انور بخش۔ پاکستان کی تاریخ کا ایک تلخ باب


دسمبر 1971 کے ابتدائی ہفتے کی بات ہے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان باقاعدہ جنگ شروع ہو چکی ہے مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) کی بندرگاہ چٹاگانگ سے آہستہ آہستہ سرمئی رنگ کا ایک جاپانی مال بردار بحری تجارتی جہاز ”ایم۔ وی۔ آشیو مارو“ کھلے سمندر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ صبح کے اٹھ بجے ہیں فضا میں خنکی کا عنصر ہے جہاز کا کپتان دیکھتا ہے کہ دو تیز رفتار کشتیاں جہاز کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ جہاز ساکت ہو جاتا ہے جب کشتیاں قریب آتی ہیں تو پتہ چلتا ہے یہ بھارتی بحریہ کی کشتیاں ہیں اور اس پر بھارتی فوجی سوار ہیں ان میں سے ایک کشتی جہاز کے بالکل قریب آ جاتی ہے اور ایک بھارتی فوجی میگا فون پر چلا کر جہاز کے عملے کو متنبہ کرتا ہے کہ بھارتی بحریہ نے پورے علاقائی سمندر کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے اور کوئی جہاز ہماری مرضی کے بغیر کسی مشرقی پاکستانی بندرگاہ سے باہر جاسکتا ہے نہ اندر آ سکتا ہے۔

وہ جہاز کے عملے کو حکمیہ لہجے میں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم تمہارے جہاز کی تلاشی لیں گے۔ جہاز کا عملہ جہاز کے عرشے سے نیچے ایک رسی کی سیڑھی لٹکا دیتا ہے۔ تمام بھارتی فوجی جہاز کے اوپر چڑھ آتے ہیں یہ تعداد میں 12 ہیں اور جدید اسلحہ سے لیس ہیں۔ یہ اپنی حرکات و سکنات سے کمانڈو لگتے ہیں جہاز پر جلی حروف میں جاپانی اور انگریزی میں ”اوشیو مارو“ لکھا ہوا ہے جہاز کی لائف بوٹ پر بھی جہاز کا نام ”اوشیو مارو“ ہی لکھا ہوا ہے۔

ابھی یہ بھارتی فوجی جہاز کا جائزہ ہی لے رہے ہوتے ہیں کہ ان کو جہاز کے اندرونی حصہ پر کچھ مقامات اور آلہ جات پر ”ایس۔ ایس انور بخش“ لکھا ہوا نظر آتا ہے۔ ”ایس۔ ایس انور بخش“ ایک پاکستانی جہاز تھا اور یونائیٹڈ اورینٹل شپ کمپنی کی ملکیت تھا اس کمپنی کو عرف عام میں بخش لائنز بھی کہا جاتا تھا۔ ”ایس۔ ایس انور بخش“ بھارتی فوجیوں کے لیے دشمن کا جہاز تھا۔ جہاز میں مختلف جگہوں پر یہ نام دیکھ کر نہ صرف وہ شک و شبہ کا شکار ہو جاتے ہیں بلکہ ان کے چہروں پر پریشانی کے آثار بھی جھلکنے لگتے ہیں وہ کپتان سے عملے کی فہرست طلب کرتے ہیں۔

وہ عملے کے افراد کا نام پوچھ کر سارے عملے کو ایک طرف کھڑا کر دیتے ہیں عملے کے کل افراد 45 تھے۔ اس کے علاوہ بھی مزید 80 افراد جہاز پر موجود تھے۔ وہ عرشے پر قطار میں کھڑے تھے۔ بحری جہاز کے حقیقی عملے سے کہا گیا کہ وہ اپنے بستر لے آئیں، وہیل ہاؤس کے آگے ہیچ کور پر لیٹ جائیں۔ عملے اور دیگر کی نگرانی کے لیے ٹیم کے کم سے کم ارکان مامور کر دیے جاتے ہیں۔ باقی ٹیم کے ارکان کسی بھی ممکنہ چھپے ہوئے لوگوں یا اسلحے کی تلاش میں پورے جہاز میں پھیل جاتے ہیں۔

انجن روم میں موجود بنگالی بوائلر واچ کیپر بھارتی ٹیم کے سامنے انکشاف کرتا ہے کہ ”یہ تمام اضافی لوگ پاکستانی فوجی افسران ہیں جو مشرقی پاکستان سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب تمہاری کشتیاں قریب پہنچیں تو ان سب نے اپنے ہتھیار اور گولہ بارود سمندر میں پھینک دیے“ ۔ کارگو ہولڈ کی طرف ایک سرسری نظر ڈالنے کے بعد بھارتی ٹیم اس شک کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ جہاز پوری طرح سے اسلحہ، آرٹلری گنز اور ملٹری ایمبولینس سے لدا ہوا ہے۔

اصل واقعہ یہ تھا کہ جب جہاز چٹا گانگ کی بندر گاہ کی گو دی پر لنگر انداز ہوا اور بندرگاہ پر سامان اتارنے کی تیاری کر رہا تھا تو جنگ شروع ہو گئی اور بھارتی فضائیہ نے بندرگاہ پر بمباری شروع کردی جس کی وجہ سے ”ایس۔ ایس انور بخش“ بندرگاہ پر سامان نہیں اتار سکا تھا۔ نتیجتاً بندرگاہ کی حفاظت کرنے والے تمام فوجی اہلکار مغربی پاکستان ( موجودہ پاکستان ) فرار ہونے کے لیے ”انور بخش“ پر سوار ہو گئے اور اس پر جاپانی جہاز کا نام پینٹ کر دیا تاکہ بھارتی نیوی کی دسترس سے بچ سکیں۔

جہاز پر حالات بھارتی فوجیوں کی سوچ سے زیادہ خطرناک نکلے۔ پاکستانی فوجی افسروں کی تعداد بہت زیادہ تھی، جہاز بھی چھپے ہوئے اسلحے اور گولہ بارود سے بھرا ہوا تھا۔ اب ان کی ترجیح چھپے ہوئے چھوٹے ہتھیاروں کو تلاش کرنا اور الگ کرنا تھا۔ پھر اپنی ٹیم اور جہاز کو بحفاظت ہندوستان کی قریب ترین بندرگاہ پر پورے جہاز کو زمین پر موجود ہندوستانی فوج کے حوالے کرنا تھا۔ چھپے ہوئے اسلحے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی تمام کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

جہاز کے کپتان یا عملے سے پوچھ گچھ کرنے سے بھی کوئی سراغ نہیں ملا۔ تمام پاکستانی فوجی اہلکاروں کو جہاز کے عرشے پر کھڑا کر دیا گیا اور بھارتی فوجیوں کی ٹیم کا ایک حصہ چھوٹے ہتھیاروں کے لیے جہاز کی تلاشی لینے لگا۔ ٹیم کے دوسرے حصے نے چھپائے گئے چھوٹے ہتھیاروں کا پتہ لگانے کے لیے پوچھ گچھ کی ذمہ داری لی۔ پاکستانی فوجی جوانوں سے اجتماعی طور پر چھپائے گئے چھوٹے ہتھیاروں کی جگہ ظاہر کرنے کو کہا گیا لیکن انہوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا۔

بھارتی فوجی ٹیم کے سربراہ نے ایک سخت نظر پٹھان کو آگے آنے کو کہا اور ہتھیاروں کی جگہ ظاہر کرنے کو کہا۔ جب اس نے بولنے سے انکار کیا تو اسے تنبیہ کی گئی کہ ظاہر نہ کرنے کی صورت میں اسے تکلیف ہوگی۔ تین انتباہی گولیاں ہوا میں چلانے کے بعد بھی اس نے منہ نہیں کھولا۔ اس صورت حال سے گھبرا کر ایک بھارتی اہلکار نے سیدھا اس پاکستانی پر فائر کھول دیا۔ یہ منظر دیکھ کر تمام نہتے پاکستانی فوجی بھارتی فوجیوں کی طرف لپکے۔

بھارتی فوج کے تمام ارکان نے ان نہتے پاکستانیوں پر اپنے آٹومیٹک اسلحے سے فائر کھول دیے۔ ان میں سے بہت سے نہتے پاکستانی فوجی موقع پر ہی شہید ہو گئے اور اکثر شدید زخمی ہو گئے، پورے عرشے پر خون بہنے لگا۔ آخر کار ”انور بخش“ دشمن کے سامنے سرنگوں ہو گیا۔ بخش لائنیز کی اس خونچکاں داستان میں ہی پاکستان کے عروج و زوال کی داستان بھی پنہاں ہے۔

آزادی سے پہلے بخش خاندان کپاس اور چمڑے کی تجارت کرتا تھا۔ ان کا مرکزی دفتر کلکتہ میں تھا جہاں سے وہ یہ اجناس زیادہ تر مشرق بعید میں برآمد کرتے تھے۔ آزادی کے بعد وہ کراچی میں آباد ہوئے اور خاص طور پر چین کو کپاس کے اہم برآمد کنندگان بن گئے۔ کوریا کی جنگ شروع ہونے تک ( 1950 کے آس پاس) سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، لیکن کوریا کی جنگ شروع ہوتے ہی زیادہ تر جہاز ران کمپنیوں نے چین کے لئے اپنی جہازوں کی آمد و رفت بند کردی اس نازک صورت حال میں جناب مولا بخش، بخش خاندان کے ایک نوجوان اور متحرک رکن چین اور ہانگ کانگ گئے تاکہ چین کو مال برآمد کرنے کے ذرائع اور طریقے تلاش کریں۔ ہانگ کانگ میں انہوں نے کئی لوگوں سے ملاقات کی اور ایک ایسا جہاز ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے جسے چین کے لئے چارٹر کیا جا سکتا تھا۔ اس دوران انہوں نے اپنے کاروبار کے لیے پرانے بحری جہاز خریدنے کا بھی سوچا، اور دو جہاز تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے، ان کے نام انہوں نے ”انور بخش“ اور ”قادر بخش“ رکھے۔

پاکستان واپس آ کر ان کے والد میاں قادر بخش بڑی دلچسپی سے اس پیش رفت کی نگرانی کر رہے تھے۔ جب جناب مولا بخش کراچی واپس آئے تو انہوں نے اپنے تین بھائیوں ایس ایم انور بخش، ایس ایم اقبال بخش اور ایس مقبول بخش کے ساتھ اپنے والد کی رہنمائی میں یونائیٹڈ اورینٹل اسٹیم شپ کمپنی کی بنیاد رکھی۔ جو عام طور پر بخش لائنز کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے Carstairs & Communings Ltd کے نام کی ایک میرین ورکشاپ خریدی جو ویسٹ وارف، کراچی میں واقع ہے، جہاں سے سینکڑوں انجینئرز اپرنٹس کو پاکستان کے تجارتی بیڑے میں شامل ہونے کی تربیت دی گئی۔ اس جہاز ران کمپنی نے دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنی شروع کردی اور اور مرکن ٹائل، میرپن ڈپارٹمنٹ کراچی میں 1949 سے 1971 تک یونائیٹڈ اورینٹل اسٹیم شپ کمپنی کی ملکیت میں کل 12 جہاز رجسٹرڈ ہوئے۔

انور بخش کے دشمن کے قبضے میں جانے کے علاوہ اس کمپنی کا ایک اور بحری جہاز ”انیس بخش“ بھی 1971 میں چٹاگانگ میں دشمن کی کارروائیوں میں تباہ کر دیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے 1965 میں پاکستان کی پہلی پاک بھارت جنگ میں ان کا ایک جہاز ”ایس ایس الیاس بخش“ بھارت کی بندرگاہ بمبئی میں مرمت کی خاطر لنگر انداز تھا وہ بھی بھارتی حکومت نے مال غنیمت کے طور پر بحق سرکار ضبط کر لیا تھا۔ باقی چار جہاز مقبول بخش، قادر بخش، مولا بخش اور اقبال بخش کو 1974 میں حکومت پاکستان نے قومیانے کی پالیسی کے تحت اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس طرح یہ شاندار جہاز ران کمپنی قصہ پارینہ بن گئی۔

ہمیں تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا
ہماری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی کم تھا

Facebook Comments HS