سعودی اور پٹھان : کیف الحال سے پہلا نمک پارہ

سن 2001 ء میں سر زمین سعودیہ سے کسی کو لکھا گیا ایک خط۔ سنہ 2004 ء میں یوسفی صاحب کے حکم پر اسے 20 سال کے لئے پالنے میں رکھ دیا تھا۔ اور اب یہ ”یوسفی سائفر“ ، انتہائی خفیہ سے عام ہونے کو ہے۔ مضمون میرے غیر مطبوعہ سفرنامہ سعودیہ، ”کیف الحال“ کا حصہ ہے۔
٭٭٭
پہلی بار صحرا میں جا کر اصلی سعودیوں سے ملا تو ان گندمی رنگت والے جفاکش، محنتی اور محبت کرنے والے لوگوں کو دیکھ کر ہمیں اپنے صوبہ سرحد کے گورے چٹے، نہ تھکنے والے غیور اور جرات مند جیالے یاد آ گئے۔
اہالیان عرب (بالخصوص سعودی عرب والے ) ہمارے پٹھان بھائیوں سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ اس کا اندازہ ”اہل جمرک“ (محکمہ کسٹمز) والوں کے ان کے ساتھ کیے جانے والے خصوصی سلوک سے ہوتا ہے۔ ویسے تو دنیا کے کسی بھی ملک کے کسٹمز والے ہوں ”ہرا“ جواز السفر (پاسپورٹ) دیکھ کر سبھی ہماری عزت کے لئے دوڑ پڑتے ہیں، کیوں کہ ہر ”گرین پاسپورٹ“ والے کی خدمت کرنے میں ان کو اپنی ترقی نظر آ رہی ہوتی ہے۔
سعودیہ آ کر دیکھا، اگر آپ نے ”بغیر استری“ کا ملگجا شلوار قمیص پہن رکھا ہو اور ساتھ نام میں ”خان“ بھی آ رہا ہو تو بس سمجھیں وی آئی پی سلوک آپ کا مقدر (کبھی داؤ لگا تو شاہ رخ خان اور سلمان خان بھی یہ مزے اٹھا لیں گے ) ۔ جہاز پر آپ کے جو باقی یار بیلی اگر پندرہ منٹ میں کسٹمز سے فارغ ہو چکے تو کیا ہوا، یہاں آپ کی اگر پندرہ لوگ خدمت نہ کر لیں تو انہیں چَین نہیں آئے گا۔ اور تو اور ہمارے یہ معصوم بھائی جب سعودی عرب سے واپس پاکستان جا رہے ہوتے ہیں تو بھی امیگریشن (جوازات) کے بعد اہل جمرک ان کے ساتھ وہ خصوصی سلوک کرتے ہیں کہ ہم بصد حسرت تکتے رہ جاتے ہیں۔
مملکت سے نکلتے وقت ہم بے شک بغیر بیلٹ کی پینٹ پہن لیں یا ننگے پیر جانب جہاز چل پڑیں، اہل جمرک کو کوئی پروا نہیں، لیکن بے چارے خاں صاحب کی شلوار کا ناڑا کمزور نہ ہو یا ان کے جوتے مملکت سے نکلتے وقت سفر کی صعوبتیں برداشت کرسکیں گے یا نہیں، یہ چیک کرنے کے لئے یہ ان کی شلوار اور جوتے بھی مملکت سے ”جاتے ہوئے“ بھی اچھی طرح چیک کرتے ہیں۔ [ یعنی پاکستان واپس جاتے ہوئے ائر پورٹ پر ان کی شلوار کے نیفے اور پشاوری چپل بھی چیک ہوتی ہیں۔ کیوں، یقیناً ماضی میں کسی نے کوئی کارنامہ انجام دیا ہو گا]۔
ایک مشہور ٹی وی اور بعد میں فلم کے ”دل پشوری“ اداکار، جن کے نام کا عربی ترجمہ ”عجیب قل“ ہے، نے اردو کی ایک فلم ”سوئے ہو تم کہاں“ کی کہانی پہلے خود ”دریافت کی“ پھر ڈائریکٹ بھی کی اور سوئے اتفاق فلم سپر ڈپر ہٹ بھی ہو گئی اور یوں ”قل صاحب“ کے کالر بھی کھڑے ہو گئے اور ان کا شمار بقلم خود ٹائپ کے ”اہل قلم اور دانشوران ادب“ میں بھی ہونے لگا۔ سعودی عرب میں پی ٹی وی ورلڈ پر اْن کے اُسی عروج کے زمانے میں ایک انٹرویو دیکھا جس میں کسی خاتون کے سوال کے جواب میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ”پٹھان دراصل عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی سخت لکڑی کے ہیں“ ۔
ہمیں اپنے کانوں پر یقین نہ آیا، نصف بہتر کی طرف دیکھا تو انہوں نے بھی مُنڈی کو عموداً ہلاتے ہوئے ہمارے خدشات کو یقین میں بدلا یعنی بے چاری عربی زبان، جو ”پ، ٹ، چ اور گاف“ کی (بقول یوسفی صاحب کثافتوں اور خباثتوں ) سے محروم تھی، ”میں پٹھان کہاں سے آ گیا؟“ ۔ انہوں نے ویسے اگر اتنا ہی کہ دیا ہوتا کہ پٹھان عربی زبان کے کسی لفظ سے نکلا ہے یا ماخوذ ہے تو بھی ہمیں ہضم ہو جاتا۔ بہر حال پٹھان، عربی کا لفظ ہو نہ ہو، عجیب قل، آپ واقعتاً پٹھان ہیں۔
بعد ازاں اپنے طور، تحقیق کی تو اندازہ ہوا کہ ”پ اور ٹ“ کی وجہ سے عربی میں پٹھان، بہتان نہ سہی مگر ”بتان“ یا ”بطان“ ہو سکتا ہے۔ عربی کی ایک چھوٹی لغت دیکھی تو بتان بھی ملا اور بطان بھی ساتھ پخ میں ”بتانہ“ بھی۔ بتان تو محض ”بتانا یا بالکل“ تھا جب کہ بطان، ”بزدل یا گھٹیا“ ۔ جبکہ بتانہ کے معنی وہی ہیں جو اردو محاورے میں ”بی جمالو“ کے ہوتے ہیں یعنی ”لگائی بجھائی کرنے والا“ ۔ اب چاہے معنی بزدل لے لیں یا بی جمالو۔
ان تعریفوں پر ہمارے جیسا منحنی اور مرنجا مرنج تو پورا اتر سکتا ہے۔ مگر کوئی پٹھان نہیں۔ ویسے ہمیں یقین نہیں کہ ”عجیب قل“ سچ بول رہے تھے، کیونکہ یہ تو وہ لوگ ہیں جو نام کے لئے دشمنوں اور ان کے خاندانوں کو صفحہ ہستی سے بزور بندوق مٹا دیتے ہیں۔ کیوں کہ ان کا بندوقی قانون، پشتو میں بننے والی پہلی فلم ”ٹوپک زمان قانون“ کے نام سے عیاں ہے (یعنی بندوق میرا قانون) ۔ ”بتانہ“ تو ہم جیسے ہیں جو دشمنوں کو لڑا کر اپنا کام نکالتے ہیں۔
ویسے پٹھانوں کی اکثریت اپنے آپ کو فخر سے حضرت خالدؓ بن ولید کی آل اولاد بتلاتی ہے، ممکن ہے یہ صحیح بھی ہوں کیوں کہ ”بطانہ“ ٹائپ کا ایک لفظ بھی قدیم عربی میں موجود ہے جس کے معنی ”حواری“ یعنی ”ساتھی“ وغیرہ سے ملتے جلتے ہیں۔ غالب امکان ہے کہ حضرت خالدؓ کا کوئی حواری کسی مہم پر ان کے ساتھ کہیں گیا ہو گا اور پھر اُسی جگہ سیٹل ہو گیا ہو گا اور یوں اس (یعنی ”بطانہ خالد“ کی) آل اولاد بگڑتے بگڑتے آج پٹھان کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ یہ یوں بھی ممکن ہے، کیوں کہ پٹھانوں سے بغض رکھنے والے انہیں عام شام، ”آل یہود“ بھی پکارتے ہیں۔ کرکٹر عمران خان اپنی نو مسلم بیوی (جو پہلے مسیحی تھیں ) اور جن کے باپ گولڈ اسمتھ تو کبھی یہودی نہیں رہے، البتہ دادا یہودی سے مسیحی ضرور ہوئے تھے۔ اسی مناسبت سے یہودی خان بھی کہلاتے رہے ہیں۔
ایک خان صاحب سعودی عرب حج یا عمرہ کے لئے تشریف لائے، واپس گئے تو لوگوں نے انٹرویو لیا، ایک ایک بات تفصیل سے پوچھی، کسی نے پوچھا، خاں صاحب وہاں کی سب سے حیران کن بات تو بتلائیں۔ کہنے لگے، ”یارا اور تو ساری باتیں وہاں کی یاد نہیں، لیکن ایک بات جو امارے کو ان کی اچھی لگی وہ یہ ہے کہ وہ کچھ کریں نہ کریں، مسجدوں میں اذان ہماری طرح پشتو ہی میں دیتے ہیں اور امارا ایک سعودی سے لڑائی ہوا تو ہم تو اسے پشتو میں گالیاں نکالنے لگا مگر وہ الٹا ہمیں قرآن شریف سنانے لگا“ ۔
اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں کے کلچر کتنے ملتے جلتے ہیں!
ویسے اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے پردے کے لئے جتنے پابند شرع ہمارے ملک کے ”سعودی“ ہیں، سعودیہ کے لوگ بھی اتنے ہی شدت پسند ہیں۔ مگر ہمارے والے تو مسرت شاہین اور یاسمین خان کو بھری برسات میں لال یا پیلی انگیا کے اوپر، سفید ململ کی شلوار قمیض پہنا کر پشتو فلم میں اپنی ثقافت کی شوٹنگ کرلیتے ہیں مگر یہاں چونکہ نہ سنیما ہے اور نہ تھیٹر، اور چونکہ یہ سنیما کے لئے فلمیں نہیں بناتے اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ وقت پڑنے پر یہ لوگ کیسی فلمیں پروڈیوس کریں گے۔
البتہ کیمرے کی عدم موجودگی میں یہاں والے، اسلحہ سے اکثر، ایک دوسرے کو شوٹ کرتے رہتے ہیں، جس کا ہمیں شہر ریاض میں رہتے ہوئے ”دیرہ مسجد“ میں جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد پتہ چلتا ہے، جب بندوق سے شوٹنگ کے بدلے میں ”مقامی سعودیوں“ کی اور ہمارے پٹھانوں کی گوبھی میں ”کیلشیم“ لانے پر سرکاری طور پر گردن زنی کی جا رہی ہوتی ہے۔
اپنی عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کرنا ان کے مختلف قبائل میں اب بھی عام اور باعث فخر سمجھا جاتا ہے۔ جہاں تک پردے کی بات ہے ان کے مختلف قبائل میں گھر کی عورتیں سگے بھائیوں سے بھی پردہ کرتی ہیں۔ جب کہ کچھ قبائل میں تو بیویاں اپنے شوہروں سے پردہ کرتی ہیں یعنی منہ چھپاتی ہیں۔ ظاہر ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں مگر ان قبیلوں کے ہزار سالہ روایات کا حصہ ہے۔ شکر ہے ایسی کوئی رسم ہماری طرف موجود نہیں۔
ویسے عمومی طور پر ان کے اکثر لوگ وہی تمام خاص الخاص ”نیک مدارس والے“ ذوق سلیم رکھتے ہیں جو ہمارے مدارس والے مولبی صاحبان بھی رکھتے ہیں۔
جہاں تک عربی فلموں کا سوال ہے، عمرے پر جانے سے پہلے ہم ”اہل مصر“ اور ”لبنان“ کے چینلوں پر اِنہی کی عربی یا گوروں کی بنی فلمیں دیکھ لیتے ہیں تاکہ عمرے پر جا کر کچھ تو معاف کروا سکیں۔ اس سے یہ اندازہ لگانا قطعاً مشکل نہ ہو گا کہ ”ڈش یا انٹرنیٹ“ پر یہاں کیا کیا نہیں دیکھا جاتا۔ بالخصوص لبنانی اور یورپی چینل (جو ”پ نہ ہونے کے سبب)“ عروبہ ”کہلاتے ہیں۔
ویسے ہمارے پاکستان میں پٹھانوں میں بچوں کے نام رکھنے کے لئے کوئی بندش نہیں شیر، باز، شاہین، اسد، الیکشن، ریفرنڈم اور زلزلہ سب چلتا ہے اسی طرح یہاں سعودیہ میں بھی نمر، نمل، اسد، عقاب، بندر، نعیمی اور بکری وغیرہ کی اتنی ہی عزت ہے اور تو اور ایک سعودی کا نام ہم نے ”فینس“ پایا، وجہ تسمیہ کیا تھی پتہ نہ چل سکا۔
یہاں سعودی عرب میں خاندان یا قبیلے کے نام کے بغیر کسی کا نام سننے میں نہیں آتا اور اُدھر ہماری طرف بھی یوسف زئی، آفریدی، اچکزئی اور خٹک قبائل ہیں جو کسی پٹھان کے نام کے ساتھ جھومر کی طرح لازم و ملزوم ہیں۔ سعودی اونٹ کو اپنا بھائی کہتے ہیں، گویا اونٹ کی طرح کینہ پرور بھی ہوتے ہیں اور یوں معافی مشکل ہی سے دیتے ہیں۔ جس طرح ہمارے پٹھان بھائیوں کے خاندانوں اور قبیلوں میں، قبائل کے درمیان خونی لڑائیاں سال ہا سال چلتی رہتی ہیں، ویسے ہی یہاں بھی کئی قبائل میں خونی لڑائیاں، پاکستانی اسٹائل میں چلتی، ختم ہوتی اور پھر شروع ہوتی رہتی ہیں۔ ”خوں بہا اور لڑکی کا ہاتھ“ جس طرح ہمارے والوں کے یہاں بطور جرمانہ دیا جاتا ہے یہاں بھی کہیں کہیں اب بھی چلتا ہے۔
جس طرح سکہ بند، اہالیان کراچی و حیدرآباد کے منہ کے تذکرہ کے ساتھ ہی سانچی یا بنگلہ پان ذہن میں آتا ہے اسی طرح محنتی پٹھانوں کے منہ کا تذکرہ ہو اور نسوار ذہن میں نہ آئے، ناممکن ہے۔ ہمارے لوگ نسوار کی چٹکی داڑھ میں دبا کر زندگی کا مزہ لیتے ہیں جبکہ یہاں کے کچھ لوگ ”قات QAT“ جس کو یہ ”گھات“ بولتے ہیں، کے پتوں کا کونا توڑ کر داڑھ میں دباتے ہیں اور جہاز بنکر، چھوٹی موٹی فلائنگ کا مزہ لیتے ہیں۔ (اہل مصر کی عربی میں ق کو گ پڑھا جاتا ہے یوں قہوہ گہوہ، قات گھات اور قاضی گادھی بن جاتا ہے ) ۔
دس پندرہ سال پہلے کی بات ہے، سعودیہ میں ”قات“ کی قلت تھی اور یمن سے لانے پر پابندی کے ساتھ، لمبی اور کڑی سزا بھی ملتی تھی، مگر دوسری طرف منافع بھی زبردست تھا۔ ایک خان صاحب جو پاک افغان بارڈر پر رہتے ہوئے امپورٹ ایکسپورٹ کے کافی ماہر ہو چکے تھے، اِس میدان میں کود گئے۔ سعودی، یمن بارڈر پر تعینات اہل کاروں نے کچھ عرصے بعد دیکھا کہ ایک صاحب دو گدھوں پر لکڑیاں لاد کر سعودیہ سے یمن جاتے ہیں اور رات کو لکڑیاں بیچ کر صرف ایک گدھے پر واپس آ جاتے ہیں۔
دو تین دن بعد پھر لکڑیاں لاد کر لے جاتے اور واپسی پر ایک گدھا اور لکڑیاں بیچ کر آ جاتے۔ یمن میں گدھوں کی کوئی خاص قلت نہ تھی اس لئے چند ماہ بعد گارڈز کے کان کھڑے ہونا شروع ہوئے۔ انہوں نے ناکہ بندی سخت کر دی مگر کوئی مشتبہ معاملہ ہاتھ نہ لگا۔ اب رات کے محافظوں سے کہا گیا کہ اگر آپ لوگ کوئی خاص واقعہ دیکھیں تو ضرور ڈائری میں لکھیں۔
کچھ عرصے بعد رات کے محافظوں نے انٹری بنائی کہ ایک گدھا بغیر مالک کے یمن سے ہر تین چار راتوں کے بعد سعودیہ کی طرف دوڑتا آتا ہے، اِس طرح جیسے اس کے پیچھے کتے لگے ہوئے ہوں۔ گدھے پر کوئی خاص سامان بھی نہیں ہوتا۔ ایک گدھے کی کمی کا مسئلہ تو یوں حل ہوا!
رات کی ناکہ بندی ڈبل کر کے گدھے کا انتظار کیا جانے لگا، دو تین راتوں کے بعد گدھا آیا، جس کا پیچھا کیا گیا تو وہ ”جیزان“ کے ایک سرحدی گاؤں کے ایک ویران گھر میں آ کر سو گیا۔ اگلے دن وہی ہمارے والے خاں صاحب آئے اور جس وقت وہ گدھے کی پشت پر بندھے موٹے تکیے کو کھول کر اس میں سے روئی کی جگہ بھرے ہوئے قات کے پتے نکال رہے تھے، اپنے عقل مند اور ٹرینڈ گدھے کے ہمراہ دھر لئے گئے۔ دوسری طرف سب سرحدوں پر اطلاع کرا دی گئی کہ اصل بے وقوف گدھے کون ہیں!
واقع مذکورہ کے بعد ہمارے خان صاحبان کے لئے اِن کے دماغوں میں عزت اور بڑھ گئی۔ ویسے یمن اور سعودیہ کی سرحد پر اس طرح کی اسمگلنگ آج تک ہو رہی ہے بالخصوص بھٹکتے اونٹوں کی صورتوں میں جو (جواز السفر یعنی) پاسپورٹ کے بغیر ہری گھاس کی تلاش میں پہلے ہیاں سے ہواں اور پھر ہواں سے ہیاں آتے رہتے ہیں۔
کچھ دن پیشتر، سرکار نے واضح طور پر اخبارات میں یہ اعلان کیا کہ کسی بھی حالت میں اِن بھٹکتے اونٹوں کو ”سعودی۔ یمن“ بارڈر پار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ اعلان ہماری سمجھ میں تو نہیں آیا، آپ کے آیا!
سعودی عرب میں ”پھول گوبھی اور بند گوبھی“ دونوں خاصی بڑی مقدار میں پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود ہمارے ”ایک پارا چناری“ نے صوبہ سرحد سے سعودی عرب آتے ہوئے اپنے بیگج میں ایک کریٹ بند گوبھی کا بھی ساتھ رکھ لیا۔
شلوار کرتے میں ملبوس، مزید نام میں خان اور فلائٹ پشاور کی، سعودی کسٹمز والوں کے لئے ایک آئیڈیل کمبی نیشن تھا اور خان صاحب کو بلا خدمت جانے دینا، اہل جمرک کو گوارا نہ تھا۔ نیچے سے رینڈم دو گوبھیاں لے کر کاٹی گئیں مگر کچھ نہ نکلا بلکہ خاں صاحب نے منہ ہی بنایا۔ کسٹم کے کپتان نے اپنے ایک پاکستانی دوست کو جوال (یعنی موبائل) سے فون کیا اور چالاکی سے غلط بیانی کرتے ہوئے کہا کہ یا اخی! ایک نائجیرین ہے جو ”بیشاور“ سے بند گوبھیاں ساتھ لایا ہے۔ میں نے کاٹا تو دو میں سے کچھ نہیں نکلا، لیکن دال میں کچھ کالا ضرور لگتا ہے! کیا ہو سکتا ہے؟
ہشیار پاکستانی نے کہا کہ تمام بند گوبھیوں کو بیچ سے چاقو مارکر کاٹو اور پھینک دو۔ اگر کچھ نہ نکلے تو گھر جا کر پکا لینا۔ اور پورے قبیلے کو کھلا دینا۔ ساتھ اسواق ربوہ یا عتیقہ منڈی سے پچاس ریال کا نیا کریٹ خرید کر نائیجیرین کے حوالے کر دینا۔
بند گوبھیاں بیچ سے کاٹی گئیں تو پچاس میں سے دس بند گوبھیوں میں، ”سو سو گرام سفید پاؤڈر“ بھرا پایا گیا، یعنی ایک لاکھ ریال کی ایک کلو ہیروئن۔ کسٹم والے کے پچاس ریال تو بچ گئے مگر خاں صاحب کی گردن کو الگ کر کے حفاظت سے رکھنے میں سرکار سعودیہ کے ہزاروں ریال خرچ ہو گئے۔ پتہ چلا کہ جب ہر پھول کا پہلا ڈنٹھل بند ہونے والا تھا۔ تب اس میں تھوڑا تھوڑا پاؤڈر احتیاط سے بھر دیا جاتا۔ کچھ عرصے بعد بعد جب گوبھی مکمل طور پر بند ہو گئی تو اس کے عین وسط میں دس ہزار ریال کی ہیروئن بھی بند ہو گئی۔ عقل ہو تو ایسی!
سن 2002 ء میں ”گردن زنی“ کے مرتکب افراد میں سے الحمدللہ سرکاری طور پر ہمارے ”افغانی اور پاکستانی“ بھائیوں کی تعداد ”چالیس فی صد“ کے آس پاس تھی۔ پاکستانیوں میں بھی اکثریت ان ”پگڑ“ والوں کی ہی ہوگی۔ جن کے پاس پاسپورٹ تو پاکستانی تھے مگر ان کے کھیت ”افغانستان“ میں ہوں گے (یعنی وہ افغانی جن کے پاس پاکستان کے پاسپورٹ ہیں ) ۔
بہرحال اہل عرب کی اکثریت چند سال پیشتر تک تو یہی سمجھتی تھی کہ تمام پاکستانی اسمگلر ہوتے ہیں، لیکن اب یہ تاثر کافی حد تک ختم ہو چکا ہے اور اب وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سارے پاکستانی سمگلر نہیں ہوتے بلکہ سارے پٹھان سمگلر ہوتے ہیں، جن کے پاس پاسپورٹ پاکستانی ہوتے ہیں۔ یوں اب سمگلنگ کے حوالے سے، افغانوں اور پٹھانوں کو سعودیہ میں ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جاتا ہے لیکن یہ امپریشن کیسے بنا، سمجھنا، چنداں مشکل نہیں۔
سڑک پر اگر آپ دو سعودی مرد حضرات کو ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے جاتا دیکھیں تو ان کے بارے میں کوئی ”ایل جی بی ٹی“ والی غلط رائے مت قائم کر لیجیے گا۔ ہمارے خان بھائیوں کی طرح ان کے مرد بھی ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر سڑک پر چلنے کے عادی ہیں، یہی نہیں بلکہ اگر کوئی سعودی آپ کے پاس آ کر آپ کا ہاتھ پکڑ کر تھام لے یا آپ کے بہت زیادہ پاس آ کر (یعنی گھس کر) بات کرنے لگے، تو پریشان مت ہوں یہ ان کے محبت اور اپنائیت کو ظاہر کرنے کا طریقہ ہے۔
ویسے ہمارے والوں کے ہمراہ کوئی دوسرا دوست ساتھ نہ ہو تو یہ اپنا ہی ہاتھ یا کچھ اور پکڑ کر چلنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارے والوں کے کرتے شلواروں کی طرح سعودیوں کے ”تھوب“ (یعنی کرتے ) چونکہ اتنے اکاموڈیٹیو نہیں ہوتے اس لئے یہ بے چارے سر عام اس ”پٹھانی کرتب“ کو کرنے سے قاصر یعنی محروم ہیں۔
جتنی نماز کی پابندی اور اہتمام ہمارے والے خان صاحبان کرتے ہیں اتنے ہی پابند صلات سعودی بھی ہوتے ہیں گویا دونوں مساوی مقدار میں ”نیک“ ہیں۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ پنج وقتہ نمازی اور غیر شادی شدہ سعودی شباب (جوان لڑکے ) بھی اتنے ہی نیک ہوتے ہیں، جتنے ہمارے یہاں گٹے دار نمازی پٹھان یا مساجد کے عمومی مولبی صاحبان، ”نیک“ ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی ان سب کو خاص اپنی رحمت کے سائے میں رکھے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہمارے مقامی مترجم کے بقول صحرا کی قدیم عربی زبان میں ”نیک“ کے معنی کچھ اچھے نہیں ہوتے۔ اور بالعموم نیک لوگوں کا شمار، قوم لوط کے ان شوقین (ایل جی بی ٹی) میں کیا جاتا ہے، جن پر اللہ تعالی نے عذاب نازل کیا تھا۔
آپ سعودیوں سے بات کریں تو ہاں میں ہاں ملانے کے لئے ”اچھا اچھا“ کہنے کی بجائے یہ ”ایوا ایوا“ کرتے رہیں گے، اسی طرح اور اسی رفتار سے جس سے ہمارے پٹھان بھائی ”خا خا“ کی تکرار کرتے رہتے ہیں۔ یہی نہیں بعینہ جس طرح ہمارے والے بات کرتے کرتے انتہائی زور زور سے بولنا شروع کر دیتے ہیں، کہ دوسرے کو یہ گماں ہو کہ صاحب کلام یعنی پٹھان لڑ رہا ہے اسی طرح یہاں بھی یار لوگ آپس میں بات چیت کرتے کرتے کبھی اتنی زور سے بولنا شروع کر دیتے ہیں کہ گماں ہوتا ہے کہ لڑ رہے ہیں۔ جبکہ یہ بھی ان کی اپنائیت اور محبت کا ایک منفرد انداز ہوتا ہے۔ اوپر سے اسی زور زور سے بولنے کے دوران یہ لوگ بات کرتے ہوئے بعض اوقات اتنے نزدیک آ کر، قریب سے اور گھس کر بات کرنے لگتے ہیں کہ نو وارد کو ڈر لگنے لگتا ہے۔ لیکن یہ ان کا اسٹائل ٹھہرا۔
یہی نہیں، شادی بیاہ کی رسومات کو ہی لے لیں، ہمارے اکثر خان قبائل میں بطور مہر لڑکی والے شادی سے پہلے لڑکی کے نام کیش، پلاٹ یا گھر، کچھ نہ کچھ ضرور مانگتے ہیں۔ ورنہ رشتہ نہیں دیتے، یہی کچھ یہاں کی بھی روایت ہے۔ ایک راز کی بات بتلائیں، پاکستان میں رہتے ہوئے عام خیال ہوتا ہے کہ سعودی کالے ہوتے ہیں! غلط۔ اصل سعودی بالعموم عام پاکستانیوں جیسے گندمی، سانولے یا پٹھانوں کی طرح گورے چٹے تو ہو سکتے ہیں، کالے حبشی نہیں۔ یہ اسودی رنگ تو بحیرہ احمر (ریڈ سی) کے دوسری طرف، بر اعظم افریقہ کے رہنے والوں کا خاصہ ہے یعنی اریٹیریا، سوڈان یا ایتھوپیا (سابقہ حبشہ) وغیرہ کے لوگوں کا۔ اگر آپ نے کسی حبشی سعودی کو دیکھا تو اصلاً اور نسلاً وہ سابقہ افریقی رہا ہو گا۔
بعض اصلی سعودی تو اپنے رنگ پر آج بھی اتنا فخر کرتے ہیں کہ معدودے چند کو چھوڑ، خالص قبیلے اور رنگ پر اتنا فخر کرتے ہیں کہ اپنی لڑکی کو، کسی بھی قیمت، کبھی بھی آؤٹ سائیڈر بالخصوص حبشیوں میں نہیں بیاہیں گے (چاہے لڑکی کنواری رہ جائے، ہمارے والوں کی طرح) ۔
شاید اسی لئے ہمارے پیارے نبی ﷺ نے فرمایا تھا، ”نہ عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت ہے اور نہ گورے کو کالے پر“ ۔ اْس وقت، سعودی گورے ہوتے تھے جب کے کالے (بحیرہ احمر کے پار حبشہ یا سوڈان کے لوگ تھے۔ بالخصوص غلام) اور عجمی (معنی گونگا یا اہل عجم یعنی خلیج فارس کے دوسری طرف آج کے ایران، ہندوستان، افغانستان کے لوگ تھے ) ۔ یہ دونوں اصطلاحیں خارجیوں (یعنی غیر سعودیوں ) کے لئے تھیں۔
بہرحال نہ تو ہم غیبت کر رہے ہیں اور نہ بہتان لگا رہے ہیں، مگر یہ ایک المیہ رہا کہ من حیث القوم جہاں ہمیں بہت ہی اچھے سعودی بھائی ملے وہیں اکثریت ایسوں کی ملی جن کو غرور تھا کہ ”اَنا سعودی“ (یعنی میں سعودی ہوں) ۔ غرور او ر تکبر ان کے خون میں رچا بسا آج کا نہیں ہزاروں سال پہلے سے ہے۔ مرد تو مرد، عورتیں بھی اس غرور اور تکبر میں اتنی ڈوبی ہوئی ہیں کہ شادی ہوتے ہی دبلی پتلی سعودی دوشیزہ چند مہینوں میں ہمیشہ کے لئے موٹی بھینس ہو جاتی ہے، مگر اَنا سعودی کے مصداق خارجی اور اجنبی عورتوں کے سامنے ”مجھ سا حسیں ہو تو سامنے آئے“ کی آوازیں غرور اور تکبر میں ڈوبی لگاتی نظر آتی ہے۔
میرے کہے کو چھوڑیں کسی ایسی خاتون سے خود پوچھ لیں جو سعودیہ رہ کر آ چکی ہوں اور ان تکبر بھری نظروں کا سامنا کر چکی ہوں۔
٭٭٭
٭ تھوڑی سی پکچر ابھی بھی باقی ہے۔ اس لئے بقیہ پھر کبھی۔ یہ تحریر 20 سال پرانی ہے۔ جب جمائما خان مسلمان تھیں اور شاید ان کا نام حائقہ خان ہوتا تھا۔ یہ تحریر میری سعودیہ پر لکھے گئے سفرنامہ ”کیف الحال“ کا حصہ ہے۔ جس کا ابتدائیہ یوسفی صاحب سے میں نے زبردستی کہلوایا تھا، کیونکہ لکھنے پر وہ راضی نہ تھے۔ دوسرا پیش لفظ عالی مرتبت عبید اللہ بیگ نے تحریر کیا تھا۔ دونوں کی اللہ تعالی مغفرت فرمائے۔ اس لئے آپ اس تحریر پر تبصرہ کرنے سے پرہیز کریں۔

