جاسوس کی نشان دہی


قدرت نے ہمیں اوپر تلے دو بیٹوں اور تین بیٹیوں کی نعمت سے سر فراز کیا۔ بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں تمہاری دلچسپی غیر معمولی تھی۔ اپنے تمام تر لاپرواہیوں اور کوتاہیوں کے باوجود اس معاملے میں میں بھی خاصا محتاط تھا۔ سارا دن سکول میں مصروف رہتا۔ یہاں پر کچھ ڈیوٹیاں تو میری محکمے نے لگائی ہوئی تھیں اور کچھ میں نے از خود بھی لگائی تھیں۔ پیریڈ پڑھانے کے بعد جو خالی پیریڈ ہوتے۔ وہ گیٹ پر جا بیٹھتا اور سکول میں آنے جانے والے لوگوں پر نظر رکھتا کہ شر پسند عناصر سکول میں داخل نہ ہو نے پائیں۔

سکول ٹائم کا سارا وقت میں اپنے آپ کو مصروف رکھتا۔ چھٹی کے بعد گھر واپس آتا تو کھانا تیار ملتا۔ کھانے کے بعد بمشکل پندرہ بیس منٹ کا وقفہ ہوتا اور اس وقفے میں عموماً چارپائی پر لیٹ کر اتنے ہی عرصے کے لیے سو جاتا اور تمہیں وقت پر مجھے جگانا ہوتا۔ تم عموماً پانچ سات منٹ بعد ہی جگاتیں اور میں بھاگم بھاگ ٹیوشن سنٹر پہنچ جاتا۔ مغرب تک یہاں مصروف رہتا۔ مغرب سے عشاء تک کا وقت میں نے اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے رکھا ہوا تھا۔

اس وقت سکول جانے والے بچوں کو بٹھا لیتا۔ ان کا سکول ورک اور ہوم ورک وغیرہ چیک کر لیتا۔ کچھ سمجھانے والی چیزیں انہیں سمجھا دیتا۔ میں فطری طور تھوڑے سخت مزاج کا تھا۔ لیکن بچوں کو پڑھاتے وقت ایک سکول ٹیچر کی سوچ ہوتی ہے کہ جو کچھ وہ جانتا ہے اس کے بچوں کو بھی معلوم ہونا چاہیے۔ لیکن حسب توقع نتائج حاصل نہ ہونے پر بچوں بے چاروں کی شامت آتی رہتی تھی اور جو وہ جانتے ہوتے ہیں وہ بھی بھول جاتے ہیں۔ مجھے اس حقیقت کا بخوبی ادراک تھا اور شاید میرے دماغ کے کسی کونے میں بھی یہ خناس چھپا بیٹھا تھا۔

اس لیے میں نے تمہیں تاکید کی ہوئی تھی کہ جب میں بچوں کو پڑھا رہا ہوں۔ تو تم نے ہماری طرف بھی متوجہ رہنا ہے اور اگر تمہیں محسوس ہو کہ مجھے غصہ آ رہا ہے اور میرا رویہ بچوں کے ساتھ سخت ہوتا جا رہا ہے۔ تو تم نے بچوں کو میرے پاس سے اٹھا لینا ہے اور پڑھائی ختم کروا دینا ہے اور اگر کبھی کبھار ایسا موقع آتا اور تم فوراً آ حاضر ہوتیں۔ بچوں کو یہ کہہ کر اٹھا لیتیں کہ بس بہت ہو گیا۔ اب ہم نے آپ سے نہیں پڑھنا۔ آپ جائیں۔ آپ کا کلب آپ کو آوازیں دے رہا ہے۔ اب گھر تو آپ کو کاٹ کھانے کو دوڑ رہا ہے۔ ان دو گھنٹوں کے علاوہ باقی سارا دن آپ گھر سے باہر گزارتے ہیں اور اسی وقت میں آپ سب گھر والوں کو کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں۔

بہرحال تم ایسی بہت سی تلخ و ترش باتیں کرتیں اور میں خاموشی سے سنتا رہتا۔ کیونکہ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا تھا۔ کبھی کبھار ہمارے درمیان لڑائی جھگڑا بھی ہو جاتا۔ اکثر اوقات اس کی وجہ جوائنٹ فیملی سسٹم کے معاملات میں اختلاف رائے ہوتا۔

ہمارا جوائینٹ فیملی سسٹم کچھ الگ طرح کا تھا۔ ہم چار بھائی تھے۔ سب سے بڑے بھائی میجر صاحب تھے۔ شادی کے فوراً بعد ان کی بیوی کو ان کے پاس بھیج دیا گیا۔ دوسرے نمبر پر صادق صاحب تھے۔ شادی کے بعد ان کی بیوی اور بچے ہمارے آبائی گھر میں ہی رہے۔ کیونکہ وہ ایک قریبی قصبے میں سکول ٹیچر تھے۔ میری شادی ہوئی تو اس کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد ابا جی نے ہمارے لیے ایک چھوٹا سا گھر بنوا کر ہمیں وہاں پر شفٹ کر وا دیا۔ میرے بعد ڈاکٹر ارشد کی شادی ہوئی تو وہ تقریباً ایک سال ہمارے پاس رہا۔

اس کے بعد ہم نے اس کو بھی ایک مکان کرائے پر لے کر وہاں شفٹ کر دیا۔ وہاں پر نیچے دونوں میاں بیوی نے کلینک بنا لیا اور اوپر والی منزل پر رہائش کر لی۔ گویا کہ ہم چاروں بھائی اپنے اپنے گھروں میں علیحدہ علیحدہ رہتے اور اپنا اپنا کماتے کھاتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود جوائنٹ فیملی سسٹم کی ایک نادیدہ ڈور سے بندھے ہوئے تھے۔ کس فیملی کو کس موقعہ پر پیسوں کی ضرورت ہے۔ نسبتاً خوش حال گھرانا اسے پورا کر دیتا بلکہ یوں سمجھیں کہ ڈاکٹر ارشد اور ڈاکٹر نورین نے ہمارے گھرانے کو لوئر مڈل کلاس سے نکال کر اپر مڈل کلاس میں شامل کر دیا۔

جب بھی کسی کو خلافِ معمول اخراجات کی ضرورت پڑتی۔ بغیر کسی خاص ترّدد کے یہاں سے پوری ہو جاتی۔ بلکہ اس سسٹم کا سب سے زیادہ فائدہ مجھے ہوا۔ اگر یہ سہولت میسر نہ ہوتی تو میں تو شاید اپنے کسی بھی بچے کی شادی نہ کر سکتا۔ بلکہ مجھے یاد ہے غالباً 2006 میں بلال کا داخلہ شیخ میڈیکل کالج رحیم یار خان میں سیلف فنانس بنیادوں پر ہو گیا۔ مجھے پتہ چلا میں تو حسب ِ معمول تہی دست تھا۔ ڈاکٹر ارشد اور ڈاکٹر نورین سے مشورہ کیا۔

دونوں نے اس بات پر زور دیا کہ داخلہ ضرور لینا چاہیے۔ میں نے کہا پھر ٹھیک ہے صبح اسے لے جاؤ اور وہاں پر داخل کروا آؤ۔ وہ حسبِ ہدایت اُسے لے گیا اور وہاں پر داخل کروا آیا۔ نہ اس نے مجھ سے فیس کی ادائیگی کے حوالے سے کوئی ذکر کیا اور نہ ہی میں نے کچھ پوچھا اور تمام بچوں کی شادی کے معاملے میں بھی صورتحال کچھ ایسی ہی رہی۔ اللہ تبارک و تعالی ٰان دونوں کو ہمیشہ صحت و تندرستی اور حقیقی مسرت و شادمانی سے نوازے اور دونوں جہانوں میں اُن کو کامیاب و سرخرو فرمائے۔ آمین!

ہاں تو بات ہو رہی تھی کہ کبھی کبھار آپس میں ہلکا پھلکا سا لڑائی جھگڑا بھی ہو جاتا ہم دونوں کی کوشش ہوتی کہ بچوں کو اس بارے میں کوئی بات معلوم نہ ہونے پائے۔ صلح کے لیے کوشش کی پہل ہمیشہ میری طرف سے ہی ہوتی کیونکہ میں اس ماحول میں رہنے کا عادی نہ تھا۔ یہ مجھے کاٹ کھانے کو دوڑتا۔ بہرحال ایک دو دن میں ہی حالات معمول پر آ جاتے۔ ہم حیران تھے کہ ہماری اس لڑائی کی خبر پڑوس میں رہنے والوں کو بھی نہ ہو پاتی لیکن میجر صاحب کو ملتان میں اس کا پتہ چل جاتا۔

وہ جب بھی آتے سب سے پہلا سوال یہی ہوتا کہ تم فلاں تاریخ کو آپس میں کیوں لڑے تھے اور وہ اس سلسلے میں ڈانٹا بھی مجھے ہی کرتے تھے تمہیں انہوں نے ہمیشہ ہی بے قصور قرار دیا اور اب ہم اس ٹوہ میں تھے کہ میجر صاحب کو کیسے پتہ چلتا ہے۔ وہ جب بھی آتے تو چھت پر بنے ہوئے واحد کمرے میں قیام کیا کرتے۔ ایک بار وہ ملتان سے آئے اور آتے ہی سیدھے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ آمنہ اس وقت چار پانچ سال کی تھی۔ وہ بھی خاموشی سے اُن کے پاس چلی گئی۔

ہم میجر صاحب کے جاسوس کی تلاش میں تو پہلے سے ہی تھے تم بھی دبے پاؤں چھت پر گئیں اور کمرے کے باہر رہتے ہوئے چوری چھپے اندر کے حالات سے آگاہی چاہی۔ آمنہ دھیمی آواز میں پچھلے دورانیے کی تاریخوں کے ساتھ مکمل رپورٹ پیش کر رہی تھی۔ میجر صاحب کا جاسوس رنگے ہاتھوں پکڑا جا چکا تھا لیکن جس طرح دنیا میں امریکی جاسوس کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا اسی طرح یہ جاسوس بھی ہماری رسائی اور پہنچ سے اوپر تھا۔ اس لیے یہ ننھا جاسوس اپنی ذمہ داریاں اسی طرح نبھاتا رہا۔ بس ہم ہی اس معاملے میں مزید محتاط ہو گئے۔

 

Facebook Comments HS