آخری جمعہ


آج آخری جمعہ ہے۔ زندگی میں اس سے پہلا تعارف اماں حضور نے کرایا تھا۔ رمضان کے پہلے دوسرے عشرے میں ہی جب ہمارے عید کے کپڑوں کی شاپنگ ہو رہی ہوتی تھی تو ایک جوڑے کی بجائے کپڑوں کے دو جوڑے ہمارے لئے اماں خرید لیتیں۔ اس نعمت غیر مترقبہ کے باعث ہمارا دل بلیوں اچھلتا اور ہم حیران ہو کر پوچھتے کہ یہ دوسرا سوٹ کس لئے؟ ہم سوچتے شاید عید کے دوسرے دن بھی نئے کپڑے پہنتے ہوں گے۔ تب اماں بتاتی کہ یہ آخری جمعے کے لئے۔ میرا بچہ آخری جمعے کو پہن کر جمعہ پڑھنے جانا۔

ہم پوچھتے جمعہ تو ٹھیک ہے یہ آخری جمعہ کیا ہوتا ہے؟ وہ بتاتیں اس سے مراد رمضان شریف میں آنے والا آخری جمعہ کا دن ہے۔ ہم ایک دو سوال اور بھی کرتے۔ مثلاً یہ کہ اسے آخری جمعہ کیوں کہتے ہیں؟ کیا اس کے بعد پھر کبھی قیامت تک جمعہ کا دن نہیں آئے گا؟ یا پھر مثلاً یہ کہ اس دن کے واسطے اتنا اہتمام کیوں کیا جا رہا ہے؟ کیا یہ بھی کوئی عید ہے؟ تو وہ بتاتیں کہ عید تو خیر نہیں ہے مگر اس کی بہت بڑی برکت اور فضیلت ہے۔

اماں جو مفصل اس کے فیوض و برکات کا نقشہ کھینچتیں اس سے ہمارا چھوٹا سا ذہن یہ نتیجہ نکالتا کہ یہ شاید کوئی ’مِنی عید‘ ٹائپ چیز ہے۔ لہذا ہمارے اندر ایک عجیب و غریب جوش و ولولہ اس دن پیدا ہوجاتا۔ ایسے جو بچے پورا رمضان روزہ نہیں رکھتے تھے مگر عمر اور جسمانی لحاظ سے ان کی دو ایک سال میں ’چڑی روزے‘ سے ’اصلی روزے‘ میں ترقی ہونے والی ہوتی تھی تو انہیں خاص اہتمام سے آخری جمعہ کا روزہ رکھوایا جاتا۔

اس دن ہم تمام بچے بڑوں کے ساتھ دن چڑھتے ہی جمعۃ المبارک کی تیاریوں میں مصروف ہو جاتے تھے۔ نئے کپڑے سل کر آ چکے ہوتے تھے۔ انہیں میں آخری جمعہ کا سوٹ ہوتا تھا۔ اسے نکال کر استری کراتے۔ خوب رگڑ رگڑ کر نہاتے اور دو بار صابن لگاتے۔ خصوصی طور پر شیمپو کی پتی (ساشے ) خرید کر لاتے۔ نہا دھو کر نیا جوڑا پہنتے۔ سکولوں میں استاد جمعہ کے دن کے مسنون کاموں کا اس قدر رٹا لگواتے کہ ہمیں ایک ایک سٹیپ ازبر ہوتا۔ امی کپڑے پہنا کر تیار کر دیتیں تو خوشبو لگانے کا مرحلہ آتا۔

’امی خوشبو تو لگاؤ۔ یہ کیا ہے؟ ایں؟ سینٹ؟ سپرے والا پرفیوم؟ امی ٹھہرو۔ یہ تمہارے والا پرفیوم ہم نہ لگائیں گے۔ ‘

کیوں؟

’اس میں شراب ہوتی ہے۔ اس سے نماز نہیں ہوتی۔ اسلامیات والا استاد بتا رہا تھا۔ عطر لگاؤ عطر۔ وہ رسول ﷺ کی سنت ہے۔ ‘

ہماری سیدھی سادی مائی بیچاری یہ سن کر اس پر فوراً ایمان لے آتی۔
کہتی
’ اچھا؟ پھر کون سا لگاؤں۔ عطر کہاں ہے؟ ‘

یہ کہتے ہوئے میز کی دراز پھرولتیں تو اس کے کسی کونے کھدرے سے کوئی عطر کی شیشی نکل آتی جس میں پیلا سا محلول ہوتا۔ نہایت بھولی بھالی اماں ڈھکن کھول شیشی کے رولر کو کپڑوں پر پھیرتیں تو یہ لمبی لمبی پیلی لائنیں نئی قمیض پر منہ چڑانے لگتیں۔ ہمیں بے حد کوفت ہوتی۔ اماں کہتیں کوئی نہیں، کوئی نہیں۔ ابھی تھوڑی دیر میں سوکھے گا تو غائب ہو جائے گا۔ مگر کہاں؟ ہم سارا دن اس گندے سے داغ کے ختم ہونے کے انتظار میں گزار دیتے۔ شکایت کرتے تو اماں جھلا کر کہتیں تجھے ہی عطر کا شوق تھا۔

اس کے بعد عید والا جوتا ڈبے میں سے نکال کر پہنتے اور اس شان سے جامع مسجد کو روانہ ہوتے گویا عید پڑھنے جا رہے ہیں۔ چاؤ چاؤ میں بارہ سوا بارہ بجے ہی مسجد جا پہنچتے جب موذن، متولی اور امام ابھی اپنے اپنے گرینڈ شو کی تیاریوں کو فائنل ٹچ دے رہے ہوتے تھے۔ ہم نہایت عقیدت سے ٹوپی سر پر سجائے اور ایک خوبصورت سی اندھیرے میں جلنے والی (چمکنے والی) پاک و ہند کی معروف روایتی سبز دانوں والی تسبیح پکڑ کر اگلی اگلی صف میں براجمان ہو جاتے۔

یہ جانتے ہوئے بھی کہ تھوڑی دیر میں یہ داڑھیوں والے ہمیں گھسیٹ کر پچھلی صفوں میں دھکیل دیں گے۔ جمعہ کا وعظ ہوتا۔ مولانا اس میں خوب جھوٹی سچی لگاتے۔ مجمع بھیڑوں کے ریوڑ کی طرح سر ہلاتا رہتا۔ اور وقتاً فوقتاً ’سبحان اللہ‘ ، ’ماشا اللہ‘ اور جزاک اللہ بڑبڑاتا، منمناتا اور ہنہناتا رہتا۔ اللہ میاں کا خوف ناک نقشہ کھینچا جاتا۔

خوف زدہ ہو کر ہم یہ خیال ہی جھٹک دیتے۔ اس کے بعد مولوی وہ تمام بڑوں والی گندی گندی باتیں جن کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے اور جو ہم نے کبھی بدنام زمانہ گورمنٹ کے ٹاٹ والے سکول میں بھی نہ سنی تھیں، خوب لون مرچیں لگا لگا کر سناتا۔ حوروں کے قصوں میں قرآن و حدیث سے ایسے ایسے ٹکڑے بیان کرتا کہ ہمیں اس کم سنی میں شرم کے مارے پسینہ آ جاتا۔

جنسی عمل کے بارے میں پہلی آگاہی بھی جمعہ کے دن مولوی صاحب کے خطبہ کے باعث ہوئی۔ حمل کس طرح ٹھہرتا ہے اور بچہ پیدا ہونے کا مفصل عمل بھی مسجد کے منبر سے جمعہ کے خطبات سننے سے ذہن نشین ہوا۔ شلوار کیونکر ناپاک ہوتی ہے اور اسے پاک کرنے کا عمل، بلوغت کی نشانیاں، شہوت، مباشرت اور آنکھ مٹکا، جانوروں سے بدفعلی کی وعیدیں۔ الغرض ایسا وعظ ہوتا کہ پورن حب وغیرہ بھی ابھی تک اس تک نہیں پہنچے۔ خیر جمعہ پڑھ کر ہماری معصوم طبیعت مکدر ہوجاتی۔

گھر واپس آتے ہوئے امام صاحب کی تقریر کو راستے میں ہی سر جھٹک جھٹک کر بھلانے کی کوشش کرتے اور گھر آ جاتے۔ آتے ہی اماں سے شاباشی ملتی۔ اماں گودی میں اٹھا کر پیار کرتیں۔ ابا کو سفارش کرتیں اور جیب خرچ میں خصوصی الاؤنس لے کر دیتیں۔ اس کے بعد حکم ہوتا کہ عید کی جوتیاں فوراً اتار کر واپس ڈبوں میں رکھ دو۔ گندی ہوجائیں گی۔ اب عید والے دن پہننا۔ ایک دفعہ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ عید کی نئی جوتیاں پہن کر جو جمعہ پڑھنے گئے میری اور میرے چھوٹے بھائی کی جوتیاں رمضان کے بابرکت مہینے میں مسجد سے چوری ہو گئیں۔ اس دن کے بعد کبھی مسجد میں نیا جوتا پہن کر نہ گئے۔

آخری جمعہ کی شام کو ہمارے لئے افطار کا خاص اہتمام کیا جاتا تھا۔ انواع و اقسام کی نعمتوں سے دستر خوان سجایا جاتا۔ خصوصی پکوان بنے ہوتے تھے۔ گڑگڑا کر دعائیں مانگی جاتی۔ لمبی ختم شریف پڑھی جاتی۔ مرحومین کو ایصال ثواب کیا جاتا۔ اذان ہوتی روزہ کھلتا اور یوں آخری جمعہ اپنے اختتام کو پہنچتا۔

 

Facebook Comments HS