کیا سائنسی قوانین قابل اعتماد ہیں؟

سائنس پر بعض حلقوں میں یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ
سائنسی حقائق بدلتے رہتے ہیں، اس لیے ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کبھی نیوٹن کے بنائے ہوئے قوانین درست تھے اور آج آئن سٹائن کے بنائے ہوئے قوانین۔ اور شاید کل کچھ اور۔
یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ اعتراض بالکل بے بنیاد ہے، اس مضمون میں، میں کشش ثقل کی دریافت کی کہانی بیان کرنا چاہوں گا۔ اس مثال سے یہ سمجھنا ممکن ہو گا کہ سائنس کا ارتقا کس طرح ہو تا ہے۔ اس مثال کی بنیاد پر سائنس سے وابستہ کئی تاثرات کو درست کر نے میں مدد ملے گی۔ اس مضمون کے لکھنے میں میں نے اپنی پرانی تحریروں سے استفادہ کیا ہے۔
زمانہ قدیم سے انسان نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ کیا وجہ ہے جب کوئی چیز چھوڑی جاتی ہے تو وہ زمین پر گرتی ہے۔ یہ کیوں ہوتا ہے؟ اس کی توجیہ دینے والوں میں سب سے پہلے افراد میں ارسطو کا نام آتا ہے۔
ارسطو نے یہ نظریہ پیش کیا کہ اس دنیا میں تمام اشیاء چار عناصر، زمین، آگ، ہوا اور پانی سے بنی ہیں۔ بھاری چیزیں، مثلاً انسان، پتھر اور لکڑی، زیادہ تر زمین سے بنے ہوئے ہیں، جبکہ ان میں باقی عناصر کی مقدار کم ہے۔ اسی طرح کوئی مشروب زیادہ تر پانی سے بنا ہوتا ہے اور اس میں زمین، آگ۔ اور ہوا کی مقدار کم ہوتی ہے۔ یہی حال باقی چیزوں کا ہے۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ انسان مٹی سے بنا ہے تو یہ ارسطو کے نظریے سے مطابقت رکھتا ہے۔ ارسطو کا کشش ثقل کا نظریہ یہ تھا کہ ان تمام عناصر کی اپنی فطری جگہ ہوتی ہے۔ ان سب کا رجحان اس فطری جگہ کی طرف واپس جانے کا ہوتا ہے۔ اس طرح، زمین سے بنی چیزیں زمین پر واپس آنا چاہتی تھیں، جبکہ گیس کا رجحان ہوا کی طرح آسمان کی طرف اٹھنا ہے۔
ارسطو کا علمی قد اتنا اونچا تھا کہ تقریباً دو ہزار سال تک ان کے نظریات معمولی رد و بدل کے ساتھ برقرار رہے۔
سترہویں صدی میں نیوٹن نے ایک عظیم پیش رفت کی اور کشش ثقل کا نظریہ پیش کیا۔
نیوٹن کی سائنسی تحقیقات کے اثرات کو سمجھنے کے لیے، ہم کو تقریباً سو سال پیچھے نکولس کوپرنیکس کے دور میں جانا ہو گا۔ 1543 عیسوی میں، کوپرنیکس، جو پولینڈ کی ایک خانقاہ میں راہب تھے، نے سیاروں کی حرکت کا ایک ہیلیو سینٹرک ماڈل پیش کیا جس کے مطابق سورج مرکز میں ہے اور زمین سمیت تمام سیارے اس کے گرد گردش کر رہے ہیں۔ اس ماڈل نے اس دیرینہ تصور کو چیلنج کیا کہ زمین کائنات کے مرکز میں ہے اور تمام سیارے، سورج، چاند اور ستارے اس کے گرد گھومتے ہیں۔
یہ قدیم نظریہ، کائنات میں انسان کی اعلیٰ ترین حیثیت کی تصدیق کرتا تھا۔ اس مرکزی حیثیت کو عیسائی چرچ کے ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب نے بھی ایک بنیادی عقیدہ کے طور پر اپنایا۔ یہ تصور انسانی سوچ میں سرایت کر گیا کہ انسان ہی وہ اعلیٰ ہستی ہیں جن کے لیے پوری کائنات تخلیق کی گئی ہے۔ کوپرنیکس کے ماڈل نے اس مرکزیت کو چھین لیا اور زمین کو کسی دوسرے سیارے جیسا بنا دیا۔
اس سائنسی سفر کی اگلی اہم شخصیت جوہانس کیپلر تھے جو 1571 عیسوی میں جرمنی میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے کوپر نیکس سے وابستہ ماڈل کا تجزیہ اس وقت کے موجود افلاکی ڈیٹا کی روشنی میں کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سیاروں کے مدار کوپرنیکس کی تجویز کے مطابق گول نہیں بلکہ بیضوی ہیں۔ انہوں نے ان مشاہدات کی بنیاد پر سیاروں کی حرکت سے وابستہ کچھ قوانین اخذ کیے۔ مثال کے طور پر، انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سورج سے دور ہونے پر سیارے سست حرکت کرتے ہیں۔ وہ مقداری طور پر سورج سے فاصلے کے لحاظ سے سیاروں کی رفتار نکال سکتے تھے۔ یہ واقعی حیرت انگیز تھا کہ کیپلر فلکیاتی ڈیٹا کی چھان بین کر کے سیاروں کی حرکت کے ان قوانین کو کس طرح تشکیل دے پائے۔
جدید سائنسی انقلاب کی اگلی بڑی شخصیت گیلیلیو گیلیلی کی تھی جو 1564 عیسوی میں پیسا میں پیدا ہوئے تھے۔ انہیں جدید طبیعیات کا باپ سمجھا جاتا ہے۔ انھوں نے زمین پر گرنے والے اجسام کا تفصیلی مشاہدہ کیا اور ثابت کیا کہ تمام اشیاء، چاہے وہ بھاری ہوں یا ہلکی، سب ایک ہی رفتار سے زمین پر گرتی ہیں۔ یہ نتیجہ ارسطو کے قانون ثقل کی مکمل نفی تھا۔
کشش ثقل کی دریافت سے وابستہ سب سے اہم شخصیت آئزک نیوٹن کی تھی جو 1642 عیسوی میں اس سال پیدا ہوئے تھے جس سال گلیلیو کا انتقال ہوا تھا۔
نیوٹن نے دریافت کیا کہ دو بڑی چیزوں کے درمیان ہمیشہ کشش کی طاقت ہوتی ہے، چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی یا کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں۔ یہ قوت ان چیزوں کی کمیت کے متناسب ہے۔ یعنی بھاری چیزوں کے مابین کشش کی طاقت، ہلکی اشیاء کے مقابلے میں زیادہ ہو گی۔ انہوں نے یہ بھی تجویز کیا کہ جیسے جیسے دو اجسام کے درمیان فاصلہ بڑھتا جاتا ہے، ان کے مابین کشش کمزور ہوتی جاتی ہے۔
نیوٹن کے دریافت کردہ قانون ثقل کا سب سے بڑا امتحان یہ تھا کہ کیا یہ قانون کیپلر کے ان قوانین کی وضاحت کرنے کے قابل ہے جو صرف مشاہدے کی بنیاد پر وضع کیے گئے تھے۔ کیپلر کے دریافت کردہ قوانین کی وضاحت نیوٹن کا عظیم کارنامہ تھا جس نے ان کے قانون ثقل کی درستگی پر مہر ثبت کر دی۔
نیوٹن کے تجویز کردہ کشش ثقل کے قانون کی سب سے ڈرامائی کامیابی نظام شمسی کے آٹھویں سیارے نیپچون کی دریافت تھی۔ زمانہ قدیم سے انسانوں نے زمین سمیت چھ سیارے دریافت کر لیے تھے۔ باقی پانچ، زحل، مشتری، مریخ، زہرہ، اور عطارد ہیں۔ یہ سیارے آنکھ سے براہ راست دیکھے جا سکتے تھے۔ دوربین کی دریافت کے بعد 1781 میں ساتویں سیارے، یورینس، کو دریافت کیا گیا۔ لیکن جب نیوٹن کے دریافت کردہ قانون ثقل کا اطلاق کیا گیا تو یورینس کا مدار توقعات سے مختلف تھا۔
اس بنیاد پر سائنسدانوں نے یہ قیاس کیا کہ یا تو نیوٹن کا قانون ثقل غلط ہے یا پھر یورینس سے مخصوص فاصلے پر ایک سیارہ موجود ہونا چاہیے، جس کی کشش ثقل یورینس کے مدار کی صحیح طرح وضاحت کر سکے۔ 1846 میں یہ سیارہ، جس کا نام نیپچون رکھا گیا، دریافت ہوا جو اسی فاصلے پر تھا جس کی پیشین گوئی نیوٹن کے دریافت کردہ قانون ثقل کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ یہ سائنسی تاریخ کا ایک حیرت انگیز واقع ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز دریافت تھی جس نے سائنسی نظریہ کی پیشین گوئی کی طاقت کا بھر پور مظاہرہ کیا۔
اس دریافت نے تو نیوٹن کے دریافت کردہ کشش ثقل کے قانون پر درستگی پر مہر ثبت کر دی۔ اب یہ تصور کرنا محال تھا کہ یہ قانون غلط بھی ہو سکتا ہے یا اس میں رد و بدل کی گنجائش ہے۔
لیکن ایک مسئلہ ابھی تک درپیش تھا۔
یہ دیرینہ مسئلہ سورج کے گرد سیارہ عطارد کی حرکت سے وابستہ تھا۔ نیوٹن کے قوت ثقل کے قانون اور حرکت کے قوانین کی پیشین گوئی کے مطابق عطارد سورج کے گرد ایک دائرے میں نہیں بلکہ ایک بیضوی مدار میں حرکت کرتا ہے۔ ایک بیضوی مدار کے دو مراکز ہوتے ہیں اور سورج اس مدار کے ایک مرکز پر واقع ہے۔ نیوٹن کی تھیوری نے یہ پیشن گوئی کی تھی کہ اگر کوئی دوسرا سیارہ موجود نہ ہو تو بیضوی مدار بذات خود گردش نہیں کرے گا۔ تاہم، یہ دیکھا گیا کہ عطارد کا پیری ہیلین (مدار میں وہ نقطہ جس پر عطارد سورج کے قریب ترین ہوتا ہے ) ایک نقطے پر قائم نہیں، بلکہ خود سورج کے گرد گردش کرتا ہے۔ اس طرح، پورا بیضوی مدار سورج کے گرد گھومتا ہے۔ جیسا کہ زمین سے دیکھا گیا ہے، عطارد کے مدار کی پیشرفت 5600 آرک سیکنڈ فی صدی کے برابر ہے (ایک آرک سیکنڈ، 1/3600 ڈگری کے برابر ہوتا ہے ) ۔ یہ ایک چھوٹی، لیکن قابل پیمائش حرکت ہے۔
عطارد کے مدار کی اس حرکت کی وضاحت کرنے کے لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ دوسرے سیاروں جیسے زہرہ اور زمین کی حرکت کے اثرات کو بھی شامل کیا جائے۔ ان اور دیگر سیاروں کی کشش ثقل اس راستے پر اثر انداز ہو سکتی ہے جس پر سیارہ عطارد حرکت کرتا ہے۔ ریاضیاتی مسئلہ جس میں یہ اضافی عوامل شامل تھے اس مسئلے کو کافی پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ تاہم، اسے حل کیا جا سکتا تھا اور یہ پایا گیا کہ نیوٹن کے قوانین پیری ہیلین کی اس پیشرفت کے زیادہ تر حصے کی توجیہہ دے سکتے تھے۔ نئے نتائج کے مطابق عطارد کے مدار کی پیشرفت 5557 آرک سیکنڈ فی صدی ہونی چاہیے۔ لیکن اب بھی 5600۔ 5557 = 43 آرک سیکنڈ فی صدی کا انتہائی معمولی فرق باقی تھا جس کی کوئی وضاحت موجود نہیں تھی۔
اس اختلاف کو سمجھنے اور واضح کرنے کی بہت کوشش کی گئی، لیکن کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ مثال کے طور پر، یہ فرض کیا گیا تھا کہ زہرہ اور سورج کے درمیان دھول کی کافی مقدار موجود ہے جو نیوٹن کے قوانین کا استعمال کرتے ہوئے اس فرق کی وضاحت کرسکے گی۔ تاہم، کوئی دھول نہیں ملی۔
یہ صورت حال بیسویں صدی کے اوائل تک جاری رہی۔
اہم بات یہ ہے کہ تقریباً دو صدیوں تک اس انتہائی معمولی فرق کی سائنسی وضاحت میں ناکامی کے باوجود سائنسدانوں کو پورا اعتماد تھا کہ ایک دن آئے گا جب اس فرق کی وضاحت سائنسی قوانین کے ذریعے ممکن ہو گی۔ لیکن جس چیز کا وہ تصور نہیں کر سکتے تھے، وہ یہ کہ اس فرق کی وضاحت کے لیے نیوٹن کے دریافت کردہ دو سو سال پرانے قانون ثقل کو خیر آباد کہنا ہو گا اور نئے قوانین وضع کرنے پڑیں گے۔
سائنس اور سائنسی سوچ کی اس سے زیادہ موثر مثال پیش کرنا شاید ممکن نہ ہو۔
ایک لمحے کے لیے رک کر غور کریں کہ سائنسدانوں کے نزدیک نہ تو نیوٹن کی شخصیت مقدس تھی جن کے نظریات نے سائنسی انقلاب برپا کیا تھا اور نہ ہی ان کے دریافت کردہ قانون ثقل کو کوئی تقدس حاصل تھا، جو دو سو سال تک کائنات کے اسرار کی وضاحت کرنے میں اس قدر کامیاب تھا کہ اس کی بنیاد پر ایک نامعلوم سیارہ دریافت کرنا ممکن ہوا۔ ایک سائنسدان کے لیے سچ کی تلاش سب سے اہم رہی ہے۔
یہ صورت حال تھی جب 1915 میں آئن اسٹائن نے اپنا عمومی نظریہ اضافیت پیش کیا۔
آئن سٹائن کے مطابق زمان و مکاں سورج کے پڑوس میں خمیدہ ہیں۔ یہ خمیدگی عطارد کے پیری ہیلین کے سورج کے گرد مزید آگے بڑھنے میں معاون ہے۔ جب آئن سٹائن نے اپنے نظریہ کا استعمال کرتے ہوئے اس پیش رفت کا حساب لگایا، تو انہوں نے ٹھیک 43 آرک سیکنڈ فی صدی حاصل کیا۔ یہ آئن سٹائن کے نظریہ کی حمایت میں شاندار ثبوت تھا۔ اس انتہائی چھوٹے انحراف، جو صدیوں سے ناقابل وضاحت تھا، کی وضاحت زمان و مکان کی خمیدگی کے نئے تصورات کے ذریعے کی جا سکتی تھی۔
یہ آئن سٹائن کی زندگی اور انسانی تاریخ کا بہت اہم لمحہ تھا۔ آئن سٹائن کی خوبصورت سوانح عمری ”Subtle is the Lord۔“ ، میں ابراہم پیس لکھتے ہیں،
”میرے خیال میں یہ دریافت آئن سٹائن کی سائنسی زندگی، بلکہ شاید ساری زندگی، کا سب سے بڑا جذباتی لمحہ تھا۔ انہوں نے قدرت کے اسرار تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ انہیں اپنی تھیوری کی صداقت کا یقین ہو گیا۔ اس دریافت نے ان کے دل کی دھڑکنیں تیز کر دی تھیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کی پیشن گوئی ان فلکیاتی مشاہدات سے متفق ہیں جن کی وضاحت کسی اور طرح ممکن نہیں ہو سکی تھی، اس نے ان کے دل کے تاروں کو ہلا دیا۔“
یہ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی بڑی کامیابی تھی اور اس کامیابی نے اس نظریے کی قبولیت میں اہم کردار ادا کیا۔
لیکن وہ لمحہ جب آئن سٹائن اور نیوٹن کے قوانین ایک دوسرے کے مقابلے میں براہ راست صف آرا تھے، 1919 میں آیا۔
نیوٹن کے مطابق روشنی بہت چھوٹے ذرات پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ان ذرات کی کمیت بھی ہوتی ہے۔ نیوٹن نے اپنا نظریہ کشش ثقل پیش کرتے ہوئے یہ بھی نوٹ کیا تھا کہ ایک محدود رفتار سے حرکت کرنے والا کوئی بھی مادی ذرہ کسی بڑے شے کے قریب سے گزرتے ہوئے ایک کشش محسوس کرے گا۔ لیکن اس کشش کی قوت کا انحصار ذرہ کی کمیت سے وابستہ نہیں۔ اس طرح، اگر روشنی چھوٹے ذرات پر مشتمل ہے، تو وہ بھی بھاری اجسام، جیسے سورج اور ستاروں، کی طرف جھکے گی اور سیدھے راستے سے انحراف کرے گی۔
نیوٹن نے خود تو اس انحراف کا حساب نہیں لگایا لیکن 1804 میں، ایک جرمن ماہر فلکیات، جو ہان سولڈنر نے روشنی کے بارے میں نیوٹن کے نظریات کی بنیاد پر پیشن گوئی کی کہ دور پار سے آنے والے ستارے کی روشنی سورج کے مضافات میں کشش ثقل کی بدولت ایک قوس کی طرح جھک جائے گی اور اس جھکاؤ کا زاویہ 0.87 آرک سیکنڈ ہو گا۔
تقریباً سو سال بعد ، 1916 میں آئن سٹائن نے اس مسئلے کو نظریہ اضافیت کی روشنی میں حل کیا اور حساب لگایا کہ روشنی کے جھکاؤ کی قدر دگنی یعنی 1.83 آرک سیکنڈ ہونی چاہیے۔
اس طرح، نیوٹن اور آئن سٹائن کی پیشین گوئیاں ایک دوسرے سے متصادم تھیں، نیوٹن کے مطابق سورج کے نزدیک روشنی کا جھکاؤ 0.87 آرک سیکنڈ ہو گا جبکہ آئن سٹائن کے مطابق یہ جھکاؤ 1.83 آرک سیکنڈ ہو گا۔
جلد ہی یہ جاننے کے لیے ایک تجرباتی سرگرمی شروع ہوئی کہ ان دونوں عظیم سائنسدانوں میں کون درست ہے۔
ایک ستارے سے سیدھی جاتی روشنی کی کرن کا سورج کی طرف جھکنا آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کا پہلا امتحان بن گیا۔
سورج کی چمک کی وجہ سے دور دراز ستارے سے آنے والی روشنی کی کرن کا سورج کی طرف سے جھکاؤ دیکھنا عام طور پر ناممکن ہے۔ لیکن سورج گرہن کے دوران چاند سورج کے سامنے ہوتا ہے، اور سورج کی روشنی سامنے نہیں ہوتی۔ اس وقت روشنی کا جھکاؤ دیکھنا ممکن ہو سکتا ہے۔ اگر سورج گرہن مکمل ہو جائے تو کنارے سے آنے والی روشنی، روشنی کے موڑنے والے زاویے کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتی ہے۔ یہ ایک مشکل پیمائش تھی۔
پہلی جنگ عظیم ختم ہونے کے بعد ، ایک برطانوی ماہر فلکیات آرتھر ایڈنگٹن (Arthur Eddington) نے 29 مئی 1919 کو سورج گرہن کو دیکھنے اور سورج کی کشش ثقل کی وجہ سے دور ستاروں سے آنے والی روشنی کے جھکاؤ کی پیمائش کرنے کے لیے افریقہ کے قریب پرنسپے نامی جزیرے پر ایک مہم کا اہتمام کیا۔
جب نتائج کا اعلان کیا گیا تو یہ آئن سٹائن کی پیشن گوئی کے مطابق اور نیوٹن کی تھیوری کے برعکس تھے۔
آئن سٹائن کے زمان و مکاں کے بارے میں عجیب و غریب نظریات نے نیوٹن کے دو سو سال پرانے کشش ثقل کے قانون کو غلط ثابت کر دیا تھا۔ یہ سائنسی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ تھا۔ آئن سٹائن راتوں رات ایک بین الاقوامی طور پر مشہور شخصیت بن چکے تھے۔
اس تاریخ سے سائنس اور سائنسی سوچ سے وابستہ کئی اہم نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔
پہلی بات یہ کہ سائنسدان صرف مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں قوانین وضع کرتے ہیں۔ ان کی کوشش ایسے قوانین کی دریافت ہوتی ہے جو نہ صرف موجود مشاہدات کی بخوبی وضاحت کر سکیں بلکہ مستقبل میں کیے گئے تجربات کے نتائج کی پیشن گوئی کر سکیں۔
دوسری اہم بات یہ کہ ان قوانین کو اس وقت تک درست تسلیم کیا جاتا ہے جب تک ان کی پیشن گوئی ہر صورت میں صحیح ثابت ہو۔ جیسے ہی ایسے مظاہر سامنے آتے ہیں جن کی وضاحت ان قوانین سے نہیں ہو سکتی، نئے قوانین کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔ کسی قانون کو ہرگز اٹل نہیں تصور کیا جاتا۔
تیسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو سائنسدان کوئی قانون دریافت کرتے ہیں ان کو انتہائی احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ارسطو، نیوٹن اور آئن سٹائن کو انسانی تاریخ کے عظیم ترین سائنسدان تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن ان کو ہرگز مقدس نہیں تصور کیا جاتا۔ جب محسوس ہوا کہ ارسطو اور نیوٹن جیسے عظیم سائنسدانوں کے وضع کردہ قوانین کچھ مشاہدات کو کامیابی سے واضح کرنے میں ناکام ہیں، تو ان کو غلط قرار دے کر نئے قوانین کی دریافت کی گئی۔ اسی طرح کئی موقعوں پر آئن سٹائن کے پیش کردہ نظریات وقت کے ساتھ غلط تسلیم کیے گئے۔ اس سے ان سائنسدانوں کی عظمت پر کوئی حرف نہیں آیا۔
اور آخری بات یہ کہ سائنسدان کا رول قوانین فطرت کو بنانا ہرگز نہیں، ان کا کام ان قوانین کو دریافت کرنا ہے۔ یہ انتہائی اہم فرق ہے جس کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ سائنس مخالف رویے کے سدباب کے لیے یہ نکتہ بے حد اہم ہے۔

