امیگریشن کے متوالے اور میری حب الوطنی


گزشتہ چند برسوں میں میرے زیادہ تر دوست بیرون ممالک کی امیگریشن لے کر اپنے دیس سے دور جا چکے ہیں اور جو بچ گئے ہیں وہ شب و روز اسی فکر میں دبلے ہو رہے ہیں کہ ان کی ایسی کیا غلطی ہے کہ وہ ابھی تک اس مملکتِ خداداد میں گھٹ گھٹ کر زندگی بِتا رہے ہیں۔ اب لوگ موقع دیں اور ہم اپنی عقل کے موتی نا بکھیریں یہ کیسے ہو سکتا ہے، دوست نادانی پر نادانی کرتے جائیں تو کیا ہم صرف دیکھتے رہیں گے؟ نہیں صاحب، ہم میں ابھی حب الوطنی کا جذبہ سرد نہیں ہوا، ہم تو خود ساختہ خدائی فوج دار ہیں، درستگیِ انسانیت کا یہ نادر موقع کیسے ہاتھ سے جانے دیں؟ ہمارا فرض ہے کہ ان بھٹکے ہوئے دوستوں کو راہِ راست پر لایا جائے اور ان کو مغربی ممالک کی ان سازشوں سے آگاہ کیا جائے جن کی وجہ سے ان کی آنکھوں پر پٹی بندھ چکی ہے۔

بھئی حیرت ہے، کمال ہے، مانا کہ ترقی یافتہ ممالک میں زندگی کی بہت سی سہولیات میّسر ہیں، مگر شاید میرے ہمدم اس بات سے شناساں نہیں کہ جو زندگی ہم اپنے ملک میں گزارتے ہیں اس کی مثال کا کہیں اور ملنا ناممکن ہے۔ ہر انسان کی نظر مغرب پر ہے، کہ بہت اچھی جگہ ہے، وہاں جا کر رہنا ہے۔

ارے میرے عزیر ہم وطنوں یہ محض ایک افسانہ ہے، ایسا کیا ہے مغرب میں جو یہاں نہیں؟

بہت سے دوستوں کو شکایت ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے لئے مغربی ممالک سے بہتر کوئی جگہ نہیں اور ہماری یونیورسٹیوں میں معیاری تحقیق نہیں کی جاتی، یہ شکایت محض نادانی پر مبنی ہے، ارے صاحب یونیورسٹیوں کو چھوڑیئے ہمارے ہاں تو سرکاری اداروں تک میں تحقیق کا بندوبست کیا جاتا ہے۔

جیسے عوام کا خون چوسنے پر جتنی تحقیق پاکستان میں کی گئی ہے پوری دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ امریکا میں تو یہ کام محض ڈریکولا جیسے کرداروں کے حوالے کر دیا جاتا ہے جو بس فلموں تک محدود ہوتے ہیں، ہمارا ملک میں تو ڈریکولا پر نہ صرف تحقیق بلکہ اس کی تخلیق بھی کی گئی ہے، نہ صرف آج وہ ہماری عوام تک رسائی رکھتا ہے بلکہ گزشتہ کچھ عرصے سے ہم تو ماشا اللہ ڈریکولاز ایکسپورٹ کر رہے ہیں۔

اسی طرح کئی لوگ جو مغربی ممالک میں رہنا چاہتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہاں امن و امان کی صورتِ حال بہت اچھی ہے، اور وہاں بھیڑ، بکریاں، شیر اور بھیڑیے ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے ہیں، بھلا بتائیے، یہ بھی کوئی خوبی ہوئی؟ ارے اس معاملے میں ہمارا ملک مغرب سے صدیوں آگے ہے، یہ ایک گھاٹ پر پانی وغیرہ پینا تو پرانی باتیں ہیں، ہمارے ملک میں بھیڑیں اور بکریاں گھاٹ پر نہیں جاتی بلکہ خود چل کر بھیڑیوں کے پاس جاتی ہیں، نہ صرف یہ بلکہ ان کو مکمل آزادی ہے کہ وہ اپنی بریانی بنوانا چاہتی ہیں یا قورمہ، بلکہ کچھ موقعوں پر تو وہ چاہیں تو اپنا حلوہ بھی بنوا سکتی ہیں۔ اور تو اور اگر بھیڑیں کسی اور کا حلوہ بنتے دیکھیں تو امن و امان کا دامن نہیں چھوڑتیں، آخر بھیڑیے بھی تو انسان ہیں، پیٹ بھرنا تو ان کا بھی حق ہے، یہ ہے اصل انسانیت، یہ مغرب والے کیا جانیں؟

کچھ ناسمجھ دوست یہ کہہ کر ملک چھوڑ جاتے ہیں کہ ان ممالک کی معیشت بہت اچھی ہے، پاکستان میں مہنگائی بہت ہے،

ارے صاحب کیسی مہنگائی؟

یہاں تو دو کوڑی میں انسان مل جاتا ہے، کیا بات کر رہے ہیں؟ بھول جائیے کہ اس قیمت میں آپ کو کوئی امریکی یا یورپی میسّر ہو گا۔ اور جہاں تک رہی بات کھانے پینے اور رہن سہن کی، تو یہ تو دنیاوی چیزیں ہیں، یہیں رہ جانی ہیں ان کے لئے کیا مغز ماری کرنی۔ ہوا کھائیے، غصہ پیجیے، سب کچھ مفت میں دستیاب ہے بلکہ ان کی تو فراوانی ہے، مغرب میں تو ان جیسی چیزوں کے لئے باقاعدہ محنت کرنی پڑتی ہے۔

کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک کی نسبت ہمارے ملک میں وسائل کی کمی ہے، بجلی نہیں ہے، گیس نہیں ہے، بھئی بے کار کی فکر کر رہے ہیں، چند دن ہمارا بازاری کھانا کھائیے اتنی گیس پیدا ہو جائے گی کہ محلے کو سپلائی کرنے کے قابل ہو جائیں گے، رہی بات بجلی کی، اس میں پریشانی کی کیا بات ہے، ایک نظر بجلی کے بل پر ڈالئے، ان شا اللہ دماغ کی ہر بتی روشن ہو جائے گے، اور کیا چاہیے؟

بہت سی عورتیں یہ کہتی ہیں کہ بہت سے مغربی ممالک کی سڑکیں ان کے لئے محفوظ ہیں، جب چاہیں جہاں چاہیں اپنی مرضی سے آ جا سکتی ہیں، ارے میری نادان بہنوں، افسوس ہے آپ کی سوچ پر، ارے پاکستان میں کوئی عورت جب باہر نکلتی ہے تو کم از کم تین موٹر سائیکل سوار نوجوان، دو گاڑیاں اور ایک چندیا والے انکل گھر تک چھوڑ کر آتے ہیں، تو فکر کیسی؟

کچھ صاحبان مغرب کی بہتری کی یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ وہاں انسانیت کے لئے بہت کام کیا جاتا ہے، صحت کا نظام بہت اچھا ہے، بہت سی مغربی حکومتیں مفت ہیلتھ انشورنس فراہم کرتی ہیں نیز آب و ہوا صحت کے لئے اچھی ہے، ، گندگی کی عدم موجودگی کی وجہ سے مکھیاں نہیں ہوتیں، جراثیم کم ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ذرا غور فرمائیے، صحت کو اتنا دماغ پر چڑھا لینے سے انسانیت کہاں رہتی ہے؟

نہیں سمجھے؟

ارے میرے نادان ہم وطنوں، آخر مکھیوں اور جراثیموں کا کیا قصور ہے؟ کیا وہ انسان نہیں ہیں؟ کیا ان کو جینے کا حق نہیں؟ ہم تو وہ قوم ہیں جو اپنے سے زیادہ ان بے زبان جراثیموں، مکھیوں اور مچھروں کا خیال رکھتے ہیں، کیا ہوا جو تھوڑا بہت خون انہیں دے دیا، چند دن ڈینگی میں گزار لئے، کچھ وقت کھانے کی جگہ پیناڈول کھا لیں گے لیکن ان جراثیموں کے بچے ہمیں دعائیں دیں گے، کل ریستوران میں کھانا کھاتے وقت میں نے خود ایک مکھی کو دیکھا جو ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعائیں دے رہی تھی، یہ ہے انسانیت کی اصل معراج، اس سے مغرب کا کیا واسطہ؟

تو میرے دوستوں، اور اپنا دیس چھوڑ کر مغرب کی طرف جانے کا خواب دیکھنے والوں، مجھے امید ہے کہ آپ کو کسی حد تک اندازہ ہو گیا ہو گا کہ مغربی دنیا کا یہ جھوٹا پردہ محض پروپیگنڈے کا شاخسانہ ہے اور میری ان باتوں کا آپ پر نہ صرف خاطر خواہ اثر ہو گا بلکہ جو لوگ اس ملک کو چھوڑ کر باہر جانے کا سوچ رہے ہیں وہ اپنا ارادہ ترک کر کے راہِ راست پر آ جائیں گے۔

ویسے تو ایسی بے شمار وجوہات اور بھی بہت ہیں اور اگر آپ چاہیں تو ہم اس موضوع پر دلائل کی مفصّل اور معرکة الآرا کتابیں تحریر کر سکتے ہیں، مگر ہماری امریکہ کی فلائٹ کا وقت ہو گیا ہے جسے مس کرنا ہم افورڈ نہیں کر سکتے۔

یہ نا سمجھیے گا کہ ہم آپ کو حب الوطنی کا سبق دے کر خود پتلی گلی سے نکل رہے ہیں، ہمارا امریکہ جانے کا وہی مقصد ہے جو زیادہ تر حب الوطن بیرون ملک پاکستانیوں کا ہوتا ہے، ہم وہاں بیٹھ کر آپ کو بہتر طریقے سے یہ بتا سکیں گے کہ ہمارے اپنے وطن کی اہمیت کیا ہے، مغرب در حقیقت کس قدر اخلاق باختہ، ایمان سے عاری اور دین سے دوری کا مظہر ہے،

ہماری زندگی کا مقصد یہ ہو گا کہ آپ ان ممالک الفساد سے دور رہیں اور اپنے پیارے وطن میں ہمیشہ کی طرح خوشحال اور ایمان افروز زندگی گزارتے رہیں۔

رہی بات ہم بیرونِ ملک رہنے والے بے وطن خانہ بدوشوں کی؟ تو آپ کی خاطر کسی کو تو قربانی دینی ہو گی، سو اس کے لئے خاکسار ہے نا؟

اِنجائے دا شو!

Facebook Comments HS