نور الہدیٰ شاہ کا افسانہ ”کالی“


جو آزادی اور حقوق اسلام نے عورت کو دیے ہیں وہ اب تک کوئی دین اور مذہب نہیں دے سکا۔ اسلام چاہتا ہے عورت معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے قوم و ملت کی ترقی کے لیے آگے بڑھے اور مردوں کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے کام انجام دے۔ اسلام کبھی عورت کو مرد سے کمتر نہیں سمجھتا اور نہ ہی مرد کو عورت سے بلند مقام دیا بلکہ دونوں کو برابر سمجھا اور برابر کے حقوق دیے۔ البتہ عورت صنف نازک ہے اس لیے مرد کو اس کا محافظ قرار دیا۔

خدا اور اس کا دین تو عورت کو آزادی دے رہا ہے مگر کیا یہ معاشرہ بھی عورت کے ساتھ ویسا ہی سلوک روا رکھتا ہے یا اس نے اپنے الگ اُصول وضع کیے ہیں۔ ؟ جب ہم معاشرے کے قوانین دیکھتے ہیں تو معاشرہ کہتا ہے عورت اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کرے کیوں کہ ایسے لوگوں کی نظر میں عورت غلام کی سی حیثیت رکھتی ہے اور غلام کا کام آقا کی خدمت اور اس مرد کی خدمت کرنا ہے جس کی اسے بیوی بنایا گیا ہے۔ اسلام چاہتا ہے عورت تعلیم حاصل کرے تاکہ باشعور خاتون بن کر معاشرے میں اپنا اہم کردار ادا کرے جیسے اگر ایک مرد وکیل بن سکتا ہے تو عورت بھی بن سکتی ہے اگر مرد ڈاکٹر بن سکتا ہے تو ایک عورت بھی بن سکتی ہے اگر مرد شاعر ہے تو عورت بھی شاعرہ بن سکتی ہے۔

مرد ادیب ہے تو عورت بھی مصنفہ بن سکتی ہے۔ مگر خدا نے دونوں (مرد اور عورت ) کے لیے کچھ اُصول وضع کیے ہیں جسے پامال کرنے کا حق نہ مرد کو حاصل ہے نہ عورت کو۔ مگر معاشرہ عورت کو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے سے روکتا ہے کیوں کہ ایسے لوگوں کی نظر میں عورت کا معاشرے میں کوئی حصہ نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری گھر کو سنبھالنے کی ہے۔ جھاڑو پونچا برتن کھانا پکانا بس۔ عورت اگر پڑھ لکھ جائے گی تو اس میں شعور پیدا ہو جائے گا سوچنے سمجھنے لگے گی تو پھر مرد کس پر اپنا رعب جمائے گا؟ کون اس کے اشاروں پہ چلے گا؟

اب ایسے معاشرے کو ہم کیا کہیں گے؟
معاشرہ ِ انسانی یا حیوانی؟

نور الہدیٰ شاہ نے اپنے افسانوں کے موضوعات سماج میں ہونے والی نا انصافیاں، ناقدریاں، خراب سسٹم، عام انسانوں کی بد حالی اور معاشرے کے ظلم و ستم کا شکار عورتوں کو بنایا ہے جو معاشرے میں ایک روبوٹ کی طرح زندگی گزار رہی ہیں۔ یہ نہ اپنے حق کے لیے بول سکتی ہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا ان کے حق میں آواز بلند کرتا ہے۔ ایسے کردار آج بھی ہمیں مختلف علاقوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایسی دسیوں عورتیں معاشرے میں مل جائیں گی جو مردوں کے ہاتھوں کٹ پتلیاں بنی ہوئیں ہیں۔

البتہ نور الہدیٰ شاہ نے خصوصاً سندھی معاشرے کی عکاسی اپنے ڈراموں افسانوں میں کی ہے کہ وہاں عورت کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اس معاشرے کی بدحالی کی وجہ کیا ہے۔ وہاں کا جاگیردارانہ نظام اور اس نظام کے ظلم و ستم کا شکار عوام کی بدحالی کا ذکر ہے۔ ایسا معاشرہ جہاں سرمایہ دارانہ نظام ہو جہاں محنت کرنے والے کو کم اور آرام کرنے والے کو زیادہ معاوضہ ملے اصل نفع کرسی پر بیٹھے لوگ کھائیں اور غریب کے حصے میں بمشکل دو وقت کی روٹی آئے تو ایسے نظام میں غریب کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکتا البتہ امیر، امیر تر ہوتا جائے گا۔

زندگی کا زہر

زندگی کا زہر افسانہ جس کا سندھی زبان سے اُردو ترجمہ آفاق صدیقی نے کیا۔ یہ افسانہ اپنی نوعیت کا منفرد افسانہ ہے۔ ایسی عورت کی کہانی جو شوہر کے لیے بچے پیدا کرنے کی مشین ہے۔ شوہر کا پیٹ پالنے کے لیے بچوں کو جنم دیتی اور اسے فروخت کرتی ہے۔ غربت نے اس کی خوب صورتی اس سے چھین لی تھی۔ پیدا ہونے والی اس کی بیٹی بھی اسی کی طرح، بھوک نے دونوں کے چہروں کے خدو خال کو سپاٹ بنا دیا تھا۔ چہرے کا رنگ بدل چکا تھا اسے سب کالی کہتے تھے۔ اس افسانے کا پلاٹ بہت سادہ ہے۔ اس میں کوئی پیچیدہ اور تصنع مقفع مسجع عبارت نظر نہیں آتی۔ اس کی عمارت سندھی معاشرے کی تہذیب پر کھڑی کی گئی جہاں معاشرے کی بے حسی کی انتہا ہو جائے اس افسانے کی ابتدا اس طرح کی ہوتی ہے۔

” اس کے پیدا ہونے کی تمنا کتنی تھی لیکن وہ بد نصیب پیدا ہوئی بھی تو ایسی کہ ساری اُمیدیں بے موت دم توڑ گئیں وہ جنم لیتے ہی بھوک کا شدید احساس اپنے پیٹ میں چھپائے ایسے روتی چلاتی آئی جیسے اس کے لیے دنیا میں دودھ کی سبیل لگی ہو۔“ اس سے قبل کالی کی ماں آٹھ بچوں کو جنم دے چکی تھی اور ان بچوں پر اس کا شوہر واری جاتا تھا اور اچھی خاصی قیمت پر بے اولاد جوڑوں کو بیچ دیتا تھا۔

” اسے شک تھا نوزائیدہ بچی اس کی نہیں اس کا جنم دن بھی اسی کی طرح بد نصیب ثابت ہوا۔ بچی پیدا ہوتے ہی ماں نے ساری کائنات کی نفرتیں اپنے سینے میں سمیٹ لی تھیں۔“

اس افسانے کا اہم کردار کالی ہے جو پیدا ہوتے ہی دنیا کی ستم ظریفی سہنے لگتی ہے۔ روٹی کے لیے وہ بچوں کے پیچھے بھوکے جانور کی طرح بھاگتی اور آخر تھک ہار کر روٹی کا ٹکڑا اسے اس طرح ملتا جیسے کتے کے سامنے روٹی ڈالی جائے اور وہ اسے کھا لیتی۔

کالی کی ماں اچھی بیوی تو تھی مگر اچھی ماں نہیں وہ کالی کو بیچ کر اپنے شوہر کو خوش کرنا چاہتی تھی۔

”وہ آتے ہی ہماری اماں کے قدموں پر گر پڑی“ بی بی جی! پچاس روپے دے دیں چاہے آپ کالی کو گروی رکھ لیں۔ ”3

”کتنا لالچ تھا اس کی آنکھوں میں اور چہرے پر کیسی پھٹکار۔“

اس افسانے میں ماں کا کردار بیوپاری جیسا ہے۔ بالآخر وہ کالی کو کہیں دور سو روپے میں بیچ آئی اسے فخر ہو رہا تھا کہ کالی کو اس نے بیچ دیا۔

”اس کی ماں نے ان پیسوں سے پلش کا ایک سیکنڈ ہینڈ جوڑا جو نیا مارکیٹ سے خریدا جسے وہ پہن کر ہمارے گھر آئی اور ایک روز روتی پیٹتی یہ خبر لائی کہ اس کے شوہر نے دوسری شادی کر لی ہے۔ جو سال بہ سال نیا اور اچھا بچہ دے سکے۔ “

باپ کا کردار ایک لالچی انسان جیسا تھا جو نہ شوہر اچھا نہ باپ اچھا۔ کالی کی پیدائش پر اپنی بیوی سے کہنے لگا

” بد بخت اچھی شکل لاتی تو کم سے کم آٹھ نو سو مل ہی جاتے۔“

شوہر ایسا کہ بیوی سے کئی بچے پیدا کروا کر اچھے داموں بیچ چکا تھا۔ خود نکما ناکارہ نشے میں لت پت سارا دن آوارہ گھومتا اور رات آ کر بیوی اور کالی کو مارتا پیٹتا تھا۔

”باپ نشے سے چور ہو کر گھر آتا ماں کی آہیں اور چیخیں سنائی دیتیں ان چیخوں میں کالی کی چیخیں بھی شامل ہو چکی تھیں۔“

معاشرے کا کردار سنگ دل بادشاہ کی طرح جس کے سامنے بے گناہ کوڑوں کی مار کھاتے اور برداشت کی تاب نہ لاتے ہوئے مر جائے مگر اسے کوئی پرواہ نہیں اس کی زندگی عیش و آرام کے ساتھ ویسے ہی گزر رہی ہو جیسے اس بے گناہ کے مرنے سے پہلے تھی۔

محلے کے لڑکے اسے کہتے۔
” کالی ناچ تو پھر ایک آنہ ملے گا اور روٹی بھی دیں گے۔“
” کالی روٹی کھاؤ گی؟

روٹی دکھا کر بھاگ جاتے اور کسی بھوکے کتے کی طرح منہ پھاڑتے ہوئے ان بچوں کے پیچھے بھاگتی تھی۔ جب بچے اس تماشے سے تھک جاتے تو روٹی اس کے آگے پھینک دیتے۔ ”

ان کرداروں نے سندھی معاشرے کی کھل کر عکاسی کی ہے کہ سب سے نچلے طبقے کے لوگ کس طرح محرومی کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔

ایک کردار اس بچی کا ہے جو یہ سب دیکھ رہی ہے اسے بُرا بھلا کہہ رہی ہے مگر وہ کالی کے لیے کچھ کر نہیں سکتی۔ وہ بے بس ہے اپنے بڑوں کے سامنے۔ اسے کالی کے ساتھ ہمدردی تھی مگر معاشرے میں کالی کی نہ کوئی اہمیت تھی نہ ہی وقعت ان سب کے لیے وہ منحوس تھی بس۔

اگر زمان و مکاں کی بات کی جائے تو اس میں تاثر وحدت آخر تک قائم رہا اس کہانی میں دو زماں اور ایک مکاں ہے۔ پہلا زمانہ جب کالی نے اپنا بچپن ان جھونپڑی میں گزارا اور دوسرا جب وہ چند سال بعد اپنی کوکھ میں کسی کا بچہ لیے دوبارہ اس جھونپڑی کا رُخ کرتی ہے۔ افسانہ کہیں بے ربط اور بے رغبتی کا باعث نہیں بنا کہانی کالی کی پیدائش سے شروع ہوتی اس کی موت پر اختتام کرتی ہے۔

اس رات کالی کی دردناک چیخیں ہمارے گھر کے بند دروازوں کو چیرتی ہوئی ہمارے کانوں میں ہیجان پیدا کرنے لگیں اس کی ماں گھر گھر ہاتھ جوڑ کر منت سماجت کرنے لگی۔ ”

”کالی کی آوازیں آسمان سر پر اُٹھاتی رہیں۔“

”رات کے آخری حصے میں کالی کی چیخیں آہستہ آہستہ معدوم ہوتی گئیں جیسے ایک اُٹھتا ہوا طوفان رفتہ رفتہ تھمنے لگا ہو۔“

Facebook Comments HS