الکا یاگنک۔ ایک مسحور کن آواز


جدید ہندی سینما کی عظیم گلوکاراؤں میں شمار ہونے والی الکا یاگنک گزشتہ چار دہائیوں سے سامعین کو اپنی سحر انگیز آواز کے جادو میں جکڑے ہوئے ہیں۔ اپنے خوبصورت آواز سے بے شمار اعزازات جیتنے والی الکا نے دو نیشنل فلم اعزاز، دو بنگال فلمی صحافیوں کی ایسوسی ایشن کے اعزاز، اور ریکارڈ *سات* فلم فیئر اعزاز (آشا بھوسلے کے ساتھ مشترکہ طور پر) جیتے ہیں (بطور بہترین خاتون پلے بیک گلوکارہ کے ) جبکہ وہ 36 مرتبہ اس اعزاز کے لیے نامزد ہوئیں اور یہ بھی ریکارڈ ہے۔

الکا کی گلوکاری میں بے پناہ تنوع پایا جاتا ہے جس کا ثبوت ان کے متنوع گیت ہیں، جیسے کہ المیہ، طربیہ (شوخ) ، عاشقانہ، پاپ، بھجن، کلاسیکی گانے وغیرہ۔ انہوں نے اپنے دور کے تقریباً سبھی نمایاں موسیقاروں کے ساتھ کام کیا اور سبھی نمایاں مرد گلوکاروں کے ساتھ دوگانے گائے۔ ان کی آواز کئی مقبول اداکاراؤں کی پہچان بنی۔

20 مارچ 1966 ء کو کولکتہ، انڈیا میں دھرمیندرا اور شوبھا شنکر کے ہاں پیدا ہونے والی الکا کو موسیقی سے شغف اپنی والدہ کو دیکھ کر ہوا جو کلاسیکل موسیقی گاتی تھیں۔ الکا میں موسیقی کا شوق اور صلاحیت دیکھ کر انہوں نے اسے تربیت دینا شروع کر دی۔ یوں محض 6 سال کی عمر میں الکا آکاش وانی (آل انڈیا ریڈیو، کلکتہ) کے لیے بھجن گا رہی تھیں۔ 10 سال کی عمر میں ان کی والدہ انہیں لے کر ممبئی آ گئیں تاکہ بطور چائلڈ سنگر ان کے کیرئیر کا آغاز ہو سکے۔ راج کپور نے ان کی آواز سن کر انہیں مشہور موسیقار لکشمی کانت کے پاس بھیجا جنہوں نے الکا کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی آواز کے پختہ ہونے کے بعد ہی گلوکاری شروع کریں۔

بالی وڈ میں ان کے سفر کا آغاز 1980 ء کی فلم ’پائل کی جھنکار‘ سے ہوا۔ دور جدید کے کئی دیگر مشہور گلوکاروں کی طرح انہوں نے بھی کلیان جی۔ آنند جی کی شاگردی اختیار کی جنہوں نے الکا کے پہلے مقبول گیت، ’میرے آنگن میں‘ ، فلم:لاوارث ( 1981 ء) کی موسیقی ترتیب دی جس کے لیے انہیں پہلی مرتبہ بہترین خاتون گلوکارہ کے فلم فیئر اعزاز میں نامزد کیا گیا۔ لیکن اس سال کا اعزاز ”آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے“ گانے والی نازیہ حسن کے حصے میں آیا جن کا سب سے کم عمری میں یہ اعزاز جیتنے کا ریکارڈ آج بھی قائم ہے۔

یوں تو 1980 ء کی دہائی میں انہوں نے کئی فلموں کے لیے گلوکاری کی لیکن انہیں شہرت 1988 ء کی فلم ’تیزاب‘ سے ملی جس کا گیت ’ایک دو تین‘ راتوں رات مشہور ہوا اور آج بھی مقبول ہے۔ اسی گیت پر انہیں اپنا پہلا بہترین خاتون گلوکارہ کا فلم فیئر اعزاز ملا۔

انہوں نے کئی ذاتی البم بھی ریلیز کیے جیسے کہ ”تم یاد آئے“ ( 1997 ) ، ”تم آئے“ ( 2002 ) اور ”شاعرانہ“ ( 2003 ) ، موخر الزکر کی شاعری جاوید اختر کی تھی۔

انہوں نے بطور بہترین خاتون پلے بیک گلوکارہ کے، دو نیشنل فلم اعزاز اپنے نام کیے۔ 1993 ء کی فلم ”ہم ہیں راہی پیار کے“ کے گیت ’گھونگٹ کی آڑ سے‘ اور 1998 ء کی فلم ”کچھ کچھ ہوتا ہے“ کے گیت ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ پر۔

بہترین خاتون پلے بیک گلوکارہ کے طور پر ان کے 7 فلم فیئر اعزازات ایک ریکارڈ ہیں۔ جن گانوں پر انہوں نے یہ اعزاز جیتے وہ مندرجہ زیل ہیں :

1: ”ایک دو تین“ ، فلم:تیزاب ( 1988 )
2: ”چولی کے پیچھے کیا ہے؟“ ، فلم:کھل نائیک ( 1993 )
3: ”زرا تصویر سے تو“ ، فلم :پردیس ( 1998 )
4: ”تال سے تال ملا“ ، فلم:تال ( 2000 )
5: ”دل نے یہ کہا ہے دل سے“ ، فلم:دھڑکن ( 2001 )
6: ”او ری چھوری“ ، فلم: لگان ( 2002 )
7: ”ہم تم“ ، فلم:ہم تم ( 2005 )

1992 ء سے لے کر 2005 ء تک، لگاتار 14 سال وہ بہترین خاتون پلے بیک گلوکارہ کے فلم فیئر اعزاز کے لیے نامزد ہوئیں۔ مجموعی طور پر فتوحات کو نکال کر ان کی دیگر نامزدگیوں میں مندرجہ زیل گانے شامل ہیں :

1: ”دیکھا ہے پہلی بار“ (ساجن)
2: ”ایسی دیوانگی“ (دیوانہ)
3: ”بازیگر او بازیگر“ (بازیگر)
4: ”“ ہم ہیں راہی پیار کے (ہم ہیں راہی پیار کے )
5: ”پالکی میں ہوگی سوار“ (کھل نائیک)
6: ”چرا کے دل میرا“ (میں کھلاڑی تو اناڑی)
7: ”راہ میں ان سے“ (وجے پاتھ)
8: ”راجہ کو رانی سے“ (اکیلے ہم اکیلے تم)
9: ”اکھیاں ملاؤں“ (راجا)
10 : ”بانہوں کے درمیان“ (خاموشی:دی میوزیکل)
11 : ”پردیسی پردیسی“ (راجا ہندوستانی)
12 : ”میرے خوابوں میں تو“ (گپت)
13 : ”چھما چھما“ (چائنا گیٹ)
14 : ”کچھ کچھ ہوتا ہے“ (کچھ کچھ ہوتا ہے )
15 : ”لڑکی بڑی انجانی ہے“ (کچھ کچھ ہوتا ہے )
16 : ”چاند چھپا بادل میں“ (ہم دل دے چکے صنم)
17 : ”ہائے میرا دل“ (جوش)
18 : ”پنچھی ندیا“ (ریفیوجی)
19 : ”سن سننا“ (اشوکا)
20 : ”جانے کیوں“ (دل چاہتا ہے )
21 : ”صنم میرے ہمراز“ (ہمراز)
22 : ”آپ کے پیار میں“ (راز)
23 : ”توبہ، تمہارے یہ اشارے“ (چلتے چلتے )
24 : ”اوڑھنی“ (تیرے نام)
25 : ”لال دوپٹہ“ (مجھ سے شادی کرو گی؟ )
26 : ”سانوریا“ (سوادیس)
27 : ”کبھی الوداع نہ کہنا“ (کبھی الوداع نہ کہنا)
28 : ”تو مسکرا“ (یووراج)
29 : ”اگر تم ساتھ ہو“ (تماشا)
موسیقی کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2017 ء میں لتا منگیشکر اعزاز سے نوازا گیا۔

ذاتی زندگی کی بات کی جائے تو انہوں نے 1989 ء میں نیراج کپور سے شادی کی جو ایک کاروباری شخصیت ہیں، ان سے الکا کی ایک بیٹی ہے جس کا نام سائیشا ہے۔