عدلیہ پر شب خون مارنے کی تیاری


گزرے چند یوم قبل ایک کیس کی شنوائی کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے ایک وکیل کو کہا کے ہماری عدلیہ کا شمار اس وقت پوری دنیا میں سب سے کمزور اور فیصلہ کرنے کی استعداد سے محروم ہے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح سے اس دلدل سے باہر نکل سکیں،

اسی طرح ایک اور سروے کی بات کی جائے تو اس کے مطابق پاکستان میں کرپٹ ترین اداروں میں عدلیہ کا تیسرا نمبر ہے، سو اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ موجودہ چیف جسٹس حقیقت میں عدلیہ کو کرپٹ ترین اداروں کی لسٹ میں نیچے لے جانے کی کوششوں میں ہیں لیکن اگر سابقین کی جانب دیکھا جائے انہوں نے اس بابت کوئی کوشش نا کی بلکہ انہوں نے اپنی من مانیوں یا کسی کے بھی دباؤ میں آ کر فیصلے کیے اور اپنی تو زندگی سنوار لی لیکن عدلیہ کی عزت خاک میں ملا دی۔

پاکستانی معلوم تاریخ کی بات کی جائے تو عدلیہ پر اٹیک ہوا تو پاکستان کے تمامتر وکلا اس کو بچانے کے لئے نکل کھڑے ہوئے اور سول سوسائٹی نے ان کا ساتھ دیا اور افتخار محمد چوہدری سرخرو ہو کر مسند چیف جسٹس پر براجمان ہوئے،

اسکے بعد عدلیہ کے دو ججوں پر اٹیک ہوا ایک اسلام آباد ہائیکورٹ کے اور ایک سپریم کورٹ کے جج اس حملہ کا نشانہ بنے اور اس کی وجہ یہ ہی تھی کے یہ دونوں جج عدلیہ پر کسی بھی ادارے کی جانب سے ہونے والے دباؤ کو کسی خاطر نہیں لا رہے تھے اور اسلام ہائیکورٹ کے جج نے نوکری سے برخاست ہونے سے پہلے ہی ایک تقریر میں ان پر اور عدلیہ پر ہونے والے دباؤ اور ایک ادارے کی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے کا کہا جس کی پاداش میں ان کو نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے، اس کے فوراً بعد ہی فائز عیسی ٰ پر ایک صدارتی ریفرینس کے تحت مقدمہ بنایا گیا جس کا سامنا فائز عیسیٰ نے مردانہ وار کیا اور اس وقت کے وزیر اعظم اور صدر نے بعد میں اس بات کی تائید کی کہ یہ ریفرنس بھی کسی کے دباؤ یا کہنے پر بنایا گیا تھا۔

اب آتے ہیں تیسرے موقع پر جب عدلیہ پر ایک بار پھر سے حملہ کیا گیا ہے اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک خط لکھا اور عدلیہ پر بیرونی دباؤ کا ذکر کیا، اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہ خط میڈیا تک پہنچنے سے پہلے ہی ایک مخصوص سیاسی جماعت کے سوشل میڈیا پیجز تک کیسے پہنچ گیا چلیں ہو سکتا ہے اس سیاسی جماعت کے سورسز کسی بھی صحافی سے زیادہ مضبوط اور تیز تر ہوں۔ لیکن ان ججز کی ڈیمانڈ پڑھ کر ایک عجیب سی بات ذہن میں آتی ہے کہ  کہیں انہوں نے جسٹس شوکت صدیقی کا کیس دیکھ کر یہ سوچا ہو کہ چلو تندور گرم ہے ہم بھی اپنی دو دو روٹیاں لگا لیتے ہیں کیونکہ ان ججوں کے سرغنہ کے خلاف تو سپریم جوڈیشل کونسل میں پہلے ہی درخواست جا چکی ہے۔ اور یہ وہی ججز ہیں جن کے بارے میں جسٹس شوکت صدیقی ایک پروگرام میں کہہ چکے ہیں کہ جب مجھے ایک ادارے کی دھونس اور دباؤ کے تحت نکالا جا رہا تھا تب یہ ججز خاموش کیوں تھے شاید اس لئے کہ میرے فارغ ہونے پر سب سے زیادہ اطہر من اللہ اور یہ والے ججز ہی مستفید ہونے تھے

چند حقائق اور سوالات؛

کیا یہ معزز جج صاحبان پہلے یہ معاملہ سابقہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علم میں لائے تھے؟ جناب بندیال صاحب کا جھکاؤ ایک مخصوص سیاسی جماعت کی جانب تھا، لیکن اس کے باوجود اگر بندیال صاحب نے بھی ان معزز جج صاحبان کے الزامات کو کوئی اہمیت نہ دی اور اس پر کوئی تفتیش نہ کروائی، تو ان کی عقلی دلیل کیا ہے؟

ان معزز جج صاحبان کا خط ہائیکورٹ بعد میں پہنچا اور ایک مخصوص سیاسی جماعت کے پاس پہلے پہنچ گیا، ایسے کیسے؟

جب سے ایک حالیہ مستعفی ہونے والے جج کا احتساب مانگا گیا، تو دیگر صاحبان کی بظاہر نیندیں حرام ہو گئیں اور لینے کے دینے پڑ گئے۔ ایسے خط دیگر کارروائیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہو سکتے ہیں، جنہیں خطرہ صرف انٹیلی جنس ایجنسیوں سے ہے جو ان کے دباؤ میں نہیں آتے اور ہر قماش کے کالے کرتوت کا علم رکھتے ہیں۔

مبینہ طور پر، معزز جج صاحب بابر ستار اور ان کی پوری فیملی امریکی شہری ہے۔ کیا یہ سوال نہیں ہونا چاہیے کہ ایک امریکی شہری کیسے پاکستان میں جج بن گئے؟

وہ کون سے جج صاحب ہیں جن کے متعلق مبینہ طور پر مشہور ہے کہ آدھا وقت تو وہ نشے میں رہتے ہیں؟

جج صاحب محسن اختر کیانی کے خلاف تو بدعنوانی اور غیراخلاقی حرکات کی بنا پر پہلے ہی تحقیقات سپریم جوڈیشل کونسل میں ہیں، ان کا مبینہ تعلق اسلام آباد کے بہت بڑے قبضہ مافیا سے ہے۔ جبکہ لیک ویو لین ہاؤسنگ سوسائٹی میں جسٹس اختر کیانی صاحب مبینہ طور پر 18 فیصد کے پارٹنر ہیں اور اسی سوسائٹی کے کیس میں ان پر سرخ دائرہ ہے۔

ان 6 میں سے کتنے جج صاحبان ہیں جو ایک مخصوص سیاسی جماعت کے بھرتی شدہ ہیں، یا یہ کہیں کہ ے ب ایک حاضر سروس اور ایک ادارے کا ملازم ان کو یہ کہہ رہا تھا کے مریم نواز اور نواز شریف کو اگر سزا نا دی گئی تو ان کی دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی، اس کے فیض سے ان میں سے کتنے ججز فیض یاب ہوئے تھے؟

ان 6 میں سے کتنے جج صاحبان ایک مخصوص سیاسی جماعت کی طرف واضح جھکاؤ رکھتے ہیں اور بظاہر ایک سیاسی شخصیت کو قانون سے باہر جا کر ریلیف دلوانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ پنجاب حکومت کی پابندی کے باوجود ان میں سے ہی ایک جج نے خلاف قانون جا کر عمران خان کی ملاقاتیں کروائیں اور جس کے نتیجہ میں آئی ایم ایف کو خط لکھا گیا اور آئی ایم ایف کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔ جبکہ ایک کیس میں جج صاحب تو یہ بھی کہتے رہے کے ہو سکتا ہو کے ”کسی کو بہت عرصہ بعد پتہ چلے کہ اس کی کوئی اولاد بھی ہے“ ٹیریان کیس میں؟

شوکت صدیقی کیس کے بعد بظاہر ان تمام کا حوصلہ بڑھ گیا کہ جج کو ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا۔ دنیا کے قانون میں برڈن آف پروف الزام لگانے والے کے پاس ہے، شاید اسی لیے یہ 6 جج صاحبان اپنے الزام کا جوڈیشل ٹرائیل نہیں بلکہ کمیشن مانگ رہے ہیں جہاں روزانہ محض میڈیا سرکس لگے اور کچھ اور مقاصد حاصل ہوں۔ کیا یہ محض میڈیا سوشل میڈیا کی سنسنی کا ایک بھونڈا طرزعمل ہے؟ کیا رائٹ اور رانگ سے ہٹ کر بس میڈیائی شوشے پر یقین رکھنے کے رویے نے اس خط کو لکھوایا ہے؟

سب سے اہم پہلو یہ دیکھا جائے کہ ٹائمنگ کتنی اہم ہے! گڑے مردے اکھاڑنے کی آج کیا ضرورت آن پڑی؟ کیا یہ سب کچھ تحریک عدم اعتماد سے لے کر اب تک کے معاملات کا کہہ رہے ہیں یا 2016 سے لے کر اب تک کا؟ کیا اس کی اصل وجہ ایک مخصوص سیاسی شخصیت کا نو مئی ٹرائیل اور ملٹری کورٹ کے حق میں آنے والا فیصلہ تو نہیں؟

آج وزیر اعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان کے درمیان ایک ملاقات ہوئی اور اس معاملہ پر ایک تحقیقاتی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے اب حکومت اور سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ اب یہ کیس جلدی نمٹایا جائے۔ ان چھ ججوں صاحبان سے کہا جانا چاہیے کہ اپنے الزامات ثابت کریں، اگر جج صاحبان ثابت کرنے میں ناکام ہو جائیں تو ان سب کو مظاہر علی نقوی کی طرح عہدے سے فارغ کیا جائے۔ ایسی غیر ذمہ داری ان عہدیداروں سے بالکل بھی قابل برداشت نہیں ہونی چاہیے،

اور کسی کو بھی اس بات کی قطعی اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ مزید لوگ بھی کلٹ بن کر ریاست پر حملہ آور ہوں، چاہے سڑکوں پر یا ان ججز کی شکل میں عدلیہ میں!

Facebook Comments HS