قصوں کے میلے سے کچھ سوغاتیں

ایک محتاط اندازے کے مطابق مختلف معیاری، جامع اور ہمہ رنگ اصناف کے باوجود، نثری ادب میں ”آپ بیتی اور سوانح“ کو سب سے زیادہ پڑھی جانے والی صنف کی حیثیت سے نمایاں مقام حاصل ہے۔ دیگر شعبۂ ہائے زندگی کے نمائندہ افراد کی تحریر کردہ آپ بیتیوں کے مقابل، اردو شعر و ادب سے وابستہ صاحبان قلم کی آپ بیتیاں اپنی ادبی چاشنی، مرصع اسلوب، دل آویز انداز بیاں، دل چسپ مشاہدات و واقعات کی بنا پر صاحبان ذوق میں زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ سبب یہ ہے کہ ”خود نوشتی ادب“ کا معتدبہ حصہ اہالیان شعر و ادب کے قلم کا مرہون منت ہے۔
زیرنظر مضمون، انہی حاملان شعر و نثر کی معروف و غیرمعروف آپ بیتیوں اور سوانح سے منتخب چند ایسے منفرد، قابل ذکر، پرکشش اور حاصل مطالعہ واقعات پر مشتمل ہے، جس میں شعراء و ادباء کی ادب پروری، تخلیق و تحقیق، تحسین و تنقید، معاصرانہ چشمک، سخن وری و خوش کلامی، حیاتیاتی نشیب و فراز اور ذہنی و قلبی تاثرات سے مزین رنگا رنگ قصے بیان کیے گئے ہیں۔ وقت طلب، محنت پسند اور طویل مطالعاتی ریاضت کا یہ ماحصل، میر تقی میر کے الفاظ میں اس امید کے ساتھ پیش خدمت ہے کہ:
باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں نہ ایسی سنیے گا
پڑھتے کسو کو سنیے گا تو دیر تلک سر دھنیے گا
ادبی رسالہ ”سب رس“ کے زور ؔنمبر میں ڈاکٹر سیدہ جعفر محی الدین قادری زور ؔپر تحریر اپنے مضمون میں لکھتی ہیں کہ ایک روز ڈاکٹر زور ؔکہنے لگے کہ ”بڑی تلاش اور تحقیق بسیار کے بعد لال دروازے کے اس گورستان کا پتا چلایا جہاں اوائل دور کے قدیم استاد شاعر میر شمس الدین فیض ؔکا مدفن تھا۔ یہاں ہر طرف ایک ہو کا عالم تھا۔ قبروں کی حالت انتہائی شکستہ تھی۔ ہر طرف مٹی کے ڈھیر اور کوڑا کرکٹ کے انبار لگے ہوئے تھے۔
مقامی لوگوں کی نشان دہی پر جب میں فیضؔ صاحب کی قبر پر پہنچا تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ان کی قبر دوسروں کے مقابلے میں صاف اور گردوغبار سے پاک تھی۔ میں اپنی جگہ حیران تھا کہ اس ویرانے میں فیضؔ صاحب کے مزار کی دیکھ بھال کون کرتا ہے؟ غرض میں فاتحہ خوانی کے بعد گھر واپس آ گیا، لیکن یہ سوال میرے ذہن میں ہنوز موجود تھا۔ میں نے فیض ؔکا دیوان اٹھایا، اور اس سوال کا اعادہ کرتے ہوئے دیوان کھولا اور دائیں ہاتھ کے پہلے صفحے پر دیکھا تو سب سے اوپر یہ شعر لکھا پایا:
موجۂ باد بہار چمنستان بہشت
مشہد فیضؔ پہ جاروب کشی کرتا ہے ”

اخلاق احمد دہلوی اپنی کتاب ”اور پھر بیاں اپنا“ میں لکھتے ہیں کہ پنجاب یونیورسٹی کے اوریئنٹل کالج میں ایک بار فراقؔ صاحب شاعر کے بے عمل ہونے کے موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے کہنے لگے، ”پہلی شاعری دنیا میں بے عملی سے ہی شروع ہوئی، کیوں کہ جب انسان نے درختوں سے اتر کر غاروں میں رہنا شروع کیا تو کچھ بے عمل لوگ ایسے بھی تھے غذائی ضروریات کے عمل کی تکمیل کے لیے شکار پر جانے والے اپنے ساتھیوں کا ساتھ دینے کے بجائے اپنے باعمل ساتھیوں کی عدم موجودگی میں غار کو صاف ستھرا رکھتے اور غاروں کو پھولوں سے آراستہ کرتے، میرے نزدیک یہ دنیا کی پہلی شاعری تھی۔
چناں چہ غاروں کی تزئین و آرائش سے لے کر آج تک شاعر کا کام یہی رہا ہے کہ وہ کیسے اس دنیا کو مزید پر آسائش اور خوب صورت بنا سکتا ہے۔ ہر چند کہ یہ کام اب آرکیٹیکٹ، انجنیئر اور سائنس داں کرتے ہیں مگر ان کو یہ خواب بظاہر بے عمل شاعر ہی دکھاتا ہے، کیوں کہ عمل ایک غیر شاعرانہ فعل ہے، جیسے کھانا جب دسترخوان پر سجا ہو تو بہت مرغوب لگتا ہے، لیکن کھانا پکانا، دسترخوان چننا اور کھانا کھانا، یہ سب غیر شاعرانہ افعال ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال جیسا داعی عمل خود ساری زندگی اسی بات کا شکوہ کرتا رہا کہ:
اقبالؔ بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا ”
ڈاکٹر محمد حسن اپنے ایک مضمون بیاد جوش ؔمیں لکھتے ہیں کہ جوش ؔصاحب نے ایک محفل میں اپنی ایک نظم پڑھی جس کا ٹیپ کا مصرعہ کچھ یوں تھا:
رواں دواں بڑھے چلو، رواں دواں بڑھے چلو
محفل کے اختتام پر مسعود حسین ادیب ؔنے بڑی شائستگی سے جوش صاحب سے کہا، ”جوش صاحب! آپ جب یہ نظم شائع کریں تو ساتھ یہ نوٹ ضرور دیں کہ ’رواں دواں‘ کا لفظ لغوی مفہوم میں استعمال ہوا ہے، محاورے کے اعتبار سے نہیں۔“ جوش ؔصاحب نے چوکنا ہو کر پوچھا کہ محاورے کے اعتبار سے کیا معنی ہیں؟ مسعود صاحب نے بتایا کہ محاورے کے اعتبار سے وہ مفہوم ہے جو صفی ؔلکھنوی نے یتیموں کے بارے اپنی ایک نظم میں ادا کیا ہے :
رواں دواں ہیں، غریب الدیار ہیں ہم لوگ
رواں دواں یعنی ”مارے مارے پھرنے والے بے سہارا لوگ۔“ اب محاورے کے حساب سے آپ کی نظم کے ٹیپ کے مصرعہ کا مطلب یہ ہوا کہ ”مارے مارے پھرنے والے بے سہارا لوگوں کی طرح بس چلتے رہو۔“

تابشؔ دہلوی اپنی خودنوشت ”دید بازدید“ میں بیان کرتے ہیں کہ ایک روز میں نے فانیؔ بدایونی سے کہا کہ مجھے اپنی شاگردی میں لے لیں تو فانیؔ بولے، اگرچہ سوال بے جا نہیں اور اس کا چلن بھی عام ہے لیکن شاعری میں استاد شاگرد والے فلسفے کے بارے میں میری رائے تھوڑی مختلف ہے۔ پھر فرمانے لگے دیکھو! اگر تم کو خیاطی سیکھنی ہے تو اور بات ہے، کیوں کہ کپڑے کی کتربیونت کے بارے میں تو بتایا جاسکتا ہے، لیکن شعر کہنے کے لیے مبادیات شعر سے واقفیت نہایت ضروری ہے، جو مطالعے سے آ سکتی ہے مگر حسن کلام کی نعمت مطالعے کی دین نہیں، وہ ودیعت ہوتی ہے، اس طرح فطری شاعر کو شاعری سیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لہٰذا اگر تم اپنی شاعری کو استادی کا محتاج سمجھتے ہو تو ایسی شاعری فوراً چھوڑ دو۔ فانیؔ مرحوم کے اسی فلسفہ شاعری کو محبوب خزاں ؔنے اس رنگ میں بیان کیا ہے :
بات یہ ہے کہ آدمی شاعر
یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا
ہندوستانی ادیب اور شاعر عابد سہیل اپنی آپ بیتی ”جو یاد رہا“ میں لکھتے ہیں کہ اورئی میں قیام کے دوران ایک محفل میں ہمارے دوست ابرار صاحب نے غالبؔ سے منسوب شعر سنایا:
چند تصویر بتاں، چند حسینوں کے خطوط
بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا
میں نے کہا، یہ شعر غالبؔ کا نہیں ہو سکتا، سب حیران ہوئے، میری دلیل یہ تھی کہ ”تصویر بتاں“ کی ترکیب غلط ہے، یہاں ’تصاویر بتاں‘ ہونا چاہیے، اور غالبؔ ایسے قادر الکلام شاعر کے لیے یہ عیب دور کرنا مشکل نہ تھا۔ علاوہ ازیں 1922 میں نظامی پریس سے شائع ہونے والے غالبؔ کے دیوان کے علاوہ بعد میں شائع ہونے والے کسی بھی دیوان غالب میں یہ شعر شامل نہیں۔ حقیقتاً یہ شعر ایک غیرمعروف شاعر بزمؔ اکبر آبادی کا ہے جس کی اصلی شکل کچھ یوں ہے :
ایک تصویر کسی شوخ کی اور نامے چند
گھر سے عاشق کے پس مرگ یہ ساماں نکلا
ایک روز صادقین لاہور آرٹس کونسل کی عمارت میں اپنے مداحوں کے جھرمٹ میں سورہ الرحمٰن کی آیات کی خطاطی کے نمونے دکھا رہے تھے کہ کالج کی کئی طالبات نے انہیں گھیر لیا۔ اپنی فطری حسن پرستی کے سبب انہیں دیکھ کر صادقین نے یہ آیت پڑھی:
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
مجمع میں موجود ایک زاہد خشک، دراز ریش نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا، صادقین صاحب! آپ بھی کمال کرتے ہیں قرآن کی آیات کا بے جا استعمال کرتے ہیں، اور لاحول پڑھا۔ صادقین نے مسکرا کر جواب دیا، ”حضرت! اپنی اپنی فکر کی بات ہے، آپ کو اس موقع پر شیطان الرجیم یاد آیا اور مجھے رب العالمین۔“ اور پھر میر انیس ؔکا یہ شعر پڑھا:
پڑھیں درود نہ کیوں دیکھ کر حسینوں کو
خیال صنعت صانع ہے پاک بینوں سے
غیرمعروف مگر باکمال شعراء کے تذکرے پر مبنی کتاب ”وہ جنہیں کوئی نہیں جانتا“ کے مصنف انور صابری لکھتے ہیں کہ جالندھر سے تعلق رکھنے والے سر تیج بہادر سپرو کے داماد، پنڈت شیو نرائن شمیم کے پوتے منشی چاندؔ نرائن رینہ شاعر مشرق علامہ اقبال کے واحد شاگرد تھے جن کے کلام پر علامہ نے باقاعدہ اصلاح دی تھی۔ علامہ سے ان کی عقیدت اور محبت کا اندازہ اس شعر سے لگایا جا سکتا ہے جو انہوں نے علامہ کی وفات سے ڈیڑھ ماہ پیشتر ان کے روبرو پڑھا تھا:
ساغر دل میرا جذبوں سے ترے لبریز ہے
جس میں مے تیری چھلکتی ہے میں وہ پیمانہ ہوں
ان کا شعری مجموعہ ”کاروان سخن“ کے نام سے موجود ہے۔ ان کے کلام پر علامہ کی چھاپ واضح دیکھی جا سکتی ہے :
خرد جنوں کی لطافت کا راز پا نہ سکی
وہ ایک گوشۂ وحشت میں بھی سما نہ سکی
وہ عقل، عقل نہیں جو خجستہ گام نہ ہو
وہ عشق، عشق ہے جو عقل کا غلام نہیں
تمثیل احمد اپنی کتاب ”مرزا یاس یگانہ چنگیزی، حیات اور شاعری“ میں لکھتے ہیں کہ لکھنؤ میں منعقدہ ایک مشاعرے میں محشر ؔلکھنوی نے اپنی غزل سنائی اور مطلع پڑھا:
ارے محشرؔ ہی کبھی کہہ کے پکارا ہوتا
مارنا تھا تو اسی تیر سے مارا ہوتا
تو مشاعرہ اڑ گیا کہ ”پکارا“ کا قافیہ اس سے بہتر باندھنا نا ممکن ہے، مگر جب یگانہ ؔنے اپنی باری پر غزل کا مقطع پڑھا تو مشاعرے پہ سناٹا چھا گیا کہ اس پہلو سے پکارا قافیہ کے بارے سوچا ہی نہیں گیا:
دیکھتے رہ گئے یاسؔ آپ نے اچھا نہ کیا
ڈوبتے وقت کسی کو تو پکارا ہوتا
نظیرؔ صدیقی اپنے خاکوں کی کتاب ”جان پہچان“ میں عندلیب شادانی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کراچی کے ایک مقامی انگریزی رسالے کے ایڈیٹر نے مجھ سے فرمائش کی کہ شادانی صاحب سے اردو کی چند نمائندہ نظموں کے انگریزی تراجم کرواؤں۔ منتخب نظموں میں ساحرؔ لدھیانوی کی نظم ”تاج محل“ بھی شامل تھی۔ شادانی صاحب نے اس کا ترجمہ کرنے کی بجائے اس پر ایسی تنقید کی کہ وہ نظم میری نظر سے گر گئی، بلکہ میں خود اپنی نظر سے بھی گر گیا۔ مثلاً پہلے تو انہوں نے کہا کہ اس نظم کی ہیئت میں باقاعدہ کوئی ترتیب نہیں، قافیوں کے استعمال میں خوش آہنگی کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ نظم کا ایک شعر ہے :
کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے
کیوں کہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے
”اپنی ہی طرح“ پہ اعتراض کرتے ہوئے کہنے لگے، ”ساحرؔ چوں کہ پنجابی تھے لہٰذا یہاں بھی پنجابی طرز بیان کو کو اردو قالب میں ڈھال دیا یعنی ’ساڈے ورگے‘ کا اردو ترجمہ ’اپنی ہی طرح‘ کر دیا، جب کہ یہاں“ ہماری ہی طرح ”ہونا چاہیے تھے :
کیوں کہ وہ لوگ ”ہماری ہی طرح“ مفلس تھے
پھر اس نظم کا مصرع ہے :
میرے محبوب! پس پردہ تشہیر وفا
اس مصرعہ میں تشہیر کے لفظ کا استعمال بے محل ہے، جب کہ ”ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود“ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا غریبوں کے مقابر کہاں سے آئے؟ غریبوں کی تو قبریں ہوا کرتی ہیں۔
مجاز ؔصاحب کے زمانے میں ایک معروف سید صاحب سے کسی خوبرو محترمہ کے دوستانہ تعلقات پر معتبر حلقوں میں طرح طرح چہ می گوئیاں ہو رہی تھیں۔ اسی دوران ایک صاحب جو غالباً خود کبھی مذکورہ خاتون کے پرستاروں میں شامل تھے، مجاز کے پاس ایک تصویر لے کر آئے جس میں موصوف سید اور وہ خاتون اکٹھے دکھائی دے رہے تھے، اور مجاز ؔ سے کہنے لگے، ”بھئی اس تصویر کو فریم کر کے اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں، تم اس پر کوئی چبھتا ہوا شعر لکھ دو۔“ مجاز نے ایک نظر تصویر کو دیکھا اور اس کے نیچے لکھا:
ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید ”کام“ کرتا ہے
نہ بھولو فرق ہے جو کہنے والے، کرنے والے میں
آل احمد سرور ؔ اپنی آپ بیتی ”خواب باقی ہیں“ میں لکھتے ہیں کہ ایک محفل میں جہاں نواب جعفر علی خان اثرؔ بھی موجود تھے، شعراء کی مشکل پسندی اور آسان گوئی پر بحث چل نکلی تو جعفر خان اثر ؔبولے کہ میر ؔ کی آسان پسندی اور سادہ طرز ادائی سے لوگ دھوکا کھا جاتے ہیں جب کہ ان کے اکثر اشعار انتہائی غوروخوض کے متقاضی ہیں۔ بطور نمونہ انہوں نے میرؔ صاحب کا درج ذیل شعر سنایا اور مطلب پوچھا ”:
اگتے تھے دست بلبل و دامان گل بہم
صحن چمن نمونۂ یوم الحساب تھا

حاضرین محفل کی جانب سے شعر مذکورہ کی نوع بنوع تشریحات کے بعد وہ بولے۔ یہاں ’دست بلبل‘ سے مراد وہ پتیاں ہیں جو پھول کے نچلے حصے پر ہوتی ہیں اور چوں کہ پانچ ہوتی ہیں، اس لیے پنجے سے مشابہ ہیں۔ ”دامان گل“ سے مراد پھول کی سرخ یا گلابی پنکھڑیاں ہیں۔ اب شعر کا مطلب یہ ہوا کہ بلبل اپنے پنجے میں گل کا دامن تھامے گل کی بے اعتنائی پر فریاد و فغاں کر رہی ہے۔ لہٰذا جس طرح حشر میں مظلوم ظالم کا دامن پکڑ کر فریاد کرے گا اسی طرح صحن چمن میں بھی بلبل کی فریاد سے روز حشر کا منظر سامنے آتا ہے۔
خاکوں پر مبنی کتاب ”گم شدہ لوگ“ میں آغا ناصر لکھتے ہیں کہ پطرس بخاری کے چھوٹے بھائی ذوالفقار بخاری جن لوگوں کو عزیز رکھتے تھے ان میں سے اگر کسی کے ساتھ ناراض ہوتے تو اپنی خفگی کے اظہار کے لیے ان سے بول چال بند کر دیتے۔ اسی تناظر میں، جب بزرگ شاعر ارمؔ لکھنوی اور بخاری صاحب میں بول چال بند تھی، تو کراچی کے ایک مشاعرے میں جس کی صدارت بخاری صاحب کر رہے تھے، ارمؔ لکھنوی بھی بطور شاعر مدعو تھے۔ اپنی باری آنے پر جب انہوں نے غزل سنائی تو ساری محفل داد و تحسین کے شور سے گونج اٹھی، مگر بخاری صاحب ٹس سے مس نہ ہوئے، خشمگیں نگاہوں اور تنی ہوئی بھنوؤں کے ساتھ ساری غزل سماعت کی۔ غزل کے اختتام پر ارم ؔصاحب نے بخاری صاحب کو مخاطب کرتے کہا، حضور! ایک شعر صرف آپ کی خدمت میں عرض ہے، اور پھر بڑی رقت کے ساتھ درج ذیل شعر پڑھا:
یوں وہ گزرے نظر چرائے ہوئے
ہم لیے رہ گئے سلام اپنا
بخاری صاحب شعر سن کے پھڑک اٹھے اور جذباتی انداز میں اپنی نشست سے اٹھ کر ارمؔ لکھنوی کو گلے لگا لیا۔
’’ایک اور طرح کی کتاب‘‘ کے مصنف قیصر زیدی اپنی مذکورہ کتاب میں لکھتے ہیں کہ’’ملک الشعراء ابو نواس عربی زبان کا مشہور شاعر تھا۔ اس کا کلام طلباء کے نصاب میں شامل تھا۔ ایک دن وہ اپنے کسی دوست سے ملنے اس کے گھر گیا۔ ایک گلی سے گزرتے ہوئے راستے میں ایک مدرسہ پڑتا تھا جہاں کوئی استاد طلباء کو شاعری پڑھا رہا تھا۔اتفاق سے اس وقت ابو نواس ہی کی ایک غزل زیرِ مطالعہ تھی۔ ابو نواس قصداً دروازے کی آڑ میں رک گیا کہ دیکھوں استاد صاحب میرے شعروں کا کیا مطلب بتاتے ہیں۔ اس وقت ابو نواس کا ایک شعر زیرِبحث تھا جس میں شاعر ساقی سے کہہ رہا ہے کہ مجھے شراب دے اور یہ کہہ کے دے کہ ’’لے شراب لے۔‘‘ ظاہراً اس شعر کا مفہوم تو سادہ، اور واضح ہے مگر استاد نے طلباء سے اس کی تشریح یوں کی کہ’’شاعر جب جامِ شراب دیکھے گا تو قوت ِباصرہ کو لطف آئے گا۔
جب وہ جام ہاتھ میں لے گا تو قوتِ لامسہ کو لطف آئے گا۔ جب جام ناک کے قریب لائے گا تو قوتِ شامہ کو لطف ملے گا اور جب شراب پیئے گا تو قوتِ ذائقہ کو لطف ملے گا۔ لیکن قوتِ سامعہ کے لطف کی کوئی صورت نہیں پیدا ہو رہی ہے۔ اس لیے شاعر ساقی سے کہتا ہے کہ تو اپنی زبان سے کہہ کہ ’’لے شراب لے‘‘ تاکہ کانوں کو بھی لطف آئے۔ یہ تشریح سنتے ہی ابو نواس بے اختیار مدرسے میں گھس کر استاد سے لپٹ گیا اور بولا: ’’خدا کی قسم یہ پہلو تو خود میں نے بھی نہیں سوچا تھا۔‘‘
ادبی رسالے’’اردوئے معلی‘‘ میں شوکت بلگرامی مرزا غالب پر تحریر کردہ اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ میرے ایک بزرگ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ ہم مع چند احباب دہلی میں مرزا غالب ؔکے حضور بہر زیارت پیش ہوئے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ مرزا قوت سماعت سے بے بہرہ ہوچکے تھے، جو حضرات آتے وہ پاس پڑے کاغذ قلم کے ذریعے اپنا مدعا لکھ کر پیش کرتے تھے۔ ہم نے بھی لکھ کر مدعا پیش کیا آپ کا کلام بلاغت نظام آپ کی زبان فیض ترجمان سے سننا چاہتے ہیں۔ پڑھ کر فرمایا،’’بہت اچھا ‘‘اور اس کے بعد سمجھائیں کیا، دکھلائیں کیا والی غزل سنائی،جب مقطع پر پہنچے:
پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟
تو فرمایا، کہو!! کچھ سمجھے بھی؟ ہم نے تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے عرض کیا،’’ہرگز نہیں‘‘، اس پر مسکرا کے فرمایا،’’سمجھو گے بھی نہیں‘‘، سنو! ’’ایک زمانہ ہوا جب ہم اپنی معشوق کے پاس گئے، جب ہم جیتے تھے، یعنی جوان تھے، تنا ہوا سینہ، بھرے بھرے بازو، چمپئی رنگ، نگاہ اٹھا کے دیکھتے تھے تو آنکھوں سے شعلے نکلتے تھے، چلتے تھے تو درودیوار دہلتے تھے، مگر اب جب گئے، تو نہ آنکھوں میں نور، نہ دل میں سرور، نہ جسم میں دم، کمر خم، سماعت ختم۔ ۔ اب ہماری ہیئت کذائی دیکھ کر:
پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟
رفعت سروش اپنی کتاب ’’یادوں کا دریچہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ساحرؔ لدھیانوی کے والد چوہدری فضل الٰہی ان پڑھ، عیاش طبع اور سخت گیر زمیندار تھے۔ انہوں نے اپنی بیوی اور ساحرؔ کی والدہ کو ناجائز طلاق دی، مگر بیٹے کو اپنی تحویل میں لینے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کر دی، مگر عدالت نے درخواست منظور نہ کی، جس کی وجہ ساحر ؔکے والد کی جانب سے دیا جانے والا ایک عدالتی سوال کا جواب تھا۔
عدالت کے جج نے دورانِ سماعت ساحر کے والد سے پوچھا کہ آپ ساحرؔ کی تعلیم کا کیا انتظام کریں گے؟ ساحر ؔکے والد نے جواب دیتے ہوئے کہا، پڑھائے اولاد کو وہ جس کو نوکری کروانا ہو، اللہ کا دیا بہت کچھ ہے، بیٹھ کر کھائے گا۔ معزز جج نے فیصلہ دیا کہ بچے کو ماں کے ساتھ ہی رکھا جائے،کیوںکہ وی تعلیم دلوا رہی ہیں، اگر اسے والد کے ساتھ رکھا گیا تو وہ اَن پڑھ رہ جائے گا۔
ادبی ماہ نامے نقوش کے شخصیات نمبر کی جلد دوم میں اکبرؔ الہ آبادی کی شخصیت پر مضمون تحریر کرتے ہوئے عبد الماجد دریا آبادی لکھتے ہیں کہ اکبرؔ الہ آبادی کی مذہبی شدت پسندی کا یہ عالم تھا کہ ایک بار جب وہ دہلی میں خواجہ حسن نظامی کے مہمان ہوئے، تو درگاہ کے دروازے کے قریب ہی غالبؔ کا مزار بھی تھا۔ خواجہ صاحب نے بتایا تو ان کے ساتھ فاتحہ پڑھنے چل پڑے، مگر کچھ ہی دور چل کر رک گئے اور بولے، میں نہیں جاؤں گا، یہ تو وہی ہے نا جس نے جنت کے لیے کہا تھا:
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن!!
دل کے بہلانے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
میں ایسے شخص کی قبر پر فاتحہ نہیں پڑھوں گا۔ اللہ میاں اس کے ساتھ جو چاہے معاملہ کریں۔
ادبی یادداشتوں پر مبنی اپنی کتاب ’’چند یادیں‘‘ میں خواجہ جمیل احمد، جگرؔ مراد آبادی کی صاف گوئی سے متعلق لکھتے ہیں کہ ایک بار جگر ؔصاحب کی محفل میں ایک بڑے عالی مقام حاکم بھی پہنچ گئے جو شعر و سخن کے معاملے میں انتہائی پھوہڑ تھے۔ ان کی ایک خاصیت یہ بھی تھی کہ ہلکا شعر سن کر کھلکھلاتے اور بے تحاشا داد دیتے، جب کہ اچھے سے اچھے شعر پر خاموش ہو جاتے۔ دورانِ محفل جگر ؔصاحب کے ایک شعر پر انہوں نے بے ساختہ داد دی اور کہنے لگے ،’’پھر پڑھیے!‘‘ اس پر جگرؔ صاحب نے ان کی جیب میں لگے ہوئے قلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،’’ذرا قلم عنایت کیجیے، میں اس شعر کو حذف کردوں، اس میں ضرور کوئی خرابی ہے کہ یہ آپ کو پسند آیا۔‘‘ حاکم اعلٰی دانت نکال کر رہ گئے جب کہ حاضرین اس توہین عدالت پر انگشت بدنداں رہ گئے۔
ڈاکٹر ایس ایم شکیل اپنے مضامین کے مجموعے ’’مضامیں سر بستہ ‘‘میں لکھتے ہیں کہ’’ عرب میں انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کا بھی کنیت کا نام رکھا جاتا تھا۔ شیر کی کنیت ابوالحارث،گھوڑے کی کنیت ابو الصبا۔ ۔ مگر کوے کی کوئی کنیت نہ تھی۔جس کی کمی فارسی کے ایک شاعر نے پوری کر دی جس کا ذکر عرفی کے تذکرے ’’لباب الالباب ‘‘کی جلد دوم میں کیا گیا ہے۔اس شعر میں کوے کی کنیت’’ ابوالکلام‘‘ آئی ہے:۔
اے فاختہ ببین و بخود اعتبار گیر
در شست خون ِ لالہ سرِ زاغ ابوالکلام
ابوالکلام آزادؔ، گرچہ فارسی کے بہت بڑے عالم تھے مگر جانے کیوں یہ تذکرہ ان کی نظروں سے نہ گزرا، ورنہ وہ اپنی اس کنیت پہ ضرور نظر ثانی کرتے۔ ۔جبکہ محمد علی جوہر کہا کرتے تھے کہ ’’یوں تو بڑے’’ ابوالکلام‘‘ ہیں ،مگر جب مسلمانوں کے حقوق کی بات آ جائے تو’’ ابوالسکوت‘‘ بن جاتے ہیں‘‘۔
اخلاق احمد دہلوی اپنی کتاب ’’یادوں کا سفر ‘‘میں بیان کرتے ہیں کہ’’ حال و قال کی ایک محفل میں ایک صوفی منش بزرگ اس شعر پر رقتِ قلب میں مبتلا ہو گئے۔
یونہی گر، یہ توڑا مروڑی رہے گی
تو کاہے کو انگیا نگوڑی رہے گی
ایک صاحب نے ان سے پوچھا کہ حضرت ! ’’اس میں معرفت کا کون سا پہلو آشکار ہوا ہے؟؟‘‘۔ تو بزرگ بولے، ’’انگیا جسم ہے اور جو کچھ انگیا میں ملفوف ہے اسے روح سے تعبیر سمجھو۔یعنی جسم اور روح میں اگر ریاضتِ الہی کے باعث یونہی کشمکش چلتی رہی تو جان یعنی جسم کا زیاں یقینی ہے اور جسم کو کمزور کیے بغیر نروان حاصل نہیں ہوتا‘‘۔
معروف ناول نگار ،ادیب اور صحافی قاضی عبدالغفار جب حیدر آباد کی سکونت ترک کر کے دلی چلے گئے،تو اپنا اخبار روز نامہ پیام، حسرت موہانی کے بھائی اکبر حسن کے صاحبزادے اختر حسن کے حوالے کر گئے جو حیدر آباد کی عثمانیہ یونیورسٹی میں بطور لیکچرار مقرر تھے۔ قاضی صاحب کے زمانے میں اخبار کے سرورق پہ اخبار کے نام پیام کی رعایت سے درج ذیل شعر لکھا جاتا:۔
بہ آںگروہ کہ از ساغر وفا مَستند
زما پیام رسانید ہر کجا ہستند
جب اختر حسن صاحب نے اخبار کی ادارت سنبھالی تو اخبار کی پیشانی پہ درج شعر کو بدل کر یہ شعر لکھوا دیا:۔
عقل کے دردمند کا طرزِ کلام اور ہے
ان کا پیام اور تھا میرا پیام اور ہے
ہندوستان میں ایک جگہ مشاعرہ تھا ۔ردیف دیا گیا ’’دل بنا دیا‘‘۔ سب سے پہلے حیدر ؔدہلوی نے اس ردیف کو یوں استعمال کیا:
اک دل پہ ختم قدرت ِ تخلیق ہو گئی
سب کچھ بنا دیا جو میرا دل بنا دیا
اس شعر پہ ایسا شور مچا کہ بس ہو گئی۔ لوگوں نے سوچا کہ اس سے بہتر کون گرہ لگا سکتا ہے؟ ایسے میں جگرؔ مراد آبادی آئے اور کہا:
بے تابیاں سمیٹ کے سارے جہان کی
جب کچھ نہ بن سکا تو میرا دل بنا دیا
حیدر دہلوی جو کہ اپنے وقت کے استاد تھے اور خیام الہند کہلاتے تھے، جگر کا کلام سنتے ہی سکتے میں آ گئے۔جگر کو گلے سے لگایا، ان کے ہاتھ چومے اور وہ صفحات جن پر ان کی شاعری درج تھی جگر کے پاؤں میں ڈال دیے۔
مناظر عاشق ہرگانوی اپنی کتاب ’’ یادیں باتیں‘‘ میں لکھتے ہیں کہ’’ پٹنہ کی ایک ادبی نشست میں دیگر شعراء ادباء کی موجودگی میں ،میں نے فراق ؔصاحب سے پوچھا،ادب کی افادیت کیا ہے؟ فراق ؔصاحب نے جواب دیا،’’ایک بچہ گولی کھیل رہا تھا،اس کے باپ نے اسے سمجھایا کہ گولی کھیلنا مناسب نہیں ہے،اس کا کوئی فائدہ نہیں ،اس لیے مت کھیلو۔بچہ گولی کھیلنے کی بجائے لٹو گھمانے لگا،باپ نے اس کھیل سے بھی منع کیا کہ لٹو نچانے سے کوئی فائدہ نہیں۔تب وہ بٹیر لڑانے لگا،لیکن باپ نے اس حرکت سے بھی منع کیا کہ اس سے بھی کوئی فائدہ نہیں،بچے نے جھنجھلا کر باپ سے پوچھا ،آپ یہ تو بتائیں کہ آخر اس فائدے کا فائدہ کیا ہے؟۔ یہی حال ادب کی افادیت کا ہے‘‘۔
سید مقصود زاہدی اپنی کتاب’’ یادوں کے سائے میں‘‘ لکھتے ہیں کہ ’’لکھنو میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسے کے بعد ایک نجی نشست میں، میں نے اپنی آٹو گراف بک حسرتؔ موہانی کی طرف بڑھائی تو انہوں درج ذیل شعر تحریر فرمایا:۔
واں تک پہنچ پہنچ کے پھر آیا میں نا مراد
ایسا تو اس گلی میں کئی بار ہو چکا
میں شعر کو بغور پڑھ ہی رہا تھا کہ حسرتؔ میرے چہرے کی طرف دیکھ کر کہنے لگے،’’بھئی !!یہ کُوئے دلدار کا ذکر نہیں، اس شعر کے پس منظر کا تعلق دراصل ہندوستان میں مسلمانوں کی سماجی اور سیاسی زندگی کی روداد سے ہے۔مسلمانوں نے بارہا اس ملک میں ہندو اکثریت کے ساتھ مل کر باعزت زندگی گزارنے کی کوشش کی،لیکن ہر کوشش کا انجام نامرادی کی شکل میں نکلا ہے۔ اسی کرب کو محسوس کرتے ہوئے میں نے درج ذیل شعر لکھا ہے۔
خداداد خان مونسؔ اپنی ادبی یادوں پہ مبنی کتاب’’ بکھرے ہوئے اوراق‘‘ میں تہذیب مشاعرہ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ ’’دہلی میں بہادر شاہ ظفرؔ کے دور تک طرحی مشاعروں کی مضبوط روایت تھی ۔ایک بار بادشاہ وقت مصاحبین کے ساتھ مشورہ فرما رہے تھے کہ آئندہ ہونے والے مشاعرے کے لیے کیا طرح دی جائے۔یکایک زنان خانے سے ملکہ کی آواز کانوں سے ٹکرائی،’’ یا اللہ!!آیا نے بچے کو کیا بے طرح لٹایا ہے‘‘۔ظلِ سبحانی نے بات سے بات پیدا کر لی اور فرمایا ،لیجیے!! مسئلہ حل ہو گیا،اب مشاعرہ بے طرح ہو گا۔ ۔اور پھر اس طرح قلعہ معلی سے شروع ہونے والی بے طرح مشاعروں کی یہ رسم آہستہ آہستہ پوری دہلی میں پھیل گئی۔
’’بکھرتی یادیں ‘‘نامی کتاب میں ڈاکٹر افضال احمد لکھتے ہیں کہ’’ آرزو لکھنوی اپنے عہد کے اساتذہ فن مین شمار کیے جاتے تھے۔انہیں عروض میں مہارت اور اصلاح سخن میں خاص ملکہ حاصل تھا ۔کیونکہ ان کا نظریہ تھا کہ’’ بہتر سے بہترین کی گنجائش ہمہ وقت موجود رہتی ہے‘‘۔شعر و سخن کی ایک محفل میں ،جہاں آرزو ؔلکھنوی بھی موجود تھے، بیخود موہانی نے اپنی مشاعرہ لوٹ شاہکار شعر سنایا:۔
نشیمن پھونکنے والے ہماری زندگی یہ ہے
کبھی روئے کبھی سجدے کیے خاک نشیمن پر
محفل میں بڑی واہ واہ ہوئی۔ بیخودؔ موہانی نے آرزو کو مخاطب کرتے ہوئے فخریہ پوچھا،’’حضرت!!کیا اس میں بھی اصلاح کی گنجائش موجود ہے؟؟۔‘‘آرزو ؔچند ثانیے کے توقف کے بعد بولے،’’کیوں نہیں؟‘‘۔ بیخود نے استعجابیہ لہجے میں کہا ’ارشاد‘ اس پہ آرزو ؔکہنے لگے ’’بات چونکہ نشیمن کی ہو رہی ہے تو اس کی نسبت سے عرض ہے کہ پرندوں میں سجدے کا شعور نہیں ہوتا،یہ بشریت کا خاصا ہے۔ لہذا اگر مصرعہ ثانی کو یوں کر دیا جائے تو شعر کی معنویت دو بالا ہو جائے گی‘‘:۔
نشیمن پھونکنے والے ہماری زندگی یہ ہے
کبھی روئے کبھی ’’سر رکھ دیا‘‘ خاک نشیمن پر

رفعت سروش کی کتاب’’ یادوں کا دریچہ ‘‘میں تحریر ہے کہ’’ ایک زمانے میں کیفیؔ اعظمی اور ساحرؔ لدھیانوی میں رقابت ہو گئی۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ علی سردار ؔجعفری کی صدارت میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے ایک ایسے جلسے میں جس میں کیفی ؔاعظمی اپنی بیگم کے ساتھ شریک تھے،ساحرؔ نے کیفی ؔکے خلاف مضمون پڑھا جس میں کہا گیا کہ کیفیؔ تو سرے سے شاعر ہی نہیں۔ ۔اس کی شاعری صرف ایک پروپیگینڈا ہے۔
جلسے کی اگلی نشست میں علی سردارؔ جعفری نے کیفی سے اپنی دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے ساحرؔ کی موجودگی میں ایک مضمون، ساحرؔ کی شاعری کی مذمت میں پڑھا، جس میں بالخصوص اس کی مقبول نظم،’’تاج محل‘‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اسے ہندوستان کے تاریخی و تہذیبی ورثے کی توہین قرار دیتے ہوئے ساحر کو ؔرجعت پسند شاعر قرار دیا گیا۔مضمون کے اختتام پہ ساحر ساؔمعین کی صفوں سے اٹھے اور با اعتماد و پر سکون لہجے میں بآواز بلند کہنے لگے، جعفری صاحب! آپ اس مضمون سے یہ تو ثابت کر سکتے ہیں کہ ساحرؔ ایک گھٹیا شاعر ہے لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ کیفی اعظمی اچھا شاعر ہے؟







