اڈیالہ جیل، سوشل میڈیا کا بیانیہ اور تعبیرِ غالب


یوسفی صاحب نے کہا تھا کہ غالب وہ شاعر ہے جو سمجھ نہ آئے تو دونا مزا دیتا ہے۔ یہ بات تو ٹھیک تھی مگر اب غالب کے شارحین اور عشاق نے مرزا کے ہر شعر کی ایسی ایسی تشریح کر کے دکھا دی ہے کہ بندہ سوچتا ہے ’گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم۔‘ میں نے اپنے ایک پرانے کالم میں۔ اوہ معافی چاہتا ہوں، مجھے کالم کی جگہ اظہاریے کا لفظ استعمال کرنا چاہیے کہ استاذی وجاہت مسعود اظہاریہ ہی لکھتے ہیں اور کسی آسان لفظ کے استعمال کو مکروہ تحریمی سمجھتے ہیں۔

تو اپنے کسی اظہاریے میں کمترین نے لکھا تھا کہ کبھی غالب کے اُن اشعار کے بارے میں بات کروں گا جو بظاہر آسان ہیں مگر اُن کے کئی مطلب نکلتے ہیں۔ آج نیر مسعود کی ’تعبیر غالب‘ پر نظر پڑی تو اپنا وعدہ یاد آیا۔ اِس کتاب میں نیر مسعود نے غالب کے چند اشعار کو منتخب کر کے اُن پر سیر حاصل بحث کی ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ حتّیٰ کہ ’آہ کو چاہیے اِک عمر اثر ہونے تک، کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک‘ جیسے سادہ شعر میں سے بھی انہوں نے وہ معنی دریافت کر لیے ہیں جو شاید غالب کے ذہن میں بھی نہیں ہوں گے۔

یہ جملہ میں نے جان بوجھ کر لکھا ہے کیونکہ شارحین غالب پر اکثر یہی تنقید کی جاتی ہے، یہ اعتراض نیر مسعود کے ایک دوست نے کیا تو انہوں نے اِسی کتاب کے ابتدائیے میں یوں جواب دیا ”آپ کا مطلب ایک تو یہ ہوا کہ آپ کو غالب کے ذہن کی حد کا خوب اندازہ ہے اور آپ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ غالب کیا سوچ سکتے تھے اور کیا نہیں سوچ سکتے تھے۔ دوسرے یہ کہ ان شعروں کی جن باریکیوں تک ہمارا ذہن پہنچا ہے، خود غالب کا ذہن ان تک نہیں پہنچ سکتا تھا، یعنی ہم ذہنی اعتبار سے غالب پر فوقیت رکھتے ہیں۔“ نیر صاحب نے گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔

تعبیر غالب میں نیر مسعود نے جو شعر منتخب کیے ہیں اُن میں میرا پسندیدہ شعر بھی شامل ہے۔ ’مانع وحشت خرامی ہائے لیلیٰ کون ہے، خانہ مجنون ِ صحرا گرد بے دروازہ تھا۔‘ شارحین نے اِس شعر کا مطلب یوں بیان کیا ہے کہ صحرا میں پھرنے والے مجنوں کا گھر تو بے دروازہ ہے، پھر لیلیٰ کے صحرا میں خاک چھاننے میں کیا امر مانع ہے، وہ کیوں اپنے مجنوں کے پاس نہیں جاتی۔ نظم طباطبائی نے لکھا ہے کہ ’مجنوں کا گھر تو صحرا ہے اور صحرا وہ گھر ہے جس میں دروازہ نہیں، پھر لیلیٰ کیوں نہیں وحشی ہو کر اس کے پاس چلی آتی؟ کون اسے مانع ہے؟‘

اپنی تشریح بیان کرنے سے پہلے نیر صاحب نے دیگر شارحین کی رائے نقل کی اور اعتراض اٹھایا کہ ’خانہ‘ اور ’صحرا‘ ایک دوسرے کی ضد ہیں، مجنوں کا گھر الگ ہے اور صحرا الگ، شعر میں ’خانہ مجنوں‘ کو بے دروازہ کہا گیا ہے، صحرا کو نہیں، اور پھر بے دروازہ کھلی ہوئی جگہ کو نہیں بلکہ ایسی بند جگہ کو کہتے ہیں جس میں داخل ہونے اور اس سے باہر نکلنے کی کوئی راہ نہ ہو۔ اِس کے بعد نیر صاحب لکھتے ہیں کہ خانہ مجنوں خود مجنوں کے لیے بے دروازہ تھا کیونکہ پاگل کو گھر کے اندر رکھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے لیلیٰ مجنوں تک نہیں پہنچ سکتی تھی کیونکہ مجنوں کے گھر میں داخل ہونے کے لیے کوئی دروازہ ہی نہیں تھا۔

یہ ذہن میں رکھ کر شعر دوبارہ پڑھیں تو کئی مطلب نکلتے ہیں۔ پہلا، بے شک مجنوں کا گھر بے دروازہ تھا مگر لیلیٰ کو کیا پرابلم تھی، وہ کیوں بے قرار ہو کر مجنوں کے گھر کے باہر نہ پہنچ گئی؟ دوسرا، بے شک مجنوں کا گھر لاک تھا، وہاں نہیں پہنچا جا سکتا تھا، مگر صحرا تو کھلا ہے، لیلیٰ وہیں نکل کھڑی ہوتی، کم ازکم اُس کی وحشت تو عیاں ہوتی! لیکن اِس شعر کا اصل لطف اُس صورت میں ہے اگر پہلے مصرع کو استفہامِ انکاری سمجھ کر پڑھا جائے، یعنی لیلیٰ کو بھلا کون روک سکتا ہے، اگر مجنوں اپنے خانہ بے دروازہ کو توڑ کر صحرا میں پہنچ سکتا ہے تو لیلیٰ بھی اپنے عشق کی آگ میں جل کر وہاں پہنچ جائے گی۔

اِس شعر کی ایک اور تشریح جو ظاہر ہے کہ نیر مسعود کے ذہن میں نہیں آ سکتی تھی، یہ ہو سکتی ہے کہ مجنوں کا گھر چونکہ ہر طرف سے بند ہے اِس لیے اسے اڈیالہ جیل سمجھا جائے اور پھر عشاق سے سوال ہو کہ مجنوں تو جیل میں بند ہے، تم کیوں گھروں میں بیٹھے ہو، یہ کیسا عشق ہے جو تمہیں وحشت خرامی پر مجبور نہیں کر رہا!

ایک اور شعر جس کا نیر مسعود صاحب نے پوسٹ مارٹم کیا، وہ بھی غالب کے بہترین اشعار میں سے ہے۔ ’قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو، مرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجانِ گلشن کو۔ ‘ اِس شعر کو اگر سیدھا نثر میں لکھا جائے تو یوں ہو گا کہ میں قفس میں ہوں، میرے نالہ و شیون کو گلشن کے دیگر لوگ اچھا نہیں سمجھتے تھے، اب انہیں مجھ سے نجات مل گئی ہے کیونکہ اب میں گلشن میں نہیں ہوں، اِس کے باوجود نوا سنجانِ گلشن کو برا لگتا ہوں، آخر انہیں کس بات کی جیلسی ہے؟

تمام شارحین نے اِس شعر کا لگ بھگ یہی مطلب بیان کیا ہے، کہیں اختصار سے اور کہیں تفصیل کے ساتھ، نیر صاحب کی رائے میں اِس تشریح میں کوئی غلطی نہیں لیکن یہ تشریح اُس سوال کا جواب نہیں دیتی جو شاعر نے پوچھا ہے کہ نوا سنجانِ گلشن آخر مجھ سے کیوں نالاں ہیں جبکہ میں تو اب اِن کی سمع خراشی کا باعث بھی نہیں بن سکتا۔ اِس سوال کو یوں بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ میرے شیون سے لوگوں کو مسئلہ تھا مگر جب میری آواز بند کر کے مجھے قید کر دیا گیا تو پھر بھی نواسنجانِ گلشن مطمئن نہ ہوئے، اب وہ کہتے ہیں کہ اِس کا وجود بھی نہیں ہونا چاہیے۔

آخر کیوں؟ نیر صاحب کی رائے میں شیون اور نواسنجی کرنے میں فرق ہے، شاعر شیون کرتا تھا، اُس کی آواز سب سے مختلف اور پُر تاثیر تھی، وہ دل سے نکلتی ہوئی منفرد آواز تھی، جبکہ نواسنجی فطری شیون کے بر خلاف کوشش کر کے بنائی ہوئی دھن کا گانا ہے اور یوں شیون کی تاثیر نواسنجی سے زیادہ ہے۔ اب شعر کا مطلب یوں ہوا کہ نواسنجانِ گلشن کو احساس تھا کہ میرا شیون اُن کے بیانئے سے بہتر ہے لہذا اپنے احساس کمتری کو چھپانے کے لیے وہ میرے شیون پر تنقید کرتے تھے، اُن کا مقصد تھا کہ میرا منہ بند ہو جائے اور لوگ میری بجائے اُن کے بیانئے پر توجہ دیں، میرے مخالفین کی سنی گئی، مجھے گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا گیا مگر اِس کے باوجود لوگ میرے ہی شیون کو یاد کرتے ہیں، پہلے تو میرا شیون گلشن کی حد تک تھا مگر جب سے قید میں ڈالا گیا ہوں تو گلشن سے باہر بھی میری آواز پہنچ گئی ہے، گویا ہر صورت میں نواسنجانِ گلشن کی آزردگی کا باعث بن رہا ہوں، اِس لیے اب انہیں قید میں بھی میرا وجود کھَل رہا ہے اور وہ مجھے برا جان رہے ہیں۔

یہ ہے وہ تشریح جس میں سوال کا جواب ملتا ہے۔ ویسے ایک اور تشریح یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شاعر کا نالہ و شیون حد سے بڑھ چکا تھا جس کی وجہ سے معاشرے میں انتشار پھیل رہا تھا، لہذا اسے قید کر کے جیل میں ڈال دیا گیا، لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا، اُس کا بیانیہ سوشل میڈیا پر اب بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے اور اُس کے مخالفین کو یہ بات گوارا نہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح اِس کا تدارک کیا جائے، اسی لیے نواسنجانِ گلشن نے ایکس (ٹویٹر) پر پابندی لگوا دی ہے۔

تعبیرِ غالب میں اور بھی بہت سے شعر ہیں جن کے نئے پہلوؤں کی طرف نیر مسعود نے توجہ دلائی ہے، تاہم کہیں کہیں نیر صاحب مطلب کی تلاش میں کچھ زیادہ ہی آگے نکل گئے ہیں جس سے شعر کا لطف ختم ہو گیا ہے۔ لیکن اگر آپ بھی میری طرح غالب کے عاشق ہیں اور اُس کے شعروں سے دونا مزا لینا چاہتے ہیں تو نظم طباطبائی کی شرح دیوانِ غالب، شمس الرحمٰن فاروقی کی تفہیمِ غالب اور نیر مسعود کی تعبیرِ غالب سرہانے رکھ لیں اور روزانہ رات کو گرم دودھ کے ساتھ ایک شعر پڑھ لیا کریں، خدا نے چاہا تو چاند سا بیٹا/ بیٹی ہوگی، شرط یہ ہے کہ صرف شعر ہی نہیں پڑھنا خود بھی کوئی ہِل جُل کرنی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 503 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments