ناول بے چارے لوگ کا تعارف و جائزہ


Shahzad Hussain Bhatti Lahore

ناول کے مصنف فیودر میخائلو وچ دستوئیفسکی ( 1821۔ 1881 ) روس کے دارالحکومت ماسکو میں پیدا ہوئے۔ والد گرامی ایک خیراتی اسپتال میں ڈاکٹر تھے گھریلو حالات بچپن سے ہی عدم خوش حالی کا شکار تھے۔ جوان ہوئے تو سینٹ پیٹرز برگ کے فوجی انجینئرنگ اسکول سے گریجویشن کی اور وزارتِ انجینئرنگ سے وابستہ ہو گئے۔ بوجہ عدم دلچسپی اس نوکری سے مستعفی ہوئے اور اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا۔ آپ روسی ادب کے نامور ناول نگار، افسانہ نگار، اور فلسفی ہیں جن کے کام کی وجہ سے دنیائے ادب و فلسفہ کے نامور ناقدین متاثر رہے۔

ترقی پسند سیاسی حلقے سے تعلق داری کی بنیاد پر اُن پر مقدمہ بھی چلایا گیا جس میں انہیں موت کی سزا سنائی گئی لیکن پھر اس سزا کو جلا وطنی میں بدل دیا گیا۔ یہ ناول دستوئیفسکی کی پہلی ادبی کاوش ہے جس نے منظرِ عام پر آتے ہی اُسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ وہ ساری زندگی کسمپرسی سے نبردآزما رہے اور 9 فروری 1981 کو سینٹ پیٹرزبرگ میں انتقال کر گئے۔

بے چارے لوگ دستوئیفسکی کا پہلا ناول ہے جو 1844 ء سے 1845 ء کے درمیانی عرصہ میں تحریر کیا گیا تھا۔ دستوفئیسکی جب یہ ناول تحریر کر رہے تھے تو وہ اپنے اسراف طرز زندگی اور جوئے کی لت کی وجہ سے مالی پریشانیوں سے بھی نبرد آزما تھے۔ یہ ایک خطوطی ناول ہے جو دو مرکزی کرداروں ماکاردے وشکن اور وار وارا الیکسئی ونا کے درمیان خطوط کے تبادلے پر مبنی ہے۔ ناول میں غربت سے تنگ لوگوں کی زندگیوں، امیر لوگوں کے ساتھ ان کے تعلقات اور انسان کی ادبی فطرت کے مشترکہ پہلوؤں کو پیش کیا گیا ہے۔

کہانی میں خطوط کے ذریعے تفصیلی بات چیت کو جاری رکھا جاتا ہے۔ ماکاردے وشکن اس امید سے اپنی کمائی سے بچت کر کے سستے تحفے خرید کر الیکسئی کو بھیجتا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کے بارے میں بہتر محسوس کر سکے اور بے زار نہ ہو۔ الیکسئی ونا دیہات میں رہنے والی لڑکی ہے اور جب اس کے والد کی نوکری چھوٹ جاتی ہے تو وہ مجبوراً سینٹ پیٹرز برگ چلی آتی ہے۔ وہ شہری زندگی سے نالاں ہے اور ہر روز اپنی دیہی زندگی پر نوحہ کناں ہے جہاں وہ سکون سے رہتی تھی۔ دونوں کے درمیان گہری لیکن عجیب دوستی اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک الیکسئی ونا ادب میں اپنی دلچسپی کھو نہیں دیتی اور جب تک ایک امیر رنڈوا شادی کے لیے اس کا ہاتھ نہیں مانگ لیتا۔

ناول کے پلاٹ سے کچھ ماضی کی کہانیاں بھی نتھی کی گئی ہیں جن سے اس خستہ حال صورت حال کو مزید جاننے میں مدد ملتی ہے۔ ان پسِ پردہ کہانیوں کے منسلک ہو جانے سے مزید کردار بھی منظرِ عام پر آتے ہیں جس سے قاری کی دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے قاری مزید رازوں سے آشنا ہونے لگتا ہے۔

یہ ناول روسی حقیقت پسندی کی تحریک کے ابتدائی ایام میں تخلیق کیے گئے روسی ادب کا اہم حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ مصنف اس ناول میں شروع سے آخر تک غربت کا سامنا کرنے والے افراد کی جذباتی جدوجہد پر اپنی مضبوط گرفت بنائے رکھتا ہے۔ اس ناول کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں محبت کو واحد اس نقطہ نظر سے پیش کیا گیا ہے جو غربت سے داغدار ہے۔ عزت کی خواہش سے لے کر عزت کے ساتھ زندگی گزرنے تک ’بے چارے لوگ‘ واقعی ایک منفرد کام ہے جو قاری کو متاثر کرتا ہے۔

کسمپرسی کی سی حالت، تنہائی اور افسردگی کے نتیجے میں طاقت کا غلط استعمال اور ایک بے عیب عورت کی قابلِ رحم بے بسی، کہانی کو تمام تر باریکیوں کے ساتھ سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ جب دستوئیفسکی نے یہ ناول تحریر کیا اس وقت اس کی عمر صرف 22 برس تھی۔ اتنی کم عمری میں اس طرح کا اسلوب اختیار کرنا کسی مہارت سے کم نہیں۔ اس طرح کا کام صرف وہ شخص ہی تخلیق دے سکتا ہے جس نے غربت کا نا صرف قریب سے مشاہدہ کیا ہو بلکہ غربت کی زندگی گزارنے کا تجربہ بھی رکھتا ہو۔ یقیناً یہ ایک باصلاحیت نوجوان کا ماہرانہ کام ہے۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments