سیاسی خواب اور بھیانک تعبیر
یوں تو خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں، بلکہ حسین خواب ہی زیادہ دیکھے جاتے ہیں، کیوں کہ ہر کوئی شاید حسین خواب ہی زیادہ دیکھنا چاہتا ہے مگر یہ لازم نہیں کہ تعبیر بھی عین بمطابق حسین خواب ہو۔ راقم نے کامیابی کے فلسفہ میں تو یہ بھی پڑھ رکھا ہے کہ ”خواب تو دراصل جاگتی آنکھوں سے دیکھے جاتے ہیں جو سونے نہیں دیتے اور کامیابی کی حسین تعبیر تک لے کر جاتے ہیں“ ۔ مگر ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کے سیاسی افق پر نہ جانے کیوں سیاسی خواب دیکھتے ساتھ ہی بغیر کوئی ساعت ضائع کیے بھیانک تعبیر وارد ہو جاتی ہے۔
8 فروری 2024 کے جنرل الیکشنز کے نتیجے میں قائم ہونے والی وفاقی حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں سے نہ جانے کیوں حسین خوابوں کی مانند توقعات قائم کی گئیں کہ ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کے وسیع تر مفاد میں وفاقی حکومت اور حزب اختلاف پاکستان کے عوام الناس کی انسانی ترقی (معیشت، روزگار، تعلیم، صحت) کے معاملات کو نہ صرف سنجیدگی سے موضوع بحث بنائے گی بلکہ حسین تعبیر کے مطابق ان بنیادی ترین موضوعات کو کسی مطلوبہ نتائج تک بھی لے کر جائے گی۔
یہیں اک اور حسین خواب بھی دیکھا گیا کہ 8 فروری 2024 کے انتخابات کے نتائج میں قائم ہونے والی حکومت اور حزب اختلاف عوام الناس کے دیے گئے مینڈیٹ کو ”احترام“ دیتے ہوئے اہم ترین ذمہ داریاں ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ میں سر اٹھاتی ”تقسیم کی سیاست“ ، مہنگائی، بے روزگاری، دہشت گردی، انتہا پسندی، اور سب سے زیادہ اہم سیاسی جماعتوں کے مابین مفاہمت اور گنجائش جیسے حساس اور حقیقی مسائل کو بھی حل طلب بنانے میں کردار ادا کریں گی۔ مگر خواب جتنا حسین تعبیر اتنی ہی بھیانک کے تحت دیکھا گیا کہ حکومت بنانے والی سیاسی جماعتیں اور حزب اختلاف کی جماعتیں تا حال سیاست میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور حصول اقتدار کے لیے ہی محض سیاست کر رہی ہیں۔
وفاقی حکومت مہنگائی کو قابو کرنے کی بجائے نئے ٹیکس لگانے کے لائحہ عمل پر غور کرتی ہے اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے قرضہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے، گویا مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آمدن اور ملک کو چلانے کے لئے کوئی ذرائع اور وسائل موجود نہیں۔ ملک تو صرف قرض کی مدد سے ہی چلے گا؟
دوسری طرف حزب اختلاف کے جیل میں بند ”قائد“ عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف) کو حکومت پاکستان کو قرض نہ دینے کے لیے خط لکھ بھیجتے ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعت یہیں پر بس نہیں کرتی بلکہ امریکہ میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے دفتر کے باہر شہباز گل کی سربراہی میں منظم احتجاج اور مظاہرے کا اہتمام کرتی ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو مجبور کیا جا سکے کہ حکومت پاکستان کو قرض نہ دیا جائے کہ یہ قرض پاکستان کو دے کر آئی ایم ایف اپنے قیمتی وسائل کو ضائع کرے گا۔ اس منظم احتجاج کو عالمی میڈیا کی بھی کوریج ملتی ہے۔ حزب اختلاف کی بنیادی ترین جماعت اپنی اندرونی ٹوٹ پھوٹ سے وقت نکال پائے گی تو ملک کے بارے میں بھی کچھ سوچے گی۔
حکومت اور حزب اختلاف کی مندرجہ بالا ”سرگرمیاں“ ان سیاسی جماعتوں کی بنیادی ترین ذمہ داری اور ترجیح اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ”انسانی ترقی“ کو پس پشت ڈالتے ہوئے محض ”حصول اقتدار“ کے لیے ہی تگ و دو کرتی نظر آتی ہیں۔ حالانکہ حکومت اور حزب اختلاف میں موجود جماعتیں بلا تفریق و تمیز ہر قسم کے ”اقتدار و مفادات“ سے بھر پور ”مستفید“ ہوتی ہیں۔
یہ تو ہے آج کا سیاسی منظر نامہ اور پاکستان کے حکومتی و حزب اختلاف کے ایوانوں کو چلانے والے ذمہ داران!
آج سے دو روز قبل اقوام متحدہ کی ”انسانی ترقی“ (ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس 2023۔ 24 ) کی بنا پر پوری دنیا کے ایک سو اٹھانوے ممالک کی تازہ ترین فہرست جاری کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی ”انسانی ترقی“ کی یہ فہرست کسی بھی ملک میں موجود انسانوں کے لئے اس ملک میں کتنی ”انسانی ترقی“ ہے کی بنا پر مرتب کی گئی ہے۔ انسانی ترقی کے معیار کو جانچنے کے لیے تین بنیادی پہلو ”تعلیم، قوت خرید، اوسط زندگی“ کے معیار پر یہ فہرست بنائی گئی ہے۔
انسانی ترقی کی ریٹنگ کی یہ فہرست کسی بھی ملک میں موجود انسانوں کے لئے ”تعلیم کے مواقع، قوت خرید اور انسانوں کی اوسط زندگی“ کو معیار بنا کر کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی ”انسانی ترقی“ کی یہ فہرست پاکستان کے لئے بھیانک خواب کے جیسی ہے، اس فہرست میں پاکستان کل دنیا کے 198 ممالک میں سے 164 نمبر پر ہے۔ بھارت 132، بنگلہ دیش 128 نمبر پر موجود ہے۔ اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ خالصتاً کسی بھی ملک کے نظام کی انسانی ترقی کی ترجیحات کو معیار جان کر بنائی گئی ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسے بھی سابق حکمران بستے ہیں جن کا دعوٰی تھا کہ اگر انہیں حکومت نہ ملی تو پاکستان سری لنکا بن جائے گا، گویا سری لنکا بد حال ترین ملک ہے، مگر سری لنکا تمام تر اندرونی خلفشار اور معاشی بد حالی کے باوجود اس فہرست میں 78 ویں نمبر پر ہے۔ گویا سری لنکا میں موجود نظام نے بد حالی کے باوجود انسانی ترقی کو ہی ترجیح رکھا۔ مگر ان تمام ہمسایہ ممالک کے بر عکس اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سیاستدانوں نے ہمیشہ ترجیح محض ”حصول اقتدار“ کو ہی رکھا!
عوام کی قوت خرید بڑھانے کی بجائے حکمرانوں نے تاریخ کے سب سے زیادہ قرض عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف ) سے لے کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام الناس کو نہ صرف اقوام عالم میں مقروض ترین قوم بنایا بلکہ کبھی احساس پروگرام، کبھی نگہبان راشن پیکیج، کی لائنوں میں لگایا!
تعلیم دینے کی بجائے جہالت کو فروغ دیا گیا۔ جیسے کہ نوجوانوں کو کبھی تعلیم کے لئے سکالر شپ نہ دینا بلکہ سکالر شپس کا بجٹ محدود کر دینا، کبھی سبز ٹیکسی کار چلانے کی ترغیب دینا اور کبھی مرغیاں، کٹے پالنے کے مشورے دینا، جہاں آج ہمسایہ ملک بھارت کے نوجوانوں انفارمیشن ٹیکنالوجی میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں، وہیں ہمارے سیاست دانوں نے سوشل میڈیا پر اپنی سیاسی تشہیر کے لیے نوجوانوں کو معمولی تنخواہوں میں ملازمتوں پر رکھا!
عوام الناس کی اوسط زندگی بڑھانے کے لئے صحت مند معاشرے کو فروغ دینے کی بجائے نفرت، وحشت، دہشت، انتہاپسندی، جرائم کو فروغ دیا گیا۔ عوام الناس کی اوسط زندگی بڑھانے کے لئے صحت مند معاشرے کے حصول کے لئے مطلوبہ اقدامات اٹھانے کی بجائے ملک میں تقسیم کی سیاست، بد امنی، شرح غربت میں خوفناک حد تک اضافہ، اسپتالوں میں سہولیات کا فقدان، حتی کہ پینے کے صاف پانی کے حصول تک کو نا ممکن کر دیا گیا!
کیا ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ میں عوام الناس کی انسانی ترقی کے لئے عرصہ دراز سے وفاق و صوبائی حکومتوں اور حزب اختلاف میں موجود سیاست دان و سیاسی جماعتیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے موجودہ حالات کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ آج کل حزب اختلاف میں موجود جماعت اپنے آپ کو اس ذمہ داری سے مبرا قرار دیتے پائی جاتی ہے حالانکہ اپنے دور حکومت میں تاریخ کے سب سے زیادہ قرض لینے والی اور گزشتہ دہائی سے زیادہ ایک صوبے میں حکومت بھی چلانے کے باوجود صوبے کی بد حالی میں کمی نہ کر سکی ہے۔ کچھ ایسا ہی حال باقی سیاسی جماعتوں اور صوبوں کا بھی ہے!
آخر کب ہمارے سیاست دانوں کی اولین ترجیح ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کے عوام الناس کی ”انسانی ترقی“ ہو گی؟
یا ہمارے سیاست دانوں کی اولین ترجیح ہمیشہ ”حصول اقتدار“ اور ”حصول اقتدار“ کے لیے ہمیشہ عوام الناس کو انسانی ترقی کی فہرست میں کم ترین درجہ پر ہی رکھنا ہو گا!
راقم کو اقوام متحدہ کی ”انسانی ترقی“ کی تازہ ترین فہرست کسی بھی حسین ”سیاسی خواب کی“ بھیانک تعبیر ”ہی معلوم ہوتی ہے۔


