”تاریخِ اقلیت: میری نظر میں“
مجھے علم و ادب سے لگاوٴ رکھنے والے لوگوں سے ہمیشہ ایک خاص انسیت رہی ہے۔ جناب عمانوایل یوسف سے بھی سے اسی تلاش میں واقفیت ہوئی۔ گزشتہ دنوں میں لاہور میں تھا تو 16 مارچ 2024 کو وہ مجھے ملنے آئے اور اپنے ساتھ اپنی کتاب ”تاریخِ اقلیت“ بھی لائے جو بعد میں مجھے بطور تحفَہ پیش کی۔
میری عادت ہے کہ جب کوئی مجھے بڑے خلوص سے اپنی کتاب بالخصوص پہلی کتاب پیش کرے تو میں اُسے پڑھ کر اپنی رائے ضرور دیتا ہوں۔ اس کا بنیادی مقصد مصنف کا شکریہ ادا کرنا ہوتا ہے، دوسرا ان کی تخلیق کو قارئین تک پہنچنا ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر علم و ادب کے رشتہ کو مضبوط کرنا ہوتا ہے۔
عمانوایل یوسف ایک پیشہ وار لکھاری نہیں بلکہ وہ یہ کام اپنے جنون سے متاثر ہو کر اپنے خون کو گرم رکھنے کے لئے کرتے ہیں۔ اس لئے جس کام میں جنون شامل ہو وہ روایتی کام سے مختلف ہوتا ہے۔
تاریخ اقلیت اُن کی اولین تصنیف ہے۔ جس میں پاکستان میں مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی نامور مذہبی، سیاسی، سماجی اور ادبی شخصیات کے علاوہ کئی ملکی سرکردہ سیاسی شخصیات کے انٹرویو بھی شامل ہیں۔
چونکہ عمانوایل یوسف ایک کل وقتی پرائیویٹ جاب کرتے ہیں اور فیملی سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ کسی خاص کلیسیائی حلقے، این جی او، سماجی تنظیم اور ادارے سے منسلک نہیں ہیں، اس لئے وہ زیادہ داد اور مبارکباد کے مستحق ہیں۔ کیونکہ یہ کام کوئی آسان نہیں ہے۔ اس میں بیش قیمتی وقت، سرمایہ، ناقابل بیان محنت اور پیشہ ورانہ مہارت درکار ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں کیمونٹی کی سپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے یہ سفر مزید تکلیف دہ ہوتا ہے اور کیمونٹی کے رویے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کرتے ہیں۔
307 صفحات پر مشتمل کتاب، دیدہ زیب ٹائٹل، مضبوط جلد اور عمدہ کاغذ پر 2022 میں شائع ہوئی ہے۔
کتاب کے سر ورق کے پس منظر میں پاکستان کا پرچم اور انٹرویو دینے والی نمایاں شخصیات کی تصویریں لگائی گئی ہیں۔
عمانوایل یوسف نے اپنی کتاب کا انتساب اپنے والد یوسف مسیح ایڈوکیٹ اور والدہ شانتی یوسف کے نام منسوب کیا ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ ان کے والدین کے نام ”جن کی مثالی تربیت کی وجہ سے مجھے ظالم قوتوں کے خلاف ڈٹ جانے اور ہمیشہ سچ کا ساتھ دینے کا درس ملا۔“
کتاب کے پہلے ابواب میں پاکستانی تاریخی مسیحی و دیگر نان مسلم ہیروز کے مختصر 12 خاکے پیش کیے گئے ہیں۔
جس کے بعد 34 شخصیات کے تفصیلی انٹرویو شامل ہیں۔
میری نظر میں تاریخ کو رقم کرنے کا بہترین طریقہ، عصر حاضر کے ان لوگوں کے انٹرویوز کرنا ہے جو ماضی، حال اور مستقبل کے منظر نامے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ تاریخ لکھتے ہوئے اکثر لوگ اپنی رائے، سوچ اور پس منظر کو تاریخی رخ پر اثر انداز ہونے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس لیے میری نظر میں انٹرویو وہ بہترین ذریعہ ہے جس کے ذریعے ایک صحافی عوامی آواز، جذبات اور سوالات کو انٹرویور سے براہ راست پوچھ سکتا ہے۔ اور انٹرویو دینے والے کی رائے کو بغیر تروڑے مروڑے قارئین کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اس طرح وہ تاریخ کے حقیقی تناظر کو عوام تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔ یہی ایک صحافی اور لکھاری کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ جج بنے بغیر حقائق کو عوام کے سامنے پیش کرے۔ جس کا عمانوایل یوسف صاحب نے بہترین طور پر اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بڑے سچے، عوامی اور کھرے سوال کیں ہیں۔
عمانوایل یوسف اپنے ”دیباچہ“ میں لکھتے ہیں۔
” طالب علمی کے زمانے سے ہی انہوں نے انگریزی کے قومی اخبارات میں“ Letter to the Editor ”میں مختلف موضوعات کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھنا شروع کر دیا، نیز اقلیتوں کے جرائد میں کالم لکھنا شروع کر دیا۔
اَس دوران شدت سے محسوس کیا کہ بحیثیت مسیحی اور اقلیت ہمارے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے
اور تحریکِ پاکستان بعد ازاں تعمیر پاکستان میں اہم کردار ادا کرنے والے مسیحی اور دیگر ہیروز کو جان بوجھ کر ایک سازش کے تحت نظر انداز کیا گیا۔
اور تعلیمی اداروں میں پڑھائی جانے والی نصابی کتب میں مسلمان لیڈرز اور ہیروز کے ساتھ غیر مسلم ہیروز کا اندراج نہیں کیا گیا بلکہ نفرت انگیز مواد کو شامل کر کے انہیں ”کافر“ ایسے القابات سے پکارا اور لکھا گیا۔
لہذا اربابِ اختیار اور پالیسی سازوں کی بے حسی کو مدِنظر رکھتے ہوئے میں نے فیصلہ کیا کہ اس سلسلے میں اپنی اس کاوش کو کتابی صورت میں محفوظ کروں تاکہ ہمارے نوجوان اور آنے والی نسلیں اپنے ہیروز کے بارے میں بھی جان سکیں۔
اپنی اس کاوش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے شروع میں میں نے اپنے محدود مالی مسائل کے باوجود پاکستان کے مختلف شہروں کا دورہ کر کے وہاں پر موجود اپنے ہیروز کے انٹرویوز کیے جنہوں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔
بعد ازاں انٹرنیٹ، واٹس ایپ اور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بیرون ملک ہجرت کر جانے والے اپنے پاکستانی ہیروز کے انٹرویو بھی کیے جو یقیناً ہمارے پڑھنے والوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہو گا۔ ”
سائرہ پیٹر نے ”پیش لفظ: کیا لکھوں“
میں لکھا ہے۔
”اول تو اس کا مسودہ تاریخ کے یک طرفہ قصوں اور تخیلاتی واقعات سے پاک تھا۔
دوم اس میں معاشرے کے حالات اور معاملات کے بکاؤ بیانیے و درباری کنائے ناپید تھے۔
سوم، یہ کتاب کسی فرعونی عمل و دخل اور اُن کے سرپرستیوں سے عاری تھی۔ چہارم، اس میں انکل سیم اور بگ برادر (Big Brother) کافور تھے۔
علم تاریخ کی ایک سنجیدہ طالبہ ہونے کے ناتے مجھے ”تاریخ اقلیت“ میں جو چیز منفرد نظر آئی تھی،
وہ اس کا تخلیقی طرز تحریر تھا۔ ”
چونکہ ان میں سے اکثر لوگوں کے انٹرویو میں نے خود کیے ہیں، اور کئی شخصیات کے بارے میں کافی جانتا ہوں۔ تاہم مجھے سب سے زیادہ زبردست محترمہ بے نظیر بھٹو اور سائرہ پیٹر کا انٹرویو لگا، بالخصوص سائرہ پیٹر کا انٹرویو تفصیلی اور غیر روایتی تھا، اُنہوں جوابات بھی بڑے منفرد اور مختلف دیے ہیں۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ، ڈاکٹر کنول فیروز، اور عمانوایل ظفر کے انٹرویو بھی دلچسپ ہیں۔
خیر میں عمانوایل یوسف صاحب کو ایک مرتبہ پھر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اُمید کرتا ہوں کہ وہ روایت سے ہٹ کر ایسے لوگوں کے منفرد اور مختلف انٹرویو کریں گے جو مذہبی اقلیتوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے بھرپور کام کر رہے ہیں اور معاشرے میں اپنی منفرد سوچ اور پہچان بنا رہے ہیں۔




