اوریا مقبول جان ، گولڈن بٹن اور دشمنوں کی سازش
معروف روحانی جوتشی اوریا مقبول جان آخر کار یوٹیوب کا گولڈن بٹن حاصل کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے، بہت بڑی کامیابی ہے اور موصوف مبارکباد کے مستحق ہیں۔
کچھ دوست احباب کا کہنا ہے کہ کہیں یہ یہود و نصاری کی سازش تو نہیں ہے؟
ممکن ہے یہ کوئی پھندا یا کافروں کی کوئی کفریہ چال ہو اور وہ ہم سے ہمارا نابغہ روزگار یا قیمتی متاع کو چھیننا چاہتے ہوں؟
یہود و نصارٰی کب چاہیں گے کہ اس پاک سرزمین پر اوریا مقبول ایسے قابل، ذہین و فطین، ماضی اور حال میں ایک ساتھ جھانکنے کی صلاحیت رکھنے والے موجود رہیں۔
ہو سکتا ہے کہ وہ اس گولڈن بٹن کے ذریعے ہمارا یہ انٹلیکچوئل سرمایہ ہم سے چھیننا چاہتے ہوں؟
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ؟
جو ایک وقت میں کئی سارے پرسونا ماسک اپنے چہرے پر چڑھائے رکھنے کا ہنر جانتے ہوں۔ اوریا مقبول جان ہمارے ملک کے چند ایسے نابغہ روزگار میں سے ایک ہیں جو بیک وقت کئی کئی کردار نبھا سکتے ہیں۔
جیسا دیس ویسا بھیس کے مصداق ہیں اور موقع پر چوکا مارنے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔ سینیئر تجزیہ کار، دفاعی تجزیہ کار، محقق و دانشور، روشن خیال مفکر اور مذہبی رہنما ایسے القاب و منصب کا خوب بھرم رکھتے ہوئے کسی نہ کسی ٹی وی چینل پر تشریف فرما ہوتے ہیں اور آج کل تو ایک مسجد میں جمعہ کا خطبہ بھی ارشاد فرماتے ہیں۔
بصیرت و دانائی سے مالا مال یہ شخص پیشگوئی کرنے کا ہنر بھی خوب جانتا ہے اور روحانی خواب تو اکثر دیکھتے رہتے ہیں۔ وطن عزیز کی بہت ساری طاقتور ہستیوں کے متعلق بہت سارے خواب دیکھ رکھیے ہیں۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ کسی طاقتور کے ستارے گردش میں آ جائیں یا حیثیت و مرتبہ تبدیل ہو جائے تو موصوف کے خواب کی تعبیر بھی یکسر تبدیل ہو جاتی ہے، اسی کو تو موقع پر چوکا مارنا کہتے ہیں حضور! لیکن یہاں مسئلہ کچھ اور ہے جب سے اوریا مقبول جان کے ہاتھ گولڈن بٹن لگا ہے ان کے مقلدین و مداحین ایک عجیب سے مخمصے کا شکار ہیں کہ ایک ایسا متقی و پرہیزگار انسان جو دن رات کفار یعنی یہود و نصارٰی کی بے غیرتی و بے شرمی میں لتھڑے ہوئے کرتوت، ان کا ننگا پن اور ان کی سیکس زدہ زندگیوں پر خوب روشنی ڈالتا ہو، مادی دنیا کی بجائے روحانی زندگی کو ترجیح دیتا ہو اور غزوہ ہند کی وعیدیں سناتا ہو وہ بھلا کیسے یہودیوں کا یہ شیطانی چکر ویو ”گولڈن بٹن“ بخوشی قبول کر سکتا ہے؟ اور اسی بٹن کے ساتھ اپنی ہنستی مسکراتی سی تصویر بھی شیئر کر ڈالی۔ ظاہر ہے وہ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ حق گوئی کے لیے بھی ہم انہی کے محتاج ٹھہرے جن کے متعلق ہمارا شروع دن سے یہ موقف رہا ہے کہ وہ ہمیشہ ہمارے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں۔
مطلب ہمارے پاس اپنی بات کہنے کے لیے ایک ڈھنگ کا میڈیم یا پلیٹ فارم بھی نہیں ہے اور باتیں ہم کرتے ہیں دنیا بھر میں غالب آنے کی۔
اوریا صاحب سے پوچھنا تھا کہ اگر کفار ہماری جوتی کی نوک پر ہیں اور ایک مومن کی نظر میں اس مادی دنیا کی حیثیت مکھی کے پر کے برابر بھی نہیں ہے تو پھر بٹن کے حصول پر اس قدر خوشی کیوں؟
ظاہر ہے کفار کا یہ بٹن مادی دنیا کے حصول اور ڈالرز کمانے کا ایک داخلی دروازہ یا ذریعہ ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے راحت کا سامان، جو آپ کی میراث پر عیاشیاں کریں گے۔ ہائے! یہ دنیا کی راحتیں اور عیش و عشرت کس قدر ظالم ہوتی ہیں جو بڑے بڑوں کا بھرم خاک میں ملا ڈالتی ہیں اور اس کی چمک دھمک کو پانے کے لیے ایسے تارک الدنیا کو بھی طرح طرح اللے تللے کرنے پڑ جاتے ہیں جو اس مردار دنیا کو چھونا بھی نہیں چاہتے۔
یہ سب تو انہیں با امر مجبوری یا دنیاوی سٹیٹس کا بھرم رکھنے کے لیے کرنا پڑتا ہے۔
اس ملک میں مذہبی منجن خوب بکتا ہے بھائی!
صرف مذہبی ٹچ دے کر آپ وہ کچھ چند سیکنڈ میں حاصل کر سکتے ہیں جسے عقلی بنیادوں پر حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی لیے تو وطن عزیز میں عقل راندہ درگاہ ہے، جذباتیت اور قصہ خوانیوں کا بول بالا ہے۔
آپ ماڈرن اور کلین شیوڈ قسم کی روحانی ہستیوں کے چینل کا تقابل ان چینل سے کر کے دیکھ لیجیے جہاں سائنس اور عقلی رویوں پر بات ہوتی ہے سارا منظر نامہ واضح ہو جائے گا۔ مذہب کو زبردستی سائنس کے ساتھ جوڑ کر اپنی مضحکہ خیزیوں میں اضافہ کرنے والے ڈاکٹر ذاکر نائیک، ساحل عدیم، قیصر راجہ کے چینل کی فالونگ اور سبسکرپشن ملاحظہ کر لیں اور دوسری طرف بغیر کسی ملاوٹ کے اور پیور فارم میں سائنس اور سائنسی رجحانات پر بات کرنے والوں کے چینلز کی ریٹنگ اور فالونگ دیکھ لیں۔ حیرانی سے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے کہ یہاں اوریجنل شعور کو جاننے کا تناسب بہت کم ہے اور لوگ زیادہ تر مصالحہ دار یا چٹپٹی چیزوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
پاکستان میں ”دی بلیک ہول“ ایک ایسا چینل ہے جہاں پر سائنس اور عقلی رجحانات پر سیر حاصل گفتگو ہوتی ہے لیکن سامنے چند لوگ بیٹھے ہوتے ہیں اور چینل کی ریٹنگ تو شاید اس سے بھی کم ہو۔
یہ تلقین بابوں کا معاشرہ ہے جہاں زید حامد اوریا مقبول جان، عمران ریاض، جاوید چوہدری ایسے قصہ خوانوں اور ماڈرن قسم کے روحانی درویشوں کا منجن خوب بکتا ہے۔


