جو بھی اس پیڑ کی چھاؤں میں گیا بیٹھ گیا
سردیوں کا اختتام تھا، اسکول سالانہ نتائج کے اعلانات کر رہے تھے، ایسے ہی ایک دن، میں بھی اپنی والدہ کے ہم راہ اپنے اسکول (نارووال پبلک اسکول) پہنچا اور نتیجہ حاصل کیا۔ میں اس وقت ششم جماعت کا طالب علم تھا اور اِس اسکول میں میرا یہ پہلا نتیجہ تھا۔ اُس روز پہلی مرتبہ میں نے اپنے ہم جماعت مصدّق ایاز کے والد گرامی کو دیکھا۔ یہ اس صدی کے پہلے عشرے کا آغاز تھا۔ وہ دھیمے مزاج کی مَرَنجاں مَرَنج شخصیت محسوس ہوئے، ایک ایسا شخص جو خاموش رہتے ہوئے بھی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
یادِ ماضی بھی عجب شے ہے! اب جب ماضی کے دریچوں میں جھانکتا ہوں تو بہت سی یادیں قطار اَندر قطار سامنے چلی آتی ہیں اور بہت سی دُھندلا چکی ہیں۔ اب سوچتا ہوں کہ انسان اگر کسی شخص کی قدرومنزلت کا اندازہ بروقت کر لے یا جان پائے کہ ان سے مراسم مستقبل میں کیا رُخ اختیار کریں گے تو بہت سے احباب سے بہتر انداز میں بہرہ ور ہو سکیں، لیکن شاید یہی زندگی کی خوب صورتی ہے کہ وہ ہر موڑ پر اپنا نیا رنگ سامنے لاتی ہے۔
اسکول میں گزرنے والے بعد کے برسوں میں مصدّق کے والد صاحب کو دیکھنے اور رسمی علیک سلیک کے خاصے مواقع ملے، اسکول کی کچھ تقریبات میں وہ بطور ِمہمان بھی شرکت کرتے پائے گئے۔ اسی زمانے میں معلوم ہوا کہ وہ پی ایچ۔ ڈی کر رہے ہیں۔ اس وقت زندگی میں یہ دُوسرا موقع تھا جب کسی ایسے شخص کے متعلق جانا جو پی ایچ۔ ڈی کر رہا ہو۔ بچپن میں یہی جانتے تھے کہ یہ اعلیٰ ترین تعلیم ہے اور یوں میں مصدّق کے والد کا خاموش گرویدہ ہو گیا۔
آنے والے کسی برس میں پتا چلا کہ انھوں نے ”مشفق خواجہ: احوال و آثار“ کے عنوان سے اپنا پی ایچ۔ ڈی کا مقالہ مکمل کیا ہے (یہ مقالہ فروری 2021ء میں قرطاس سے شائع ہوا) اور اب وہ ڈاکٹر ہو گئے ہیں۔ مشفق خواجہ نابغۂ روزگار شخصیت تھے، جن کا انتقال اُس سال ہوا جب ہم دسویں جماعت کے طالب علم تھے۔ اُس وقت تک میں نے خامہ بگوش (مشفق خواجہ کا قلمی نام) کے چند ایک کالم ہی پڑھ رکھے تھے۔ بعد میں خواجہ صاحب کی زندگی اور ادبی و علمی خدمات تب مجھ پر وا ہوئیں جب میں بھی اُجالے بانٹنے والے قافلے سے مستفید ہوا۔
وقت کے ساتھ میرے علم میں یہ بھی اضافہ ہوا کہ ڈاکٹر صاحب ایک عمدہ شاعر بھی ہیں۔ شاعری کے ساتھ وہ محکمہ تعلیم میں بھی ترقی کی منزلیں طے کر رہے تھے۔ ابتدا میں ایچی سن کالج کا حصہ رہے اور پھر محکمۂ تعلیم پنجاب کا حصہ بنے۔ ڈاکٹر صاحب نے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے لیے بھی گراں قدر خدمات سرانجام دیں اور بہت سی کتب تحریر کیں (جن میں اُردُو جماعت اوّل، اُردُو کی ساتویں کتاب، اُردُو جماعت ہشتم، بہار اُردُو نہم اور ایک گریجویشن سطح کی کتاب ”اُردُو اور اُس کی تدریس“ شامل ہیں ) ۔ میرا یونی ورسٹی کا زمانہ راول پنڈی میں گزرا، جب کہ مصدّق نے لاہور اور فیصل آباد کی جامعات سے تعلیم حاصل کی۔ اس دوران میں باہمی روابط میں کمی کے باوجود ڈاکٹر صاحب کی علمی و ادبی کاوشوں کی گاہے گاہے خبریں ملتی رہتی تھیں۔
یونی ورسٹی سے فراغت کے بعد ، میں نارووال واپس آ گیا اور یہاں ایک نجی تعلیمی ادارے (حسن سکالرز پبلک اسکول) کا حصہ بن گیا۔ میری خوش قسمتی کہ ڈاکٹر صاحب اس وقت تک اسی ادارے کی ہمسائیگی میں سکونت اختیار کر چکے تھے اور ادارے کے رُوح و رواں جناب احمد سعید الحسن کے ساتھ بھی قریبی تعلقات رکھتے تھے بلکہ یوں کہوں کہ احمد سعید الحسن صاحب کے اساتذہ میں سے ہیں تو غلط نہ ہو گا۔ وقتاً فوقتاً ڈاکٹر صاحب ادارے کی تقریبات اور ورکشاپس کا حصہ بنتے رہے، جہاں مجھ ناچیز کو اُن سے فیض حاصل کرنے کے مواقع میسر آئے۔ اب مجھے ان کی پیڑ کی طرح تناور شخصیت کو زیادہ قریب سے جاننے کا موقع ملا اور یہ احساس اکثر تنگ کرتا کہ میں اُن سے اُتنا مستفید نہ ہو سکا جتنا مجھے ہونا چاہیے تھا۔
بل گیٹس نے رچرڈ فائنمین کے متعلق لکھا ہے ”The greatest teacher I never had“ اور اکثر وہ اس قلق کا اظہار کرتے ہیں کہ انھیں فائنمین کی باقاعدہ شاگردی حاصل نہ ہو سکی۔ ڈاکٹر صاحب، جنھیں دُنیا ڈاکٹر محمود احمد کاوش کے نام سے جانتی ہے، کے معاملے میں میری رائے بھی کچھ ایسی ہی ہے، لیکن میں خود کو بل گیٹس کی نسبت قدرے خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے ڈاکٹر صاحب کو جاننے اور مختلف مواقع پر اُن کی صحبت سے فیض یاب ہونے کے مواقع میسر آئے۔
ڈاکٹر صاحب کے رُخ ِروشن کے بہت سے پہلوؤں سے مزید شناسائی جون 2020ء میں ہوئی، جب اُن کی خاکوں پر مشتمل کتاب ”قافلے اُجالوں کے“ شائع ہوئی۔ اِس میں ڈاکٹر صاحب نے اپنے والدین، شریک حیات، چند عزیز و اقارب، اور اپنے چند اساتذہ کے خاکے بھی شامل کیے اور دل کا سب سے عمیق گوشۂ راز اپنے قارئین کے ساتھ بانٹا۔ ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر نے اس کتاب متعلق لکھا ہے کہ ”اس کتاب میں اتنی ادبی خوبیاں ہیں کہ یہ خود اپنا مرتبہ منوا لے گی“ ۔
2020ء کے آغاز میں ڈاکٹر صاحب کی مرتب کردہ ”مصاحبات مشفق خواجہ“ اور ”اُردُو کی مختصر آپ بیتیاں : مشفق خواجہ“ سے میں پہلے ہی مستفید ہو چکا تھا۔ مشفق خواجہ کی تحریر کردہ یہ مختصر آپ بیتیاں اور اُن کے متعلق ڈاکٹر محمود احمد کاوش کا مضمون ”کتاب سے پہلے“ بار ہا پڑھے جانے کے لائق ہے، ڈاکٹر صاحب نے اس کتاب کے حواشی جس عرق ریزی سے لکھے ہیں، وہ تحسین کے شایاں ہے۔
ڈاکٹر محمود احمد کاوش کو اپنی دھرتی سے گہرا لگاؤ ہے جس کا اندازہ قاری کو اُن کی تحریروں سے بخوبی ہو جاتا ہے۔ یہ اسی لگاؤ کے سبب ہے کہ اُنھوں نے ضلع نارووال سے تعلق رکھنے والے گوہر نایاب تلاش کیے اور نئی نسل کو اُن کے کام سے متعارف کروایا۔ 2021ء میں انھوں نے راجندر ناتھ رہبرؔ کے منتخب کلام کو مرتب کیا اور شائع کروایا۔ رہبرؔ 1931ء میں شکر گڑھ میں پیدا ہوئے اور شکر گڑھ ہی سے میٹرک تک کی تعلیم حاصل کی۔ اس کتاب میں ڈاکٹر صاحب کا مضمون ”خوشبو بکھیرتی شاعری“ اہم دستاویز ہے۔
رہبرؔ کی شاعری کو اُنھوں نے عصری حسیت سے معمور قرار دیا ہے۔ 2021ء ہی میں راشد اشرف کے زندہ کتابیں سلسلہ کے تحت رتن سنگھ کی آپ بیتیاں شائع ہوئیں تو ان کے لیے بھی ڈاکٹر صاحب نے طویل مضمون ”جنم بھومی سے محبت کی ایک انوکھی مثال“ لکھا۔ یہ ڈاکٹر صاحب کی نارووال کے ادبا سے محبت کا ثبوت ہے۔ رتن سنگھ نارووال کے قصبے داؤد میں پیدا ہوئے اور خالصہ ہائی اسکول نارووال سے تعلیم حاصل کی۔ یہی خالصہ اسکول بعد میں نارمل اسکول اور پھر ٹیچرز ٹریننگ کالج بنا اور اِس وقت قائداعظم اکیڈمی فار ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ بن چکا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اسی ادارے کی سربراہی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
جنوری 2022ء میں ڈاکٹر صاحب نے علمی و ادبی شخصیات کے احاطے کو مزید وسیع کیا اور نارووال کے ایک اور سپوت کدار ناتھ شرما کی آپ بیتی کا انگریزی سے ترجمہ ”یکہ و تنہا: کدار شرما“ کیا اور شائع کروایا۔ ڈاکٹر صاحب کا اس کتاب کا محنت طلب حصول، ایک دل چسپ قصہ ہے اور اس کا رواں ترجمہ اُن کی اُردُو کے ساتھ انگریزی زبان پر دست رس کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
مشفق خواجہ کے حوالے سے نصف درجن مزید کتب ”مشفق خواجہ: احوال و آثار“ ، ”سلسلۂ مکاتبت“ (رشید حسن خاں اور مشفق خواجہ کی دوطرفہ مراسلت) ، ”نگارشاتِ مشفق خواجہ“ ( دیباچے اور فلیپ) ، مکاتیب ِ قاضی و مشفق ”،“ مکتوباتِ مشفق خواجہ بنام ڈاکٹر اورنگ زیب عالم گیر ”اور“ مکتوباتِ مشفق خواجہ بنام پروفیسر سیّد سعید احمد ”اب تک سامنے آ چکی ہیں۔
اُردُو اَدب کی تعلیم و ترویج کے میدان میں ایک ممتاز شخصیت ڈاکٹر محمود احمد کاوش برسوں کی خدمات کے بعد 4 /اپریل 2024ء کو ریٹائر ہونے والے ہیں۔ علمی و ادبی حلقوں میں اُن کا سفر اور نارووال میں قائد اعظم اکیڈمی فار ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ میں بطور پرنسپل اُن کی خدمات نے تعلیم اور اُردُو اَدب کے منظر نامے پر ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔
اپنے شان دار کیرئیر کے دوران، ڈاکٹر کاوش نے تدریس و ادب دونوں میں مثال قائم کی ہے۔ اُردُو میں پی ایچ۔ ڈی کے ساتھ، وہ اِس زبان کی باریکیوں، اِس کے بھرپور ادبی ورثے اور اِس کی ثقافتی اہمیت کے بارے میں گہرا اِدراک رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے طویل کیرئیر کے دوران نہ صرف علمی گفت گو کو تقویت بخشی ہے، بلکہ اَن گنت طلبہ کو اُردُو ادب کی گہرائیوں کو تلاش کرنے کی ترغیب بھی دی ہے۔ نارووال میں قائداعظم اکیڈمی فار ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ کے پرنسپل کے طور پر، ڈاکٹر کاوش نے ادارے کو جدت اور اختراع کی روشنی میں ڈھالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ان کی قیادت میں اکیڈمی نے فکری ترقی اور علمی فضیلت کے لیے سازگار ماحول کو فروغ دیا ہے۔ تعلیم کے لیے اُن کے ویژن نے اُن کی غیر متزلزل لگن کے ساتھ، اس دروازے سے گزرنے والے متعدد طلبہ کی زندگیوں کو بدل دیا ہے۔ اپنے انتظامی فرائض کے علاوہ، ڈاکٹر کاوش ایک قابل مصنف اور محقق بھی ہیں۔ اُردُو اَدب کے حوالے سے اُن کی خدمات کا اجمالی ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔ اُن کے کئی تحقیقی مقالے ملکی اور غیر ملکی جرائد کی زینت بن چکے ہیں۔ کوئی ایک درجن کتابیں اشاعت کی راہ دیکھ رہی ہیں۔
ڈاکٹر کاوش کا کام اُردُو زبان کے ساتھ اُن کی گہری وابستگی اور اَن تھک جستجو کی عکاسی کرتا ہے۔ اُنھوں نے اُردُو زبان اور ادب کے تحفظ اور فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اُنھوں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ آنے والی نسلیں اس شان دار ثقافتی ورثے سے جڑی رہیں۔ اپنے لیکچرز، سیمینارز اور ادبی کاوشوں کے ذریعے اُنھوں نے طلبہ میں اُردُو کے متعلق نئی دل چسپی پیدا کی ہے۔ جیسے ہی ڈاکٹر محمود احمد کاوش اپنے ممتاز کیرئیر کو الوداع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، تعلیم سے حد درجہ لگاؤ اور اُردُو اَدب سے والہانہ عشق۔ یہ اُن کی میراث ہے۔ اُن کے چاہنے والے اور شاگرد اُن کی اِس میراث کی نہ صرف حفاظت کریں گے، بلکہ اسے اگلی نسلوں تک منتقل بھی کریں گے۔
کسی نے سچ کہا ہے : ایک عظیم اُستاد کے ساتھ گزرا ایک دن، ہزار دن کے مستعد مطالعے سے بہتر ہے۔ آخر میں اس شعر پر اس تحریر کا خاتمہ کرنا چاہوں گا:
یوں نہیں ہے کہ فقط میں ہی اسے چاہتا ہوں
جو بھی اس پیڑ کی چھاؤں میں گیا بیٹھ گیا

