پاکستان کرکٹ کا ریورس گیر اور قربانی کا بکرا


پاکستان سپر لیگ 2024 کا اختتام ہوا تو پاکستان کرکٹ ٹیم کے فینز نے سوچا ہو گا کہ اب ہم اپریل 2024 تک پاکستان کی کرکٹ ٹیم اور اس کے کھلاڑیوں کو کھیلتے ہوئے نہیں دیکھ سکیں گے کیونکہ پاکستان سپر لیگ 2024 کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کی پہلی سیریز نیوزی لینڈ سے ہے جب نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کرنا ہے۔ مگر اس سیریز سے پہلے پاکستان کی کرکٹ ٹیم اور اس کے کھلاڑی ہر گزرتے دن کے ساتھ خبروں کی زینت بنتے جا رہے ہیں۔

عماد وسیم کی ریٹائرمنٹ واپس لینے سے خبروں کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ عماد وسیم اور محمد عامر کی ریٹائرمنٹ کے بعد اب پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک بار پھر ریورس گیر لگایا ہے اور صرف ایک سیریز میں ناکامی کے بعد فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی کو کپتانی سے ہٹاتے ہوئے سابق کپتان بابر اعظم کو ایک بار پھر ون ڈے اور ٹی 20 کی کرکٹ ٹیم کا کپتان بنا دیا ہے۔

بابر اعظم کے ایک بار پھر کپتان بننے سے بہت سوالات نے جنم لے لیا ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ بابر اعظم کو جب کپتانی سے ہٹایا گیا تھا تو ان کے ساتھ یقیناً نا انصافی کی گئی تھی۔ اگرچہ بابر اعظم کی کپتانی میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم آئی سی سی کا کوئی ایونٹ اپنے نام نہیں کر سکی تھی مگر پاکستان کی کرکٹ ٹیم ٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل اور فائنل کھیلنے میں ضرور کامیاب ہوئی۔ بابر اعظم ہی کی قیادت میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے پہلی بار ورلڈ کپ کے کسی میچ میں روایتی حریف بھارت کو شکست دی۔

بابر اعظم کی اپنی پرفارمنس بھی اچھی تھی۔ مگر پھر اچانک بابر اعظم سب کی نظروں میں کھٹکنے لگے اور ان کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا۔ جب ٹیم ورلڈ کپ کھیل رہی تھی اس وقت محمد عامر اور عماد وسیم نے جس طرح سے بابر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ بابر اعظم کو کپتانی سے ہٹانے کے صرف چند منٹوں میں شاہین شاہ آفریدی کو پاکستان کی وائٹ بال جب کہ شان مسعود کو ریڈ بال ٹیم کی کپتانی سونپی گئی۔

شاہین شاہ آفریدی جن کی کافی عرصے سے اپنی پرفارمنس اتنی اچھی نہیں تھی ان کو اس طرح سے کپتان بنائے جانے پر کافی باتیں ہوئیں مگر پاکستان کرکٹ ٹیم کے چاہنے والوں نے اس کو بھی قبول کر لیا مگر شاہین شاہ آفریدی بطور کپتان اپنی پہلی سیریز کو یادگار نا بنا سکے۔ اس کے بعد پاکستان سپر لیگ 2024 شروع ہوئی جس میں لاہور قلندرز نے بطور دفاعی چیمپئن حصہ لیا مگر لاہور قلندرز اس ٹورنامنٹ میں صرف ایک ہی میچ جیت سکی۔ لاہور قلندرز کی اس بری پرفارمنس نے شاہین شاہ آفریدی کی کپتانی پر بہت سے سوالات اٹھا دیے۔ اس دوران پاکستان کرکٹ بورڈ میں تبدیلی کی ہوا چلی اور ذکاء اشرف کی جگہ محسن نقوی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بن گئے۔ محسن نقوی نقوی کے چیئرمین بننے کے بعد پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کپتان کی تبدیلی کی باتیں ایک بار پھر زور پکڑ گیں۔

محسن نقوی نے چیئرمین بننے بعد سب سے پہلے پاکستان کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کو ختم کیا اور جو نئی سلیکشن کمیٹی بنائی گئی اس کا کوئی بھی چیئرمین نہیں رکھا گیا۔ اس سلیکشن کمیٹی نے جب کاکول میں لگنے والے کیمپ کے لیے 29 کھلاڑیوں کا اعلان کیا گیا تو حیران کن طور پر کپتان کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس چیز نے مختلف باتوں اور قیاس آرائیوں کو جنم دیا۔ کچھ لوگوں نے شاہین شاہ آفریدی کو ٹی 20 ورلڈ کپ تک کپتان برقرار رکھنے کی بات کی تو وہیں پر کچھ سابق کھلاڑیوں نے محمد رضوان کو کپتانی سونپنے کا کہا مگر اتوار کے روز پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک ریورس گیر لگاتے ہوتے بابر اعظم کو دوبارہ وائٹ بال کی کرکٹ ٹیم کا کپتان بنانے کا اعلان کیا۔

بابر اعظم کے دوبارہ کپتان بننے سے جہاں حیرانی ہوئی وہیں پر کافی مایوسی بھی ہوئی۔ بابر اعظم کو جس طرح سے کپتانی سے ہٹایا گیا صرف ایک ہی سیریز کے بعد بابر اعظم کا دوبارہ کپتانی قبول کرنا کافی حیران کن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ چیز بھی قابل غور ہے اگر اس وقت بابر اعظم کو کپتانی سے ہٹانے کا فیصلہ غلط تھا تو یقیناً اس وقت شاہین شاہ آفریدی کو صرف ایک سیریز کی ناکامی کے بعد کپتانی سے ہٹانا کسی طرح بھی قابل ذکر نہیں ہو سکتا۔ ایسے محسوس ہوتا ہے بابر اعظم کو خوش کرنے کے لیے شاہین شاہ آفریدی کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے؟ میرے خیال میں اگر پاکستان کرکٹ بورڈ کو کپتان تبدیل کرنا ہی تھا تو بابر اعظم کی بجائے محمد رضوان کو کپتان بناتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔

بابر اعظم کے کپتان بننے کے بعد یہ چیز بھی دیکھنی پڑے گی کہ کیا عماد وسیم اور محمد عامر ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں اور اگر وہ کامیاب نہیں ہوتے تو کیا دوبارہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کریں گے؟

 

Facebook Comments HS