موت کا کنواں اور ذوالفقار علی بھٹو


ننگے پاؤں (10)

میری پنجابی شاعری کی کتاب منتر کی ایک غزل کا مطلع ہے
نرم گلابی بلہاں اتے لپ اسٹک چمکائی
میرے سامنے بہہ کے اوہنے چورن نوں اگ لائی
جنہوں نے چورن کو آگ لگانے کا منظر نہیں دیکھا وہ میرے اس پنجابی شعر کا مزا نہیں لے سکتے۔

ایک چورن بیچنے والا بائیسکل کو ہاتھ سے تھامے، اس کے کیرئیر پر چورن کا چھابا سجائے، دن کے پچھلے پہر گلی سے یہ آواز لگاتے ہوئے گزرتا

” چورن اے، ہاضمے دار چورن اے، کھٹا مٹھا ہاضمے دار چورن اے“

ہم بچے بھاگ کر گھروں سے نکلتے اور اس کے پاس پہنچ جاتے۔ وہ چورن ہرے پتے پر ڈالتا اور نہ جانے کس مادے سے ایک سیکنڈ میں اس میں سے آگ نکالتا۔ ہم اسے پیسے پکڑاتے اور آگ والا چورن خرید کر چسکے لیتے۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس آگ کا چورن سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

ایسے ہی کئی چورن بیچنے والے جعلی آگ نکال کر پاکستانیوں کو بیچتے رہے۔ کسی نے اسلامی سوشلزم کا چورن بیچا اور کسی نے اسلامی نظام کا، کوئی لبرل چورن لے کر آ گیا اور کوئی سیکولر چورن۔ بعد ازاں خبر ہوئی کہ وہ اصلی چورن بیرون ملک رکھتے ہیں۔ فرانس میں، لندن میں، بلجئیم وغیرہ میں۔

یہ لوگ اتنے ماہر ہیں کہ چورن صرف بیچتے ہی نہیں پہنا بھی دیتے ہیں۔ جیسے قائد اعظم کو جس نے ساری زندگی مغربی بودوباش رکھی، انگریزوں سے بہتر سوٹ پہنے، ان سے بہتر انگریزی لکھی اور بولی، اسے اس کے آخری دنوں میں شیروانی اور جناح کیپ کا چورن پہنا دیا گیا۔ پھر اسے صحت افزا مقام کا چورن بیچ کر زیارت بھیج دیا گیا جہاں میلوں طبی سہولت دستیاب نہ تھی اور جب اسے ایمرجنسی میں ہسپتال لے جانا پڑا تو خراب ایمبولنس مہیا کر دی۔

ان چورن فروشوں نے کیسے کیسے نعرے ایجاد کیے جنہیں اب نعروں کی بجائے بیانیہ کہا جاتا ہے
روٹی کپڑا اور مکان
مانگ رہا ہے ہر انسان
ہر گھر سے بھٹو نکلے گا
تم کتنے بھٹو مارو گے
اساں نہیں مننی تہاڈی گل
واپس لے لو اپنا ہل
ووٹ کو عزت دو، مجھے کیوں نکالا وغیرہ۔ مگر سب سے اچھا نعرہ وہی تھا جو ہم یونیورسٹی کے دنوں میں لگاتے
چغد بغد لم ڈھینگ چبغدے ٹھاہ
چبغدے ٹھاہ، چبغدے ٹھاہ، ٹھاہ، ٹھاہ، ٹھاہ
سب سے سچا عوامی نعرہ یہی تھا کیوں کی عوام ہی چغد بنتے رہے اور وہی ٹھاہ ٹھاہ ہوتے رہے۔

سٹنٹ مین، موٹر سائیکل کو موت کے کنویں کی دیواروں پر تیزی سے دوڑا رہا تھا۔ لکڑی کی یہ دیواریں دھما دھم ہل رہی تھیں، دیکھنے والوں پر بھونچال طاری تھا۔ اور پھر اس نے یکایک ہاتھ چھوڑ دیے۔ کنویں کی دیواروں سے اندر کی طرف لٹک کر دیکھتے ہوئے تماشائیوں کے رنگ فق ہو گئے مگر اگلے ہی لمحے وہ زور زور سے تالیاں پیٹنے لگے۔

پھروہ اوپر نیچے ہونے لگا اور کبھی تو یوں لگتا کہ جیسے کنویں کی دیواروں سے باہر نکل جائے گا اور آسمان کی طرف پرواز کر جائے گا۔ مادھو لال حسین کے میلہ چراغاں پر لگے ہوئے اس کنویں میں یہ منظر میں اکثر دیکھتا اور سوچتا کہ یہاں کھڑا ہو کر دیکھنے کی بجائے میں کنویں کے مرکز میں چلا جاؤں اور اپنے کیمرے سے اس کی تصویر اتاروں۔ یا پھر ہاتھ چھوڑے ہوئے موٹر سائیکل چلانے والا میں خود ہوں اور لوگ مجھے دیکھ کر تالیاں بجائیں۔

گول کنویں میں موٹر سائیکل کا دائرے میں گھومتا پہیہ ابتدا میں کم رفتار ہونے کی وجہ سے مجھے 78 آر پی ایم پر گھومتا گراموفون ریکارڈ یاد دلاتا اور جب موٹر سائیکل رفتار پکڑتی تو مجھے وہ منظر یاد آتا جب میں سرکس میں تیزی سے گھومتے تھائی لینڈ کے سکیٹر جوڑے کی بانہوں پر لیٹا سرکس کے خیمے کی چھت کو دیکھ رہا تھا۔

وہی ہو گا جو لکھا ہے مری چاہت کے منظر میں
یقیناً پھر وہی ہو گا
وہی اک دائرہ ہو گا
اسی اک دائرے کے دائرے میں
چشم آہو کی طرح اس شخص کی چاہت رہے گی اور

اور پھر جب میرے پاس 8 ایم ایم فلم کیمرہ آیا تو میرے ذہن میں یہ خواہش جاگی کہ موت کے کنویں کا جو سٹل شاٹ میں نے سوچا تھا وہ اب میں ویڈیو کیمرے سے بناؤں گا۔ مگر میں تو جم غفیر کے ایک کونے میں لکڑی کے ایک چبوترے پر چڑھا ذوالفقار علی بھٹو کی ناصر باغ کی پرفارمنس ریکارڈ کر رہا تھا۔ سیاسی موت کے کنویں میں وعدوں کی موٹر سائیکل چلاتے ہوئے، آستینیں چڑھا کر، بازوؤں کو کھول کر سبز باغ دکھاتے ہوئے

روٹی کپڑا اور مکان، سوشلزم، اسلامی سوشلزم، سوشلزم ہماری معیشت، اسلام ہمارا دین، طاقت کا سرچشمہ عوام، مساوات محمدی، شراب پر پابندی،

ہم ان کے دیوانے، مستانے اور پروانے اور وہ عوامی جمہوریت کے دعویدار جب حکمران بنے تو اپنے لئے سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ تخلیق کیا اور جب وزیر اعظم بنے تو سوشلزم کی جیکٹ کی زپ کھول دی اور اندر سے جاگیر دار نکل آیا

میڈھا سائیں غلام مصطفے کھر گورنر پنجاب اور غلام مصطفے جتوئی وزیر اعلیٰ سندھ

چغد بغد لم ڈھینگ چبغدے ٹھاہ
اور میں نے ایک شعر کہا
بے ستوں پل پر کھڑی ہے میری نسل بے نشاں
ہے عقب میں برف تو جلتا مکاں ہے سامنے

پھر انہوں نے بھٹو کو پھانسی پر لٹکا دیا اور کچھ شواہد تو یہ بھی کہتے ہیں کہ پھانسی بھی ڈرامہ تھی۔ اور ان کا فنش اٹ والا مکالمہ بھی سکرپٹ لکھنے والوں کی تخلیق تھی۔

لاکھوں کے مجمع کو میسمرائز کرنے والے کے جنازے میں جیل کے چند ملازمین تھے۔ اسلامک سمٹ میں عالم اسلام کے تقریباً تمام رہنماؤں کو اکٹھا کرنے والے کی موت کے بعد اس کی ایسی تصاویر بنائی گئیں جن کا مقصد یہ جاننا تھا کہ وہ مسلمان تھے یا نہیں۔ اور ہم کیا کر سکتے تھے کہ ہم تو

چغد بغد لم ڈھینگ چبغدے ٹھاہ تھے

ان کے ہاتھ کا لمس تمام عمر نہیں بھلایا جا سکا۔ میاں میر پنڈ ان کے حلقۂ انتخاب میں شامل تھا اور وہ میری جنم بھومی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو انتخابی مہم پر تھے۔ اور اس اہم دن انہوں نے کچھ لمحے ہمارے دفتر کے سامنے بھی رکنا تھا۔ اور ہم ان کے دیوانے دھڑکتے دلوں کے ساتھ منتظر تھے۔

ایک کھلی جیپ جسے ڈاکٹر مبشر حسن چلا رہے تھا ہمارے چھوٹے سے دفتر کے سامنے رکی۔ ذوالفقار علی بھٹو کچھ منٹ ہمارے دفتر کے سامنے رکے، ہماری حوصلہ افزائی کی، ہدایات دیں کچھ پوسٹروں پر دستخط کیے اور ہم ورکروں کے ساتھ ہاتھ ملا کر چلے گئے۔ ان کا ہاتھ انتہائی گرم تھا، ایک سو چار درجے بخار تو ہو گا مگر الیکشن تو جیتنا تھا، طوفانی کیمپین تو چلانی تھی۔

جسٹس جاوید اقبال نے اپنی خود نوشت ’اپنا گریباں چاک‘ میں لکھا

اسلامی سوشلزم کی اصطلاح کے بارے میں ایک سوال پر بھٹو نے طنزاً کہا کہ میں نے اسلامی سوشلزم کا نعرہ اس خیال سے نہیں بنایا کہ اس اصطلاح کے کوئی معانی ہیں۔ سیاست میں اصطلاحیں کوئی معانی نہیں رکھتیں اصل مقصد اقتدار حاصل کرنا ہوتا ہے۔ میں نے یہ نعرہ اس لئے اپنایا ہے کہ مشرقی پاکستان میں سوشلزم کا نام نہ لو تو کوئی آپ کی بات سننے کو تیار نہیں ہوتا۔ اسی طرح مغربی پاکستان میں اسلام کا نام لیے بغیر کام نہیں بنتا۔

اور پھر وہی لکھتے ہیں کہ بھٹو مالی کرپٹ بالکل نہیں تھے اور انہی کی بدولت پاکستانی جنگی قیدیوں کو بھارت کے چنگل سے چھٹکارا ملا اور انہوں ہی نے پاکستان کو نیوکلیئر پاور بنانے کی بنیاد رکھی جس کی وجہ سے بھٹو امریکہ کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتے تھے۔ مگر آج تک یہ طے نہیں کہ انہیں امریکہ کے کہنے پر قتل کیا گیا یا یہ ضیا الحق کا فیصلہ تھا۔

مگر میرے خیال میں بھٹو کی قسمت لکھی جا چکی تھی، بس ایک موت کا کنواں تھا جس میں سیاسی موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو کنویں کی حدود سے باہر نکل گئے اور ہم جیسے چغد بغد ان کے لئے نظمیں لکھتے رہ گئے جیسے میری ایک نظم

خزاں کا مسیحا
ہوا کی غربت نے زرد پتے چرا لیے ہیں
صدا کی کھڑکی سے کوئی چہرہ سحاب جیسا چلا گیا ہے
گھٹا کی چلمن سے جھانک لینے سے چاند جیسے کہ ڈر رہا ہے
جوان سورج کے خشک چہرے پہ جھریاں ہیں
بند کواڑوں کے پیچھے کوئی سسک سسک کے فنا ہوا ہے
ریزہ ریزہ سراب سارے
چشم آہو کی پتلیوں میں شرار بن بن کے چبھ گئے ہیں
عذاب اترا ہے آسماں سے
وہ میرا سورج، جوان سورج
کہ جس کے چہرے پہ جھریاں تھیں پگھل گیا ہے
صلیب آمر پہ چڑھ گیا ہے
او ر اس کے حسین تن میں ہوا کا گنبد ٹھہر گیا ہے
اور میری صدا کا تیشہ ہوا کے گنبد میں کھو گیا ہے
میں بروٹس ہوں، چل رہا ہوں کہ آج میرا حساب ہو گا
مرے بدن پہ گلیشیئر ہے جسے اٹھائے میں تھک گیا ہوں
میرے پاؤں ہوا سے بھرے نرم تکیوں پہ اٹھ رہے ہیں
وقت کیا ہے؟
کس جگہ ہوں؟
کون سی سمت جا رہا ہوں؟

ذوالفقار علی بھٹو کے قتل نے ہماری سمت گم کر دی۔ ہماری تاریخ مسخ کر دی اور مستقبل ایسے لوگوں کے سپرد کر دیا جو اس قابل نہیں تھے۔ اور اگر جسٹس نسیم حسن شاہ نے مان لیا کہ عدلیہ نے یہ فیصلہ دباؤ کے تحت کیا تو اس سے کیا فرق پڑا۔ اس غلط فیصلے کو پوری قوم نے بھگتا۔

جسٹس نسیم حسن شاہ سے میرا انکاؤنٹر

میں ان دنوں پی ٹی وی کے لئے پروگرام ’میرے بچپن کے دن‘ پروڈیوس کر رہا تھا جن میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے ممتاز شخصیات اپنے بچپن کا احوال سنایا کرتیں۔ مینیجمنٹ نے ایک دن انہیں بھی پروگرام میں بلا لیا۔ میں انہیں پہلے کبھی نہ ملا تھا۔ ریکارڈنگ والے دن میں ان کا استقبال کرنے لاہور ٹی وی اسٹیشن کے مرکزی دروازے کی طرف جا ہی رہا تھا کہ وہ نہ جانے کس لمحے گزر کر سٹوڈیو چلے گئے اور میری نظر نہ پڑی۔ میں سٹوڈیو ڈی پہنچا تو وہ سٹوڈیو سپروائزر کی کرسی پر بیٹھے تھے۔ میں پھر بھی نہ سمجھا کہ یہی میرے مہمان ہیں۔ پھر انہوں نے خود ہی اٹھ کر اپنا تعارف کروایا۔ ریکارڈنگ تو ہو گئی مگر مجھے جنرل مینیجر کی طرف سے ایک ایکسپلینیشن لیٹر وصول ہوا جو کافی ڈرا دینے والا تھا۔ سو میں نے جنرل مینیجر کے حضور کئی پیشیاں بھگتیں۔

چغد بغد لم ڈھینگ چبغدے ٹھاہ

(جاری ہے )


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments