بھٹو صاحب کی پینتالیسویں برسی


آج، چار اپریل، جناب شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پینتالیس ویں برسی ہے۔
اس موضوع پر بہت سی تحریریں اور مضامین لکھے جا چکے ہیں۔ یہ ایک معمولی سعی میری طرف سے بھی ہے۔

لفظ ”بھٹو“ کا حوالہ کسی قوم یا قبیلے سے نہیں ہے۔ بلکہ بھٹو، بھارت کے ضلع حصار کے ایک گاؤں کا نام ہے جو آج بھی دریائے سرس وتی کے کنارے واقع ہے۔ ایک دفعہ یہ دریا خشک ہوا تو علاقے میں قحط کی وجہ سے، وہاں کے مکینوں نے نقل مکانی کی اور لاڑکانہ میں آباد ہوئے تھے۔ جناب شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی لاڑکانہ میں پانچ جنوری انیس سو اٹھائیس کو پیدا ہوئے۔ وہ جناب سر شاہنواز بھٹو کے تیسرے بیٹے تھے۔

چار اپریل انیس سو اناسی کو قتیل شفائی مرحوم نے کہا تھا
”آج بھی صبح تو ہوئی تھی
مگر آج کا دن بہت ہی کالا تھا۔
بے ضمیر نے سازش کر کے ایک
عظیم شخص مار ڈالا تھا۔ ”

”بھٹو صاحب کی شہادت ان کا عدالتی قتل تھا“ یہ فقرہ ہم گزشتہ پینتالیس سالوں سے پڑھتے سنتے آ رہے ہیں۔ لیکن اس فقرے کی توثیق حال ہی میں پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے کی ہے۔

امسال چھ مارچ کو اس ریفرینس پر، جو دو ہزار گیارہ میں، اس وقت کے، اور موجودہ پاکستان کے صدر جناب آصف علی زرداری نے دائر کیا تھا، موجودہ عدالت عظمیٰ نے اس عدالتی فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے فیصلہ سنایا ہے کہ مقدمے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے تھے۔

بھٹو صاحب پر یہ الزام لگایا گیا کہ انہوں نے ایک سیاستدان کو قتل کروایا تھا۔ یہ الزام بھی ایک سازش تھی۔ بین الاقوامی احتجاج کے باوجود بھٹو صاحب کو، پینتالیس سال پہلے آج کے دن، راولپنڈی میں تخت دار پر لٹکا کر، شہید کر دیا گیا تھا۔ ان کے آخری الفاظ یہ تھے کہ : ”اللہ مجھ پر رحم کرے۔ میں بے گناہ مر رہا ہوں“ ۔ بھٹو صاحب کے خلاف فیصلہ، تین کے مقابلے میں چار سے آیا تھا۔ سزائے موت کی حمایت کرنے والے ایک جونیئر جج، نسیم حسن شاہ نے، بعد میں تسلیم کیا کہ ان پر ایسا فیصلہ دینے کا دباؤ تھا۔ تمام ججز بشمول نسیم حسن شاہ، اب اس دنیا میں نہیں ہیں

یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ بھٹو صاحب کی شہادت کا عمل تقریباً رات کے دو بجے، جبکہ عموماً علی الصبح پھانسیاں دی جاتی ہیں، نہایت رازداری اور خاموشی سے سر انجام دیا گیا تھا۔ لیکن اس کی تشہیر، صبح سات بجے، ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہونے پر کی گئی تھی۔

سزائے موت کے عمل سے چند روز پہلے ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے، جناب شہید بھٹو کو، فوجی حکومت کی اشارتاً پیشکش کی کہ رحم کی اپیل کی دستاویزات پر دستخط کرنا ہے۔ بھٹو صاحب نے، جسمانی حالت خراب ہونے کے باوجود، دستاویزات پر نگاہ ڈالے بغیر، یہ کہہ کر انکار کیا کہ کیا وہ افسر نہیں جانتا ہے کہ سر شاہنواز کا بیٹا ایک فوجی جرنیل سے رحم کی اپیل ہرگز ہرگز نہیں کرے گا۔

1977 سے 1979 تک راولپنڈی۔ اسلام آباد، جڑواں شہر کے ڈپٹی کمشنر نے، دو ہزار دس میں جیو ٹی وی کے ایک شو میں یہ واقعہ بتایا کہ انہیں یہ حکم تھا کہ بھٹو صاحب کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھٹو صاحب کی آمد و رفت، کرفیو کے سے ماحول میں ہونی چاہیے۔ ایک دفعہ بھٹو صاحب کی گاڑی آرمی ہاؤس کے باہر ضیا الحق کی خواہش پر روکی گئی۔ اس ملاقات میں وہ یعنی ڈپٹی کمشنر بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر کی موجودگی میں ضیاء الحق نے بھٹو صاحب کی تعریفیں کرتے ہوئے بلند آواز میں کہا کہ بھٹو صاحب ہمارے وزیر اعظم تھے اور ضیاء الحق اپنی وردی پر آویزاں اسٹارز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا کہ یہ بھٹو صاحب کی ہی مرہون منت ہیں۔

ضیاء الحق مجھے ڈانٹتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ آپ کیوں بھٹو صاحب کے لئے مشکلیں پیدا کر رہے ہیں۔ یہ عوامی لیڈر ہیں یہ جہاں جانا چاہیں انہیں جانے دیا جائے۔ پھر ضیا الحق نے بھٹو صاحب کو اپنا پرسنل فون نمبر بھی دیا اور کہا کہ بھٹو صاحب جب چاہیں فون کر سکتے ہیں۔ پھر ضیاء الحق نے مجھے باہر جانے کا کہا۔

ڈپٹی کمشنر، جیو کے شو میں بتاتے ہیں کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ پنجاب حکومت کے حکام اور ضیاء الحق کی گفتگو میں آخر اتنا تضاد کیوں ہے۔

ضیاء الحق نے جناب بھٹو صاحب کی گاڑی کا دروازہ کھولا اور انہیں الوداع کہتے ہوئے سلوٹ مارا۔ بھٹو صاحب کے جانے کے بعد ضیاء الحق کی نگاہ مجھ پر پڑی تو کہنے لگے کہ آپ بطور ڈپٹی کمشنر پنجاب گورنمنٹ کے ماتحت ہیں۔ آپ جیسے کام کر رہے ہیں۔ کرتے رہیے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments