کاشف رضا اور ایک عورت کا باغ


نئی صدی کے طلوع ہوتے ہی جن نئے تخلیق کاروں نے ادبی منظر نامے پر اپنے دستخطوں کی ایسی فصل سجائی کہ وہ مرکز نگاہ ہو گئے ان میں سید کاشف رضا کو میں بہت نمایاں دیکھتا ہوں۔ پیشے کے اعتبار سے وہ صحافی ہیں اور ایک بڑے میڈیا گروپ سے وابستہ؛مگر ان کی ادبی اور علمی وابستگیوں کا دائرہ متنوع اور نہایت وسیع ہے۔ وہ عمدہ تخلیق کار ہیں ؛ عمدہ اور مختلف۔ شاعری، فکشن، تراجم غرض کون سا علاقہ ہے جو ان کی دلچسپی کا نہ ہو۔

یہ دلچسپی کسی آوارہ خرام یا اتھلے مزاج والے فرد کی نہیں ایسے فن کار کی ہے جو اسے زندگی کی ترجیح اول بنا لیتا ہے ؛کچھ یوں کہ یہی اسلوب حیات کا رتبہ پا لے۔ مجھے یاد آتا ہے کہ کئی برس پہلے ہم جشن ریختہ میں شرکت کے لیے دلی جا رہے تھے۔ واہگہ باڈر پر جب ادھر والوں نے تلاشی کی غرض سے کاشف کا ٹرنک نما بڑا سا چرمی بیگ کھلوایا تو اس میں کتابیں تہ در تہ رکھی ملیں۔ بس ایک طرف گچھی مچھی پڑے چند کپڑے تھے جن کی طرف پہلی نظر جاتی ہی نہ تھی۔ شومئی قسمت کہ جس کی تلاشی لینے کی ڈیوٹی تھی وہ اردو رسم الخط سے نابلد تھا؛ اتنی ساری اردو کی کتب کو دیکھ کر بوکھلا گیا۔ انہیں کھول کھول کر دیکھتا اور پوچھے جاتا:

”ان میں کیا ہے؟ یہ اتنی زیادہ کیوں ہیں؟ کیا ہندوستان میں کتابیں نہیں ہیں؟“
”ہوں گی مگر شاید یہ نہ ہوں ؛یہ ہندوستان کے ادیب دوستوں نے منگوائی ہیں ؛ تحائف ہیں ان کے لیے۔“

کاشف رضا کا جواب سن کروہ حیرت سے ان کا چہرہ دیکھے جاتا تھا اور ہمیں خدشہ ہو چلا تھا کہ ہم سب یہیں سے لوٹا دیے جائیں گے۔ خیر، قسمت نے ساتھ دیا اور ایک کتاب میں اردو کی عبارت کے بیچ انگریزی پیراگراف کا اقتباس اسے دکھائی دے گیا تو اس کے چہرے پر اطمینان جھلک دینے لگا تھا۔ گویا وہ جان گئے تھے کہ بے ضرر کتابیں تھیں۔ یوں ہمیں جانے دیا گیا تھا۔ مجھے یقین ہے جب وہ ہندوستان سے واپس ہوئے ہوں گے تو بھی ان کا کسی بسیار خور کی نکلی ہوئی توند سا نظر آنے والا چرمی بیگ اس سے کہیں زیادہ کتابوں سے بھرا ہوا ہو گا۔ ایسا میں اس لیے یقین سے کہہ رہا ہوں کہ میں نے کاشف کو ہمیشہ کتابوں کے اندر پایا ہے۔ جب جب ان سے بات ہوئی کسی کتاب کی ہوئی؛ پھر ذوق ایسا اعلیٰ کہ سبحان اللہ۔

وہ کراچی یونی ورسٹی سے انگریزی ادب اور لسانیات میں سند یافتہ ہیں صحافت ان کی روزی روٹی کا ذریعہ یوں سیاست بھی ان کی دلچسپیوں کا ایک علاقہ ہوا کہ یہی صحافت کا پیٹ بھرتی ہے۔ اس علاقے سے انہوں نے نوم چومسکی کے انگریزی مضامین اٹھائے اور انہیں اردو میں ڈھال دیا۔ یہ دو کتابیں ”دہشت گردی کی ثقافت“ ( 2003 ء) اور ”گیارہ ستمبر“ ( 2004 ء) ، جس جس کی نظر سے گزریں وہ ان کے تراجم کا معترف ٹھہرا۔ رواں دواں اور گودے والی نثر لکھنے کا ہنر ان کے پاس ہے۔

محمد حنیف کا معروف انگریزی ناول ”اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز“ کا ترجمہ بھی ایسی ہی زبان میں ہوا ہے جو سب کو سمجھ آ رہی تھی اور تاثیر بھی رکھتی تھی۔ اس کا نتیجہ جو نکلنا تھا وہ نکلا کہ وہ کتاب جو انگریزی میں ہر کہیں دستیاب تھی؛ 2019 ء میں ترجمہ چھپتے ہی کتب فروشوں سے اٹھوا لی گئی تھی کہ اردو میں ترجمہ ہو کر زیادہ خطرناک ہو گئی تھی۔ ”چار درویش اور ایک کچھوا“ کاشف کا اکلوتا اردو ناول ہے جو 2018 ء میں شائع ہوا اور اپنے مواد اور تیکنیک میں نئے نئے پن کے سبب لائق توجہ ہو گیا تھا۔ ”محبت کا محل وقوع“ 2003 اور ”ممنوع موسموں کی کتاب“ 2012 ان کی شاعری کے مجموعے ہیں ؛ غزل، نظم اور نثم اس باب میں بھی وہ ایک مقام پر نہیں ٹھہرے اور اپنے تخلیقی اظہار کو ہر پہلو سے آزمایا ہے۔ اب اگر میں یہ کہوں کہ کاشف کا ہر علمی و ادبی قدم ان کی توقیر میں اضافے کا سبب ہوا ہے تو نادرست نہ ہو گا۔

یہ طولانی تمہید میں نے یوں باندھی ہے کہ آج اچانک مجھے کاشف رضا کی ایک ایسی فائل مل گئی ہے جو کئی ماہ پہلے انہوں نے میرے مطالعے کی غرض سے مجھے واٹس ایپ کی تھی۔ فائل کا نام تھا: ”ایک عورت کا باغ“ ، مگر وہ کسی ایسے فارمیٹ میں تھی کہ سیل فون اسے کھولنے سے انکاری تھا۔ دو تین بار کوشش کی کہ فائل کھل جائے ناکام رہا۔ اس ناکامی پر میں نے اسے یونہی پڑا رہنے دیا اور بھول گیا تھا۔ آج کچھ اور دیکھتے ہوئے کاشف کے واٹس ایپ پر نظر ٹھہر گئی۔

وہاں وہ فائل ویسے ہی بند پڑی دیکھی تو متجسس ہوا کہ نہ جانے اس میں کیا تھا؟ اسے اپنے لیپ ٹاپ پر منتقل کیا تو فائل جھٹ سے ان پیج میں کھل گئی۔ یہ کاشف رضا کی نئی کتاب کا مسودہ تھا جس کا نام شاید ”مطلع لب“ ہو کہ یہی کہیں لکھا دیکھا تھا۔ غزلوں، نظموں، فردیات اور رباعیات کا یہ مجموعہ ایسے تخلیقی باغ کی صورت میرے سامنے تھا جس میں داخل ہونے کو تو میں داخل ہو گیا تھا مگر شاید واپسی کا راستہ بھول بیٹھا تھا۔

کاشف کے پہلے شعری مجموعے میں نظموں کے ساتھ کچھ غزلیں بھی تھیں مگر دوسرا صرف نثموں پر مشتمل تھا لہٰذا گماں ہونے لگا تھا کہ اب نثری شاعری ان کی دلچسپی کا علاقہ رہے گا لیکن اس مسودے میں وہ گمان باطل ہوا اور میں دیکھ رہا تھا کہ غزل اور نظم، دونوں ہی میں وہ اپنی تخلیقی توانائی کو برابر برت رہے تھے۔ اس مسودے کے آغاز میں پہلے کچھ غزلیں تھیں اور پھر کچھ نظمیں ؛ اور ایسے سیکشن بعد میں بھی بنائے گئے تھے آخر میں فردیات اور رباعیات۔ میں جست لگا کر اس نظم پر پہنچا جس پر اس فائل کا نام رکھا گیا تھا؛ ”ایک عورت کا باغ“ اور پھر میں اس باغ کے اندر تھا۔

”میں ایک عورت کی خوشبوؤں سے گھرا ہوا ہوں
میں ایک عورت کے ذائقوں سے بھرا ہوا ہوں
مہک رہا ہوں میں اس کی باتوں سے
اس کی سانسوں سے جی رہا ہوں
بدن کی کوئی کتاب ہے وہ
کتاب میں حیرتوں کے کتنے ہی باب لکھے ہیں
باب در باب جھانکتا ہوں
کسی دریچے میں پھول رکھے ہیں
اور کہیں پر
چراغ الہام جل رہا ہے۔ ”

نظم پڑھ چکا تو غزلیات میں کھو گیا؛ لفظ لفظ عورت کے وجود سے مہکا ہوا تھا اور کہیں کہیں اس کے ناظر کی وہ شدید کسک بھی موجود تھی جو ایک مناسب فاصلہ ہونے کے سبب حسن کو قائم رکھے ہوئے تھی۔ جی، کبھی کبھی یوں ہوتا ہے کہ ایک مناسب فاصلہ ہی حسن کو قائم رکھتا ہے۔ فاصلہ ختم، حسن التباس ہوا۔ :

ہوا مجھی کو ودیعت کچھ اس جمال کا فہم
نہیں مجھی کو میسر وہ خوش جمال مرا

یوں تو عورت کا بدن باغ کئی حوالوں سے کاشف کی غزل میں مضمون ہوا ہے اور شاید یہ ان کا محبوب موضوع بھی ہے ؛ ( ان کا ناول پڑھ کر بھی میں درست نادرست کچھ ایسا ہی تخمینہ لگا آیا تھا) تاہم عورت کا چہرہ وہ پہلا باب ہے جو ان کی غزل پڑھتے ہی، پڑھنے والے پر کھلتا ہے اور اس کی پہلی سطر عورت کے ہونٹ ہیں۔

اس نے دانتوں میں دبایا تھا کچھ اس طرح سے ہونٹ
جیسے اس ہونٹ میں دھڑکی ہو کوئی خواہش سی
شروع عشق سے پہلے وہ لب پسند کیے
اور ایک بوسہ ء وحشی سے مہر بند کیے

محض ہونٹ نہیں ان میں دھڑکتی ہوئی کوئی خواہش اور انہیں مہر بند کرتا ہوا وحشی بوسہ بھی کاشف کے ہاں اسی مزاج کی غزل کے ہاں سے در آیا ہے۔ عورت اور مرد کا باہمی تعلق محض جسم کا تعلق نہیں ہے مگر کاشف کی غزل اس تعلق کو بھی محترم رکھتی ہے اور اسے مردود نہیں ہونے دیتی:

اتر گیا مرے بوسے میں اشتعال مرا
ترے بدن سے زیادہ ہے کچھ سوال مر

بظاہر عورت کی بات کرنا اور عورت سے بات کرنا اور اس سے محبت اور عشق کا تعلق قائم کرنا اردو غزل کے اولیں اور روایتی مضامین رہے ہیں مگر کاشف کے ہاں ان میں عجب نوع کی شدت اور وارفتگی نے انہیں نیا اور تازہ بنا دیا ہے ؛ یوں جیسے عورت کی کوکھ سے پیدا ہونے والا ہر بچہ ایک نئی اور الگ پہچان لے کر آتا ہے تازگی کا مضمون عورت ہی کے وجود کی عطا ہے۔ اس مضمون کو تازہ کرنے کے عقب میں ہمارے شاعر کا تاریخی شعور اور وسیع مطالعہ بھی کام کر رہا ہوتا ہے :

مسند یوسف کنعاں پہ زلیخا لکھی
حسن اور عشق کی تاریخ دوبارہ لکھی
اسپ وحشت سے لکھی مملکت دل تاراج
میں نے جب عشق کی تاریخ فرشتہ لکھی

کاشف کی بدن کہانی کے اندر آپ کو عشق زقندیں بھرتا ایک کردار کی صورت ملے گا۔ کبھی کسی نازک چکنے وجود پر دوڑتی پھسلتی آنکھوں کی پیاس لیے، اور کبھی اک عالم جنوں میں تڑپتے ہوئے۔ اس عشق کی اپنی ہی شرع ہے اور اپنا ہی منہاج ہے :

ہاں شرع بنو عشق کا قائل ہوں میں
ہاں حسن پہ ہر رنگ میں مائل ہوں میں
ہوں اپنا خداوند سر تخت انا
آ جائے در یار تو سائل ہوں میں
یہ شعر پڑھ کر تو مجھے میرا جی یاد آ گئے :
یہ ہاتھ دیکھ مرے، دیکھ میرے شاعر ہاتھ
بدن حرام ہے، ان پر نہ جو مباح ہوا

وہ جو اقبال وجود زن کو تصویر کائنات میں رنگوں کی صورت دیکھ کر اور اسے زند گی کا سوز دروں عطا کرنے والا ساز قرار دے کر ادھر سے بے نیاز ہو گئے تھے ؛ کاشف اسے سمندر جان کر پورے ایمان اور خلوص کے ساتھ اس کے پانیوں میں اتر گئے ہیں کچھ اس ادا سے کہ یہیں سے وجود کسی اور سطح سے بولتا ہے اور اس کی گونج ماورائے وجود بھی سنائی دینے لگتی ہے۔

تیری خاطر ہی تھا میں مسند و منبر کا حریص
تیری خواہش سے فقیر الفقراء میں ہی ہوا
تیرے باعث تھا میں سیار و ثوابت کا حریف
اور ترا اذن ہوا جب، تو فنا میں ہی ہوا

مجھے یقین ہے جب یہ غزلیں، نظمیں۔ رباعیات اور فرد فرد اشعار سب کو پڑھنے کو دستیاب ہوں گے تو کاشف کا یہ روپ بھی آپ سب کو بھلا لگے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ انہیں پڑھتے ہوئے میں نے ان لطیف کیفیات کو بہت گہرائی میں اور وجود کی مختلف سطحوں پر محسوس کیا ہے اور غلاف جیسے لمس مخملیں کا لطف بھی اٹھایا ہے جسے انہوں نے اپنے اشعار میں یوں برتا ہے کہ وہ لہر لہر جسم و جاں پر اوڑھے ہوئے لگتا ہے :

میں لہر لہر اسے جسم و جاں پہ اوڑھتا ہوں
غلاف ایسا ترا لمس مخملیں ہے بہت

اوپر میں نے کاشف کی نظم ”ایک عورت کا باغ“ کا ابتدائی نصف حصہ مقتبس کیا تھا؛ جی وہاں تک جہاں کسی دریچے میں پھول رکھے ہیں اور کہیں پر چراغ الہام جل رہا ہوتا ہے، تو یوں ہے کہ آخر میں وہیں سے باقی کی نظم بھی دیکھ لیجیے :

یہ سب دریچے
یہ باب سارے
مری نگاہوں کے اک اشارے کے منتظر ہیں
میں ان دریچوں سے
ان میں رکھے ہوئے ہوئے چراغوں سے
ان چراغوں کی روشنی سے سجا ہوا ہوں

Facebook Comments HS