فلسطینیوں کا قتل عام اور مسلم اُمّہ
چھ ماہ سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے جب سے غزہ میں آباد فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے۔ اسرائیل معصوم فلسطینیوں پر بارود کی آگ برسائے جا رہا ہے۔ سات اکتوبر کو ہونے والے حماس کے اسرائیل پر حملہ کے بعد سے جس دن اسرائیل کے قریبا بارہ سو افراد کو قتل کیا گیا اور تین سو سے زائد افراد کو یرغمال بنا یا گیا تھا طاقتور اسرائیل کا غصہ ٹھنڈا ہونے میں نہیں آ رہا ہے۔ اکتیس ہزار سے زائد انسانوں کی جانیں جس میں کئی ہزار بچے بھی شامل ہیں اس بدلے کی آگ میں بھسم ہو چکی ہیں۔
فلسطینی سویلین افراد کو ہسپتالوں میں بھی امان نہیں مل سکی ہسپتالوں میں زیر علاج فلسطینیوں کو بھی بم مارے جا رہے ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں فلسطینی دربدر مارے مارے پھر رہے ہیں۔ غزہ، خان یونس اور دوسرے شہروں سے بھاگ کر مصر کی سرحد پر واقع رفع شہر میں پناہ لینے والے فلسطینی اب اپنے قتل عام کا انتظار کر رہے ہیں۔ اسرائیل کی طرف سے خوراک کی فراہمی روکے جانے کے بعد فلسطینی آبادی بھوک اور افلاس کا شکار عالمی برادری کی امداد کی منتظر ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے کو اسرائیل نے جوتے کی نوک پر رکھا ہوا ہے۔ اسلامی ممالک زبانی جمع خرچ کرنے کے علاوہ کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔ ایران جیسا حماس کا سرپرست دبک کر پیچھے بیٹھ گیا ہے۔ ترکی کا اردوان بیان بازی کے علاوہ کچھ نہیں کر پایا۔ واحد مسلمان ایٹمی طاقت کی آواز بھی دھیمی ہے۔
اب بھی ساری امیدیں امریکہ سے ہیں۔ امریکہ ہی اسرائیل کا ہاتھ روک سکتا تھا۔ مگر اب تک امریکہ اسرائیل کی ہر قدم پر تائید کرتا آیا ہے۔ اربوں ڈالر کا اسلحہ بطور امداد امریکہ سے اسرائیل پہنچ رہا ہے۔ امریکی الیکشن البتہ جیسے جیسے نزدیک آرہے ہیں۔ عوامی رائے عامہ کا دباؤ امریکی حکمران محسوس کرنا شروع ہو چکے ہیں۔ سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کے لئے قرارداد کو پہلی بار امریکہ نے ویٹو نہیں کیا۔ امریکہ نے رفح پر حملہ سے باز رکھنے کے لئے نیتن یاہو پر کچھ پریشر ڈالنا شروع کیا ہے۔ مگر طاقت کے نشے میں دھت اسرائیلی حکمران فلسطینیوں کے مزید قتل عام پر آمادہ ہیں۔ غزہ کا خوبصورت، ہنستا بستا شہر اس وقت ملبے کا ڈھیر ہے۔
مسلمان ممالک اس تباہی کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔ مسلمان ممالک اتحاد بنا بھی لیں تو بقول مرحوم حسین شہید سہروردی زیرو جمع زیرو جمع زیرو بھی زیرو ہوتا ہے۔ اب مسلم امہ والا منجن بیچنا بند ہونا چاہیے۔ تاکہ کوئی اس جھانسے میں آ کر کوئی ایسا قدم نہ اٹھا لے جو اس کے لئے تباہی کا باعث بن جائے۔ جیسا کہ حماس نے سات اکتوبر کو ایک ایسا غلط قدم اٹھایا۔ جو ہزاروں بے گناہ فلسطینیوں کے لئے اجل کا پیغام بن گیا۔
ہزاروں بچے بے قصور جان سے گئے۔ پورے غزہ کی پٹی کو عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔ اس وقت اسرائیل کی باگ ڈور مذہبی شدت پسند حلقوں کے پاس ہے۔ حماس جو غزہ کی پٹی کی حکمران تھی اس پر بھی شدت پسندی کا عنصر غالب ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دنیا میں اگر سیاست کی باگ ڈور شدت پسندوں کے ہاتھ میں آ جائے تو امن برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ شدت پسندی تشدد اور جنگ کی طرف لے جاتی ہے اور پھر اس سے کئی انسانی المیے جنم لیتے ہیں۔
ظلم اور قتل و غارت کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ عالمی طاقتوں کو سامنے آ کر فلسطین میں جاری اس الم ناک صورتحال کو ختم کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کا قیام دوسری جنگ عظیم میں کروڑوں انسانوں کے قتل عام کے بعد عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کا سب سے بڑا مقصد دنیا میں امن کے فروغ اور اس طرح کے قتل عام کو روکنا تھا۔ اب عالمی طاقتوں کا یہ اخلاقی فرض ہے کہ اس ادارہ کی آواز کو سنا جانا چاہیے۔ یہاں سے منظور کی گئی قراردادوں پر سختی سے عمل درآمد ہی انسانیت کو مستقبل میں اس طرح کے سانحات سے بچا پائے گا۔ ورنہ تو اقوام متحدہ کا جواز ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اسلامی ممالک اگر لڑ نہیں سکتے تو اس بات پر تو ڈٹ سکتے ہیں کہ اقوام متحدہ سے منظور قرار داروں پر ہر حالت میں عمل کروایا جائے۔


