صحتمند معاشرے کی خصوصیات


میری ایک غزل کے چند اشعار ہیں

نئی کتاب مدلل جواب چاہیں گے
ہمارے بچے نیا اب نصاب چاہیں گے
روایتوں کے کھلونوں سے دل نہ بہلے گا
بغاوتوں سے منور شباب چاہیں گے
حساب مانگیں گے اک دن وہ لمحے لمحے کا
ہمارے عہد کا وہ احتساب چاہیں گے

پاکستان کے سفر کی خوشگوار یادوں میں سے چند ایک وہ ہیں جب میری ایسے نوجوانوں سے نہ صرف ملاقاتیں ہوئیں جن سے میں پہلے کبھی نہ ملا تھا بلکہ ان کے ساتھ مختلف موضوعات پر سنجیدہ مکالمے بھی ہوئے۔ ایسے نوجوان ہمیں اپنے مستقبل کے بارے میں پرامید رکھتے ہیں۔ ان نوجوانوں میں عائشہ اسلام، مقدس مجید اور ابصار فاطمہ بھی شامل ہیں اور احمد منصور، عمر فاروق اور عثمان اشرف بھی۔ یہ نوجوان نہ صرف کئی گھنٹوں کا سفر کر کے مجھ سے ملنے آئے بلکہ اپنے ساتھ سنجیدہ مکالمے کے لیے سوالوں کی ایک فہرست بھی لائے۔

آج میں اس فہرست کے پہلے سوال کے بارے میں اپنی رائے رقم کرنا چاہتا ہوں تا کہ وہ لوگ بھی اس مکالمے میں شریک ہو سکیں جو اس محفل میں موجود نہ تھے۔

عمر اور عثمان کا سوال تھا
آپ کی نظر میں صحتمند معاشرہ کیسا ہوتا ہے؟
کیا ایسے اقدامات ہیں جن پر چل کر ایک صحتمند معاشرہ قائم کیا جا سکے؟

میں نے نوجوانوں سے کہا کہ کسی معاشرے کے تمام افراد ایک دوسرے سے ایک زنجیر کی طرح جڑے ہوتے ہیں اور ایک زنجیر اتنی ہی مضبوط ہوتی ہے جتنی اس کی کمزور ترین کڑی۔ ہم انگریزی میں کہتے ہیں۔ A CHAIN IS AS STRONG AS THE WEAKEST LINK
میری نگاہ میں کسی بھی معاشرے کی کمزور کڑیاں بچے، عورتیں اور اقلیتیں ہوتی ہیں۔

صحتمند معاشروں میں بچوں، عورتوں اور اقلیتوں کے انسانی حقوق کا احترام کیا جاتا ہے۔ غیر صحتمند معاشروں میں بچوں کے حقوق کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور عورتوں اور اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے اس لیے وہ بہت سے حقوق سے محروم رہتے ہیں۔

صحتمند معاشرے میں ریاست یہ ذمہ داری لیتی ہے کہ کوئی بھی شہری
نہ رات کو بھوکا سوئے
اور
نہ چھت کے بغیر رہے
میرا ایک شعر ہے
ہر ایک گھر کو جو حیرانیوں سے تکتے ہیں
وہ جس کی چھت ہی نہیں اس مکاں کے بچے ہیں
صحتمند معاشرے میں ریاست یہ ذمہ داری لیتی ہے کہ
ہر بچے کو مفت تعلیم، ہر نوجوان کو ملازمت اور ہر بزرگ کو علاج ملے۔

میں پچھلے چالیس برس سے کینیڈا میں زندگی گزار رہا ہوں اور کئی بار امریکہ اور یورپ گھوم چکا ہوں۔ کینیڈا میں ہر شہری کا علاج مفت ہے لیکن امریکہ میں لاکھوں شہری ایسے ہیں جن کے پاس صحت کی انشورنس نہیں ہے۔ امریکہ میں اگر عورت حاملہ ہوتی ہے تو دعا کرتی ہے کہ اس کا بچہ نارمل ہو کیونکہ اس کے پاس اتنے ڈالر نہیں کہ وہ بچے کی پیدائش کے لیے سیزیرین کا آپریشن کروا سکے۔

اب یورپ میں کئی ایسے ممالک ہیں جہاں پرائمری سکول سے یونیورسٹی تک کی تعلیم مفت ہے۔
صحتمند معاشروں میں امیر اور غریب، کالے اور گورے، عورت اور مرد کا فرق مٹ جاتا ہے اور ہر شہری اپنے ملک کی شہریت پر فخر کر سکتا ہے۔

صحتمند معاشرے اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ اس ملک اور معاشرے کا ہر بچہ ایسے پلے بڑھے کہ اس کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔

صحت مند معاشرے کے افراد سب بچوں کو اپنا بچہ سمجھتے ہیں اور مانتے ہیں کہ
وہ جس کسی کی بھی آغوش جاں کے بچے ہیں
نوید صبح ہیں سارے جہاں کے بچے ہیں

صحتمند معاشروں میں بچوں کے والدین اور اساتذہ مل کر پہلے بچوں کی خفیہ صلاحیتوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور پھر ان صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی تعلیم و تربیت سے واضح ہوتا ہے کہ

کون سا بچہ شاعر بن سکتا ہے کون سا دانشور
کون سی بچی سائنسدان بن سکتی ہے کون سی فنکار
کون سا بچہ سیاسی لیڈر بن سکتا ہے کون سا سماجی کارکن
صحتمند معاشروں میں نظام افراد سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔

جب نظام مستحکم ہو جائیں۔
چاہے وہ مقننہ ہو یا انتظامیہ ہو یا عدلیہ
چاہے وہ تعلیمی نظام ہو یا سیاسی نظام
چاہے وہ معاشی نظام ہو یا سماجی نظام
تو پھر عوام جان جاتے ہیں کہ اگر ایک رہنما چلا بھی جائے تب بھی نظام چلتا رہے گا۔

جب نظام مستحکم نہ ہوں تو عوام فکرمند اور پریشان رہتے ہیں اور جب وہ کسی سیاسی یا معاشی بحران کا شکار ہو جائیں تو کسی مسیحا کا انتظار کرنے لگتے ہیں اور کئی سیاسی یا مذہبی یا عسکری رہنما موقع سے فائدہ اٹھا کر پریشان اور مفلوک الحال عوام کو ایسے خواب دکھاتے ہیں جو کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوتے۔

غیر صحتمند معاشروں میں طلسماتی شخصیت رکھنے والے رہنما ایک کلٹ بھی بنا لیتے ہیں اور عوام کو گمراہ کرتے رہتے ہیں۔

یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ اگر مسائل ایک حد سے زیادہ سنگین ہو جائیں تو لوگ یا بے حس اور یا نا امید ہو جاتے ہیں۔

سماجی تبدیلی کے لیے لازم نہیں کہ ساری قوم ہی جاگے اس کے لیے ایک ایسی اقلیت ہی کافی ہوتی ہے جو عوام کی نظریاتی اور سیاسی رہنمائی کر سکے، ان کے سامنے ایسا پروگرام پیش کر سکے جو ان کے مسائل کا حقیقت پسندانہ حل کر سکے اور انہیں بہتر مستقبل کی امید دلا سکے۔

جب عوام اپنے سیاسی، مذہبی اور سماجی رہنماؤں پر اعتماد و اعتبار کھو دیں تو خطرہ پیدا ہوتا کہ وہ نفسیاتی طور پر دیوالیہ نہ ہو جائیں۔

صحتمند معاشروں میں شاعر، ادیب اور دانشور اپنی سماجی ذمہ داری پوری کرتے ہیں۔ وہ اپنی تخلیقات میں مسائل کا حقیقت پسندانہ حل اور خواب پیش کرتے ہیں تا کہ سیاسی رہنما اور عوام مل کر ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرسکیں۔

ہر قوم میں ایسے غیر روایتی اقلیتی دانشور ہوتے ہیں جو ارتقا کے سفر میں روایتی اکثریت کی رہنمائی کرتے ہیں۔

اکیسویں صدی میں ساری انسانیت ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک راستہ غصہ نفرت تلخی تعصب اور جنگ کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ پیار محبت آشتی اور امن کی طرف جاتا ہے

انسان دوست ماہر نفسیات ہونے کے ناتے میں یہ امید رکھتا ہوں کہ انسان انفرادی اور اجتماعی طور پر خانہ جنگی اور ایٹمی جنگ شروع کر کے اجتماعی خود کشی کرنے کی بجائے امن اور آشتی کی راہ اختیار کریں گے تا کہ ساری دنیا میں صحتمند اور پرامن معاشرے قائم ہو سکیں۔

پاکستان کے سفر کے دوران نجی محفل میں میرے نوجوان دوست میری باتیں سن کر بہت خوش ہوئے۔
آپ کی اس موضوع پر کیا رائے ہے؟

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail