ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل؟


4ُٓ اپریل 1979 ء کو 51 سال کی عمر میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو لیاقت باغ سے 6 کلو میٹر دور ڈسٹرکٹ جیل راولپنڈی میں نواب احمد خان قصوری کے قتل میں پھانسی کی سزا دے دی گئی یہ وہی کمپنی باغ ہے۔ جہاں 16 اکتوبر 1952 کو سٹنگ پرائم منسٹر لیاقت علی خان کو جلسہ عام میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا پھر اسی لیاقت باغ میں 27 دسمبر 2007 ء کو بے نظیر بھٹو کو جلسہ عام میں شہید کر دیا گیا اس لحاظ سے راولپنڈی کی تاریخ کچھ اچھی نہیں تینوں وزرائے اعظم کے سر راولپنڈی میں ہی لئے گئے سپریم کورٹ ماضی میں عدلیہ کی طرف کی گئی غلطیوں کی اصلاح کر رہی ہے۔

ممتاز کالم نگار، صحافی و شاعر عطا الحق قاسمی کو ثاقب نثار کورٹ نے ناکردہ گناہوں کی جو سزا دی اس کو کالعدم قرار دے کر انہیں قوم کے سامنے سرخرو کیا اسی طرح جبر کی قوتوں کے سامنے ڈٹ جانے والے جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کو با عزت ریٹائرمنٹ میں تبدیل کر کے تاریخ میں ان کا نام سربلند کر دیا اب ذوالفقار علی بھٹو بارے ریفرنس میں تاریخی فیصلہ دے کر تاریخ کو درست کر دیا ہے۔ 70

ء کے عشرے میں ذوالفقار علی بھٹو کا طوطی بولتا تھا۔ ان کا شمار ملک کے مقبول ترین لیڈروں میں ہوتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو جس قدر مقبول ترین لیڈر تھے۔ اسی قدر انہیں ملک میں مخالفت کا سامنا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان اسی طرح دشمنی کی حد مخالفت تھی جس طرح آج نواز شریف اور عمران خان کے حامیوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو جتنے بڑے لیڈر تھے۔ اتنے ہی منتقم مزاج بھی تھے۔ مخالفت برداشت نہ کرنے کے باعث نہ صرف ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا بلکہ ان کو سزائے موت کا سامنا کرنا پڑا

احمد رضا قصوری 10 اور 11 نومبر 1974 کی درمیانی شب اپنے والد کے ہمراہ شادمان کالونی سے اپنے گھر جا رہے تھے کہ ایف ایس ایف کے جوانوں نے نواب احمد خان قصوری قتل کر دیا نواب احمد خان کا قتل رائیگاں نہیں گیا احمد رضا خان قصوری نے قتل کی ایف آئی آر ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف درج کرائی جو بالآخر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کا موجب بنی ذوالفقار علی بھٹو مقبول ترین سیاسی لیڈر تھے۔

فوجی حکمران کو خدشہ تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو رہائی پانے کے بعد ان کو نشان عبرت بنا سکتے ہیں۔ لہذا انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو نشان عبرت بنانے کے لئے کیپیٹل پنشمنٹ دلوائی مقدمہ قتل کی سماعت سے قبل ضابطہ فوجداری میں ترمیم کر کے قتل کا مشورہ دینے والے کو بھی سزائے موت کا مستحق قرار دیا گیا ذوالفقار علی بھٹو اور ایف ایس ایف کے اہلکاروں کے خلاف مقدمہ قتل کی سماعت لاہور ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس مولوی مشتاق کی سربراہی میں قائم 5 رکنی بینچ نے سماعت کی یہ اپنی نوعیت کا منفرد کیس تھا جس کی براہ راست ہائی کورٹ میں سماعت کی گئی مولوی مشتاق پر الزام ہے کہ ان کے ذوالفقار علی بھٹو سے اچھے تعلقات نہیں تھے۔

18 مارچ 1978 ء لاہور ہائی کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو اور دیگر ملزمان کو سزائے موت سنا دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سپریم کورٹ میں اپیل کی سپریم کورٹ نے 6 فروری 1979 ء کو 4 اور 3 کے تناسب منقسم فیصلہ اپیل مسترد کر دی اس فیصلے سے جسٹس دراب پٹیل، جسٹس صفدر شاہ اور جسٹس محمد حلیم نے اختلاف کر کے اپنے آپ کو تاریخ میں امر کر لیا۔ ضیا الحق نے کئی ممالک کے سربراہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت ختم کرنے کی اپیلیں مسترد کر دیں۔ ضیا الحق سے ملنے والے بھٹو مخالف سیاست دانوں نے انہیں باور کرا دیا کہ قبر ایک ہے اور بندے دو ہیں۔ لہذا ضیا الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو قبر میں اتارنے کا فیصلہ کیا

انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو بارے میں رحم کی اپیلوں پر مشتمل سمری کو پڑھے بغیر ہی مسترد کر دیا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کے حتمی فیصلہ کی ضیا الحق نے جس قلم سے توثیق کی گئی اسے چوہدری ظہور الہی نے مانگ لیا۔ پھر یہی قلم چوہدری ظہور الہی کی شہادت کا باعث بنا۔ مولوی مشتاق بھی اس کار میں سوار تھے جسے الذوالفقار کے دہشت گردوں نے نشانہ بنایا تھا۔

تاہم چوہدری شجاعت حسین نے ایسے کسی قلم کو محفوظ رکھنے کے بارے میں لا علمی کا اظہار کیا گجرات کے چوہدریوں کے بارے میں کہا جاتا کہ وہ اپنے دشمن کو یاد رکھتے ہیں۔ گجرات میں ظہور الہی پیلس میں اب بھی وہ کار محفوظ ہے جسے رزاق جھرنا اور ان کے ساتھیوں نے کلاشنکوف کی فائرنگ سے چھلنی کیا تھا۔ 3 اور 4 اپریل کی درمیانی شب سورج طلوع ہونے قبل ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دے دی اس کوٹھری کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ جہاں ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔

ہر سال 4 اپریل کو پیپلز پارٹی کے جیالے اس کوٹھری اور پھانسی گھاٹ پر ماتم کرتے ہیں اور بھٹو ہم شرمندہ ہیں۔ تیرے قاتل شندہ کے نعرے لگاتے پھولوں کی چادریں چڑھا کر واپس چلے جاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کو ہمیشہ عدالتی قتل قرار دیا ہے جس بینچ نے ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت برقرار رکھی اس کے رکن جسٹس نسیم حسن شاہ نے اس بات کا برملا اعتراف کیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت دینے کے لئے ان پر دباؤ تھا۔

32 سال بعد اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ کو ذوالفقار علی بھٹو کے ٹرائل اور پھانسی بارے 5 سوالات پر مشتمل ریفرنس بھجوایا لیکن 11 سال گزرنے کے باوجود اس سماعت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنے عہدہ کا چارج سنبھالنے کے بعد جہاں دیگر مقدمات کے فیصلے کیے وہاں انہوں نے اس ریفرنس کو بھی نمٹا دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیے جانے بارے میں پہلے سوال پر رائے دی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل شفاف نہیں تھا۔ ان کی سزا آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کے مطابق نہیں تھی۔ یہ فیصلہ کالعدم ہو سکتا ہے اور نہ ہی اسے تبدیل کرنے کا کوئی قانونی طریقہ کار موجود ہے۔ ریفرنس میں دوسرا سوال یہ تھا کہ کیا یہ فیصلہ نظیر بن سکتا ہے؟ جس پر عدالت نے کہا کہ پوچھا گیا سوال واضح نہیں لہذا اس پر رائے نہیں دی جا سکتی دوسرے سوال میں قانونی سوال نہیں اٹھایا گیا تیسرا سوال یہ تھا کہ کیا فیصلہ جانبدارانہ نہیں تھا۔

اس بارے عدالت کی رائے یہ ہے کہ آئینی تقاضے پورے کیے بغیر ذوالفقار علی بھٹو کو سزا دی گئی البتہ ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کا فیصلہ تبدیل کرنے کا کوئی قانونی طریقہ کار موجود نہیں آئین اور قانون ایسا میکنزم فراہم نہیں کرتا جس کے تحت اب بھٹو کیس کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جائے ذوالفقار علی بھٹو کیس میں نظر ثانی درخواست خارج ہو چکی ہے۔ فیصلہ حتمی ہو چکا ہے۔ چوتھا سوال سزا کا اسلامی اصولوں کے مطابق جائزہ لینے سے متعلق ہے۔

اسلامی اصولوں پر کسی فریق نے معاونت نہیں کی لہذا اسلامی اصولوں کے مطابق فیصلہ ہونے یا نہ ہونے پر رائے نہیں دی جا سکتی پانچواں سوال یہ تھا۔ کیا شواہد سزا دینے کے لئے کافی تھے؟ اس بارے میں عدالت کی رائے تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو کی سزا آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کے مطابق نہیں کی تھی۔ تاہم ریفرنس میں مقدمہ کے شواہد کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔

 

Facebook Comments HS