مقدس مقامات پر بچہ بازی اور بے غیرت گھرانے کے ہاتھوں معصوم بیٹی کا قتل
حال ہی میں ایک ویڈیو کلپ نظروں سے گزرا، جس میں ایک نوجوان مولانا صاحب ہتھکڑی لگی ہوئی اور نظریں جھکائے ایک پولیس افسر کے سامنے کھڑے ہیں جو انتہائی غصے میں ان مولانا صاحب سے کچھ یوں مخاطب ہیں۔
کیا آپ نے اپنا سماجی کردار دیکھا ہے؟
آپ جس منصب پر فائض ہیں اس کا بھی لحاظ نہیں رکھا کیوں؟
کیا آپ کو اللہ سے ڈر نہیں لگتا؟
جس مقدس منصب پر بیٹھ کر آپ یہ مکروہ حرکات کرتے ہیں اور شرم بھی محسوس نہیں کرتے، کیا آپ اللہ سے دھوکہ کرتے ہیں؟
ایک 12 سالہ معصوم بچے سے جنسی زیادتی کرتے ہوئے آپ کو ذرا سا بھی خدا کا خوف نہیں آیا؟
مولانا صاحب سر جھکائے کھڑے ہیں اور احساس ندامت و شرمندگی کی وجہ سے کوئی معقول جواب نہیں دے پا رہے۔
انگریزی کا ایک محاورہ ہے۔ ”نئیرر دی چرچ فاردر فرام گاڈ“ (جو جتنا خدا کے قریب ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ اتنا ہی خدا سے دور ہوتے ہیں)۔
ان کا نام مولانا ابوبکر معاویہ ہے، جو اپنے حجرے میں ایک 12 سالہ معصوم بچے کے ساتھ جنسی زیادتی میں مصروف تھے۔ سوچتا ہوں کہ ”سراپا دین و روحانیت“ ہی کیوں اکثر اس قسم کے مکروہ اور نجس کاموں میں ملوث ہوتے ہیں؟
اب یہ مولانا نجانے کب سے دعوت و تبلیغ کا کام سر انجام دے رہے ہیں، قرآن اور حدیث کا وسیع علم رکھتے ہوں گے اور ان کا سینہ بھی قرآن حکیم کے 30 سپاروں سے منور ہو گا۔
حیرت ہوتی ہے کہ اس قدر ایمانی و روحانی برکات سے منور ایک شخص کیسے اس حد تک پست ہو سکتا ہے کہ وہ جنسی تمیز سے ہی بے نیاز ہو جائے اور اپنی جنسی حبس اور ہوس کو مٹانے کے لیے اپنے زہد و تقوی، پرہیزگاری اور پیغمبرانہ منصب و شبیہ کو ایک طرف رکھ چھوڑے اور ایک معصوم سے بچے پر چڑھ دوڑے؟
اگر دین کا کام کرنے والے بامنور و بافیض لوگ خود کو نہیں سنوار پائے تو وہ دوسروں کی اصلاح کا بیڑا کیسے اٹھا سکتے ہیں؟ اس سے بھی بڑا سنجیدہ سوال یہ ہے کہ مساجد و مدارس یا مقدس جگہوں پر ہی اس قسم کی بدفعلیاں کیوں ہوتی ہیں اور چھوٹے بچے ہی اس کا شکار کیوں بنتے ہیں؟
میرے پاس حفاظ کرام بھی پڑھنے آتے ہیں، میری ان سے اس قسم کے مکروہ رویوں پر اکثر گفتگو رہتی ہے۔ وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اکثر مدارس میں درجہ بدرجہ یہ مکروہ کام ہوتا ہے۔ بڑوں کا بڑی عمر کے بچوں سے اور چھوٹوں کا چھوٹی عمر کے بچوں کے ساتھ چکر چلتا ہے اور پھر یہی بڑے ہو کر ان میں سے کچھ عالم و مفتی بن جاتے ہیں اور کچھ امام مسجد بن کر چھوٹے بچوں کو قرآن پاک پڑھاتے ہیں۔
اب ظاہر ہے جو جس کلچر میں پل بڑھ کے جوان ہوتا ہے وہ اپنے منصب پر بیٹھ کر اپنے ماضی سے کیسے چھٹکارا پا سکتا ہے؟ جس کے ساتھ بچپن میں جنسی زیادتیاں ایک تسلسل سے ہوئی ہوں وہ بڑا ہو کر اور اپنے منصب پر فائض ہو کر اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا بدلہ لینے کی کوشش ہی تو کرے گا نا!
پھر وہ اسی مکروہ سرکل کو اسی طرح سے جاری رکھتا ہے اور اپنے مقدس منصب کی آڑ میں چھوٹے بچوں کے ساتھ بدفعلیاں کرتا ہے اور ایک دن پکڑا جاتا ہے۔ جو خود زیادتی کا شکار رہا ہو وہ پھر اسی طرح کی حرکات کر کے خود کو تسکین پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔
اب ہمارے مشائخ عظام کو سر جوڑ کے بیٹھنا چاہیے اور اپنے نظام تربیت کا کھلے دل سے جائزہ لینا چاہیے اور انہیں فکر مند ہونا چاہیے کہ اس قدر وسیع روحانی بندوبست کے باوجود بھی ہمارے نظام کی چھلنی میں سے اس قسم کے مکروہ چہرے ایک تسلسل سے کیوں برآمد ہو رہے ہیں جو مذہب کی بدنامی کا سبب بھی بنتے ہیں اور انہی چہروں کی وجہ سے اکثر لوگ دین بیزار ہو جاتے ہیں۔
بزرگان مذہب کو سوچنا چاہیے کہ کہیں ہمارا نظام تربیت و اصلاح بوسیدہ تو نہیں ہو گیا؟ ہمارے صاحبان جبہ و دستار کو سوچنا چاہیے کہ آخر ان کے ہاں ”علت مشائخ“ ایسی اصطلاح کیوں مستعمل ہوئی، کیسے پروان چڑھی اور اس کا پس منظر کیا ہے؟
دوسری طرف ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک لڑکی کے قتل کی ہولناک واردات سامنے آئی، ایک سفاک بھائی نے غیرت کے نام پر اپنے باپ کی موجودگی میں اپنی بہن کا گلا دبا کر قتل کر دیا اور بچی کی ماں کی موجودگی میں ایک رشتہ دار سکون سے قتل کی ویڈیو بناتا رہا اور قتل کے بعد لڑکی کی خاموشی سے تدفین بھی کر دی گئی۔ مردانہ غیرت اور مردانگی کا انتہائی بے شرمانہ اور گھٹیا انداز، جہاں سارے بے غیرت اکٹھے ہو کر اپنی عزت اور غیرت کو تسکین دینے میں مصروف تھے۔ آخر یہ خدائی اختیار کس نے ان کو ودیعت کیا ہے؟
کیا بچی کو جنم دے کر پارسان سماج یعنی بھائی یا والد بچی کے جسم کے مالک بھی بن جاتے ہیں؟
کیا ساری غیرت صرف بھائیوں میں موجود ہوتی ہے اور بچیاں غیرت سے پاک ہوتی ہیں؟
ہم نے تو آج تک نہیں سنا کہ کسی بہن نے اپنے بھائی کو غیرت کے نام پر قتل کیا ہو؟
کیا بھائی غیر اخلاقی کاموں میں ملوث نہیں ہوتے یا ان پر جبلت کے منہ زور جذبوں کا حملہ نہیں ہوتا؟
ویسے اکثر بہنوں کو اپنے بھائیوں کی کرتوتوں کا پتا ہوتا ہے لیکن وہ خاموش رہتی ہیں۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اکثر خواتین کو اپنے مردوں کا بڑے اچھے سے پتا ہوتا ہے لیکن خاندان کی سلامتی اور اپنے بچوں کی خاطر خاموش رہنے پر اکتفا کر لیتی ہیں۔
اب اس سے بڑا خوفناک اور لرزا دینے والا بھیانک واقعہ کیا ہو گا کہ بھائی بڑے اطمینان اور سکون سے اپنی بہن کا گلا گھونٹ رہا ہے اور بہن بے بس اور ساکت لیٹی ہوئی ہے اور اپنی المناک قسمت پر خاموشی سے آنکھیں موند لینے کو تیار ہے۔
اور اب جو انکشافات ہو رہے ہیں وہ انتہائی بھیانک اور مکروہ ہیں۔ معصوم کو ٹھکانے لگانے والا بدبخت بھائی اور باپ خود بدفعلی کا مرتکب نکلا ہے۔ ہائے نا زمین پھٹی ہے اور نا آسماں، یہ کیسا سماج ہے جو خود ہی عزت تار تار کرتا ہے اور پھر باغیرت بن کر غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے معصوم و بے بس بچی کو ہی مار ڈالتا ہے۔
کیا کھانا ہے اور کیا پہننا ہے، کب سونا ہے اور کب جاگنا ہے، بڑے ہو کر کس کے ساتھ جیون بسر کرنا ہے، کتنا پڑھنا ہے اور کتنا سیکھنا ہے اور شادی ہو جانے تک کس حد تک خود کو ڈھانپے رکھنا ہے یہ سب معاشرہ طے کرے گا خاتون نہیں۔ کیونکہ ان کا جسم اور دماغ تو ان کی ملکیت میں ہوتا ہے جو مختلف روپ میں سرپرست بن کے زندگی بھر ان کا استحصال کرتے رہتے ہیں۔
ہماری نظر میں تو جو ببانگ دہل اور گلا پھاڑ کر غیرت مند اور باغیرت ہونے کا دعوی کرتے ہیں دراصل وہی بد کردار اور گھٹیا کردار کے مالک ہوتے ہیں۔ جو خود کو متقی و پرہیزگار ثابت کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے وہی معاشرے کا ناسور اور کلنک کا ٹیکہ ہوتے ہیں۔
یہ تو وہی لوگ ہیں نا! جو مغرب کو طعنے دیتے نہیں تھکتے کہ وہاں باپ بیٹی کی تمیز ختم ہو جاتی ہے اور لوگ اپنی بیٹیوں سے سیکس کرنے لگتے ہیں۔ وہاں کا تو پتا نہیں لیکن یہاں تو اس قسم کا واقعہ سامنے آ چکا ہے۔
اور کون جانے کہ کتنا کچھ بے نامی کی تاریک غار میں دفن ہو چکا ہو۔
اگر ہم ایسے باغیرت معاشروں میں بچیاں اپنے گھروں میں محفوظ نہیں ہیں تو پھر اوروں پر تنقید کیسی؟


