نازی باقیات کا بچا کھچا نمائندہ حسن نثار


گزشتہ دنوں سما ٹیلی ویژن پر معروف دانش گرد حسن نثار نے پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آ بادی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ آدھی آ بادی کو نازیوں کی طرز پر گیس چیمبر میں ڈال کر ختم کر دیا جائے تاکہ کسی بھی طرح سے آ بادی کا بوجھ کم ہو جائے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے موصوف سیاست دانوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کرنے کا مشورہ دے چکے ہیں بلکہ اس سارے نظام کو ہی تیزاب سے غسل دینے کا کہہ چکے ہیں۔

کیا یہ کسی نارمل بندے کی گفتگو ہو سکتی ہے؟
کیا اس طرح کا ذہنی رویہ رکھنے والا ایک غیر متوازن شخص کسی بھی نظام کا حصہ بن سکتا ہے؟

لیکن حیرت ہے کہ یہ شخص ایک مصنوعی سی سنجیدگی اور سطحی سے غصے کو اپنے چہرے پر طاری کر کے مختلف ٹی وی چینل پر اپنی غیر سنجیدہ سی دانشورانہ لغویات کے کوڑے برسانے میں مشغول رہتا ہے۔

انسانوں کو گیس چیمبر میں ڈال کر ہلاک کر دینے کے مشورے دینے والا شخص ذہنی طور پر نارمل ہو سکتا ہے؟
اس طرح کے غیر انسانی مشورے تو کوئی ابنارمل یا ذہنی مریض ہی دے سکتا ہے۔

اور اگر اس قسم کا شخص کسی مہذب دنیا میں پایا جاتا تو اسے حفظ ما تقدم کے طور پر انسانوں سے دور رکھنے کا بندوبست کیا جاتا اور کسی ہسپتال میں اس کے ذہنی خلل یا مسائل کا علاج چل رہا ہوتا۔ لیکن ہمارے ہاں ایسے شخص کو دانشور کے طور پر ٹی وی چینلز پر دانشوری بھگارنے کے لیے بطور مہمان بلایا جاتا ہے اور نجانے کب سے یہ بندہ شعور و آگہی کے نام پر ذہنی آلودگی کو فروغ دینے کا سبب بن رہا ہے۔ اب ایسے شخص کو کوئی کیا سمجھائے جو بڑے اچھے سے جان چکا ہو کہ اس سماج میں یہی کچھ تو بکتا ہے، یہاں سستی جذباتیت بکتی ہے۔

یہ میسنا اور چالاک دانشور بڑے اچھے سے جانتا ہے کہ اس کا یہی انداز فکر یا کھوکھلا پن ہی تو اس سماج میں بکتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں ایک مخصوص ذہنیت کو فروغ دینے کے لیے ایک طویل جدوجہد کی گئی، روحانیت کے نام پر ایک طبقہ کھڑا کیا گیا اور اس مخصوص طبقے کی سرپرستی کی گئی اور مخصوص لٹریچر کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت فروغ دیا گیا ہو وہاں شعور کسے چاہیے بھائی؟

وہاں تو چورن بکا کرتے ہیں اور یہی کام یہ نرگسیت کا مارا ہوا شخص شروع دن سے کرتا آ رہا ہے اور اپنی بد زبانی، بدکلامی اور طول کلامی کے ذریعے سے ایسا تاثر دینے کی کوشش کرتا رہتا ہے کہ جیسے سارے زمانے کا درد صرف اسی کو محسوس ہوتا ہے۔

رعونت و تکبر کا یہ عالم ہے کہ کسی کو بات بھی پوری نہیں کرنے دیتا اور اس کے نزدیک دانشوری کا معیار بلند آواز میں بات کرنا اور اپنے علاوہ دوسروں کو حقیر اور گھٹیا جاننا ہے۔

نرگسیت اور خود پسندی کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ دنوں موصوف نے اپنے ڈی این اے کا شوشہ چھوڑا اور بڑے فخر سے کہا تھا کہ اس کا اس گرے پڑے سماج سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔

موصوف کے متعلق یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ یہ ریاست مدینہ کے پرچارک کے بنیادی اتالیق میں بھی شامل تھا اور ساڑھے تین سال تک شاگرد محترم نے جن ٹاکسک رویوں کو فروغ دیا ہے ان کے سائیڈ ایفیکٹس نجانے کب تک اس سماج کو بھگتنا پڑیں گے۔

اس قسم کے کھوکھلے دانشور اسی وجہ سے تو جمہوریت کو پسند نہیں کرتے، ہمیشہ شہنشاہیت، صدارتی نظام یا عارضی بندوبست کے حق میں رہتے ہیں۔

ان کو لگتا ہے کہ فرد واحد ہی ایک قوم کو سدھار سکتا ہے۔ انسانوں کی مجموعی ذہانت کی ان کے ہاں کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

نجانے کتنے عقل کل کے زعم میں مبتلا ہو کر آمریت کے سہارے کیا کیا تجربات کرتے رہے اور ان چکروں میں وطن عزیز کی کیا حالت بنی وہ سب کے سامنے ہے۔

یہاں تو جمہوریت کو پوری طرح سے کھلنے ہی نہیں دیا گیا، عوامی شعور کو بار بار کچلا گیا۔

اس قسم کے دانش گردوں کا آمریت کے دور میں خوب داؤ لگتا ہے اور ان کو اپنی دانشوری جھاڑنے اور سیاست دانوں کی کردار کشی کرنے کا خوب موقع ملتا ہے۔ ہم تو مرشدی وجاہت مسعود کی رائے سے مکمل اتفاق کرتے ہیں اور ان کی گیس چیمبر والے ابتدائی تجربے کی تجویز سے اتفاق کرتے ہیں۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments