خونی کھیل :کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں


دنیا کے کئی ممالک میں اس مہذب دور میں بھی کچھ ایسے کھیل کھیلے جا رہے ہیں جن سے انسانی جانیں جانا معمول ہے۔ کئی خلیجی ممالک میں اب بھی بچوں کو اونٹوں کی پیٹھ پر باندھ کر ریس کرائی جاتی ہے۔ کئی بچے گر کر اونٹوں کی ٹانگوں تلے کچلے جاتے ہیں۔ دوسرے ممالک کے ساتھ ارض وطن پاکستان میں بھی کتوں کی ریس، لڑائی، اسی طرح ریچھوں، مرغوں اور دیگر جانوروں کی لڑائیاں کرائی جاتیں اور جوا بھی لگایا جاتا ہے۔ انہیں کھیل قرار دیا جاتا ہے مگر یہ کھیل نہیں انسانیت کی تذلیل ہیں۔

اسپین میں اب بھی بُل فائٹنگ سے انسان اور جانور، دونوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ بُل فائٹرز، لال کپڑا لے کر اکھاڑے میں اترتے ہیں تو بپھرے ہوئے سانڈوں کے سینگوں پر اٹھا کر پٹخنے سے اور کبھی ان کے پاؤں تلے کچلے جانے سے جان گنوا بیٹھتے ہیں۔ کئی بار غصے سے آگ بگولا سانڈ شائقین پر چڑھائی کر دیتے ہیں۔ ایسے کھیل جن سے جانی نقصان ہو، وہ کھیل نہیں، ظلم ہے۔ پاکستان میں پتنگ بازی خونی کھیل بن گیا ہے۔ پتنگ اڑانے کا جنون دہائیوں تک مذہبی حلقوں کی سخت مخالفت کے باوجود جاری رہا مگراس کھیل میں ملٹی نیشنل کمپنیاں، بڑے بینک، جنرلز، بیوروکریٹس، میڈیا گروپس، فلم اور اسپورٹس اسٹارز اور یہاں تک کہ بسنت کے انتظامات کرنے والے ادارے شامل ہو گئے اور یوں مقابل کو نیچا دکھانے اور ان کی پتنگ کاٹنے کے لئے ممنوعہ مٹیریلز، قاتل ڈوروں کا استعمال شروع ہو گیا۔ پتنگ بازی کو خونی کھیل بنانے کی اصل وجہ ممنوعہ دھاتی ڈور ہے۔ یہ دھاتی ڈور پتنگ تو کاٹتی ہی ہے لیکن بعد ازاں یہی کٹی ہوئی ڈور کسی بھی راہ گیر یا موٹرسائیکل سوار کا گلا بھی کاٹ دیتی ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ دھاتی ڈور سے کٹ کر جاں بحق ہونے والے افراد کی اکثریت ان لوگوں کی ہے جو نہ پتنگ اڑاتے ہیں اور نہ ہی ان کا مقصد پتنگ لوٹنا ہوتا ہے۔ حال ہی میں فیصل آباد میں قاتل ڈور نے ایک 22 سالہ نوجوان آصف اشفاق کی اس وقت جان لے لی جب وہ گھر سے افطاری کا سامان لینے موٹر سائیکل پر نکلا۔ فوٹیج میں ڈور پھرنے کے بعد آصف کو موٹر سائیکل سے گرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ جس کی موقع پر ہی موت واقع ہوجاتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آصف کی عید سے چار روز بعد شادی تھی۔ ”یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا“ کے مصداق، ایسا قتل ہے، جس کے قاتل ملیں گے نہ 302 کے تحت مقدمہ درج ہو گا، حالانکہ اِس پر دہشت گردی کی دفعہ لگنی چاہیے کہ اس سے پورے معاشرے میں خوف و دہشت کی فضاء پھیل گئی ہے۔

سرگودھا میں بھی ایک بچہ لوہے کا پائپ ہائی وولٹیج تاروں سے ٹکرانے کے باعث پتنگ لوٹتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔ اس سال یہ کھیل اب تک کم و بیش سات افراد کی جانیں لے چکا ہے۔ پنجاب میں ڈور پھرنے سے ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے گزشتہ 2 ماہ کے دوران ڈور سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چار سے زائد ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں میں بھی 2 درجن سے زائد افراد شامل ہیں وقوعہ کے روز اس ہلاکت کے علاوہ فیصل آباد میں ہی 5 افراد کے زخمی ہو نے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔

ہلاکتوں کا یہ سلسلہ گزشتہ کئی سالوں سے جا ری ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند سالوں کے دوران 200 سے زائد افراد قاتل ڈور کا شکار ہوئے ہیں۔ 2004 میں 9 افراد۔ 2005 میں 19، 2007 میں 10 افراد خونی کھیل کی بھینٹ چڑھے جبکہ 700 سے زائد زخمی ہوئے، جس کے بعد 2009 میں اس تہوار پر مکمل پابندی کے احکامات جاری کیے گئے۔ زیادہ تر ہلاکتیں گلے پر مانجھا لگی ڈور پھرنے، دھاتی تار والی پتنگ، کرنٹ لگنے، ہوائی فائرنگ اور پتنگ لوٹنے کے دوران چھت سے گرنے اور گاڑی کے نیچے آنے سے ہوتی رہی ہیں۔

سرکاری سطح پر پتنگ بازی پر پابندی عائد ہونے کے باوجود، معصوم بچوں اور بے گناہ افراد کے گلے کاٹنے والی قاتل ڈور سے پتنگ بازی کا سلسلہ سرعام جاری ہے۔ فیصل آباد سانحہ کی ویڈیو دیکھ کر بڑے بڑے حوصلے والے رو پڑے۔ جائے حادثہ پر جمع ہونے والے لوگ تک سکتے میں آ گئے۔ والدین کی تو دنیا اجڑ گئی۔ مگر ان باتوں کا اس ڈور کو تیار کرنے والے قاتلوں پر کوئی اثر نہیں ہونا۔

اس ہلاکت سے پورے معاشرے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، کہ پابندی کے باوجود قاتل ڈور اور پتنگیں بنانے والے کیسے آزادی سے کاروبار کر رہے ہیں؟ حکومت کچھ فعال ہوئی ہے اور پولیس کے کریک ڈاؤن کے بعد صورتحال میں کچھ بہتری بھی آئی ہے۔ مگر کچھ عرصے بعد پھر سب بھول جائیں گے اور قاتل ڈور کا کاروبار یونہی چلتا رہے گا۔

آخر کب تک ہمارے بچے ہمارے ہاتھوں میں اس قاتل ڈور کی وجہ سے دم توڑتے رہیں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازنے اس سانحہ کے بعد پنجاب بھر میں ڈور اور پتنگیں تیا ر کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔ والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قاتل کھیل میں اپنے بچوں کو حصہ لینے سے روکیں۔ انتظامیہ دھاتی ڈور بنانے والوں کے خلاف سیدھے سبھاؤ قتل یا دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کرے۔ صرف یہی نہیں انہیں کڑی سزا بھی دے تو شاید اس وبال سے جان چھوٹ سکے۔ موجودہ قوانین میں سزائیں کم ہیں اس کے لیے مکمل قانون سازی کی جائے اور قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

حکام اس خطرناک کھیل کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کریں۔ اس سلسلے میں پولیس کو زیادہ متحرک کردار ادا کرنے اور اس کی نگرانی کی قابلیت کو بڑھانا ضروری ہے۔ ڈرون کیمرے اس کام میں خاصے مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔ کریک ڈاؤن کے لئے فضائی نگرانی کے کم خرچ جدید آلات سے مدد لی جائے تو پولیس نہ صرف پتنگ بازی کے مرتکب افراد کی لوکیشن کا بہ آسانی پتہ چلا سکتی ہے بلکہ ویڈیو اور تصویری شہادتیں بھی مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں معاون و مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس خونی کھیل کو روکنے کے لیے شیر شاہ سوری فارمولے کی ضرورت ہے۔

ایک مرتبہ شیر شاہ سوری کے سامنے ایک قتل کا مقدمہ لایا گیا۔ اس نے مقدمہ سنا اور دربار میں موجود ایک شخص سے کہا کہ وہ دو آدمی بھیج کر موقع واردات کے آس پاس کسی درخت کو کٹوائے اور اس علاقے کے جو سرکاری عامل اس درخت کے کاٹنے کی اطلاع پاکر موقع پر آئیں، انہیں پکڑ کر ہمارے حوالے کر دیں۔ دو آدمی موقع پر پہنچ کر درخت کاٹ ہی رہے تھے کہ اس علاقے کے ذمہ داران نے انہیں آن پکڑا اور لے کر شیر شاہ سوری کے سامنے حاضر ہو گئے۔

شیر شاہ سوری نے ذمہ داران سے کہا کہ تمہیں درخت کٹنے کی تو خبر ہو گئی لیکن ایک انسان کی گردن کٹ گئی اور تم بے خبر رہے۔ قاتل پیش کرو ورنہ سزا میں تم قتل کر دیے جاؤ گے۔ وہ لوگ فوراً گاؤں لوٹے اور تین دن کے اندر اندر قاتل پیش کر دیا۔ اس فارمولے کے بغیر اس خونی کھیل کا سدباب ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ ہمارے ہاں جس ایس ایچ او کو وقوعہ کا ذمہ دار قرار دے کر معطل کیا جا تا ہے جلد ہی اس کی بحالی اور کسی نہ کسی تھانے میں تعیناتی بھی ہو جاتی ہے۔ ایسے میں جرائم کی روک تھام دیوانے کا خواب ہے۔ کیا اسی طرح انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا رہے گا اور مہذب کہلانے والے اس غیر مہذب طرزِ عمل کے مظاہروں پر خاموش تماشائی بنے رہیں گے :

کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments