پنجاب 1984: ستونت کور اور شیوے کی کہانی
اگر آپ یہ سوچ رہے کہ شاید یہ فلم انڈین پنجاب میں ہونے والے سکھ قتل عام کے متعلق ہے تو آپ آدھا صحیح سوچ رہے ہیں۔ یہ یقیناً ایک پریڈ فلم ہے جس کا موضوع انڈین پنجاب میں ہونے والے ’آپریشن بلیو سٹار‘ سے جڑا ہے۔ آپریشن بلیو اسٹار، دراصل 1984 ء میں امرتسر میں واقع گردوارہ ہرمندر صاحب میں سکھ آزادی پسندوں کو نکالنے کے لیے بھارتی فوج کا ایک فوجی آپریشن تھا۔ اس حملے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے اور گردوارہ کو خاصا نقصان پہنچا۔ یہ واقعہ سکھ برادری کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے اور اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تشدد اور بھارت میں سکھ مخالف فسادات ہوئے۔
تاہم یہ فلم 1984 ء سے 1986 ء کے دوران پنجاب میں ہونے والی اسی بغاوت کے سماجی اثرات کو ایک ماں ستونت کور (کرن کھیر) کی کہانی کے ذریعے بیان کرتی ہے جو اپنے بیٹے شیوا (دلجیت دو سانجھ) کو تلاش کر رہی ہے جو اس دوران کہیں غائب ہو گیا ہے۔
فلم کی کہانی شیوے (دلجیت) ، اس کی ماں ستونت کور (کرن کھیر) ، باپو بچن سنگھ (گروچرن) اور منگیتر جیتی (سونو باجوہ) کے گرد گھومتی ہے۔ کہانی بتاتی ہے کہ بچن سنگھ اپنے روز کے معمول کی طرح گررد وارہ امرتسر گئے ہیں لیکن تبھی بھارتی حکومت کی جانب سے ”آپریشن بلیو اسٹار“ کا آغاز کر دیا گیا ہے اور پنجاب میں چاروں طرف کرفیو ہے۔ بچن سنگھ اس دوران گردوارہ تو پہنچ چکے ہیں لیکن کرفیو کی وجہ سے یاتریوں کے ایک گروپ کے ساتھ کمرے میں بند ہو گئے ہیں جن میں زیادہ تر بوڑھے، خواتین اور بچے شامل ہیں۔ باہر فائرنگ ہو رہی ہے لیکن کمرے میں قید لوگ پانی کی کمی اور بھوک سے مر رہے ہیں۔ آخرکار ایک دودھ پیتے بچے کو روتا دیکھ کر بچن سنگھ کمرے سے باہر نکل کر پانی لانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن مارے جاتے ہیں۔
شیوا جو کہ زندگی کی من موجوں سے اٹکھیلیاں کرتا گبرو جوان منڈا تھا۔ اب اپنے باپ کو تلاش کرنے کے لیے تھانے کے چکر لگا رہا ہے جہاں کئی دنوں کی ریاضت کے بعد بالآخر پتا چلتا ہے کہ اس کے والد بچن سنگھ گردوارے کے ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔ یوں ستونت سنگھ اور شیوے کے گھر میں چالیس دن سناٹا چھا جاتا ہے۔ آخر کار باپو کی زمین اور کاشتکاری کے معاملات کو دیکھنے کے لیے شیوے کو گھر ذمہ داری سنبھالنی پڑتی ہے اور وہ فصلوں میں کام کی غرض سے جاتا ہے لیکن اس کے بعد وہ بھی واپس گھر کبھی نہیں لوٹتا اور یہیں سے فلم کی اصل کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔
ایک سال بیت چکا ہے اور کہانی ستمبر 1986 میں پلٹتی ہے۔ آپریشن بلیو سٹار ختم ہو چکا ہے لیکن سکھ برداری کی پگڑیوں سے خون ٹپک رہا ہے۔ زخم ابھی بھی تازہ ہیں۔ بوڑھی ستونت کور تھانے کے باہر اپنے گمشدہ بیٹے کی تلاش میں آنکھیں سو جائے بیٹھی ہے لیکن پولیس کو اس بوڑھی اماں سے کچھ لینا دینا نہیں۔ تھانے کا معمول کا کام جاری ہے اور تبھی ستونت کے گمشدہ بیٹے کے متعلق سوال پر پولیس انسپکٹر غصے میں آ جاتا ہے اور طیش میں آ کر ستونت پر ہی لاٹھیاں برسا دیتا ہے۔ بوڑھی ماں، گمشدہ بیٹا، ناتواں جسم پر لاٹھیوں کا درد۔ اس رات ستونت بیٹے کو یاد کر ، کر کے اسے روتی ہے لیکن گھر خالی ہے اور پانی پلانے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ جسم درد کی ٹھیس سے کراہ رہا ہے پر ستونت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں اسے بس اپنا اکلوتے بیٹے کا دیدار چاہیے لیکن بیٹا نجانے کہاں ہے۔
ایک واحد جیتی (سونو باجوہ) ہے جو روز بہانے سے ستونت کے پاس آتی ہے۔ اس کا آٹا گوندھتی ہے لیکن اس دوران شیوے کا ہی پوچھتی رہتی ہے۔ اسے ڈر ہے کہ اگر شیوہ نہ ملا تو اس کے ماں باپ یہ منگنی توڑ کر اس کی شادی کہیں اور کر دیں گے لیکن ستونت جس کے پاس خود کوئی تسلی نہیں ہے وہ جیتی کو کیا بتائے۔ آخر کو وہی ہوتا ہے اور جیتی کی شادی کہیں اور طے ہو جاتی ہے۔ جیتی آخری بار ستونت کے گلے لگ کے روتی ہے اور اسے کہتی ہے کہ مجھے اپنے پاس ہی رکھ لو۔ یہاں ستونت اپنے سارے درد سمیٹ کر جیتی کو جواب دیتی ہے کہ ”میں تو اسے بھی نہ اپنے رکھ سکی جو تمھیں مجھے سونپ کر گیا تھا“ ۔
جیتی کے جانے کے بعد اب بوڑھی ستونت کے پاس زندگی کا مقصد صرف اپنے بیٹے کی کھوج ہے۔ وہ دربدرماری، ماری صرف اپنے شیوے کو ڈھونڈتی پھر رہی ہے اور اس دوران ایسے، ایسے کردار اسے شیوے سے ملوانے کی کوشش کرتے ہیں جنہیں وہ جانتی تک نہیں لیکن سبھی کوششوں کے باوجود شیوا غائب ہے۔
شیوا کہاں ہے۔ وہ گھر واپس کیوں نہیں آیا یا کب آئے گا۔ ان تمام سوالوں کے جواب فلم میں چھپے ہیں۔ بس اتنا یاد رکھیے کہ جب، جب شیوا کی ماں ستونت اسے ڈھونڈتے در، در کی ٹھوکریں کھا رہی تھی اور خالی گھر میں بیٹھی شیوا، شیوا پکار رہی تھی۔ تب، تب شیوا اس کے آس پاس ہی تھا لیکن وہ اپنی ماں سے مل نہ سکا۔
فلم کو 5 میں سے 4.5 ریٹنگ دی گئی ہے جبکہ IMDB پے اس کی ریٹنگ 8.7 ہے۔ فلم کے سبھی اداکاروں کو پنجاب پی ٹی سی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جبکہ یہ فلم انڈین فلم فیئر ایوارڈ جیتنے میں بھی کامیاب رہی تھی۔ فلم کے کرداروں کی بات کی جائے تو فلم کے رائٹر انوراگ سنگھ جو کہ فلم کے ڈائریکٹر بھی ہیں ان کے مطابق اس نے فلم کی 80 فیصد کہانی پاون سنگھ اور کرن کھیر کی منظر نگاری کو ذہن میں رکھ کے لکھی تھی اور ان دونوں نے فلم میں اپنے، اپنے کرداروں کو نبھایا بھی خوب تاہم کرن کھیر نے اپنی ایکٹنگ اور اپنے ڈائیلاگ کا جو بیسٹ اس فلم میں دے دیا ہے اسے چیلنج کرنا شاید آئندہ اگلے کئی برسوں میں ناممکن رہے حالانکہ وہ خود کبھی بھی اس فلم کو پورا نہیں دیکھ پائی۔
دولجیت دو سانجھ اپنی مٹی اور اپنے پنجاب سے محبت کرنے والے اداکار ہیں۔ ان کا جنم بھی 1984ء میں ہی ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ لوگ اکثر انہیں کہا کرتے تھے کہ ان کا جنم 1984ء کے فسادات میں ہوا تاہم وہ مکمل طور پر نہیں جانتے تھے کہ 1984ء کی اصل کہانی ہے کیا۔ لہذا انہوں نے اس بارے میں خود ریسرچ کی اور بعد ازاں جب فلم بنی تو انہیں اس دور کے درد کا احساس ہوا۔ لہذا انہوں نے فلم سے کسی بھی قسم کا معاوضہ لینے سے انکار کر دیا۔
فلم کے میوزک کی بات کی جائے تو سبھی گانے پنجابی سینما کی مشہور میوزک فرم ’سپیڈ ریکارڈز‘ نے نشر کیے اور سبھی گانوں کو مقبولیت ملی لیکن ایک گانا ”سواہ بن کے“ (راکھ بن کے ) اس قدر مقبول ہوا کہ اس کی گونج آج بھی انڈین پنجاب میں گونج رہی ہے۔ یہ پنجابی البم میں آج تک ہٹ ہے اور ایک انقلابی گانے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
آخر میں اک بات۔ یہ فلم صرف ایک ماں کی اپنے بیٹے کے لیے جدوجہد کی کہانی نہیں ہے بلکہ یہ اس دور کے لاپتہ ہونے والے ہزاروں لوگوں کی کہانی ہے، ان کے خاندانوں کی تڑپ اور بے یقینی کا بیان ہے۔ فلم یہ سوال اٹھاتی ہے کہ ریاست کی ذمہ داری کیا ہے اور افراد لاپتہ کیوں ہوتے ہیں۔





