غلط، پروموٹڈ اور سستی معلومات پھیلانے میں ٹی وی چینلز کا کردار اور ان کا زوال
کس قدر افسوسناک صورتحال ہو گئی ہے۔ کہ ہمارا سنجیدہ علم دوست طبقہ اب علم سیکھنے کے لئے الیکٹرانک میڈیا نہیں دیکھتا بلکہ یوٹیوب پر جاکر علمی موضوعات پر ویڈیوز تلاش کر کے دیکھنے لگا ہے۔ جبکہ ماضی میں ایسا نہیں تھا۔ ماضی میں تو علمی تشنگی بجھانے کے لئے لوگ ٹی وی چینلز پر دانشورانہ پروگرامز بڑے انہماک اور غور سے دیکھتے تھے۔ اور معلومات کشید کرتے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب ٹی وی چینلز نئے نئے آئے تھے۔ اور یہ آج کل کی طرح تعداد میں بہت زیادہ بھی نہیں تھے کہ مقابلہ کا رجحان ہوتا۔ نہ ہی ناظرین کو صرف اور صرف اپنی طرف کھینچنے کی بھوک ابھی دریافت ہوئی تھی۔ اس وقت جب علمی پروگرامز ہوتے تھے۔ تو ان میں ایسی شخصیات کو بلایا جاتا تھا۔ جن سے اگر کچھ سیکھنے کی چاہت ہوتی تھی تو وہ بہ طریق احسن پوری ہوتی تھی۔ ڈاکٹر مبارک علی، مبارک حیدر، پرویز ہود بھائی اور ان جیسے صاحب منطق اور فہم و فراست والے لوگ ان علمی مباحث میں قوم کی پُرانی توہماتی بیماریوں پر بات کرتے تھے۔
اور اپنے عالمانہ فہم کے اس مدلل گفتگو میں وزنی رائے دیتے تھے۔ ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا تھا اور علم کے پیاسے طالب علموں کی علمی تشنگی بجھاتے تھے۔ لیکن افسوس کہ بعد میں انحطاط کا دور آیا۔ ٹی وی چینلز کو پتہ نہیں کیا بیماری لاحق ہو گئی کہ رویہ ہی بدل گیا۔ اب ٹی وی چینلز پر چیختی کھوکھلی پُکاروں نے اس دھیمی انداز گفتگو کی جگہ لے لی ہے۔ بد بختی سے سننے والوں کی اکثریت نے ان علمی مباحث کے اس نووارد ہیجان خیزی کو پسند کیا۔
جب دیکھنے اور سننے والے سستی بازاری نعرے بازی کو پسند کریں گے۔ تو چینلز والے بھی اسی کو دکھائیں گے۔ کیونکہ انہوں قوم کی تربیت تھوڑی کرنی ہے۔ انہوں نے تو ادھر ادھر سے اشتہارات پکڑ کر چار پیسے کمانے ہیں۔ اور ایسا تب ہو سکتا ہے جب ریٹنگ کے معاملے میں سر فہرست رہیں گے۔ اس قوم کی نفسیات میں علم دشمنی اور انحطاط پذیری اس قدر جڑ پکڑ چکی ہے۔ کہ اب کسی بہت بڑے سرجیکل اقدام سے ہی شاید بچاؤ ممکن ہو جائے۔ تو سوال یہ ہے کہ اس فکری زوال کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔
کوئی بھی اپنا جرم قبول کرنے پر تیار نہیں۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ قوم کی اجتماعی جہالت اور اخلاقی و فکری بربادی کا ذمہ دار وہ طبقہ ہے۔ جس نے روز اول سے قوم کی تربیت کرنے کا ذمہ اٹھایا۔ اور بدبختی سے غلط سمت میں قوم کی تربیت کردی اور تعلیم کے نام پر ان کو نادرست معلومات پہنچائیں۔ ایسا کرنے کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ یہ ہے۔ کہ جان بوجھ کر قوم کی ان خطوط پر تعلیم و تربیت کی۔ کہ لوگ ذہنی طور پر خشک مقلد بن کر رہ جائیں۔ اور ان میں سوال کرنے کی اہلیت پیدا نہ ہو۔ ان کے نزدیک سوال کرنا خطرناک ہوتا ہے۔ سوال کرنے والے جواب طلب کرتے ہیں۔ اور ان کو جواب دے کر مطمئن کرنا ہوتا ہے۔
ہمارا فرسودہ نظام تعلیم مفلوج کھوپڑیوں کو تو پیدا کر سکتا ہے۔ اعلٰی اور روشن دماغوں کو نہیں۔ جو لوگ گلہ کرتے ہیں کہ ہمارے یہاں سائنسی علوم کی بنیاد کیوں نہیں پڑ رہی۔ وہ لوگ بے جا طور پر یہ گلہ کرتے ہیں۔ ان کے اس ”کیوں“ کا جواب یہ ہے کہ یہاں طاقتور لوگ اصل میں بزدل لوگ ہیں۔ وہ اس قدر بزدل ہیں کہ سوال کرنے سے ڈرتے ہیں۔ کیونکہ سوال کرنے والے ان کے جرائم پر انگلی اٹھائیں گے۔ ان کی ناجائز مراعات کو چیلنج کریں گے۔
ان کی نسل در نسل تخت نشینیوں پر سوال کریں گے۔ ان کے نام نہاد اور مجرمانہ تقدس کو پامال کریں گے۔ اس لئے انہوں نے قوم کو تعلیم کے نام پر ایک ایسی افیم پر لگا دیا ہے۔ جس میں مبتلا ہو کر لوگ اپنے حال کے مسائل کے حقیقی حل سے بے خود ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے مسائل اور بدبختیوں کو بالائی طبقات کے جرائم کا عکس العمل نہیں سمجھتے۔ بلکہ قدرت کی طرف سے اپنی ہی گناہوں کی سزا سمجھتے ہیں۔ تب سے لوگ زندگی کو گھسیٹ گھسیٹ کر گزارنے لگے ہیں۔
اب ایسے میں لوگ کیا علم کی راغب ہوں گے۔ جب انہیں اپنی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک یعنی اچھی تعلیم ہی نہیں ملے گی۔ ناقص اور گمراہ کن کرپٹ تعلیم کے فائدے بھی ہیں۔ اور نقصانات بھی ہیں۔ ایسی تعلیم کا سب سے بڑا فائدہ کرپٹ حکمرانوں کو ہوتا ہے۔ جو ان کے جرائم کو چھپاتا ہے اور عام لوگوں کے لئے اس کا نقصان یہ ہوتا ہے۔ کہ روشن دماغ دانشوروں کی سوچنے پر مجبور کرنے والی اور دماغ میں سوال کا کیڑا جگانے والی باتیں ان کو سمجھ نہیں آتی۔
جبکہ زید حامد، اوریا مقبول جان اور جنرل حمید گل (اللہ بخشے عجب آزاد مرد تھا، اس جملہ کو اگر طنز کے طور پر لیا توہم ذمہ دار نہیں ہیں ) جیسے لوگ ان کو پسند آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ پھر ٹی وی چینلز بھی پست عوامی رجحان کی تقلید میں ایسے جذباتی مناظرے بازوں کو بلانے لگتے ہیں۔ کہ عوام میں ان کی کھوکھلی پکاریں نہ صرف سنی جاتی ہیں۔ بلکہ تالیاں پیٹ کر بہت واہ واہ بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ ان کی تقاریر قوم کو ان کی عظمت رفتہ کی کہانی یاد دلاتی ہیں۔
جب ان کے آباء و اجداد نے کفار کی ایسی کی تیسی کی تھی۔ اور کافروں کے اوپر زمین گرم کر کے ان کو بزور شمشیر مسلمان کیا تھا۔ ساتھ میں وہ سوچنے لگتے ہیں۔ کہ یہ کفار ابھی بھی ایسے انسان نہیں بنیں گے۔ ان کو ماضی کی طرح ایک بار پھر بہ زور شمشیر فتح کر کے مسلمان بنانا پڑے گا۔ پھر ان کو یاد دلایا جاتا ہے غزوہِ لڑنا ہے اور دشمنوں کو سبق پڑھانا ہے۔
دنیا مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اور ہم ذہنی پستی کے کس مقام پر کھڑے ہیں۔ یہ ہم سب کو سوچنا ہو گا۔ لیکن ذرا جلدی، کیونکہ سوچنے کے لئے زیادہ وقت نہیں بچا ہے۔



Informative article by Naveed Aryaan sahib