روزے اور پکوڑے


قیدِ رمضان میں بھی یار لوگ کارِ شیطانی سے باز نہیں آتے۔ یہ ہوائی کسی دشمن نے نہیں، دوستوں نے اڑائی ہے کہ ہم پکوڑے کھانے کے شوقین ہیں اور اس درجہ شوقین ہیں کہ اگر کوئی پکوڑے جیسی ناک والی حسینہ اپنے ہاتھ میں پکوڑوں کی پلیٹ لیے ہمارے روبرو آئے تو ہم اس کی ناک پر ثمرقند و بخارا قربان کر دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ حسینوں اور پکوڑوں کے بارے میں ہمیں اپنی وارفتگی سے انکار نہیں لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہماری نیک نیتی اور جذبۂ ایمانی پر شک و شبہ کا اظہار کیا جائے۔

یہ سراسر بہتان ہے۔ احباب کا خیال ہے کہ ہم حصولِ ثواب اور ادائے فرض کے لیے نہیں بلکہ افطار میں پکوڑوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے روزے رکھتے ہیں۔ ایک یارِ بے صفا کا کہنا ہے کہ ہم اگر سہوِ کاتب سے جنت کے حق دار قرار پائے تو وہاں بھی حورانِ بہشتی سے گرم گرم پکوڑے تلوا کر تناول کیا کریں گے (حوروں کو شکایت ہے ”خوش خوراک“ ہے مومن) ایک بار اس نے ہمیں افطار میں پکوڑوں سے ”پکڑن پکڑائی“ کھیلتے دیکھا تو کہا ”تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، پکوڑے نہیں۔“ ایک حبیبِ روسیاہ نے الزام عائد کر رکھا ہے کہ خاکسار دنیا کا واحد مسلمان ہے جو افطار کے علاوہ سحری میں بھی پکوڑے کھاتا ہے۔ غرض کہ جتنے منہ، اتنے پکوڑے!

بات یہ ہے کہ ہم کوئی گائے بھینس تو ہیں نہیں کہ ساری زندگی گھاس ہی چرتے رہیں اور جگالی کرتے رہیں۔ ہم انسان ہیں، منہ میں زبان رکھتے ہیں اور انسان کو زبان اس لیے عطا نہیں کی گئی کہ گالیاں دے کے دوسروں کو بے مزا کرتا پھرے۔ خدا کے خوش خوراک بندے اسے ”آلۂ مقیاس الذت“ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور اپنے رب کی نعمتوں سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ پکوڑے بھی نعمت خداوندی میں شمار ہوتے ہیں بلکہ کبھی کبھی تو ہمیں یہ لگتا ہے کہ پکوڑا جنت سے اترا ہوا کوئی پھل ہے جس کا ذائقہ نمکین ہے۔

ہمارے ذہن میں جنت کا جو نقشہ ہے، اس میں جہاں دودھ اور شہد کی نہریں ہیں، خوش ذائقہ پھلوں کے باغات ہیں وہاں کسی گوشے میں میز پر ایک طشتِ زریں بھی ہے جس میں یہ میوۂ نمکین ہو گا۔ ہمیں یہاں اپنی ہی ایک معرکہ آرا نظم یاد آ گئی ہے جس کا عنوان ”ابلہِ جنت“ ہے اور جس میں اسی خیالِ رنگین و نمکین کو پیش کیا گیا ہے :

ماہِ صیام میں، افطار کے وقت
میں ہر روز پکوڑے کھاتا ہوں،
اور سوچتا ہوں
اگر باغِ بہشت میں یہ میوہ نہ ہوا،
تو شامِ بہشت کس قدر بے نمک ہو گی،
کتنی بے کیف ہو گی!

شاعری بھی عطیۂ خداوندی ہے اور توفیقِ الٰہی کے بغیر شاعر ایک مصرع تک نہیں کہہ سکتا۔ اب اسی بات کو دیکھیے کہ نظیر اکبر آبادی نے دنیا کی تمام سبزیوں، پھلوں اور کھانے پینے کی دیگر چیزوں پر نظمیں لکھی ہیں مگر ان کی ایک نظم بھی ایسی نہیں جو پکوڑوں کی شان میں ہو۔ تربوز، خربوزے، سنگترے، تل کے لڈو، آگرے کی ککڑی وغیرہ پر انہوں نے شان دار نظمیں تحریر کی ہیں مگر یہ سعادت صرف ہمارے حصے میں آئی ہے کہ ہم نے پکوڑوں کی مدح میں ایک نہیں، دو نظمیں تخلیق کی ہیں اور دونوں خاصی بلند پایہ ہیں۔ قارئین کی پُرزور فرمائش پر یہاں وہ دوسری نظم بھی درج کر رہے ہیں جو ’چھوٹی بحر کی نثری نظم‘ ہے اور جس کا عنوان ہے : مینیو کارڈ!

وقتِ افطار
پکوڑے چار
تین گلاس شربت
دو کھجوریں
ایک گولڈ لیف کا سگریٹ
اور درویش کی غذا کیا ہے!

یہ نظم تو غالب کو اس درجہ پسند آئی کہ اس کے آخری مصرعے کو طرح مصرع جان کر انہوں نے ہمارے چراغ سے اپنا چراغ جلایا اور ایک لاجواب غزل تحریر کی۔ غالب یقیناً ایک پوشیدہ ولی تھے اور مستقبل میں ہونے والی شاعری کا حال بھی انہیں معلوم تھا۔

پکوڑے عام طور پر گھی یا تیل میں تلے جاتے ہیں مگر ایک صاحب کے بارے میں سنا کہ وہ تھوک سے پکوڑے تلتے ہیں۔ یہ سن کر بہت حیرانی ہوئی، خوشی بھی ہوئی کہ اس مہنگائی کے دور میں انہوں نے کتنا کم خرچ طریقہ ایجاد کیا ہے۔ اس سے پہلے کہ خوشی دوبالا کرنے کے لیے ان صاحب سے پکوڑے کھلانے کی فرمائش کرتے، عقدہ کھلا کہ یہ اہلِ پنجاب کا ایک محاورہ ہے اور اس کے معنی ہیں بے پَر کی اڑانا، خیالی پلاؤ پکانا۔ اگر ہمیں یہ معنی نہ بتائے جاتے تو ہم پکوڑوں کے کاروبار کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہے تھے۔ ہمارے اکثر کاروبار اسی طرح شروع ہونے سے پیشتر ناکام ہوئے ہیں اور ہم لعابِ دہن سے پکوڑے تلتے رہ جاتے ہیں۔

بلا سے ہم پکوڑوں کی دکان نہ کھول سکے مگر ہماری کتابیں گرم پکوڑوں کی طرح فروخت ہوتی ہیں۔ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے اپنے کتابوں کے سرد اوراق میں گرم پکوڑے فروخت ہوتے دیکھے ہیں۔ بہت کم معاصرین کو یہ شرف حاصل ہے کہ ماہِ مقدس میں ان کی کتابوں کے اوراق میں بھی پکوڑے لپیٹ کر اہلِ ایمان کو پیش کیے جاتے ہوں۔ یہ رتبۂ بلند ملا، جس کو مل گیا۔

عام طور پر پکوڑوں کو دو آتشہ (دو ذائقہ) بنانے کے لیے بیسن میں آلو، بینگن، پیاز یا چکن کی آمیزش کی جاتی ہے لیکن ایک صاحب نے مینگورہ شہر میں کھولی ہے پکوڑوں کی دکاں سب سے الگ۔ وہ اوجھڑی کے پکوڑے تیار کرتے ہیں۔ گاہک دل پر ہاتھ رکھ کر ان کی دکان میں داخل ہوتے ہیں اور پیٹ تھامے رخصت ہوتے ہیں۔ یہ بہت مشہور دکان ہے اور تیس سال سے پکوڑوں کی افزائشِ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ امراضِ شکم کے ڈاکٹر صاحب کے کلینک میں مریضوں کی اتنی چہل پہل نہیں ہوتی جتنا اس مردِ خلیق کی دکان پر ہجوم رہتا ہے۔

اسی طرح لاڑکانے کی ایک دکان کے پکوڑے بھی مریضوں اور ڈاکٹروں میں یکساں طور پر مقبول ہیں۔ یہاں کنول کے پودے کی جڑوں (بھے ) کو ٹکڑوں میں کاٹ کر بیسن میں شامل کیا جاتا ہے اور ایسے لذیذ پکوڑے تیار کیے جاتے ہیں کہ لوگ دکان دار کی انگلیاں چاٹتے رہ جاتے ہیں۔ ایبٹ آباد میں ایک نیک بخت آدمی نے تاریخی الیاسی مسجد کے زیرِ سایہ خرابات کے بجائے پکوڑوں کی دکان کھولی ہے۔ یہ دکان بھی خوب چلتی ہے۔ دکان پر اتنا ہجوم ہوتا ہے کہ لوگ مسجد میں نماز کے بعد جلد باری آنے کی دعا کرتے ہیں۔ ہمارا ارادہ ہے کہ اگلے رمضان میں ان تینوں مقامات کا دورہ کریں گے اور پکوڑوں کی کوالٹی کا ”بشکمِ خود“ جائزہ لیں گے۔

ماہِ رمضان میں ہم کشتوں (پکوڑوں ) کے پشتے لگا دیتے ہیں لیکن جوں ہی ہلالِ عید ہماری ہنسی اڑانے کے لیے نمودار ہوتا ہے، ہم دوبارہ آنکھ اٹھا کر بھی پکوڑوں کی جانب نہیں دیکھتے۔ باقی تمام سال ان سے بے نیاز ہی رہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم وفادار نہیں۔ ہم سیر چشم ہیں، طوطا چشم ہرگز نہیں۔ عید کے دن، سویاں کھاتے ہوئے ہمیں پکوڑوں کی یاد ضرور آتی یہ اور دل میں خیال آتا ہے کہ امراؤ القیس کی طرح ریت کے ٹیلے پر کھڑے ہو کر پکوڑے کی ناک والی کسی حسینہ کی یاد میں آہیں بھریں، پکوڑوں کی پلیٹ کی شان میں قصیدہ کہیں اور اس کی ناک پر ثمرقند و بخارا قربان کر دیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “روزے اور پکوڑے

  • 05/04/2024 at 3:00 شام
    Permalink

    اور درویش کی غذا کیا ہے! واہ بہت عمدہ، پڑھ کر مزا آگیا ہے۔

Comments are closed.