اُردو غزل کا سفر: جمود، پسپائی یا پیش رفت

غزل یوں تو فارسیوں سے اِدھر اردو والوں کے ہاتھ لگی تو اس نے اپنا رنگ ڈھنگ بدلا۔ یہ ویسی نہ رہی تھی جیسی ایران میں تھی مگر 1857 ء کی جنگ آزادی سے لے کر انگریزوں کے ہندوستان چھوڑنے تک مجموعی طور پر اُردو شاعری کا مزاج بہت بدلا تو غزل بھی بدلتی گئی۔ کہہ لیجیے بدلتے ہوئے سیاسی سماجی حالات اسے بھی مسلسل بدل رہے تھے۔ 1857 ء کے ہنگامے میں غالب دہلی میں تھے اور انگریز مقامیوں کی بغاوت کے کچلے جانے کے بعد جس طرح لوٹ مار کر رہے تھے، سب دیکھ رہے تھے۔
دستنبو کے مطابق قیمتی سامان اور بیوی کے زیورات جو حفاظت کی خاطر میاں کالے صاحب کے تہہ خانے میں رکھوائے تھے، انگریزوں کے فتح مند فوجی لوٹ لے گئے۔ غالب کو گھر سے گرفتار کر کے باز پرس کی اذیتوں سے گزارا گیا۔ کہتے ہیں ”غدر“ کے ہنگامے کے بعد جب پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو غالب کو بھی دھر لیے گئے اور انہیں کرنل براؤن کے حضور پیش کیا گیا۔ وہ اپنے معمول کے لباس میں تھے جس سے کرنل براؤن نے کچھ اندازہ لگاتے ہوئے پوچھا: ”ویل مرزا، کیا تم مسلمان ہے؟“ مرزا صاحب کا جواب تھا: ”آدھا مسلمان ہوں۔ “ کرنل براؤن اس جواب پر متعجب ہوا، کہا: ”آدھا مسلمان کیا ہوتا ہے؟“ غالب کا جواب تھا: ”شراب پیتا ہوں، سور نہیں کھاتا اس لیے آدھا مسلمان ہوں۔ “ یہ محض ایک شگفتہ بات نہیں ہے جو گھڑ لی گئی ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ ”غدر“ غالب کے لیے ایک برا خواب ہو گیا تھا اور انہوں نے اسے کبھی اچھے لفظوں سے یاد نہ کیا تھا کہ اس نے ان کی شخصی زندگی پر بہت منفی اثرات مرتب کیے تھے۔ دیوان غالب جدید، المعروف بہ نسخہ حمیدیہ میں اردو معلی سے اخذ کیا گیا غالب کا ایک قطعہ یوں ملتا ہے :
بس کہ فعال ما یرید ہے آج
ہر سلحشور انگلستاں کا
گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے
زہرہ ہوتا ہے آب انساں کا
چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
شہر دہلی کا ذرہ ذرہ خاک
تشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا
کوئی واں سے نہ آ سکے یاں تک
آدمی واں نہ جا سکے یاں کا
میں نے مانا کہ مل گئے پھر کیا
وہی رونا تن و دل و جاں کا
گاہ جل کر کیا کیے شکوہ
سوزش داغ ہائے پنہاں کا
گاہ رو کر کہا کیے باہم
ماجرا دیدہ ہائے گریاں کا
اس طرح کے وصال سے یا رب
کیا مٹے دل سے داغ ہجراں کا
مصطفے خان شیفتہ کی دہلی میں بہت بڑا کتب خانہ تھا جو انہی دنوں جل کر راکھ ہوا تھا۔ انگریز انہیں بغاوت کے جرم میں گرفتار کر کے لے گئے اور سات سال قید سنا دی گئی۔ جاگیر ضبط ہوئی۔ خیر اپیل کی گئی، کچھ نواب صدیق حسن خان مدد کو آئے تو سزا معاف ہوئی۔ میر مہدی مجروح اور قربان علی بیگ سالک کو دہلی سے نکل جانا پڑا۔ نواب مرزا خان المعروف بہ داغ دہلوی سن ستاون کے ہنگامے کے بعد دہلی سے نکلے اور رام پور میں نواب کلب علی خان کے مصاحب ہو گئے۔ جب وہ دہلی میں قلعے سے نکلے تھے تو ان کا بہت سا ابتدائی کلام وہیں رہ گیا جو پھر نہ ملا اور داغ کو اس کا عمر بھر قلق رہا۔ فغان دہلی (قلمی) کے حوالے سے گوپی چند نارنگ نے ”ہندوستان کی تحریک آزادی اور اردو شاعری“ میں لکھا ہے کہ داغ نے اپنے اس اجڑنے کی بابت لکھا تھا:
فلک نے قہر و غضب تاک تاک کر ڈالا
تمام پردہ ناموس چاک کر ڈالا
یکایک ایک جہاں کو ہلاک کر ڈالا
غرض کہ لاکھ کا گھر اس نے ہلاک کر ڈالا
جلیں ہیں دھوپ میں شکلیں جو ماہتاب کی تھیں
کھنچی ہیں کانٹوں پہ جو پتیاں گلاب کی تھیں
مولوی محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر علی دہلی سے اردو اخبار نکالتے تھے انہیں غدر کے بعد گولی سے اڑا دیا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے دہلی کالج کے پرنسپل ٹیلر کو ہلاک کرانے میں باغیوں کی مدد کی تھی۔ خود آزاد پر بھی کٹھن وقت گزرا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ وہ کڑا وقت تھا کہ کچھ بھی کام نہ آ رہا تھا، نہ علم و ہنر نہ حکمت و فطرت، کچھ بھی:
سب جوہر عقل ان کے رہے طاق پہ رکھے
سب ناخن تدبیر و خرد ہو گئے بیکار
گوپی چند نارنگ نے بجا طور نشان زد کیا ہے کہ 1857 ء کے بعد مسلمان اپنے مادی زوال کا سبب روحانی زوال کو گرداننے لگے تھے۔ یہی سبب ہے کہ مذہبی وابستگی کا رجحان بڑھتا چلا گیا اور جب آزادی کی تحریک نے زور پکڑا تو مذہب کا فیکٹر بھی نمایاں تر ہوتا گیا تھا۔ مذہبی احیا کی یہ تحریکیں مسلمانوں اور ہندوؤں، دونوں طرف سے تھیں۔ ایک وقت آیا کہ سرسید احمد خان جو ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے وہ بھی مایوس ہو گئے اور انہوں نے اپنی اصلاحی اور تعلیمی سرگرمیوں کا دائرہ مسلمانوں تک محدود کر لیا تھا۔
الطاف حسین حالی، جو سرسید سے لگ بھگ اکیس برس چھوٹے تھے، وہ اگرچہ ان کے دائرہ اثر میں رہے تاہم ذوق لطیف لے کر پیدا ہوئے تھے۔ ان کی متعین کردہ راہ عین مین سر سید والی نہ تھی کہ خود اختیار کردہ تھی اور قدرے مختلف بھی۔ احتشام حسین کے مطابق حالی کی پیروی مغرب کوری مفاہمت نہ تھی بلکہ آگے بڑھنے کا ایک راستہ تھا۔ حالی نے اسی صورت حال کے اندر رہ کر اردو شاعری کے لیے ایک راہ متعین کی تھی اور اس کے لیے انہیں اپنی اعلیٰ شاعری کی بہت بڑی قیمت ادا کرنا پڑی تھی۔
حالی کے برعکس شبلی نعمانی انگریزوں سے کسی قسم کی مفاہمت کے قائل نہ تھے۔ یہ مزاحمت ان کی شاعری کا بھی حصہ ہو رہی تھی اور ان کا یہ طرز عمل تحریک آزادی میں تقویت کا باعث ہو رہا تھا۔ اکبر الہٰ آبادی بھی مغربی اقدار کے تسلط کے سخت ناقد کے طور پر سامنے آئے وہ آزادی کے جذبات کو تحریک دینے کے لیے اپنے اشعار کو تیکھا کر لیتے تھے :
عمر زنداں میں کٹی شوق رہائی رخصت
ہو گیا انس میرے پاؤں کو زنجیر کے ساتھ
اکبر ہندوؤں اور مسلمانوں کو الگ الگ قومیں سمجھتے تھے ؛ بالکل ویسے ہی جیسے ایک زمانے میں ایک چہرے پر دو آنکھوں کے مصداق انہیں ایک قوم سمجھنے والے سرسید بعد ازاں انہیں دو الگ قومیں سمجھنے لگے تھے اور اپنے فلاحی کاموں کا رُخ مسلمانوں کی جانب موڑ لیا تھا۔ علامہ محمد اقبال تک آتے آتے شاعری کے اندر سماجی سیاسی اور اجتماعی صورت حال پر ردعمل بڑی حد تک راسخ ہو چکا تھا اور اسی سے غزل کا نیا مزاج متشکل ہوا۔
اقبال اردو شاعری پر ایک نئے عہد کا دروازہ کھولنے والے ہیں۔ اقبال کے ہاں سامراج دشمنی کا آہنگ بھی تھا اور وہ مسلمانوں کو ایک قوم ہونے کا احساس بھی دلا رہے تھے اور یہ سب شاعری کا حصہ ہو کر اس کی ایک اور سطح پر قدر بھی بڑھا رہا تھا۔ بہت جلد ان کے ہاں ترانہ ہندی کی جگہ ترانہ ملی نے لے لی تھی۔ جن دنوں پورے برصغیر کا مسلمان اقبال کی طرح ایک مرکز محسوس اور الگ وطن کا خواب دیکھ رہا تھا، یہاں کا ادیب اور شاعر اپنے ہی ڈھب سے سوچ رہا تھا۔
کچھ کے ہاں یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہوا اور کچھ اس ساری صورت حال سے الگ تھلگ پڑے رہے کہ ایک الگ وطن کا خیال تقسیم سے جڑا ہوا تھا جو ان کے لہو میں کسی قسم کا جوش پیدا نہیں کر رہا تھا۔ تاہم مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اردو شاعری کا جو مزاج بن چکا تھا وہ ایک سطح پر تو فرد کا وجودی مسئلہ ہو کر ظاہر ہوا اور ایک اور سطح پراس میں روایت کا پاس اور ثقافتی رو کے انجذاب کے پہلو بہ پہلو مذہبی، سیاسی اور سماجی حالات کی اتھل پتھل بھی پوری طرح دخیل تھی۔ یہی سبب ہے کہ بہ قول وزیر آغا اردو غزل کا محبوب بھی بادشاہ یا سپاہی کی صفات رکھنے لگا ہے۔ کیوں کہ اس تک رسائی اتنی ہی مشکل ہے جتنی بادشاہ تک اور محبوب ہے کہ بادشاہ کی طرح بے نیاز اور مغرور ہے۔ وزیر آغا نے لکھا ہے کہ غزل کے محبوب کے خدو خال بھی آلات حرب ہو گئے ہیں :
ہر زخم ِ جگر داور محشر ہے ہمارا
انصاف طلب ہے تری بیداد گری کا
میر
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
غالب
ستم ہو کہ ہو وعدۂ بے حجابی
کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں
اقبال
یہ روایت کچھ یوں مستحکم ہوئی کہ غزل محض محبوب سے کلام نہ رہی؛ہند اسلامی تہذیب کی مظہر ہونے کے ساتھ ساتھ رواں زندگی کی کئی جہتوں سے تفہیم اور تفسیر بھی ہو رہی تھی اور اس صنف میں کچھ ایسی جادوئی لچک اور قوت پیدا ہو گئی تھا کہ اس کے لفظ لفظ کی علامتی قدر اور توقیر بڑھتی چلی گئی۔
ترقی پسندوں نے اپنے عروج کے زمانے میں نئے نئے موضوعات کا در اردو ادب پر کھولا اور یہ سوال بھی عین اسی زمانے میں سامنے آیا تھا کہ کیا پاکستان کا ادب اپنے مزاج کے اعتبار سے تقسیم سے پہلے والے ادب سے مختلف ہونا چاہیے؟ اور کیا ادب کو قومی شناخت کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے؟ تقسیم سے پہلے کا اردو ادیب ہند اسلامی مشترکہ تہذیب کا نمائندہ تھا تاہم قیام پاکستان کے بعد اس کا رشتہ، یہاں کی زمینی روایت کے ساتھ ساتھ فرد کی روحانی تاریخ کے مظاہر سے شعوری طور پر جڑتا چلا گیا۔ یہیں سے ایک کشمکش کا آغاز بھی ہوا اور اسے شاعری کے اندر بہت دور تک دیکھا جاسکتا ہے۔ اردو غزل کے مزاج کی نئی تشکیل میں اگر ایک طرف یہاں کی تہذیبی اور سیاسی تاریخ کام کر رہی ہے یہ سوال بھی مزاحم ہوتا رہتا ہے کہ اس تہذیب کو تازہ روحانی اور فکری غذا کہاں سے مل رہی ہے۔
ترقی پسند تحریک اپنے آغاز (پہلی کل ہند کانفرنس، لکھنؤ، 10 اپریل 1936 ) سے ادب کا رشتہ سماج سے جوڑنے کے لیے متحرک تھی۔ اس کی شدت پسندی اس کا ایسا وصف ہوئی جو اسے آنے والے وقتوں میں زوال سے دوچار کرنے والی تھی۔ اس تحریک کے اثرات اردو ادب اور شاعری نے قبول کیے اور یہ بہت سے پہلوؤں سے مثبت اثرات بھی تھے تاہم یہ بھی واقعہ ہے کہ اس تحریک نے غزل کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مناسب نہ پایا۔ وہ اسے دور انحطاط کے بکھرے ہوئے معاشرے کی ایسی آواز سمجھتے تھے جو ایسے انفرادی احساس کے لیے تھی جو بہ قول محمد حسن کبھی سوز و گداز، کبھی کرب و نشاط اور کبھی علامتی اور ماورائی طرز میں تلاش ذات کے پیرائیوں میں ابھرنے لگتا تھا۔
گویا وہ جو اردو غزل کی قوت تھی وہی اس کی ترقی پسندوں کے ہاں خامی کی صورت نشان زد ہو رہی تھی۔ فیض احمد فیض ایسا نہیں سمجھتے تھے۔ یہی سبب ہے کہ ان کے کلام سے بھی سردار جعفری نے رجعت پسندی اور غیر ترقی پسندی کو تلاش کر لیا گیا تھا۔ تغزل، رمزیت، اشاریت، اور استعاراتی پیرایہ اظہار جو غزل کے بنیادی وسائل تھے یہاں مردود ہو گئے تھے کہ اس میں واشگاف اظہار ممکن نہ تھا۔ خیر، فیض نے اپنی روش نہ چھوڑی۔ اپنے ایک خط میں رضیہ سجاد ظہیر کو لکھا تھا:
”ہمارا جیل میں اگر عاشقانہ شعر کہنے کو دل چاہے گا تو ہم ضرور لکھیں گے۔“
فیض نے نہ صرف عاشقانہ موضوعات کو برتا اس عشق کو بھی کئی اور معنوی جہتیں عطا کیں اور دو الگ الگ سمجھی جانے والی دنیائیں فیض کے ہاں ایک ہو گئیں اور خلیل الرحمٰن اعظمی کے بہ قول فیض کی دست صبا کی مقبولیت کے بعد شاہراہ گروپ کے شعرا ء بین الاقوامی اور عالمی مسائل کی نظمیں چھوڑ کر غزل گوئی کی طرف لوٹ آئے تھے۔
ماننا ہو گا کہ ہماری شاعری کی مقبول ترین صنف غزل ہی رہی ہے۔ وقت گزرتا رہا ہے مگر اس کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی یہ الگ بات کہ اظہار و بیان کی نئی صورتوں کی تاہنگ بھی اس عرصے میں بڑھی جس نے نظم کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن اس سب کے باوجود غزل شاعروں کی ترجیح اول رہی ہے۔ اردو غزل کا جو مزاج بن چکا تھا اور اس کی جو مستحکم روایت اس کے پیچھے کام کر رہی ہے اس نے اسے ایک ہی وقت میں آسان ترین اور مشکل ترین صنف بنا دیا تھا۔ اس صنف کی اپنی نزاکتیں اور اپنے تقاضے ہیں۔ ہر زمانے کی غزل سے بہت توقعات رہیں مگراس کا بدلنا بھی ایک ادا رکھتا ہے جس نے اس ادا کو نہ سمجھا وہ پٹ گیا۔ عارف عبدالمتین نے کہا تھا:
میں سمندر تھا مگر جب تک رہا تجھ سے جدا
اپنی گہرائی کا خود مجھ کو بھی اندازہ نہ تھا
ایک تخلیقی انسان سمندر سہی مگر غزل ہی ایسی صنف رہی ہے جو انسان کو اس کے باطن کی گہرائی کی خبر دیتی ہے۔ ظفر اقبال تک آتے آتے غزل کے بدلنے اور نہ بدلنے کا سوال بہت شدت سے سامنے آتا رہا ہے۔ اب یہ بات محض تاریخی حوالہ ہے کہ غزل کبھی قصیدے کا حصہ تھی۔ قصیدہ ؛ جسے دِل دار گودے والی طویل نظم (مغز سطبر و غلیظ ) کہا گیا۔ اس میں مدح و ذم، حکایت و شکایت، مضامین عالی کی طرف لے جاتا قصہ و کہانی، تشبیب و نسیب سب کچھ ہوتا مگر نہایت عالی درجے پر۔
تشبیب کا مقام قصیدے کے آغاز میں ٹھہرا۔ اس تمہیدی حصہ عشقیہ مضامین و خیالات کے لیے مختص ہوتا۔ یہی غزل کہلاتا۔ گویا یہ خالص عربی کا لفظ ہے اور لغات میں اس کی بابت کہا گیا ہے :کلمة اصلھا الفعل (عَرَّبَ) فی صیغة الامر منسوب لضمیر المفرد المؤنث (انتِ) وجذرہ (عرب) وجذعہ (عرب) وتحلیلھا (عرب + ی) ۔ انظر معنى عَرَّبَ۔ غزل جب قصیدے سے الگ ہو کر فارسیوں کے ہاں پہنچی اور ایک کامل صنف کے طور پر شناخت ہونے لگی تو بھی یہ عشق و محبت اور عورت سے الفت و دلگی کے مفاہیم کے لیے ہی مختص ہوتی رہی مگر اب اگر کوئی اسے محض ایسا سمجھے گا تو مارا جائے گا۔
بے شک اردو غزل کا ابتدائی مزاج یہی تھا اور ایک سطح پر ہے بھی مگر جو ماحول اور گزرے زمانے کے اثرات میں اوپر بیان کر آیا ہوں اسے بدلتا گیا ہے۔ میر صاحب سے لے کر اب تک اسے دیکھیں گے ؛جی، اس کا بدلنا بھی اور نہ بدلنا بھی تو اس کے مزاج کو پالیں گے۔ میر صاحب نے جو غزل کہی تھی اس میں غزل کی ہیئت کا احترام تھا۔ ہیئت کا احترام آج بھی لازم ہے۔ تب مضامین متنوع ہوئے۔ وہ جہاں فارسی سے اکتساب کے ذریعے زبان کو وسعت دے رہے تھے وہیں مقامی الفاظ بھی استعمال کر رہے تھے۔
حالی پر الزام تھا کہ وہ انگریزوں کی پیروی میں شاعری کو محض سادہ اور افادی موضوعات تک محدود کرنے کے ایجنڈے پر تھے مگر دیکھا جائے تو حالی کی کوششوں سے غزل کے اندر کچھ اور وسعتیں پیدا ہو گئی تھیں اور لسانی سطح پر انہوں نے کلیشے کو توڑا بھی تھا۔ اقبال تو بے پناہ توفیقات کے مالک تھے اور اردو غزل ان کے ہاں کچھ کی کچھ ہو گئی تھی۔ سلیم احمد سے ظفر اقبال تک لسانی توڑ پھوڑ کے ذریعے غزل پر تازگی کے دریچے کھولنے کی کوششیں ملتی ہیں۔ کہیں کامیابی ملتی ہے اور کہیں یہ محض چھیڑ چھاڑ ہو کر رہ جاتی ہیں مگر لطف یہ ہے کہ اس صنف کی ہیئت اور خاص مزاج جسے تغزل کے طور پر شناخت کیا جاتا رہا ہے اور جس سے غزل کی اپنی تہذیب متشکل ہوتی ہے وہ ہر زمانے میں محترم رہتے ہیں۔
غزل کا دامن مالامال کرنے والے ان گنت ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک۔ کچھ شعرا بالکل الگ مزاج کے جزیرے ہو کر نمایاں ہو گئے اور کچھ روایت کے تسلسل میں ایک اضافے کی صورت جگمگائے۔ غزل کے باکمال شاعروں کے ہاں ہر بار آپ کو ایک نیا اور قیمتی دفینہ بازیافت ہوتا ملے گا اور لطف یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ڈسپلن میں اردو اور سماجی علوم کہیں نیچے چلے گئے ہیں مگر شاعروں کے ہاں غزل کہنے کی لگن ویسے ہی برقرار ہے۔ آخر میں مجھے یہی کہنا ہے کہ اس صنف میں تخلیقی اظہار کرنے والوں میں کمی نہیں آئی اور مقبول ترین شعری صنف ہو کر اردو غزل نے نئے زمانے میں جست لگائی ہے۔ گویا یہ جمود یا پسپائی کا نہیں نئے زمانے کے تقاضوں کو اپنے تہذیبی وجود میں سمیٹ کر آگے بڑھنے کا سفر رہا ہے۔

