مریم نواز ایک حادثاتی لیڈر اور ہمارا مقدر
سنۂ تھا 2013 اور ملک میں نواز شریف کی حکومت قائم ہوئی، جب پاپا کی حکومت ہو گی تو پھر بیٹی اور وہ بھی مریم نواز جیسی لاڈلی تو اس کا معاملات حکومت میں دخل دینا تو بنتا ہی تھا اور ویسا ہی ہوا، خیر نومبر 2013 میں مریم نواز کو بطور چیئرپرسن وزیراعظم یوتھ پروگرام سلیکٹ کر لیا گیا اور اس دوران جو بھی کام ہوا اور یوتھ کے فلاح و بہبود کے کون کون سے منصوبے مکمل ہوئے اور نوجوانان ملت کے دلوں میں انہوں نے کتنا گھر کیا وہ ایک الگ موضوع ہے لیکن میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر ہونے والی مسلسل تنقید کے پیش نظر ایک سال بعد ہی مطلب نومبر 2014 میں اس عہدے سے استعفیٰ دے کر عملی طور پر معاملات سلطنت اور اس جیسے دیگر عوامل سے تقریباً دور ہو گئیں۔
اسی دوران میں ملک میں پاناما کا شور شرابا شروع ہوا اور مریم نواز کی ایک بار پھر سے انٹری شروع ہوئی لیکن اس بار ان کی انٹری بطور سیاسی شخصیت نہیں بلکہ ایک بیٹی کے طور پر انہوں نے اپنے باپ نواز شریف کا ہاتھ پکڑا، لیکن اس دوران میں ایک سیاسی جماعت نے ان پر مسلسل حملے جاری رکھے اگر یہ حملے سیاسی بنیادوں پر ہوتے تو کوئی مضائقہ نا تھا لیکن یہ حملے ان کی ذاتی زندگی پر کیے گئے ان کی کردار کشی کی گئی اور پاکستان میں سوشل میڈیا کی آمد آمد تھی اور سوشل میڈیا پر اس وقت کے ٹرینڈز مریم نواز پر تنقید اور ان کی ذاتی زندگی پر حملے ہی تھے۔
طالبعلم کا اس وقت بھی یہ ہی خیال تھا کے جس طرح کے الزامات مریم پر لگائے جا رہے ہیں اور اس پر زبانی و قانونی حملے کیے جا رہے ہیں ان کا ردعمل ہمیں ایک عدد خاتون سیاسی لیڈر کی شکل میں ملے گا اور اس وقت اسی موضوع پر لکھا گیا میرا آرٹیکل اس بات کا گواہ ہے جس میں طالبعلم نے اپنے ان خدشات کا اظہار کیا تھا۔ اس آرٹیکل (سیاست ہماری وراثت ) میں اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کے پاکستان میں چند خاندان ہیں جن کے لئے سیاست ایک خاندانی کاروبار کی مانند ہے اور باپ کے بعد بیٹا اور پھر اس کا بیٹا یا بیٹی اس کاروبار کو سنبھالتا ہے، جبکہ اس بات کی گواہی مشرف دور میں ہو چکی تھی کیونکہ جب الیکشن لڑنے کے لئے تعلیمی معیار کم سے کم گریجویشن رکھا گیا تھا تو ہم نے پرانے سیاستدانوں کی نئی نسل کو ہی ان کی جگہ الیکشن لڑتے اور اسمبلیوں میں جاتے دیکھا۔
خیر یہ تو قصہ ہوا پرانا حال حاضر کی بات کرتے ہیں تو حالیہ جنرل الیکشن کے فوراً بعد ایک کالم (ملکی سیاست میں نئی صف بندی۔ فائٹر قیادت فرنٹ لائن پر آ گئی ) میں پھر اس بات کا خدشہ ظاہر کیا کے اگر سیاسی جماعتوں نے اپنے ہارڈ لائنر لیڈران کو صوبوں یا مرکز میں کوئی ذمہ داری دی تو وہ ایک دوسرے کے خلاف ہی کام کریں گے اور عوام کی بھلائی کی جانب ان کا دھیان شاید ہی جائے، خصوصی طور پر اس میں مریم نواز کے کردار بابت کھل کر بات کی لیکن ساتھ ہی ساتھ علی امین گنڈا پور کے اسٹانس بابت بھی بات ہوئی، لیکن اگر ہم فقط مریم نواز کی ہی بات کریں جو کے پاکستان کی تاریخ میں پہلی خاتون وزیراعلیٰ بنیں اور پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ اب ان کی جانب دیکھ رہا ہے کے وہ اس صوبہ کے عوام کو کیسے ریلیف مہیا کر سکتی ہیں۔
ادھر دیکھنے والی بات یہ ہے کے انہوں نے سب سے پہلے اپنے چچا یعنی سابق وزیر اعلی پنجاب اور موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف کی پیروی کرتے ہوئے دن رات ایک کرنے کا عہد کیا، اور حلف اٹھانے کے پہلے ہفتہ میں ہی تقریباً 20 پراجیکٹ شروع کرنے کا حکم دے دیا گیا. دیکھنے والی بات ہے کے اب تک حکومت بنے اور حلف اٹھائے ایک ماہ سے بھی کم وقت گزرا ہے لیکن اس دوران میں ابھی تک سب سے بڑا اعلان پورے پنجاب میں صفائی کرنے کا ٹارگٹ بھی ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا، اسی طرح ماہ رمضان میں عوام کو سستا راشن اور ضرورت مندوں کو گھر کی دہلیز پر یا کسی بھی مشکل کے بغیر راشن کی فراہمی یقینی بنانا تھی لیکن اس پر بھی ایسا کوئی موثر نظام نہیں چل سکا۔
پنجاب حکومت کے سرکاری سوشل میڈیا صفحے پر روزانہ کی بنیادوں پر تصاویر در تصاویر تو ہم دیکھتے ہیں کہیں درخت لگائے جا رہے ہیں تو کہیں پولیس سینٹر کا دورہ ہو رہا ہے، کہیں کسی سڑک کا معائنہ ہو رہا ہے تو کہیں کسی پولیس والے کی سرزنش کے ساتھ ساتھ پولیس کا مورال بلند کرنے کی بھی تصاویر و ویڈیوز اپلوڈ ہو رہی ہوتی ہیں۔
آج کل پنجاب پولیس کا تمامتر ڈیپارٹمنٹ پتنگ بازوں اور پتنگ بازی کے کاروبار سے منسلک لوگوں کو پکڑنے پر ہی لگا ہوا ہے لیکن آئے روز کیمیکل ڈور کے پھرنے سے موٹر سائیکل سواروں کی موت اور شدید زخمی ہونا روز کا معمول ہے، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کے پنجاب پولیس ان پتنگ بازوں اور کیمیکل ڈور بیچنے والوں کو پکڑنے اور اس جان لیوا کاروبار کرنے والوں کو سلاخوں کے پیچھے کرنے میں ناکام ہو چکی ہے لیکن مریم نواز صاحبہ موٹر سائیکلوں پر تاریں لگانے اور پولیس کی جانب سے لگائی جانے والی تاروں کی چیکنگ کرتی ہوئی اپنی اور پولیس کی اس ناکامی پر مہر ثبت کرتی نظر آتی ہیں اور ان مواقع کی تصاویر انتہائی فخر سے سوشل، الیکٹرانک، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بڑے فخر سے شیئر کرتی نظر آتی ہیں۔
اگر تو ہمیں ایک ایسا ہی وزیراعلی چاہیے تھا جو سارا زور بس فوٹو سیشن پر لگا رہا ہو تو پھر ملنگ بزدار کو ہی رکھ لیتے، کیونکہ اگر کوئی کام نہیں کرتا تھا تو کم از کم ایسے ہی شو شا کے لئے تصاویر تو نہیں بنواتا تھا۔


