سراب

کل شام کا پہر تھا اور میں شاید نیند سے آنکھیں مل رہی تھی۔ میرے اطراف ملگجا سا اندھیرا تھا۔ نہ رات کے اندھیرے جیسا سیاہ اور نا شام جیسا سُرمئی۔ اداسی جیسا ٹھہرا ہوا نیلا اندھیرا مگر ایسا کہ جس میں سب صاف نظر آ رہا ہو۔
پاپا میرے سامنے تھے۔ اور ہمارے بیچ ایک گہری خاموشی حائل تھی۔ میں نے اُنکے ہاتھوں میں ہاتھ تھام رکھے تھے۔ میری آنکھیں بنا پلکیں جھپکے ان کو ایسے دیکھ رہی تھیں کہ جیسے صدیوں بعد دیکھا ہو۔ میں کچھ بولنا چاہتی تھی۔ بات کرنا چاہتی تھی۔ پر فرطِ جذبات میں میری آواز نہ نکلی۔ ان کو اپنے سامنے دیکھ کہ میں گُنگ تھی اور ایسی خوشی کو میں نے زندہ رہتے کبھی محسوس نہیں کِیا۔ میں نے بہت کوشش کے بعد مُنہ ہلایا تو صرف آہ کی آواز نکلی جیسے کتنی دیر بعد سانس لیا ہو۔
وہ میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میں نے پھر بولنے کی کوشش کی پر آواز ہی نہ نکلتی تھی۔ دیکھتے دیکھتے ہمارے اطراف میں سُرمئی رنگ پھیلنے لگا۔ میرے ہاتھوں سے پاپا کے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی۔ میں نے زور سے اُنکے ہاتھ کھینچے مگر اُن کا جسم ڈھیلا پڑتا گیا اور وہ میرے ہاتھوں سے پھسلتے ہوئی زمین پہ آن پڑے۔ میں نے اپنی پوری قوت سے آواز دی ”پاپا۔ پاپا پاپا“
وہ سُن نہیں پائے۔ میں ان کا کندھا بازو سینہ سہلا سہلا کر چیخ رہی تھی۔
اطراف سے کچھ لوگ بھاگتے ہوئے آئے۔ مجھے کسی کی آواز نہیں آ رہی تھی۔ میں چلا رہی تھی کہ اس بار نہیں جائیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ میرے جسم سے کوئی روح کھینچ رہا ہے۔ میرے ہاتھوں، بازؤں اور ڈھڑ سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
اندھیرا سُرمئی سے سیاہ ہوتا گیا۔ میری چیخیں خاموش ہو گئیں۔ وہ میرے ہاتھوں سے دور سرکتے جا رہے تھے۔ میرے بدن میں اتنی قوت نہیں تھی کہ میں یہ سب روک پاتی۔
پھر سیاہی ہلکی ہلکی روشنی میں تبدیل ہونے لگی۔ میرا جسم بے جان تھا۔ میرے پاس میری بیٹی لیٹی ہوئی تھی۔ میری آنکھیں نیم وا تھیں اور جسم پسینے میں شرابور۔ میری ٹانگیں ایسی تھکن زدہ تھی کہ میں میلوں بھاگتی آئی ہوں۔ میرے بازو شل تھے اور اُٹھتے نہیں تھے۔ میرا وجود حقیقت اور خواب کے بیچ ہچکولے کھا رہا تھا۔ میرے ذہن میں بس ایک بات تھی کہ میں انہیں روک نہیں پائی۔ وہ میرے ہاتھوں سے سرکتے گئے اور میں بے بس تھی۔
کتنی دیر بعد میں اُٹھ کر بیٹھنے میں کامیاب ہوئی۔ پھر میں بستر میں سوئی بیٹی کو چھوڑ کر کمرے سے نکلی اور من من بھر کے قدم اُٹھائے میں صوفے تک آئی جہاں شوہر بیٹھے تھے اور پھر ان کے پاس ہی گر کر رونے لگی۔ وہ مجھے پوچھتے رہے کیا ہوا پر میں بول ہی نہیں پا رہی تھی۔
کتنی دیر میں ایسے بلک بلک کہ روتی رہی۔ الفاظ میں وہ تکلیف بیان کرنا بہت مشکل ہے جو مجھے ہو رہی تھی۔ کتنی دیر بعد میں بات کرنے کے قابل ہوئی اور بتایا کہ کیا ہوا۔ روزہ تھا تو پانی نہ پلا سکے۔ دلاسا دیا اور دعا دی۔
میری زندگی میں شاید سب سے بڑا حادثہ میرے پاپا کا اس دنیا سے اچانک چلے جانا ہے۔ میں نے ان کو آخری دفعہ ان کی رحلت سے تین دن پہلے دیکھا تھا۔ میں دوسرے شہر میں تھی۔ رمضان کا مہینہ، سحری کا وقت، گھر پہ بہن سے بات کرتے ہوئے وہ لمحہ جب اس نے کہا کہ پاپا کی طبیعت خراب ہوئی ہے ان کو ہاسپٹل لے گئے ہیں اور جس وقت میں فون پہ تھی اور پیچھے سے آواز آئی اور وہ چلائی کہ پاپا فوت ہو گئے۔ میرے کانوں میں آج بھی وہ آواز وہ لہجہ سب کچھ ایسے کا ایسا ثبت ہے۔
وہ روزہ میری زندگی کا سب سے لمبا روزہ تھا۔ بس کا وہ سفر جو میں نے اس دن وہاڑی سے لاہور کیا۔ وہ میری زندگی کا سب سے لمبا سفر تھا۔ شاید میں غلط ہوں پر اُن کا یوں اچانک چلے جانا سب سے زیادہ میری اور میری امی کی زندگی پہ اثر ڈال کہ گیا۔ ہماری زندگی 180 ڈگری پلٹ گئی۔ اس حادثے نے بہت سے رشتوں کی حقیقتیں بھی کھول دیں اور مجھے ایک کمزور بیٹی سے مضبوط بیٹی، مضبوط بہن اور مضبوط ماں بنا دیا۔ دعا کرتی ہوں کہ اللہ میرے والد کے لیے جنت کے دروازے کھول دے۔ اگر آپ دو منٹ اپنی زندگی سے نکال پائیں تو میرے پاپا کے لیے دعا ضرور کر دیجئے گا۔ میں آپ کی احسان مند ہوں گی۔

