ناول ’ہڑپا‘ کا تخاطب پنجاب کی دیہاتی عورت
بہت کم ایسے ادیب ہیں جنہوں نے اُردو ادب میں بہت ہی قلیل عرصہ میں ایسی معیاری تخلیقات پیش کی ہیں کہ جو بہت جلد عوامی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ انہیں میں سے ایک ڈاکٹر طاہرہ اقبال ہیں جنہوں نے اپنے وسیع مشاہدہ و فکر و فن کی مدد سے منفرد اسلوب اختیار کیا اور اسے طاقت بناتے ہوئے پنجاب کی معاشرت و ثقافت کو اس کی حقیقی پہچان کے ساتھ بیان کیا۔ وہ باریک بین ہیں اور سماج کی چھوٹی سے چھوٹی تفصیل سے بھی آگاہ ہیں اسی وجہ سے اُن کی تحریر میں علاقائی اثر کی شان دار جھلک ہے۔ وہ پنجاب کی رہتل میں رچی بسی ایسی کہاوتوں کا سہارا بھی لیتی ہیں جو صدیوں سے اس تہذیب میں رائج ہیں، انہیں کہاوتوں کے اردو کے ساتھ اختلاط نے اس ناول کو وسعت بھی بخشی ہے۔
یہ ناول 430 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کے تین حصے ہیں۔ پہلا حصہ ’آثار ہڑپا‘ کے نو ابواب ہیں، دوسرے حصہ ’کھنڈر ہڑپا‘ کے بھی نو ابواب ہیں جب کہ ’ہڑپا فطرت‘ چودہ ابواب پر محیط ہے۔ تینوں حصوں کے تمام ابواب مختلف کرداروں کے نام سے موسوم ہیں۔ ناول کی اشاعت بہترین ہے اور اس کے سرورق کو خوب صورت آرٹ ورک سے مزین کیا گیا ہے جس میں ایسی عورت کو پیش کیا گیا ہے جس کے چہرے کے خدوخال، پہناوا و سنگار ہڑپائی تہذیب سے ماخوذ ہے۔
ناول میں ایک زمین دار گھرانے کی عبرت کی کہانی بیان کی گئی ہے جو جاگیرداروں کے کھوکھلے طرزِ زندگی کو ظاہر کرتی ہے۔ گھر کا نظام ایسا ہے کہ جہاں والدین اور بچوں کے درمیان شدید قسم کا کمیونیکیشن گیپ ہے وہیں اُولاد بھی آپس میں لاتعلقی کی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ حویلی میں ہر کوئی تنہائی کا شکار ہے اور گھریلو ناچاقیاں اس نہج پا جا پہنچتی ہیں کہ چوہدری ولایت علی خان کے تینوں بیٹے جوانی میں ہی غیر طبعی موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ صنوبر اس کہانی کا تنہا اور مظلوم ترین کردار ہے، دنیا جہاں کی تمام تر زیادتیاں اور نا انصافیاں اُس کے ساتھ سرزد ہوتی ہیں مگر قدرت کے فیصلے بھی عجب ہوتے ہیں کوئی اور وارث نہ ہونے کی وجہ سے تمام تر جاگیر اُس کے نام پر منتقل ہو جاتی ہے۔
چوں کہ یہ ناول نسائی مسائل کا عکاس ہے اس لیے اس کے اہم کردار بھی نسوانی ہیں۔ ناول کا مرکزی کردار صنوبر جو کہ ایک بڑے زمین دار کی توجہ طلب بیٹی ہے۔ سخت گیر بڑی بی بی، صنوبر کی والدہ اور علاقائی چوہدرائن۔ چناں، بھیڑ بکریاں چرانے والی۔ بھاگاں محتاج، مصالحے و دالیں دلنے والی۔ بالی، جسم فروش۔ اور سنیاری، خانہ بدوش، چھاج و گھوگو گھوڑے بیچنے والی۔ مردانہ کرداروں میں، چودھری ولایت علی خان، اس کے بیٹے، افتخار، امتیاز اور عطا اللہ۔ اس کے علاوہ منشی مستا، ماسٹر اللہ دتا، ملک اکرم حسین، ملک صابر حسین، منشی ریحان اور محمد اسلم اہم ہیں۔
ناول کا ہر کردار، واقعہ، مکالمہ و منظر نگاری پنجاب کی رہتل سے جُڑی ہوئی ہے۔ طاہرہ اقبال جہاں کہانی کو پھیلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں وہیں وہ قارئین کے مزاج کو سمجھتے ہوئے اُسے قابو میں رکھنے کا گُر بھی بخوبی جانتی ہیں۔ پہلے وہ واقعے کو بالترتیب وسعت دینے لگتی ہیں اور جب قاری وابستہ ہو جاتا ہے تو فوراً ہی تحریر کو سمیٹ لیتی ہیں۔
ناول کے پہلے حصہ ’کھنڈر ہڑہا‘ سے کہانی کا آغاز ہوتا ہے اور ادیبہ اہم کرداروں سے متعارف کرواتے ہوئے علاقائی اہمیت سے ہمکنار کرتی ہے اور بڑے ہلکے پھلکے انداز میں ہڑپا کے فنا ہونے پر پائی جانے والی دو مختلف آرائی سے کہانی کو نوازتی ہیں۔ ناول کا کینوس اتنا وسیع ہے کہ وہ ہڑپا کے کھنڈرات سے چھلک کر ملکی سطح پر پھیل جاتا ہے اور حکومتی ایوانوں کو ہلاتا ہوا فیصلہ سازوں کی ملکی سیاست میں دل چسپی و مداخلت تک جا پہنچتا ہے۔ مصنفہ ہمیں طاقت وروں کے عدلیہ سے کھلواڑ اور ججوں کے جانبدارانہ کردار کے بارے میں آگاہ کرتی ہیں، وہ میڈیا اور سول سوسائٹی کے پروپیگنڈا اور اُن کے ذاتی مفادات کی پردہ کشائی کرتی ہے اور مذہبی جماعتوں کے منفی کردار اور معاشرتی دباؤ کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر بھی روشنی ڈالتی ہیں۔
پہلے حصے میں جہاں مُصنفہ اینٹ پر اینٹ رکھتے ہوئے کہانی کی عمارت کو کھڑا کرتی ہیں وہیں دوسرے حصے میں وہ اسے بام عروج پر پہنچا دیتی ہیں۔ اس حصے میں زیادہ تر مردوں کے کردار سامنے لائے جاتے ہیں جو ایک ایک کر کے اپنے انجام کو جا پہنچتے ہیں۔ آغاز میں تمام کردار ایک دوسرے پر بھاری رہتے ہیں اور مرکزی کردار کا تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے مگر آہستہ آہستہ صنوبر کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔
ناول کے تیسرے حصہ میں کہانی اپنے انجام ’ہڑپا فطرت‘ کی جانب بڑھتی ہے یعنی یہاں عروج سے زوال کے سفر کی روداد بیان کی گئی ہے۔ لیکن جیسے ہڑپا اُجڑ کر دوبارہ آباد ہوتا ہے اُسی طرح کچھ روشنی کی کرنیں دوبارہ پھوٹتی ہیں اور اُمید کی شمع روشن ہونے لگتی ہے اور یہی ہڑپا کی فطرت ہے۔
ہمارا تعلق ایسے معاشرے سے ہے جہاں طاقت اور فیصلہ سازی کا جھکاؤ مرد کی جانب ہے اور عورت اس وجہ سے اُن حقوق سے مستفید نہیں ہو پاتی جن کی وہ حق دار ہے لیکن اس بات کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے کہ یہاں عورت بھی عورت کے حقوق کی پامالی میں برابر کی شریک ہے اور وہ عورت کو گرانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ ناول میں جہاں عورت کا کمزور روپ پیش کیا ہے تو وہیں اُس کا انتہائی طاقت ور چہرہ میں بھی دکھایا ہے جو بہت ہی سنگین بدلاؤ کا سبب بنتا ہے۔
اس کی مثال چودھرانی کے اپنی بیٹی کے ساتھ رکھے جانے والے ناروا سلوک میں موجود ہے۔ ملکانی اتنی خود پرست ہے کہ تینوں جوان بیٹے اور خاوند کو کھو دینے کے بعد بھی اس کے تکبر میں کمی نہیں آتی اور وہ اپنی سگی بیٹی کے لیے وقت مرگ بھی نفرت کا اظہار کرتی ہے اور اس فکر میں ہے کہ وہ تمام تر جائیداد کی واحد وارث قرار پائے گی۔
ناول میں نو عمر بچیوں کی بلوغت میں ہونے والی جسمانی تبدیلیوں کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ اس دوران وہ کیا سماجی و نفسیاتی دباؤ سہتی ہیں اُس پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ مُصنفہ نے اس موضوع کو حقیقت نگاری میں بیان کر کے اپنی ذات کے ساتھ انصاف کیا ہے اور عورت ہونے کا حق ادا کیا ہے۔ ہمارے سماج میں اس امر کو قابل گفتگو گردانا جانا چاہیے اور گھریلو تربیت کے ساتھ ساتھ نصاب میں بھی اس پر مواد شامل کیا جانا چاہیے۔ کیا انسان کو اپنے آپ کو پہچاننے اور اپنی شخصیت کو بہتر بنانے اور اسے سماج کے قابل بنائے جانے سے بھی بڑا کوئی حاصل ہو سکتا ہے؟
اس ناول میں جہاں جاگیردارانہ نظام کی خامیوں پر بات کی گئی ہے وہیں اس کے مثبت پہلووں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ میری رائے میں کوئی بھی نظام اچھا یا بُرا نہیں ہوتا بل کہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اسے اچھائی یا برائی سے ہمکنار کرتے ہیں۔ اس کی مثال ناول میں ہی موجود ہے کہ جب چودھری نرینہ اولاد سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کی وفات کے بعد اس کی آدھی جائیداد اُس کے دو قریبی رشتہ داروں ملک اکرم حُسین اور ملک صابر حُسین جو غربت کی زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں میں منتقل ہو جاتی ہے۔ دولت مند ہونے کے بعد وہ جس روپ میں سامنے آتے ہیں اس کے مقابلے میں چوہدری ولایت کا کردار تو بہت شریفانہ اور مثبت ہے۔
یہاں دولت، شہرت اور مقام ہر کسی کو چاہیے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اختیار ملنے کے بعد وہ کیا برتاؤ کرتا ہے۔ آثار قدیمہ کے عملہ کو ہی لے لیجیے وہ عام لوگوں کے ساتھ کیا رویہ اپناتے ہیں اور ملنگوں کے عمل کو دیکھیے کہ جنہوں نے موقع پاتے ہی ایک ساتھ مل کر چنی کی عزت کو تار تار کر دیا۔
بہر کیف اس ناول کا تخاطب پنجاب کی دیہاتی عورت ہی ہے۔ وہ سماج جہاں عورت ہمیشہ سے استحصال کا شکار ہے اور اس کی مظلومیت کا ہر کوئی فائدہ اٹھانے کو تیار ہے، اُس کے حقوق تو صلب ہوتے ہی ہیں ساتھ ہی اس کے کردار کو سماجی طور پر بھی مفلوج کیا گیا ہے اور دیہات میں تو یہ صورت حال مزید سنگین ہے۔ ڈاکٹر طاہرہ اقبال نے نہایت خوب صورتی سے اس ناول کو تحریر کیا ہے اور وہ تمام پہلو جو ایک ادب پارہ کو اعلی بنائے کے لیے درکار ہیں وہ موجود ہیں۔


