”قاضی“ کی شہادت


یہ بات قطعی طور سے سمجھ میں آتی ہے کہ ہمارے اس بے ترتیب اور طاقتور اشرافیہ کے سماج میں کیوں علم و ادب یا تحقیق و جستجو پر توجہ نہیں دی جاتی یا کیوں ریاستی طور پر سوچنے، غور و فکر کرنے پر پابندیاں لگا کر عوام کو مذہبی چادر پہنا کر انہیں قسمت کے لکھے اور قدرت کی طرف سے ان کے حقوق سے محروم کرنے کی کہانیاں اپنے میڈیا اور جبوں قبوں و دستار سے لپٹے چاپلوسوں کے ذریعے سنائی جاتی ہیں۔

اس سارے معاملے کی بہت آسان وجہ طاقتور اشرافیہ کا اقتدار پر قابض رہنے کا وہ نکتہ ہے جو عوام کے جمہوری اور انسانی حقوق کو مسلسل چباتا رہے اور عوام اپنی محرومیوں کو ْقدرت کا عطیہ سمجھتے رہیں اور عوام اپنے حقوق غصب کرنے والی طاقتور اشرافیہ کی طرف توجہ ہی نہ دے سکیں۔ اس سب میں ایسا ہر گز نہیں کہ ہمارے ترقی پذیر سماج میں جنم لینے، پلنے اور رہنے والے افراد صرف ترقی پذیر ذہن ہی رکھتے ہوں، اور ایسا بھی ہرگز نہیں کہ صاحب علم حضرات علم کے ترقی پسندانہ کردار سے واقف نہیں ہوں۔

اس گتھی کے درمیان ہمارے رسم و روایت سے جکڑے سماج کا یہ دلسوز لمحہ ہے کہ ہمارے ہاں کے صاحب علم حضرات پر عمومی طور سے سماج کی خواہشات کے وہ منفی اثرات زیادہ حاوی ہو جاتے ہیں جو کسی بھی واقعے یا حادثے کے نتائج پر غور و فکر کرنے کے بجائے ان کے فوری رد عمل میں بہہ کر مذکورہ واقعے یا حادثے کے دور رس نتائج یا اس کی کھوج سے خود کو خواہشات یا پسند کے زمرے میں تلاش کرتے نظر آتے ہیں جس کا لازمی حتمی نتیجہ خفت کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا۔

جہاں تک خلط مشاہدے میں خفت کا تعلق ہے تو یہ بھی ایک ترقی پسند اور روشن خیال سمت ہے کہ وہ صاحبان اپنے خلط تجزیے یا تبصرے پر غور کے بعد درست سمت جانے کے متمنی ہیں یا مستقبل میں خواہشات سے کنارہ کشی کرنے کا طے کر چکے ہیں لیکن اگر خفت کے روشن خیال پہلو کو یہی صاحبان علم اپنے مستقبل کے تجزیوں میں بروئے کار نہیں لاتے تو پھر علم ان کی جہالت کے مدارج طے کر دیتا ہے اور یوں اپنے طور عالم کہلانے والے حضرات یا تو دربار جہانگیری کے حوالے کر دیے جاتے ہیں جس علم کی قدرت ایسے صاحبان علم کو وقت کے بے شعور دھارے کی لہروں کے سپرد کر کے ان کے نا درست ہونے کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھ جاتی ہے اور اپنے علم کو انہی افراد کے سپرد کرتی ہے جو غور و فکر اور تحقیق و جستجو کے رسیا ہوتے ہیں۔

اس تمہید کا مرکزی خیال مجھے پچھلے دنوں رضا شاہ اور باقر رضوی کی ایک ایسی کوشش سے ہوا جو اس بے ترتیب سماج میں آج بھی گلبہار ایسی پسماندہ بستی میں قاضی نور اللہ شوستری کتب خانے یا لائبریری سے وہاں کی نئی نسل میں علم و شعور کی آگہی کے خواہشمند ہیں۔ رضا شاہ اور ان کے ساتھی چاہتے ہیں کہ اس مذکورہ لائبریری میں جہاں تاریخ ادب کی کتب بینی ہو وہیں یہاں آنے والا ہر بچہ جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی علوم سے بھی آگاہ ہو، یوں تو یہ لائبریری شاہ گنج آگرہ کے مقامی اور بیرون ملک مقیم حضرات کے فنڈز سے تعمیر کی گئی ہے۔

مگر قاضی نور اللہ شوستری لائبریری گلبہار کے ہر خاص و عام کے لئے ہے جس میں ایسے اساتذہ کی خدمات بھی حاصل کی گئیں جو لائبریری میں آنے والوں کی مدد کے لئے ہر وقت موجود و دستیاب ہیں۔ قاضی نور اللہ شوستری کے نام سے ہی یہ لائبریری کیوں رکھی گئی ہے۔ یہی وہ فکر تھی جس کے تحت پچھلے دنوں مجھے وہاں جانے کی طلب ہوئی، دوران تقریب میں نے قاضی نور اللہ شوستری کے حوالے سے علم اور غور و فکر پر اپنا نکتہ نظر دیتے ہوئے حضرت جوش ملیح آبادی کی اس قطعہ سے ابتدا کی کہ

سن ہو گئے کان تو سماعت پائی
آنکھیں پتھرائیں تو بصارت پائی
جب علم کے سب کھنگال ڈالے قلزم
تب دولتِ عرفانِ جہالت پائی

اس موقع پر مذکورہ قطعے کی روشنی میں میرا استدلال تھا کہ علم حاصل کرنا اور علم پانے کی منزل طے کرنا دو جداگانہ مراحل ہیں۔ یعنی نصابی اور دنیاوی علم کے لئے تعلیم کا حصول علم کی حاصلات کا شعبہ ہے جب کہ شعور و منطق کی روشنی میں علم کے بارے میں غور و فکر کی منزل شعور اور روشن خیالی کے ممکنہ درجات متعین کرتی ہے کیونکہ علم حاصل کرنے کی سند اس کا آخری نتیجہ ہے جب کہ علم پانے کا عمل مسلسل غور و فکر کرنا ٹھہرتا ہے جس کا تعلق تحقیق و جستجو کا مسلسل وہ عمل ہے۔ جو جاری ہی رہتا ہے جب کہ یہ دونوں عمل انسان کی دسترس میں ہیں کہ وہ کس علم و عمل کا انتخاب کرتا ہے۔ اور یہاں یہ بات ضروری نہیں کہ تعلیم حاصل کرنے والا علم کو پالے یا علم پانے والا اسناد کا محتاج ہو، مگر علم پانے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ تاریخ، فلسفے، منطق اور دلیل کی روشنی میں کردار کا غازی بھی ہو، علم پانے کے مضبوط کردار کی کسوٹی پر عمومی طور سے عدل فراہم کرنے والے قاضی یا مختلف علوم کی علمی شخصیات نے تاریخ میں نہ صرف مشکلات اٹھائی ہیں بلکہ طاقت نے انہیں تہہ تیغ بھی کیا۔

اس ضمن میں تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ قاضی نور اللہ شوستری ایران کے صوبے خوزستان کے شہر شوشتر میں 956 ہجری کو پیدا ہوئے، علم و فلسفے اور منطق کی طرف رجحان نے انہیں ایک عالم کی حیثیت دی، خراسان کے سیاسی حالات و ابتری کے سبب قاضی صاحب نے 992 ہجری میں بر صغیر کوچ کیا اور آگرہ میں جا بسے، قاضی نور اللہ کے علم و منطق کے قصے اور دنیا کے تمام فقہی امور پہ دسترس نے انہیں اکبر بادشاہ کے دربار پہنچایا، جہاں ان کے علم و فلسفے نے اکبر بادشاہ کو مجبور کیا کہ وہ اپنی سیکولر سلطنت کا قاضی الْقضا قاضی نور اللہ شوستری کو بنائے، علم و فضل کے تناظر میں قاضی نور اللہ کے فیصلے عدل کی کسوٹی پر تمام بر صغیر میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

قاضی نور اللہ کے قاضی القضا ہونے کا سلسلہ اکبر کے بیٹے جہانگیر کے دور تک جاری و ساری تھا کہ جہانگیری دربار میں ایک سازش کے تحت بادشاہ جہانگیر کی خوشنودی حاصل کی گئی اور ان کی کتاب احقاق الحق اور مجالس المومنین لکھنے پر قاضی نور اللہ شوستری کے فیصلوں میں متعصب ہونے کا الزام عائد کیا اور جہانگیر بادشاہ کی چاپلوسی مقاکرتے ہوئے درباری عالموں نے قاضی القضا قاضی نور اللہ شوستری کے خلاف جہانگیر بادشاہ کے کان بھرے اور جہانگیر سے قاضی صاحب کی سزائے موت کا پروانہ لکھوا لیا اور یوں نحیف قاضی القضا کو کوڑے مار کر 1019 ہ میں شہید کیا گیا اور بعد کو قاضی نور اللہ کی زبان گدی سے کھینچ کر پورے بر صغیر کی رعایا کو پیغام دیا گیا کہ اگر انہوں نے سچ یا حق بولنے کی کوشش کی تو رعایا کا بھی حال قاضی نور اللہ شوستری کی طرح کیا جائے گا۔

قاضی القضا نور اللہ شوستری کی عدل و انصاف کے اس تاریخی تناظر میں جب میں اپنے سماج کی بے ابتری اور دولت و شہرت کے حصول کو دیکھتا ہوں تو مجھے علم حاصل کرنے اور علم پانے والوں کا فرق واضح ہوجاتا ہے اور اس لمحے ہمارے دیس کے قاضیوں کے عدل و انصاف اور قول و فعل کے تضادات مزید افسردہ کر دیتے ہیں اور لگتا ہے کہ ملک کی سیاسی ابتری میں فتنہ گری پھیلانے اور سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے والوں کے ساتھ جب قاضیوں کے کردار بھی سوالیہ نشان بن جائیں تو وہ سماج کیسے عدل و انصاف کے اس معیار پر آئے گا جو کہ حق اور سچ کے علم پانے والوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر عدل کا پرچم بلند رکھا، پچھلے دنوں ملک کے چھ قاضیوں کی طرف سے شکایت کی گئی کہ ان کے عدل و انصاف کی راہ میں طاقتور افراد روڑے اٹکاتے ہیں جس کی وجہ سے یہ چھ قاضی ملک میں انصاف کی فراہمی دینے میں مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔ لہذا یہ چھ قاضی اپنے مبینہ الزام کی روشنی میں چاہتے ہیں کہ انہیں ان طاقتور افراد کے دباؤ سے بچایا جائے۔

اس سارے واقعے پر حکومت وقت ایک تحقیقاتی کمیشن بنانا رہی ہے جس کی مخالفت عدل و انصاف:اور ریاست مدینہ : کے فتنہ گیر کر رہے ہیں تاکہ واقعے کے اصل حقائق اور فتنہ گیروں لے کردار عوام کے سامنے نہ آ سکیں جبکہ ان فتنہ گیروں کا ڈھول ہمارے مفاد پرست میڈیا اور سوشل میڈیا کے سیاسی و سماجی یتیم پیٹتے ہوئے چھ قاضیوں کو مظلوم اور حق کا ساتھی قرار دے رہے ہیں۔ اس موقع پر سیاسی طور سے بالغ عوام کا یہ سوال تو بنتا ہے کہ جب اسلام آباد دھرنا کیس کے مرکزی طاقتور کرداروں کا تعین کیا گیا تھا تو فیصلہ دینے والے قاضی کے خلاف نا اہلی کا ریفرنس بھیجنے پر اس کے ساتھی قاضی ٰ اور اس وقت کے وزیراعظم اور صدر یکسو کیوں تھے۔

یا جب ان چھ ججز کے ساتھی قاضی نے انہی قوتوں کے خلاف با آواز بلند صدا بلند کی تھی تو ساتھی جج کیوں اس نا انصافی یا ظلم پر خاموش تھے؟ یاد رکھا جائے کہ آٹھ کنال کے گھروں میں تمامتر سہولیات و مراعات لینے والے قاضی اگر اپنے آئینی اختیارات اور رتبے کی اہمیت سے بے خبر تھے جس ہیں تو سوال یہ اہم ہے کہ ایسے قاضیوں کے جرم کی آئینی سزا کیا ہونی چاہیے جو قاضی عدل کے منصب پر فائز ہو کر اتنی جرات نہ کر سکے کہ جابر وقت کو للکارے، تو کیا ایسے قاضی نہ شہید کہلائے جا سکتے ہیں جس ایسے ابن الوقت قاضی وقت کے سچ پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے ہوئے تاریخ بر صغیر کے قاضی القضا قاضی نور اللہ شوستری بن سکتے ہیں؟

Facebook Comments HS

وارث رضا

وارث رضا سینیئر صحافی، تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں۔ گزشتہ چار عشروں سے قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور جرائد میں لکھ رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے کہنہ مشق استاد سمجھے جاتے ہیں۔۔۔

waris-raza has 56 posts and counting.See all posts by waris-raza