کم عمری کی شادی لڑکی کی جنسی، جسمانی اور تولیدی صحت کے لیے نقصان دہ کیسے


فطری بلوغت کے باوجود 18 سال کی عمر سے پہلے بچیوں کی شادی ان کی جنسی، جسمانی اور تولیدی صحت کے لیے نقصان دہ کیوں؟

پاکستان میں حالیہ سالوں میں میڈیا پر کم عمر بچوں کی شادی سے متعلق کئی خبریں پڑھنے اور دیکھنے کو ملیں۔ جن میں سے اکثر کم عمر بچیوں کی بے جوڑ شادیوں سے متعلق واقعات سامنے آئے۔ چند دن بعد خبر تو پرانی ہو کر سکرین سے آؤٹ ہو جاتی ہے لیکن بے جوڑ اور کم عمری کی یہ شادیاں بچیوں کی زندگی کی کایا کس قدر پلٹ دیتا ہے تصویر کا یہ رخ نگاہوں سے اوجھل ہی رہتا ہے۔

تو اسی گمشدہ کڑی کو ملانے کے لیے سب سے پہلے ہم آپ کو دو کزنز سے ملواتے ہیں۔ ایک تھی ناصرہ اور ایک تھی عابدہ، دونوں کزنز ہیں جن کی عمروں کے درمیان فرق تو تقریباً ڈھائی سال کا ہے لیکن بچپن کے برعکس اب عابدہ عمر میں بڑی ہونے کے باوجود ناصرہ سے نہ صرف کافی چھوٹی دکھائی دیتی ہیں بلکہ خوش مزاجی، صحت اور اپنے اعتماد کے باعث اپنے حلقہ احباب اور رشتہ داروں میں مقبول بھی ہیں۔

ناصرہ بھی عمر کے حساب سے نوجوان تو ہیں مگر اس کی گرتی صحت نے ان کا سارا حسن نچوڑ لیا ہے۔ 26 سالہ ناصرہ کے اوپر تلے کے پانچ بچے ہیں جبکہ ان کا دو بار حمل ضائع بھی ہو چکا ہے اور ہاں ان کی شادی 16 سال کی عمر میں ہو گئی تھی۔

ڈاکٹرز کے مطابق کم عمر بچیاں شادی کے بعد شوہر سے جنسی تعلقات استوار کرتی ہیں تو اس کے لیے ان کا جسم پوری طرح تیار نہیں ہوتا اور پھر ماں بننے کی صورت میں اکثر ایسی بچیاں پیچیدہ قسم کے مسائل کا عمر بھر سامنا کرتی ہیں اور ان کی ذہنی اور جسمانی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

روایت پسند گھرانے کی ناصرہ کی جب شادی ہوئی تھی تو اس وقت وہ سکول میں پڑھتی تھیں اور بہت کھلنڈری اور ذہین تھیں تاہم آج میری ملاقات ناصرہ سے ہسپتال کے کاریڈور کے ویٹنگ ایریا میں ہوئی تو ان کی آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ حلقے اور زردی مائل رنگ ان کی گرتی صحت کی عکاسی کر رہا تھا۔ میرے پوچھنے پر انھوں نے بتایا۔

’میرے بچوں میں بہت کم وقفہ ہے۔ ڈاکٹر نے ہڈیوں کی شدید کمزوری اور خون کی کمی بتائی ہوئی ہے لیکن اتنی ذمہ داریوں میں آرام کرنا تو دور کی بات نیند بھی پوری نہیں ہوتی۔ ‘

ناصرہ کا دن صبح منہ اندھیرے شروع ہوتا ہے جس میں وہ پورے گھر کے کام کاج صفائی ستھرائی کھانا پکانا بچوں کی ذمہ داریاں، ساس سسر کے آرام کا خیال اور گھر آنے والے مہمانوں کی خاطر مدارت کے بعد تھک ہار کے رات کو سب سے آخر میں سونے جاتی ہیں۔ گھڑی کی سوئیوں کی مانند مسلسل کام میں جتے رہنے سے ڈپریشن میں مبتلا ہو چکی ہیں۔

ناصرہ کا کہنا ہے کہ اگر ان کی شادی اتنی کم عمری کے بجائے درست عمر میں ہوتی تو شادی شدہ زندگی بھی بہتر ہوتی اور صحت بھی۔

’جب میری امی نے بتایا کہ میری شادی ہو رہی ہے تو مجھے اس وقت بالکل سمجھ نہیں آیا کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ نہ یہ پتا تھا کہ شوہر کیا ہوتا ہے، پیار کیا ہوتا ہے اور ازدواجی تعلق کی ذمہ داری کا وہم و گمان نہیں تھا۔ پھر جلدی جلدی حمل نے خود سے بے زار کر دیا مگر فیملی پلاننگ کیا ہوتی ہے اس کے بارے میں بات کرنے کی نہ اجازت تھی نہ حوصلہ۔‘

ناصرہ کے برعکس عابدہ کی شادی 21 سال کی عمر میں ہوئی۔ ان کے تین بچے۔ بچوں میں مناسب وقفے نے پروین کو ایک زچگی کے بعد دوسرے حمل سے قبل صحت بہتر کرنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ اور یوں عابدہ اپنی کزن ناصرہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ جوان، پراعتماد اور صحت مند دکھائی دیتی ہیں۔

ان دونوں کزنز جیسی بے شمار مثالیں ہمیں اپنے اردگرد نظر آتی ہیں جہاں کم عمری کی شادی سے متاثرہ لڑکیاں جسمانی اور بعض اوقات ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار رہتی ہیں۔

صحت کے وہ کون سے خطرناک مسائل ہیں جو کم عمری کی شادی سے جڑے ہوئے ہیں؟ ڈاکٹرز کے مطابق صحت کے مسائل کی ایک طویل فہرست ہے جس کا سامنا چھوٹی عمر میں ماں بننے والی بچیوں کو کرنا پڑتا ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق

· کم عمری کی شادی میں بچیاں بہت جلدی حاملہ ہو جاتی ہیں

· کم عمر بچیوں کی ہڈیاں اور جسم ابھی زچگی کے عمل سے گزرنے کے لیے تیار بھی نہیں ہو پاتا جب ان کو زبردستی اس عمل سے گزروایا جاتا ہے تو بچیاں ساری زندگی ان پیچیدگیوں کا سامنا کرتی ہیں

· دوران زچگی بہت زیادہ بلیڈنگ کے باعث بچیاں جان کی بازی تک ہار جاتی ہیں
· دوران حمل مسائل کے باعث بچہ ضائع ہوجانا، غیر محفوظ ابارشن، بچے کا مردہ حالت میں پیدا ہونا

· کم عمر بچیاں جب زچگی کے پیچیدہ عمل سے گزرتی ہیں تو فیسٹولا کا شکار بھی ہو سکتی ہیں جوان کی زندگی کو بدترین حالات میں لے جاتا ہے۔

یاد رہے کہ دو رانِ زچگی پیچیدگی سے پیشاب اور پاخانے کی نالیوں پر دباؤ آنے سے سوراخ بننا فیسٹولا کہلاتا ہے، اس سوراخ سے اس میں سے پیشاب یا پاخانہ یا دونوں مسلسل رستے رہتے ہیں۔

ڈاکٹرز کے مطابق کم عمری کی شادی جسمانی صحت پر اثر انداز ہونے کے علاوہ ذہنی صحت کے مسائل بھی بڑھا دیتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب بچیوں کو سکول ایجوکیشن سے نہیں گزارا جاتا جب ان کے کھیل کود اور ہنسنے کھیلنے اور سیکھنے کی عمر میں ذمہ داریوں میں ڈال دیتے ہیں تو ان کی ذہنی صحت بہت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ڈپریشن، انگزائٹی اور ان جیسے دیگر مسائل ایسی بچیوں میں بہت عام ہو جاتے ہیں۔

’کیونکہ یہ شادیاں زیادہ تر غریب اور پسماندہ طبقے میں ہوتی ہیں اس لیے ان کے پاس وہ وسائل دستیاب نہیں ہوتے جن سے وہ اپنا اور ہونے والے بچے کا بخوبی خیال رکھ سکیں یا ڈاکٹر کو دکھا سکیں یا علاج کروا سکیں تو اس کے نتیجے میں بہت سی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان بچیوں کو اپنے جنسی حقوق کا علم نہیں ہو پاتا اور بچوں کی پیدائش میں وقفے پر کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔‘

شادی کا ایک بنیادی مقصد ایک خاندان کی بنیاد رکھنا ہوتا ہے تاہم کم عمری کی شادی کی صورت میں لڑکی نہ صرف شوہر کے ساتھ جنسی تعلقات نبھانے میں دشواری کا سامنا کر سکتی ہے بلکہ دوران حمل اور زچگی کے وقت پیچیدگیاں ماں اور بچے دونوں کی زندگیوں کو خطرے سے دوچار کر دیتی ہیں۔

تو ایسے میں سوال سامنے آتا ہے کہ طبی اعتبار سے ماں بننے کے لیے ایک بالغ لڑکی کی مناسب عمر کیا ہونا چاہیے جس کے اس کی ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں؟

ڈاکٹرز کا خیال ہے کہ لڑکیوں کے لیے ماں بننے کی عمر عمومی طور پر جب درست تصور کی جاری ہے جب ان کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کی تکمیل ہو جائے۔

’وہ وقت تقریباً 19 یا 20 سال سے تقریباً 25 سال کی عمر تک ہے جب لڑکیوں کے جسم کی گروتھ مکمل ہو جاتی ہے ان کی ہڈیاں درست بن چکی ہوتی ہیں اور ساتھ ہی یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ان کی تعلیم مکمل ہو جاتی ہے اور ان میں اگاہی اور شعور آ چکا ہوتا ہے چیزوں کی سمجھ بوجھ آتی ہے اور وہ اپنے لیے بہتر فیصلہ کر سکتی ہیں۔ ‘

18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی کو کم عمری کی شادی یا Early Child Marriage کہا جاتا ہے۔ فطری بلوغت کے باوجود 18 سال کی عمر سے پہلے بچیوں کی شادی میں کیوں مناسب نہیں؟

ماہرین کی رائے کے مطابق

· جب بچیوں کی کم عمری میں شادی ہوتی ہے تو وہ بہت کمزور اور بے اختیار ہوتی ہیں

· کم عمری کی شادی کی صورت میں بچیاں جنسی طور پر تو فعال ہو جاتی ہیں لیکن ان کو حمل سے اجتناب کرنے کی نہ آگاہی ہوتی ہے اور نہ ہی خاندانی منصوبہ بندی یا بچوں میں وقفے سے متعلق طریقوں کا حصول ان کی پہنچ میں ہوتا ہے۔

· بچیاں بلوغت کی عمر میں تو آ جاتی ہیں لیکن ان کا جسم ابھی تیار نہیں ہوتا کہ وہ ماں بننے کے عمل سے گزریں۔

· ایسی صورت میں ان کے اندر شوہر کے ساتھ جنسی تعلقات کو استوار کرنے کی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی۔
· ان کو اپنے جنسی حقوق کی آگاہی نہیں ہوتی نہ ہی۔ ان بچیوں میں فیصلہ سازی بھی نہیں ہو پاتی۔

· اس میں ایک مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ بچیاں جن کی ہت کم عمری میں شادیاں کر دی جاتی ہیں وہ بنیادی تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں۔

Facebook Comments HS