جمہوریت کے ثمرات سے کون مستفید ہوتا رہا ہے

جدید جمہوری امریکا کے بانی سابق سیاہ فام امریکی صدر ابراہم لنکن نے امریکی ریاستوں کے مابین سیاہ فام افراد کی غلامی کے مخالفین اور اس کے حق میں لڑی جانے والی جنگ کے شہداء کی یاد میں امریکی شہر گیٹس برگ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”یہ قوم مردہ، بے کار قوم کی طرح نہیں مرے گی، یہ ایک عظیم قوم کی طرح خدا کی ماتحتی میں آزادی کا ایک نیا جنم لے گی اور عوام کی حکومت عوام کے ذریعے عوام کے لیے زمین سے کبھی ختم نہیں ہوگی“
ابراہم لنکن کی یہ تقریر ان کی سب سے بہترین اور مشہور تقاریر میں سے ایک ہے، جس میں جمہوریت کے لیے انہوں نے جو اصطلاح استعمال کی ”لوگوں کی حکومت، لوگوں کے ذریعے اور لوگوں کے لیے“ ان کے یہ سنہری الفاظ آج جمہوریت کا نعرہ بن چکے ہیں اور اس حقیقت کی عکاسی بھی کرتے ہیں، اسی لیے آج ہر جمہوریت پسند ابراہم لنکن کے ان الفاظ کو جمہوریت کی اصطلاح کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
ابراہیم لنکن امریکا کے سب سے غریب صدور میں شمار ہوتے ہیں، وہ دو بار امریکی صدر منتخب ہوئے، دوسری بار انہیں منتخب ہونے کے ایک سال بعد 1865 میں ہی قتل کر دیا گیا تھا، مگر ان کے قتل سے لے کر آج تک امریکا کبھی جمہوریت کی پٹری سے نہیں اترا۔ کتنے ہی صدور آئے اور کتنے گئے مگر امریکا میں آج بھی عوامی حاکمیت، عوام کے ذریعے عوام کے لیے ہی امریکا کو دنیا کی سب بڑی طاقت بنا چکی ہے۔
دنیا کی کئی بڑی جمہوریتوں میں آج بھی حاکمیت عوام کے ووٹ کے ذریعے ہی حاصل کی جاتی ہے اور پھر اسے عوام ہی کے ذریعے عوام کی بہتری، اداروں کی مضبوطی، ملک کی سالمیت امن و خوشحالی کے لیے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ انڈیا، انگلستان سمیت جہاں جہاں حقیقی عوامی جمہوریت کا رواج عام ہے وہاں جمہوریت کے ثمرات سے ان جمہوری ریاستوں کی عوام مستفید ہوتی ہے۔ ان کے حاکموں کے اولادیں، قریبی رشتہ دار، دوست احباب یہاں تک کہ کسی چیلے چمچے کو یہ جرات ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے بڑوں کو ملے عوامی اختیار کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کر سکے۔ مگر ہمارے ہاں جمہوریت، حاکموں کی آل اولاد، ان کے قریبی رشتہ دار، دوست احباب یہاں تک نوکر چاکر غلام چیلے سب کے سب عوام کی جانب سے دیے ہوئے حق حاکمیت پہ اپنا پیدائشی حق سمجھ کر صرف اپنے لیے استعمال کرتے ہیں۔
آج اگر پاکستان میں جمہوریت کی بات کریں تو پاکستان کو آزاد ملک کی حیثیت میں دنیا کے نقشے پہ نمودار ہوئے پون صدی گزر گئی مگر جمہوریت آج بھی صرف لفاظی کی حد تک تو قائم ہے مگر پاکستان میں آج تک اصلی عوامی حاکمیت نہ عوام کے ذریعے نہ ہی عوام کے لیے قائم ہو سکی۔ اگر میں، پاکستان میں ابراہم لنکن کے جمہوریت کے خیالات کو یوں لکھوں کہ ”مخصوص خاص عوامی حاکمیت، مخصوص خاص عوام کے ذریعے، مخصوص خاص عوام کے لیے ماسوائے ایک یا دو ادوار کے وقتاً فوقتاً رائج رہی ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ موجودہ انتخابات نے تو یہ بات بلکہ واضح کردی ہے کہ ہمارے ہاں حاکمیت عوام کے ذریعے سے نہیں بلکہ طاقتوروں کی مرضی و منشا اور پسند و ناپسند کی بنیاد پہ عوامی نام دے کر اقتدار میں لائی جاتی ہے۔
مشہور فاشسٹ حکمران جرمنی کا ہٹلر جو اپنے آپ کو دنیا کا سب سے بڑا جمہوریت پسند عوامی رہنما سمجھتا تھا ایک دن ایوان میں اپنے ساتھ ایک مرغا لے کر آیا اور اس کے پنکھ نوچنے لگا، مرغا درد سے بلبلاتا رہا مگر ہٹلر نے اس کے سارے پنکھ نوچ ڈالے، اور پھر اسے زمین پر چھوڑ کر اس کے آگے اناج کے دانے ڈالتا رہا اور آگے چلتا رہا، مرغا وہ اناج کے دانتے چگتا اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہا اور پھر آ کر ہٹلر کے پیروں میں کھڑا ہو گیا۔ ہٹلر نے اپنی نشست پہ آ کر اسپیکر سے مخاطب ہوتے ہوئے تاریخی جملہ کہا کہ ”اکثر جمہوری ملکوں میں عوام اس مرغے کی طرح ہوتے ہیں، ان کے لیڈر پہلے ان کا سب کچھ لوٹ کر انہیں اپاہج کرتے ہیں اور پھر ان ہی سے لوٹی ہوئی دولت سے انہیں تھوڑی بہت خوراک اور سہولیات مہیا کر کے ان کے مسیحا بن جاتے ہیں“
آج اگر ہم اپنی جمہوریت کا جائزہ لیں تو ہٹلر کی کہی بات سو آنے سچ لگتی ہے، ہمارے حالات بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔ پاکستان کی ستتر سالہ تاریخ میں 33 سال ملک پہ فوجی آمریت جبکہ 44 سال سول جمہوریت نے راج کیا ہے۔
قائداعظم کے قریب ترین اور پسندیدہ سیاسی افراد میں سے حسین شہید سہروردی کے اقتدار کے تیرہ ماہ اور پاکستان کے پہلے منتخب عوامی وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور اقتدار کو چھوڑ کر میرے خیال میں تو ملک میں حقیقی جمہوریت کبھی آنے ہی نہیں دی گئی۔
جنرل پرویز مشرف کے زیر کمان 2002 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی اکثریت کو اقلیت میں بدل کر ایک جعلی مینڈیٹ والی سول حکومت قائم کی گئی اور جنرل صاحب خود وردی سمیت صدر مملکت بن کر اقتدار کے مختار کل بن گئے۔ جمہوریت کے ثمرات سے صرف ان کے اپنے آل اولاد اور قریبی ساتھی حاشیہ بردار اور چاپلوس ہی مستفید ہوئے۔
محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بننے والی حکومتیں بھی کسی طور حقیقی جمہوریت کے معیار پہ پوری نہیں اترتیں۔ ان کی شہادت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی بھاری اکثریت سے کامیابی کو اقلیتی اکثریت بنا کر اسے بیساکھیوں کے سہارے مدت اقتدار پورا کروایا گیا۔ ہاں لیکن اس بار یہ ضرور ہوا کہ سول حکمرانی کی مدت اقتدار کے مکمل ہونے کا تسلسل برقرار رکھا گیا۔ 2013 اور پھر 2018 کے انتخابات بھی کسی طور پر آزادانہ منصفانہ کہلانے لائق نہیں ہیں۔ یہ بھی اسی طرز کی جمہوریت کا تسلسل تھے جو پاکستان میں قائداعظم کی وفات کے بعد سے ملک پہ رائج کروائی جاتی رہی۔ رہی سہی کثر موجودہ انتخابات نے پوری کردی۔ پہلی بار لگا کہ جیسے عوام کو کوئی غرض ہی نہیں ہے کہ کس کی حکومت آتی ہے کون وزیراعظم، کون صدر اور کن کو اعلیٰ وزارتوں کے تاج پہنائے جاتے ہیں۔
یونانی مورخ ہیروڈوٹس کہتا ہے کہ ”جمہوریت ایک ایسی حکومت ہوتی ہے جس میں ریاست کے حاکمانہ اختیارات قانونی طور پر پورے معاشرے کو حاصل ہوتے ہیں“ تو کیا ہماری جمہوریت میں حکمرانی کا قانونی حق پورے معاشرے کو حاصل ہے، اس کا جواب یقیناً نہیں میں ہے۔ ہمارے ملک میں کہنے کو تو جمہوریت ہے مگر اس کے ثمرات سے صرف مخصوص اور خصوصی طبقہ ہے بہرہ مند ہو رہا ہے۔ عام پاکستانی آج بھی انصاف کے لیے دربدر ہے جبکہ اشرافیہ کئی سال اشتہاری رہ کر واپس آتے ہیں انہیں عدالتیں بھی رلیف دیتی ہیں تو قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی، عام پاکستانی بکری چوری میں بغیر ضمانت کئی برس قید میں گزارتا ہے تو اشرافیہ اربوں کھربوں کے مقدمات درج ہونے کے باوجود اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے۔ ایسے میں ہٹلر کی کہی تاریخی بات بالکل ہمارے معاشرے کے لیے ہی کہی ہوئی لگتی ہے اور عوام کی حکمرانی، عوام کے ذریعے عوام کے لیے جیسی اصطلاح بے معنی لگنے لگتی ہے۔

