں کے سربراہ رہنماء عمران خان کے کڑے امتحان نیب کے شکنجے میں جیل کے سلاخوں کے پیچھے تھے۔ یہاں تک کہ مریم نواز، فریال ٹالپر، نواز شریف، شہباز شریف، آصف علی زرداری، سید خورشید شاہ سمیت دیگر رہنما جیلوں میں قید تھے۔ لیکن اقتدار تبدیل ہوا، عمران خان گھر چلا گیا۔
کرپشن بھگتنے والے اقتدار میں آ گئے، کہاں گیا نیب، کہاں گئے کرپشن کے اربوں کھربوں روپے، ! بس اس کے الٹ عمران خان ساتھیو سمیت جیل میں چلے گئے۔ نیب ریفرنس سمیت دیگر مقدمات بنے۔ اب تک بھگت رہے ہیں۔ عام انتخابات 2024 ہوئے تو تحریک انصاف سے انتخابی نشان تک چھین لیا گیا۔ الیکشن ہوئے تو تحریک انصاف کے آزاد امیدوار اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ دوسری پوزیشن نواز لیگ جبکہ تیسری پوزیشن پیپلز پارٹی کو دی گئی۔ پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمن کی پارٹی کو شدید دھچکا لگا، سندھ اور بلوچستان میں الیکشن خرید کر ان کو ہرایا گیا۔
سندھ میں مولانا راشد محمود سومرو نے قومی شاہراہ، موٹروے بلاک رکھے، جس دن سندھ اسمبلی میں حلف برداری تقریب ہوئی کراچی میں جے یو آئی اور جے ڈی اے سمیت دیگر جماعتوں نے زبردست قسم کا احتجاج کیا۔ اس کے برعکس بلوچستان اور کے پی میں بھی احتجاج جاری رہا۔ کہا جا رہا تھا کہ مولانا فضل الرحمن جمہوری نظام پارلیمانی سسٹم سے مایوس ہو کر الگ ہو جائیں گے۔ اس بات کا اشارہ خود مولانا فضل الرحمن نے بھی پارٹی اجلاس میں کیا تھا۔
اس مرتبہ جو حکومت بنی ہے وہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ بنی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف جبکہ صدر پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری بنے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کو اس بات پر بھی غصہ ہے کہ صدر بنانے کا وعدہ ان سے کیا گیا تھا۔ لیکن مولانا فضل الرحمن کا صدر بننے کے لئے راستہ روکنے کے لئے پیپلز پارٹی نے ایک تیر سے دو کھیل کھیلے ایک تو بلوچستان میں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی، اب اس وقت پیپلز پارٹی کے پاس بلوچستان اور سندھ دو صوبے ہیں جبکہ نون لیگ کے پاس پنجاب اور تحریک انصاف کے آزاد امیدواران کے پاس کے پی میں حکومت ہے۔
پہلے آصف علی زرداری نے بڑی کوشش کی کہ آزاد امیدواروں کو ساتھ ملایا جائے۔ مایوسی ہونے پر نون لیگ کے ساتھ اتحاد کر لیا، دونوں جماعتوں کے ساتھ مولانا فضل الرحمن کے قریبی دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔ لیکن اقتدار کرسی کے لئے شہباز شریف نے مولانا کو دور رکھا اور آصف زرداری نے صدارتی کرسی کے لئے دوسری راہ پکڑ لی۔ جس پر مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ آصف علی زرداری مفاہمت کا نہیں مفادات کا بادشاہ ہے۔ نئی حکومت میں لنڈن سے بلائے گئے میاں نواز شریف کو وزیر اعظم سے دور رکھا گیا۔
ان کی بیٹی کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ تھما دی گئی۔ جبکہ آصف علی زرداری نے شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کے لئے سپورٹ کی اور خود صدر بن گئے۔ یوں بلاول بھٹو زرداری کا وزیر اعظم بننے کا خواب بھی ادھورا رہ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن اسٹیبلشمنٹ کی چال اور الیکشن نتائج سے 2018 کے بعد اب 2024 میں بہت مایوس ہو گئے ہیں، وہ سمجھ رہے ہیں کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ میں آ کر ان کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمن کی جماعت ایم ایم اے کے پاس 2002 ء میں 60 سے زائد نشستیں تھی۔ پھر 2008 ء میں وہ تعداد کم رہi، 2013 ء میں مزید نشستیں کم ہوئی 2018 ء کے عام انتخابات میں بالکل کم ہوئی تو مولانا فضل الرحمن واحد اور پہلے لیڈر تھے جنہوں نے الیکشن نتائج کو مسترد کرتے ہوئے اسمبلیوں میں جانے سے انکار کر دیا اور تحریک شروع کردی۔ بعد میں اسمبلیوں میں واپس ہوئے۔
اگر مولانا فضل الرحمان کا گلہ شکوہ درست ہے تو پھر اسٹیبلشمنٹ کو بھی سوچنا چاہیے کہ اگر سیاسی مولانا فضل الرحمن قبول نہیں تو پھر مذہبی جماعتوں میں انہیں کون قبول ہے، لشکر جھنگوی، تحریک طالبان، احسان اللہ احسان یا جہادی مولوی؟ مولانا فضل الرحمان کے بقول کہ مذہبی طبقہ اس جمہوریت کو پسند یا قبول نہیں کرتا، مذہبی طبقے کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا گیا ہم نے انہیں واپس قومی دھارا میں لے آئے۔ اور اس جمہوری سسٹم پر چلنے کے لئے آمادہ کیا۔
آج بھی مذہبی طبقہ ناراض ہے دوسری جانب ہمیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو منانے کے لئے نواز شریف سمیت متعدد رہنما الگ الگ آئے لیکن وہ بھی راضی نہ کر سکے ہیں۔ دوسری جانب سخت مخالف تحریک انصاف کے وفد کی بھی ان کے رہائش گاہ پر آمد ہوئی ہے اور ہو سکتا ہے کہ آگے چل کر مولانا فضل الرحمن نے جس تحریک کا آغاز کیا ہے اس میں عمران خان کے لوگ بھی شامل نہ ہو جائیں اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ حکومت ایک سال بھی مشکل سے چل سکے۔
مولانا فضل الرحمان نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ نواز لیگ بھی انتخابی نتائج سے مطمئن نہیں ہے، لیکن وہ جس پوزیشن پر حکومت میں ہیں ان کے لئے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی تحریک حکومت کے خلاف نہیں ہے بلکہ ان اداروں کے خلاف ہے جو الیکشن میں نتائج تبدیل کرتے ہوئے کمزور حکومت قائم کرتے ہیں، اب تو یہ پارلیمنٹ عوامی کم اسٹیبلشمنٹ کا اثر زیادہ ہو گا۔ عام انتخابات میں جہاں انہیں سندھ میں جیتی ہوئی نشستیں چھینی گئی ہیں وہیں پر الزام ہے کہ خریداروں نے صدارتی کرسی کے لئے کے پی میں ان کے امیدواروں کو ہرانے کے لئے پیسے بھرے ہیں تاکہ مولانا فضل الرحمن کی جماعت کی اکثریت نہ ہو سکے اور وہ صدارتی انتخابات سے دور رکھا جائے۔
آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کی مولانا فضل الرحمن سے بہت قربت ہے، کیا آگے چل کر یہ قربت سیاسی مخالفت اور دشمنی میں تبدیل ہوگی یا دونوں رہنما مولانا کو منانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اب تک حکومتی پاور شیئر میں مولانا فضل الرحمن کو دور رکھا گیا ہے جبکہ بلوچستان کی حکومت سازی میں بھی جے یو آئی کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے ایک ایسے وقت رمضان المبارک میں احتجاجی تحریک کا آغاز کیا ہے۔
آگے چل کر مزید مسائل بڑھنے کا امکان ہے، آئی ایم ایف کے قرضہ اور سخت شرائط پر جہاں ٹیکسز لگائے جائیں گے وہیں پر بجلی گیس پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا، اپریل کے پہلے ہفتے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک سو فی لیٹر تک اضافہ کا امکان ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں مہنگائی عروج پر ہوگی۔ ڈالر اور پیٹرول 400 سے 5 سو تک ہو جائے گا جس کے بعد عام اشیاء سمیت تمام چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا اور مہنگائی کا طوفان برپا ہو گا۔
ملکی معیشت کا پہلے ہی بیڑا غرق ہو چکا ہے۔ قرضوں کی بھرمار سے مزید بگاڑ پیدا ہو گا۔ عام انسان کی زندگی مشکل سے مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت ڈلیور کرنے کے بجائے مزید مسائل کا سامنا کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ عوام سمجھتی ہے کہ انہوں نے ووٹ انہی دیا ہے جنہیں اقتدار سونپا گیا ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنتے ہوئے بدامنی لاقانونیت عروج پر ہے۔ اغوا برائے تاوان، قتل و غارت قبیلائی دہشتگردی جاری ہے، بڑے شہر اپنی جگہ نیشنل ہائی وے اور موٹروے بھی سفر کے لئے محفوظ نہیں ہیں۔
ایک طرف ملکی معیشت کا بیڑا غرق کر دیا گیا ہے دوسری جانب بدامنی لاقانونیت کی وجہ سے کون آئے گا پاکستان میں کاروبار کرنے یا صنعت قائم کرنے کے لئے۔ اگر مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کو راضی کیا جا تا ہے اور حکومت سازی میں شامل کر دیا جاتا ہے تو وہ الگ بات ہے لیکن پھر بھی مولانا جو کہتے ہیں وہ کر کے دکھاتے ہیں۔ امکان ہے کہ آئندہ 6 ماہ میں عمران خان بھی رہا ہو جائیں باہر آ جائیں اور ان کی جماعت پر عائد پابندی ختم ہو جائے تو بقول مولانا فضل الرحمن کے وہ مانتے ہیں کہ اس انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔
اگر انتخابات صاف شفاف ہوئے ہیں تو 9 مئی کو کہاں رکھا جائے گا، عوام نے اسٹیبلشمنٹ کے 9 مئی بیانئے کو مسترد کر دیا ہے۔ اور نتائج تبدیل ہوئے ہیں تو ہمارا موقف درست ہے کہ ہمیں کان بوجھ کر ہرایا گیا ہے۔ بہرحال مولانا فضل الرحمان نے پارلیمانی سیاست کو چھوڑنے اور جمہوری سسٹم پر چلنے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے بڑے پن کا مظاہرہ کیا ہے، حکومت با الخصوص اسٹیبلشمنٹ کو چاہیے کہ وہ مولانا کو راضی کریں۔ جو خدشات ہیں وہ دور کیے جائیں۔
آپ سوچ لیں اگر یہ مفاہمت، جمہوریت والا پرامن مولانا فضل الرحمن آپ کو قبول نہیں ہے تو پھر سب کی بدقسمتی ہوگی۔ پاکستان میں ایک قومپرست طبقہ ہے دوسرا مذہبی طبقہ اسے انتخابات کے ذریعے قومی دھارا میں لانے کے بجائے دور دھکیلا جا رہا ہے۔ تیسرا آپشن پھر بنگلادیش ہی سامنے اور مثال ہے۔ امید ہے کہ تمام معاملات سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھ کر حل کیے جائیں، نہیں تو پھر پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔


