جوتے میں تنگ کرتا کنکر اور مغربی حکمران اشرافیہ کا ضمیر


آج غزہ کو جہنم بنے 180 دن ہوا چاہتے ہیں۔ تقریباً 23 لاکھ پر مشتمل دنیا کی اس سب سے بڑی جیل کو اتھل پتھل کر دیا گیا جس کے نتیجے میں مرنے والوں کی گنتی کرنے والے اب تک تینتیس ہزار سے کچھ اوپر ہی گن سکے ہیں کیونکہ ملبے تلے دبی انسانی نعشوں کی گنتی کے لیے تو ضروری ہے کہ ملبے کو ہٹایا جائے جو حالات موجود میں ممکن نہیں کیونکہ ملبہ بٹانے کے لیے درکار مشینری کہاں سے آئے گی اور برستی آگ میں اس کو چلائے گا کون۔

ہاں اگر اس کے ساحل پر گھاٹ بنانا ہو تو آٹھ گھنٹوں میں قبرص سے کافی تعداد میں بھاری مشینری پہنچائی جا سکتی ہے۔ بات کدھر نکل گئی کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مرنے والے دراصل خوش قسمت تھے کہ ایک ہی بار درد کو سہ کر نجات پا گئے۔ اصل امتحان تو ساڑھے پچھتر ہزار زخمیوں اور ان کی دیکھ بھال کرنے والوں کا ہے کہ مرہم رہا نہ مرہم لگانے والے۔ اور آہستہ آہستہ اس ساحلی پٹی پر رہنے والوں کو جنوبی کنارے تک دھکیل دیا گیا جہاں ان کے پیچھے امریکی اسلحے سے اگلتی آگ اور سامنے بلند و بالا دیوار جس کے مصری مالکوں نے دروازوں کو قفل لگا دیا اور خود ائرکنڈیشنڈ کمروں میں قیمتوں پر سودے بازی ہو رہی ہے جس کو بین الاقوامی میڈیا مذاکرات کا نام دے رہا ہے۔ آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیا لے بیٹھا، لیکن ذرا صبر اور حوصلہ۔

مروجہ بین الاقوامی میڈیا تک اپنے آپ کو محدود رکھیں تو آپ کو بہت ہی نپی تلی تصویر ملے گی لیکن سوشل میڈیا نے جہاں ایک طرف چوبیس گھنٹے تازہ ترین تصاویر اور زمینی حقائق کو جیسا ہے کی بنیاد پر لوگوں تک پہنچا دیا وہیں ساری دنیا بالخصوص مغربی دنیا کے عوام میں اس سلسلے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو بھی آشکار کر دیا جو شروع دن سے بڑے بڑے احتجاجی مظاہروں کی شکل میں تقریباً ہر بڑے شہر میں ہو رہے ہیں اگرچہ مین سٹریم میڈیا نے ان مظاہروں اور جلوسوں کو نظرانداز کرنے کی کافی کوشش کی۔

انسانوں کے اس پیمانے پر بیہمانہ قتل عام نے عوام میں اضطراب کی جو لہر دوڑا دی تھی اس کی عکاسی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کر دہ قرار دادوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی عدالت انصاف میں ہونے والی کارروائی میں ہوتی نظر آتی ہے۔ لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں طاقت کے اصول کچھ مختلف ہوتے ہیں۔ ان اصولوں کا تعلق انسانی جذبات و احساسات سے ذرا کم اور مقتدر حلقوں کے مفادات سے زیادہ ہوتا ہے۔ اسی لیے غریبوں یعنی عوام کے غیض و غصہ کا اثر ان طاقتوں کے فیصلوں پر ذرا کم ہی ہوتا ہے اور یہی اس بار بھی ہوا۔

یہاں تک تو بات سمجھ آتی ہے۔ ساری دنیا کے فوری جنگ بندی کی چیخ پکار کا بظاہر کچھ اثر نظر نہیں آتا تھا لیکن دو دن پہلے ایک واقع ہوا کہ جس نے مغربی میڈیا میں بے چینی کی ایک لہر دوڑا دی۔ یکم اپریل کو ایک خیراتی ادارے ورلڈ سینٹرل کچن کے سات اراکین، جن میں آسٹریلوی، برطانوی اور پولش شہری شامل تھے، ایک اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔ دراصل حملہ ایک نہیں تھا کیونکہ یہ افراد ایک قافلے کی صورت سفر کر رہے تھے اور تین گاڑیوں کے درمیان تقریباً ایک کلومیٹر کا فاصلہ تھا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ان افراد کی تصاویر اور تفصیل جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ کچھ اطلاعات کے مطابق ان میں سے کچھ افراد دراصل برطانوی انٹیلجنس ایجنسیوں کے کارندے تھے اسی لیے اتنا شوروغوغا ہوا وگرنہ غیر انسانی انسان یعنی فلسطینی تو تھوک کے حساب سے پہلے مر ہی رہے تھے۔

اب آئیے جوتے میں کنکر کی مثال، ہمارا مشاہدہ ہے کہ اگر راہ چلتے جوتے میں کوئی چھوٹا سا کنکر پھنس جائے تو اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہتا ہے یہاں تک کہ آپ رک کر جوتا اتارتے ہیں اور اس کو نکال کر ہی سکھ کا سانس لیتے ہیں۔ اگر چہ 180 دن کی مسلسل انسانی نسل کشی نے جہاں عام انسانوں کے بے چین کر کے رکھا دیا وہیں یہ عمل حکمران اشرافیہ کے ضمیر کے لیے جوتے میں کنکر کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے، شروع میں جنگ بندی کی اکا دکا آوازوں نے اب اکٹھا ہونا شروع کر دیا ہے۔

چاہے برطانیہ ہو یا امریکہ ( دونوں ہی اسرائیل کی پست پناہی کرنے والوں کے سرخیل ہیں ) ، اب ان آوازوں میں شدت آنا شروع ہو گئی ہے یہاں تک کہ اسے ہفتے یہاں برطانیہ میں چھ سو سے زیادہ وکلا اور قانونی برادری سے تعلق رکھنے والے اشخاص کے دستخطوں سے ایک خط وزیراعظم کو بھیجا گیا ہے جس میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمد پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق امریکی صدر نے ناراضگی کا اظہار کر دیا ہے۔

اب آخر میں چند اعداد و شمار کا ذکر تاکہ موجودہ جنگ کو سمجھا جا سکے۔ اکسفام (Oxfam international) کی جنوری 2024 کی رپورٹ کے مطابق پہلے اسرائیلی جارحیت کے پہلے سو دنوں میں ہر روز اوسطا 250 افراد موت کے گھاٹ اتارے گئے۔ یہ شرح اس صدی میں ہونے والی تمام جنگوں میں سب سے زیادہ ہے جن میں شام میں ہونے والی خانہ جنگی ( 96.6 اموات روزانہ) ، عراق میں یہ شرح 50.8، سوڈان میں 51.6، یوکرائن میں 43.9، افغانستان میں 23.8 اور یمن میں 15.8 رہی۔ اکسفام نے یہ تمام اعداد و شمار اقوام متحدہ اور دوسرے قابل بھروسا ذرائع سے حاصل کیے۔

اگر ہم گزشتہ چوبیس سال میں اسرائیلی فلسطینی جھگڑے میں ہلاک ہونے والے افراد کی شرح پر غور کریں تو یہ فرق روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا ہے۔ ہم یہاں اسرائیلی انسانی حقوق کے ادارے B ’Tselem کے جمع کردہ اعداد و شمار کو آپ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں جو وہ ستمبر 2000 سے اکٹھا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق سنہ 2005 اور سنہ 2014 کے درمیان اس قضیے میں مرنے والے ہر چوبیس افراد میں سے تیس فلسطینی تھے یعنی یہ تناسب 1 : 23 تھا۔

اور اس کے بعد مختلف سالوں میں یہ شرح گھٹتی بڑھتی رہی ہے یہاں تک کہ ہم اکتوبر 2023 میں داخل ہوتے ہیں۔ اگر اسرائیلی دعووں پر جائیں تو سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں تقریباً 1200 ہلاک ہونے اور تقریباً پانچ ہزار زخمی ہوئے۔ ان اعداد و شمار اور تاریخی شرح اموات کو نظر میں رکھیں تو آنے والے دنوں میں یورپ اور اسرائیل میں جنگ بندی کی آوازیں زور پکڑتی نظر آتی ہیں کیونکہ عوامی دباؤ اور سوشل میڈیا پر خبروں کے پریشر میں حکمران طبقہ کے ضمیر میں جاری خلفشار بڑھتی جا رہی ہے اور وقت آیا چاہتا ہے کہ جوتے میں پڑے کنکر کو نکال دیا جائے۔ اسی لیے اب غزہ کے ساحل پر گھاٹ کی تیاری زور و شور سے جاری ہے جس کی تعمیر میں غزہ کی عمارتوں کا ملبہ استعمال کیا جا رہا ہے جس میں ان عمارتوں میں دب کر مر جانے والوں کی لاشیں بھی شامل ہیں۔

آنے والے دنوں موت کے سوداگروں کے ایجنٹ مرہم لے کر غزہ میں گروہ در گروہ داخل ہوں گے لیکن اس سے پہلے اس کشمکش کا فیصلہ ہونا ضروری ہے کہ غزہ کے رہائشیوں کا کرنا کیا ہے؟ ہمیں حیرانی نہیں ہو گی اگر بحری جہازوں میں ان کو بھر کر صحرا یا کسی اور ملک چھوڑ دیا جائے یا قیمت پر اگر اتفاق ہو گیا تو یہ بھی بعید نہیں کہ رفح کے گیٹ توڑ دیے جائیں اور فلسطینی گروہوں میں صحرا سینا میں دھکیل دیے جائیں۔ اگر وہیں رہتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ پچاسی سالہ بوڑھے محمود عباس اور اسرائیلی حکومت کے زور پر قائم فلسطینی اتھارٹی غزہ پر کنٹرول کیسے رکھ سکے گی؟ اور چند سال پہلے غزہ کے ساحل کے قریب دریافت کردہ تیل اور گیس کے بڑے ذخائر آپس میں تقسیم بھی تو کرنا ہیں۔ اس کا فارمولا بھی طے ہو چکا ہو گا؟ ابھی بہت سے سوالات ہیں جو جواب چاہتے ہیں لیکن سب سے پہلے ضروری ہے کہ جوتے میں سے تنگ کرتے کنکر کو نکالا جائے۔

 

Facebook Comments HS