کیفے ڈی خان


بشارت صاحب کا دفتر ہماری اکثر آماج گاہ ہوتا ہے۔ گو ہم دونوں کی دنیا علیحدہ ہے۔ مگر دوستی بہت گہری اور فہیم ہے۔ کل ان کے ہاں نعیم خان صاحب آئے تھے۔ ارب پتی مہاجر ہیں۔ چار ممالک میں دس ہوٹل ہیں۔ مصر ہیں کہ بیرونی دنیا میں چکن تکہ انہی نے متعارف کرایا۔

ہارن پور بھارت میں دادا نے 1936 میں کیفے ڈی خان بنایا۔ چکن تکہ ان کی ایجاد ہے۔ بٹوارے پر لاہور آ گئے۔ پنجاب سیکرٹریٹ کی کینٹین ان کے والد صاحب کی تھی۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے پڑھے ہیں۔ کراچی 1955 میں آ گئے۔ ان کی کیفے ڈی خان کا بہت چرچا تھا۔ پہلے یہ بولٹن مارکیٹ پر تھا جہاں اس وقت وزیر اعظم فیروز خان نون اکثر نو بجے آ جاتے تھے۔ ہوٹل سے میل ڈیڑھ میل کی دوری پر موجودہ گورنر ہاؤس ہے ان دنوں وہاں گورنر جنرل اور صدر کا ڈیرہ ہوا کرتا تھا۔

تکہ کھانے آنے والوں میں شہاب صاحب بھی تھے۔ کہتے ہیں کہ شہاب صاحب کو دیکھ کر لگتا نہ تھا کہ اتنا عاجز بے نشان اور سادہ مزاج کا شخص ایسا طاقتور بیوروکریٹ ہے۔

ہم نے گرہ لگائی کہ باتھ آئی لینڈ میں پی آئی ڈی سی کے فلیٹوں میں قیام تھا۔ موٹر رکشہ جسے کراچی کی گلی کے محاورے میں پھٹ پھٹی کہتے تھے، سفر کرتے تھے۔ شور بہت ہوتا تھا۔ جب اس میں سوار آتے تو ناہید مرزا جنہیں دیر تک سونے کی عادت تھی، انہوں نے کار ایڈوانس دلوا دیا اور یوں پھٹ پھٹی سے جان چھوٹی۔

یہ سادگی کے زمانے تھے۔ وزیر اعظم چوہدری محمد علی کی بیگم مہمانوں کے لیے پھلکے خود بناتی تھیں۔ علوی صاحب کے دور صدارت میں صدارتی محل کا خرچہ پاکستان کے تعلیم کے بجٹ جتنا تھا۔

شہاب صاحب کے ساتھ اکثر رئیس امروہوی، ابن انشا، احمد بشیر اور کبھی کبھار جون ایلیا ہوتے۔ ان کی سب سے زیادہ رفاقت شان ال حق حقی کے ساتھ ہوا کرتی۔ ایک کونے میں بیٹھ کر Without throwing weight یہ سب اپنا ذہنی مکالمہ جاری رکھتے۔

مجیب، بھٹو، مسرت نذیر اور اداکارہ پنا سے نعیم خان کی بہت دوستی تھی۔ پرانی وضع کے انسان ہیں۔ سرد و گرم چشیدہ۔ جب کسی خاتون کا نام یا احوال بیان ہوتا تو اس ذکر کو احتیاط اور لحاظ کے مخملیں ملبوس میں ڈھانپ دے۔

کپتان کی جن بے شمار خوبیوں کے وہ گرویدہ تھے ان میں سب زیادہ یہ بھی تھی کہ وہ اپنے نام سے جڑی کس خاتون کا ذکر نہیں کرتا۔

I hate the man who gossips about his women.

ہم نے کہا کہ پنا ناچتی بہت اچھا تھی۔ کہنے لگے آپ چال دیکھتے تو فدا ہو جاتے۔ بابرہ شریف کو بھی اس وقت دیکھا جب وہ سنہ 1974 میں برق صابن کے اشتہار میں آئی۔ تینوں بہنیں، فردوس، فاخرہ اور بابرہ سے بھی خاصی علیک سلیک تھی۔ فردوس کی شادی لاڑکانہ کے ایک مشہور وڈیرے سے بھی ہوئی تھی

مجیب کو بہت عمدہ انسان کہتے تھے۔ عاجزی سادگی کا پیکر مقبول بہت تھا مگر معاملہ فہمی نہیں تھی۔ اپنے کارڈ جلد کھول دیتا تھا مگر بنگالی اس پر فدا تھے۔ بھٹو کے لیے ان کے پاس مناسب الفاظ نہیں تھے۔ ان کے کہنے کے مطابق جرنیلوں کے پیار میں اور اپنی کرسی کے چکر میں جلدی کر بیٹھا۔ البتہ سائیں غلام مصطفے جتوئی کی شخصیت کے محاسن کے دلدادہ تھے۔ کہتے تھے واقعی طبیعت رئیس والی تھی مگر مجیب کی طرح وہ بھی ایک سادہ فطرت انسان تھے گو اس کے برعکس انہیں زندگی کو عمدہ انداز میں برتنا خوب آتا تھا۔

ایک اپارٹمنٹ پر بھٹو، حفیظ اور دیگر وڈیرے عیاشی کرتے تھے۔ جہاں یہ تکہ لے کر جاتے تھے۔ ایک مشہور گلوکارہ کی اداکارہ ماں بھی وہاں اکثر پائی جاتی۔ یہ ساٹھ کی دہائی تھی۔ کراچی پر ہم ان کی اور وہ ہماری معلومات پر حیران تھے۔ سو سے اوپر راز بیان کیے۔ ہم نے معصوم ترین بیان کیے۔

Ascot میں جو سالانہ Derby Event ہوتا ہے وہاں لگاتار تین برس انہوں نے Queen ’s Boxمیں عمران کو دیکھا۔ وہ کہتے ہیں عرب شہزادے بھی وہاں تمیز سے جاتے ہیں۔ وہاں لباس اور اطوار کی پابندی ہوتی ہے گوری اشرافیہ رائے ونڈ سمجھیں۔ عورتوں کو بھی ہیٹ پہننا پڑتا ہے۔ ریس سے شغف تھا سو سیدنا بھی چلے جاتے۔ حیرانی ہوتی کہ عمران وہاں کیسے ہوتا تھا۔ نعیم صاحب کا خیال تھا کہ اس میں جو ایک دور افتادگی اجتناب اور مردانہ حسن تھا وہ بہت کمال تھا۔ بریٹ لی اور ڈیوڈ بیکم فٹ بال والے بھی کچھ کم ہینڈ سم نہ تھے۔ مگر نہ ہوا پر نہ ہوا میر کا انداز نصیب۔

ہم نے چند مشہور خواتین کے نام لیے مگر خان صاحب نے کہا Past is another country۔

سابق وزیر اعظم فیروز خان نون کو Visionary مانتے تھے کہتے تھے گوادر اس نے لے کر دیا۔ لیاقت علی خان کو Good for nothing کہتے تھے۔ یہ ریمارک ایک اے سی آر میں سنہ 1963 بیچ کے ایک سی ایس پی افسر نے ایک خاتون افسر کے بارے میں دیے۔ اے سی آر ہمارے ہاتھ لگی تو ہم نے سمجھایا کہ اسے بدل دیں۔ اگر آپ کے دشمنوں نے بھڑکایا تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ پھر اس کو ایک اور جملے سے بدل دیا

کہ
She has feeble capacity and equally matching reluctance to complete her assigned tasks.

بولٹن مارکیٹ والے ڈیرے پر گورنر جنرل کی بیگم ناہید مرزا بھی اکثر نصرت بھٹو کے ساتھ آتی۔ وہ ان کی کزن تھی۔ ناہید کے لیے کہتے تھے، A woman with many charms and deep Irani Agenda

شراب اپنی لاتی۔ اور لیگ پیس کے دو تکے کھاتی۔

ایس ایچ او میٹھادر افضل ایک سپاہی کے ساتھ ہوٹل کے گیٹ پر اوپر جانے والی گیلری کے دروازے پر گارڈ بنا ہوتا۔ نچلی منزل پر ہم سو کے قریب دیگر مہمانوں کو Serve کرتے۔ بعد میں کیفے ڈی خان طارق روڈ کی ایک گلی میں سن نوے تک موجود رہا

خان صاحب نے دوسری ملاقات میں کراچی کی زندگی کے اور بھی راز کھولنا تھے مگر وہ علیل ہو کر لندن روانہ ہو گئے۔

Facebook Comments HS

اقبال دیوان

ہمارے جگر جان ،اقبال دیوان پہلے کبھی افسر ہوتے وہ بھی ایسے کوئی خاص نہیں بس چھوٹے موٹے۔اللہ نے عزت رکھی ۔ اللہ بخشے خیر سے ریٹائر ہوگئے۔ ایسا ہی کچھ ہوتا ہے اس طرح کہ کاموں میں۔ ایک بات اچھی ہے کہ میمن ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے سے کبھی دل نہیں چرایا اور دھندے کو دھرم نہیں جانا۔ ان دنوں گزر اوقات کے لیے ایک آرٹ اسکول میں مصوری سیکھنے جاتے ہیں۔فگر ڈرائینگ اور واٹر کلر میں دل چسپی ہے گوآتے دونوں ہی نہیں۔ مگر خوش ہیں کہ ہیں تو کسی کی نگاہ میں۔اولاد امریکہ یورپ بلاتی ہے مگر وہ راج کپور کی طرح گا کر ٹرخا دیتے ہیں کہ جینا یہاںمرنا یہاں اس کے سوا جانا کہاں۔ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں کروں گا کیا اگر ہوگیا ناکام ، بس سایہ دیوار ہے یہیں رہنے دو۔

iqbal-diwan has 123 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan